اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری الہامی کتاب قرآن مجید میں ایک صورت نازل فرمائی جس کا نام ''الانبیاء‘‘ ہے۔ اس کا آغاز ہی اس خبر سے کیا گیا ہے کہ انسانیت کے حساب کا وقت قریب آ گیا ہے جبکہ ان کی صورتحال یہ ہے کہ دنیا کی زینت نے انہیں ایسا بے خبر کر دیا ہے کہ وہ اپنے حساب سے غافل ہو کر کہیں اور توجہ کیے ہوئے ہیں۔ اسی سورت کے آخر پر کائناتی نظام کو لپیٹ کر ختم کرنے کی اطلاع دی گئی ہے۔ مزید برآں! شروع میں سب سے پہلے آخری رسول حضرت محمد کریمﷺ کا ذکر کیا گیا ہے اور جو لوگ حضور عالیشانﷺ کے بارے میں توہین آمیز رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں انہیں بربادیوں کی تنبیہ کی گئی ہے۔
قارئین کرام! آج کی دنیا سائنس اور ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والی آسائشوں کی دنیا ہے۔ یہ سائنسی علم سے حاصل ہونے والی سپرمیسی کے ذریعے رعب جمانے کی دنیا ہے۔ کمزوروں کو مٹا دینے کی دھمکیاں دینے کی دنیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ایک ایسے علم کی خبر دیتے ہیں جو نہ تورات میں ملے گا‘ نہ انجیل میں اور نہ ہی بائبل میں موجود دیگر صحیفوں میں۔ نہ ہندوئوں کی ویدوں میں اور نہ ہی پارسیوں کی کتاب میں۔ نہ ہی یونان و روم اور چین وہند کے فلسفیوں اور حکما کے خزینوں میں ایسا علم ملے گا جو علم اور جو خبر اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول حضور کریمﷺ پر قرآن کی صورت میں نازل فرمائی۔ اب اس آیت کا ترجمہ ملاحظہ ہو۔ فرمایا: ''یہ لوگ جو (میرے حبیبﷺ اور ان پر نازل ہونے والے قرآن کا) انکار کرتے چلے آ رہے ہیں‘ کیا دیکھ نہیں چکے کہ تمام آسمان اور زمین (ایک نکتے پر) باہم ملے ہوئے تھے۔ اور ہم نے ان دونوں کو پھاڑ ڈالا اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے‘‘ (الانبیاء: 30)
یاد رہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے ''رتق‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا‘ جس کے معنی ''ملا ہوا‘‘ ہوتے ہیں۔ اس کے بعد اگلا لفظ ''ف‘‘ سے شروع ہوتا ہے۔ گرامر میں یہ ''ف‘‘ فجائیہ ہے؛ یعنی عدم سے جونہی یک نکتگی یعنی singularity وجود میں آئی تو ہم نے اسے پھاڑ ڈالا۔ اس کیلئے لفظ '' فتق‘‘ استعمال ہوا۔ لوگو! اسی کا نام آج کی سائنس میں ''بگ بینگ‘‘ ہے؛ یعنی ایک عظیم کائناتی دھماکا‘ جس سے یہ تمام کائنات وجود میں آئی۔ پیغام یہ ہے کہ جو علمی حقیقت میرے آخری رسولﷺ نے ساڑھے چودہ سو سال قبل بتا دی‘ ساتھ ہی یہ بھی بتلا دیا کہ مذکورہ سائنسی حقیقت کا انکشاف (لیبارٹریز اور آبزرویڑیز کے ذریعے) وہ لوگ کریں گے جو (آخری رسولﷺ اور آخری الہامی کتاب کے) منکر ہوں گے۔ بلکہ ایسے بھی ہوں گے جو خالقِ کائنات کے بھی منکر ہوں گے۔ اتنا بڑا انکشاف آخری رسول حضرت محمد کریمﷺ پر قرآن کی صورت میں نازل ہوا تو یہ اس بات کا اعلان تھا کہ اللہ کی بات کو ماننا پڑے گا کہ میں ایک اللہ ہی برحق ہوں۔ میری کتاب بھی برحق ہے اور میرے آخری رسول حضرت محمدﷺ بھی برحق ہیں۔ عربی گرامر کے نکتے کی اگلی بات یہ ہے کہ ''فتق‘‘ کے بعد ''ن‘‘ آ رہا ہے۔ اس میں عظمت و کبریائی کا سمندر پنہاں ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتے ہیں کہ: ''ہم نے ان دونوں کو پھاڑا‘‘۔ اللہ کی قسم! یہاں حرف ''ن‘‘ ایک ایسا کلہاڑا ہے‘ دلیل کا ایسا نیو کلیئر ویپن ہے جس نے الحاد اور زندیقیت کے پرخچے اڑا کر رکھ دیے ہیں۔
سورۃ الانبیاء کی اسی آیت کا اب آخری حصہ ملاحظہ کرتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ''ہم نے پانی سے ہر جاندار کو زندگی کا حامل بنا دیا‘ کیا اب بھی یہ ایمان نہ لائیں گے‘‘۔ لائیو سائنس نامی ادارے نے 11مارچ 2025ء کو بگ بینگ کے حوالے سے ایک ریسرچ جاری کی تھی جسے جونا تھامپسن نے ایک آرٹیکل کی شکل میں شائع کیا۔ اس کا ایک جملہ ملاحظہ ہو:
Nearly all hydrogen atoms in the universe formed during the bigbang.
یعنی کائنات میں ہائیڈروجن کے تقریباً تمام آئٹمز بگ بینگ کے دوران بن چکے تھے۔
جی ہاں! ہائیڈرون وہ گیس ہے جس کے بارے میں امریکہ کے خلائی ادارے ناسا نے کہا کہ As old as the big bang یعنی ہائیڈروجن گیس اتنی ہی پرانی ہے جتنا بگ بینگ پرانا ہے۔ اسی طرح چھ اکتوبر 2026ء کو ایک برطانوی ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا: ہائیڈروجن کے آئٹمز 13.8 ارب سال پرانے ہیں۔ انگریزی کا جملہ یہاں باکمال ہے‘ ملاحظہ ہو: Made in the big bang۔ یعنی ہائیڈرجن گیس بگ بینگ میں (یعنی اس کے اندر) معرضِ وجود میں آئی۔ یعنی پہلی چیز جو وجود میں آئی وہ ہائیڈروجن تھی۔ یاد رہے! ہائیڈروجن میں ''ایک الیکٹران اور ایک پروٹان‘‘ ہوتا ہے۔ یہ گیس دو ایٹموں سے بنی ہے‘ اسی لیے اسے H2 کہا جاتا ہے۔ اس کے اندر جوڑا موجود ہے۔ لوگو! اللہ تعالیٰ نے ایسے ہی عربی زبان میں قرآن مجید نازل نہیں فرمایا۔ مذکورہ آیت میں ''مآء‘‘ کا جو لفظ ہے اس کے الف پر 'مد‘ ہے۔ اسے لمبا کرکے پڑھا جاتا ہے۔ اسے صوتی حسن یعنی آواز کی خوبصورتی کہا جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ دھماکے میں پانی کا بڑا حصہ وجود میں آ گیا۔ اس کے بعد ''کوارکس‘‘ وجود میں آئے۔ یہ ابتدائی ذرات یا ویوز تھیں۔ آگے چل کر ایک پراسیس کے ذریعے ان سے آکسیجن وجود میں آئی۔ تب پانی کا وجود مکمل ہو گیا۔
پانی کی یہ جو ابتدائی صورت ہے اس کو ہم سامنے رکھ کر ختم المرسلینﷺ کا فرمان دیکھیں۔ حضور کریمﷺ نے فرمایا: ''میں اس وقت سے اللہ کے ہاں نبی ہوں جب آدم علیہ السلام روح اور جسد کے درمیان تھے‘‘ (مسند احمد‘ مستدرک حاکم‘ اسنادہٗ صحیح)۔ یاد رہے! جسد سے مراد ایسا وجود ہے جس میں روح نہ ہو۔ یعنی حضرت آدم علیہ السلام کا جسد تب بھی موجود تھا اور ہمارے پیارے نبی کریمﷺ اس وقت بھی نبی تھے‘ رسول تھے‘ ختم المرسلین اور رحمۃ للعالمین تھے۔ دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ آج ''خاتم الانبیاء‘‘ کا کلمہ پڑھنے والوں پر ایٹم بم اور ہائیڈروجن گیس کی ایسی زہریلی اقسام استعمال کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں جس سے ایران کے گرد کے تمام مسلم ممالک بھی تباہی کا شکار ہوں گے۔ سعودی عرب سمیت گلف ممالک اور ان کے علاوہ آذربائیجان‘ ترکیہ‘ افغانستان اور پاکستان بھی متاثر ہوں گے۔ بعد ازاں یہ تباہی کی لہر مشرق میں بھارت اور مغرب اور شمال میں یورپ اور روسی علاقوں کو لپیٹ میں لیتی جائے گی۔ چیچنیا اور داغستان بھی لپیٹ میں آ جائیں گے۔ آج کی دنیا گلوبل ویلیج ہے۔ ساری انسانیت حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہے۔ یہ اولاد پوری دنیا میں خلط ملط ہے۔ اسرائیل کے اندر بھی 20 لاکھ مسلمان ہیں۔ بھارت میں مسلمان 25 کروڑ سے زیادہ ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں ہندو برادری بھی رہتی ہے۔ ہر ملک کے لوگ دنیا کے ہر ملک میں موجود ہیں۔ اس وقت پاکستان ہی وہ ملک ہے جو سعودی عرب‘ قطر اور ترکیہ کو ساتھ لے کر دن رات کوشاں ہے کہ انسانیت اس بربادی سے بچ جائے۔ بربادی کا سوچنے والوں کے لیے کیا خوب انتباہ ہے۔ قرآن مجید نے فرمایا: ''جب ایسے (متکبر اور فسادی) کو کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر جائو تو اسے( تکبر کا حامل) گھمنڈی گناہ جکڑ لیتا ہے۔ ایسے شخص کے لیے جہنم کافی ہے اور وہاں کا (بچھونا اور) مسکن انتہائی برباد کن ہے‘‘ (البقرہ: 206)۔ اے مولا کریم! پاک وطن کو اندرونی استحکام عطا فرما۔ پاکستان کی کاوشوں کے ہاتھوں دنیا بھر کی انسانیت کو امن کا گلستان بنا دے‘ آمین!
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments