الحمدللہ! اللہ تعالیٰ نے مکہ معاہدہ کو شرف وعزت سے نوازا۔ سعودی عرب‘ پاکستان اور ترکیے نے سرزمینِ حرمین شریفین کی پاسبانی کا فریضہ ادا کیا۔ تحفظِ حرمین شریفین کے حوالے سے سارا عالم اسلام اُس وقت حیران و پریشان ہوا جب حوثی تنظیم کے علاقے ''تعز‘‘ سے ایک آواز بلند ہوئی۔ اس علاقے کے مفتی علوی بن سہل بن عقیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا ''ہم آج کے دن ایک ہدف تک پہنچیں گے‘‘۔ قارئین کرام! ان کی عربی تقریر کا اقتباس میرے سامنے ہے۔ انہوں نے ''الیوم‘‘ کہہ کر ''سوف‘‘ کا لفظ استعمال کیا۔ ''سوف‘‘ کا لفظ مستقبل بعید کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ وڈیو 19 ستمبر 2026ء کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج 19 ستمبر سے ہمارا ایک ہی ہدف (مقصد) ہے‘ ہم نے اس تک پہنچنا ہے‘ چاہے جتنے بھی مہینے اور سال لگ جائیں۔ اس کے بعد انہوں نے ''سوف‘‘ کا لفظ دوسری بار بول کر اپنے مدمقابل دشمنوں کو ہدف بنانے کی بات کی۔ تیسری بار انہوں نے پھر ''سوف‘‘ کا لفظ بول کر کہا''نَستَھدِفُ ھٰذین الحرمین الشریفین‘‘ کہ ہم ان دونوں حرمین شریفین کو ہدف بنائیں گے۔ اگلے جملے میں ہدف بنانے کا مقصد یہ بتایا کہ ہم ان حرمین یعنی مسجد الحرام مکہ مکرمہ اور مسجد نبوی شریف مدینہ منورہ کو مسلمانوں کے لیے ایک منارہ یعنی عزت و شرف کا باعث بنا دیں گے۔ ساتھ ہی ''حرَّہ‘‘ کا لفظ استعمال کیا کہ یہ آزاد ہوں گے۔ مذکورہ اقتباس میں چوتھی بار ہدف کا لفظ بول کر حرمین شریفین کی اہلِ ایمان کے دلوں میں کشش کی بات کی اور پانچویں بار ہدف کا لفظ بول کر باور کرایا کہ ہمارے اقتدار میں آنے سے حرمین کی تعظیم‘ اجلال‘ اکبار اور اعظام میں اضافہ ہو گا۔
قارئین کرام! میرے ساتھ ساتھ ذرا چودہ سو سال پیچھے چلیں۔ ہم سب کے حضور عالیشانﷺ حرم نبوی شریف سے باہر تشریف لاتے ہیں۔ دس ہزار کا لشکر لے کر بیت اللہ شریف میں پہنچ جاتے ہیں۔ اس گھر کی حرمت کو مقدم رکھا۔ جنگ کی نوبت نہیں آنے دی۔ مدمقابل بتوں کے پجاری تھے جو ظالم بھی تھے۔ کعبہ شریف کے اندر‘ کعبہ کی چھت پر اور مطاف کے چاروں طرف بت ہی بت تھے۔ ان کی تعداد 360 تھی۔ اللہ کے رسولﷺ نے بتوں کی آلودگی سے کعبہ شریف کو پاک صاف کرایا۔ تمام دشمنوں کے لیے عام معافی کا اعلان فرمایا اور پھر اپنی قیام گاہ یعنی خیمے میں تشریف لائے۔ اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو مخاطب کرکے فرمایا ''اگر تیری قوم (قریش) کا زمانہ جاہلیت سے قریب نہ ہوتا (یعنی یہ ابھی نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں) تو میں کعبہ کو گرا دینے کا حکم دیتا (اور اسے نئے سرے سے تعمیر کرتا ) اور جو حصہ (حطیم بنا کر) اس سے نکال دیا گیا ہے‘ اسے بھی کعبہ میں شامل کر دیتا۔ یوں میں اسے ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر تعمیر کرتا‘‘ (بخاری: 1586)۔ اللہ اللہ! حضور نبی رحمتﷺ نے پرانے دشمنوں سے رائے لیے بغیر ان کی متوقع تنقید کا احترام کیا۔ مکمل اقتدار اور فتح کا جھنڈا ہاتھ میں تھا مگر ان کی تنقیدی رائے کو خود ہی بیان فرما دیا کہ وہ کہیں گے کہ محمد کریمﷺ سب کچھ ہی بدل رہے ہیں۔ یوں فتنے کا اندیشہ تھا۔ اور آج...جناب والا! آپ حرمین شریفین کو مسلمانوں سے ''آزاد‘‘ کرانے جا رہے ہیں! تعجب ہے۔ مسلمانوں کے متعدد مسالک ہیں‘ ایک آپ کا مسلک ہے۔ اب اگر ہر مسلک کے لوگ اپنی عسکری قوت بنا کر اپنا یہ عزم بنائیں کہ ہم حرمین شریفین کی تعظیم‘ اجلال‘ اکبار اور اعظام میں اضافے کے لیے جنگ شروع کر رہے ہیں تو غور کریں کہ میزائل اور ڈرونز کے حملوں سے حرمین شریفین کی تعظیم ہو گی یا تعظیم کے پرزے اڑیں گے؟
آپ کو خیال نہیں آیا حاجیوں کے ہوائی جہاز ان حملوں میں نشانہ بن سکتے ہیں۔ آپ نے سوچا نہیں کہ یہ علاقہ تو پہلے ہی میدانِ جنگ بنا ہوا ہے۔ دشمن فالس فلیگ کر سکتا ہے۔ کتنے ہی فالس فلیگ ہو بھی چکے ہیں۔ ایسے ماحول میں سرزمین حرمین کے میقاتوں کے اندر میزائلوں کا جانا کس قدر خطرناک ہے؟ یاد رہے! میقات سے دو تین سو کلو میٹر پہلے ہی ہوائی جہازوں میں اعلان ہو جاتا ہے کہ میقات آنے والا ہے‘ احرام باندھ لیں۔ اس پر حاجی لوگ واش روم جاتے ہیں‘ باری کا انتظار کرتے ہیں‘ احرام باندھتے ہیں۔ جی ہاں! احرام باندھنے والوں کی حرمت تو تمام میقاتوں سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے تو کیا آپ مذکورہ تمام حرمتوں کو پامال کرتے چلے جائیں گے؟ حاجیوں کے جہاز ساری دنیا سے سعودی سرزمین کی جانب آ رہے ہوتے ہیں۔ آپ ہر سمت کو خوفناک اور خطرناک بنا دیں گے؟ جناب مفتی صاحب! آپ کا بیان آپ کی تنظیم کے ٹی وی چینل نے نشر کیا ہے۔ اس کا نام المسیرہ ہے۔ اردو میں اس کا معنی ''مسافت‘‘ ہے۔ جناب والا! آپ نے جس سرزمین کو جنگ و جدل کا ہدف بنایا ہے وہ حاجیوں سے بھری سرزمین ہے۔حاجی مکہ و مدینہ شریف کے علاوہ ریاض بھی جاتے ہیں۔ وہ طائف بھی جاتے ہیں‘ وہ خمیس مشیط‘ جازان اور نجران بھی جاتے ہیں۔ وہ تبوک بھی جاتے ہیں۔ الغرض! ہمارے جان سے پیارے حضورﷺ جہاں جہاں تشریف لے گئے ہیں‘ سیرتِ مصطفیﷺ پر لکھنے والے وہاں وہاں حضورﷺ کے نقشِ قدم کو محفوظ بناتے چلے جاتے ہیں۔ اب ان سب کی زندگیاں دائو پر ہیں۔
یمن کے اٹھارہ لاکھ کے قریب مسلمان سعودی عرب میں کاروبار کرتے ہیں۔ میرے پاک وطن کے کوئی 25 لاکھ کے قریب لوگ وہاں ملازمتیں اور بزنس کرتے ہیں۔ بقیہ ملکوں سے لوگ بھی وہاں زندگیاں گزارتے ہیں۔ موجودہ دور میں زندگی پٹرول سے چلتی ہے۔ عرب دنیا اور ایران کے درمیان جو سمندری خلیج ہے‘ سعودی عرب کے لیے وہاں سے تیل کی سپلائی مشکل میں پڑ گئی ہے۔ آپ لوگوں نے اب باب المندب کو بھی بند کرنے کا پروگرام بنا ڈالا اور کہا کہ سب کے جہاز گزر سکتے ہیں سعودی عرب کے نہیں۔ اللہ اللہ! اسی تیل کے پیسے سے تو حرمین شریفین میں وہ بہاریں ہیں‘ تعمیرات اور خدمتوں کے وہ سامان ہوئے ہیں کہ حرمین شریفین کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ سعودی عرب خلیج فارس سے بحیرہ احمر پر واقع شہر ینبع تک پائپ لائن لایا تو آپ اسے بھی اڑا دیتے ہیں۔ سارا جہان پریشان ہے کہ فیکٹریاں بند‘ کھاد کی فیکٹریاں بند۔اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ قحط پڑے گا‘ معاشی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ دنیا میں غربت‘ بھوک اور افلاس کا گراف مزید اوپر جائے گا۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کے تینوں ملکوں سعودی عرب‘ پاکستان اور ترکیے کو مبارک کہ وہ حرمین شریفین کی حرمتوں کی خاطر اکٹھے ہوئے ہیں۔ پاک وطن کو دہری مبارک کہ اسے خادم الحرمین شریفین کی طرف سے پہلے ہی پاسبانِ حرمین شریفین بنایا جا چکا تھا۔ پاسبانی کا شرف یوں بڑھا کہ ملٹری اتحاد کی سربراہی بھی مل گئی اور پھر پاسبانی کا حق اللہ تعالیٰ نے یوں ادا کروایا کہ راستے کھل گئے۔ ان شاء اللہ یہ راستے مزید کھلیں گے۔ صرف حاجیوں کے لیے نہیں بلکہ انسانی بھلائی کے راستے کھلتے جا رہے ہیں۔ حرمین شریفین کی خدمت و پاسبانی کی چھتری اور سائبان بہت بڑا ہے۔ میری دعا یہی ہے کہ کعبہ کی جانب رخ کرکے نمازیں ادا کرنے والو! اس سائبان کے سائے میں آ جائو۔ دنیا اور آخرت کی کامرانی اسی میں ہے۔ ان شاء اللہ!
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments