اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل و کرم سے مجھے متعدد مرتبہ زیارتِ حرمین شریفین کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ ماہِ رواں میں ایک مرتبہ پھر حرمین شریفین کی زیارت کا موقع ملا۔ مکہ مکرمہ میں عمرہ کی ادائیگی اور تین دن قیام کے بعد مدینہ طیبہ اور مسجد نبوی کی زیارت کا شرف حاصل ہوا اور یہیں پر جمعہ کا خطبہ سننے کی سعادت بھی ملی۔ مسجد نبوی شریف میں جمعہ کی ادائیگی کے لیے عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اس موقع پر ڈاکٹر حسین بن عبدالعزیز آل الشیخ نے ایک انتہائی اہم موضوع پر خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جس پر توجہ دینا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔
آج کی دنیا میں ہم اس بات کا مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ خاندانی نظام کمزور ہو چکا ہے۔ حالانکہ خاندان کا استحکام اور باہمی پیار و محبت انتہائی ضروری اور مفید ہے لیکن بدقسمتی سے لوگوں کی بڑی تعداد گھریلو معاملات میں عجلت اور بے صبری کا مظاہرہ کرتی اور معمولی تنازعات پرلوگ طلاق اور خلع کے راستے پر چل نکلتے ہیں۔ کتاب و سنت میں مرد و زن کو ایک دوسرے کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی گزارنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النساء کی آیت: 19 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''ان عورتوں سے اچھے طریقے سے بودوباش رکھو‘ گو تم انہیں ناپسند کرو لیکن بہت ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو بُرا جانو‘ اور اللہ اس میں بہت ہی بھلائی کر دے‘‘۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت: 226 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور عورتوں کے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے ان پر مردوں کے ہیں، اچھائی کے ساتھ ہاں مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے اور اللہ غالب ہے حکمت والا ہے‘‘۔ جس طرح قرآن مجید نے مرد و زن کے حقوق کو واضح کیا ہے اسی طرح حدیث طیبہ میں بھی مردوں کو بیویوں کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا گیا ہے اور اس شخص کو بہترین شخص قرار دیا گیا جو اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ بہتر سلوک کرتا ہے۔ نبی کریمﷺ نے اس بات کو بھی واضح فرمایا کہ آپﷺ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ بہترین سلوک کرنے والے ہیں۔
ایک مثالی اور کامیاب خاندان وہ ہوتا ہے جس میں تحمل‘ صبر‘ بردباری‘ نرمی اور عفو و درگزر سے کام لیا جائے لیکن بہت سے گھرانوں میں ان اعلیٰ اوصاف کے بجائے غصہ‘ انانیت اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے والا طرزِ عمل اختیار کیا جاتا ہے۔ معاشرے میں طلاق کی دھمکی کو انانیت کے اظہار کے لیے استعمال کیا جاتا اور اسی طرح مرد کو نیچا دکھانے کے لیے خلع کا مطالبہ کیا جاتا جبکہ یہ دونوں باتیں کسی بھی طور پر درست نہیں ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ البقرہ میں مرد و زن کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ہے۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الروم کی آیت: 21 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے آرام پائو اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کر دی یقینا غور و فکر کرنے والوں کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں‘‘۔
معاشی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی ذمہ داری مرد کے کندھوں پر عائد ہوتی ہے جبکہ گھر کے انتظام و انصرام کی ذمہ داری عورت پر عائد ہوتی ہے۔ زندگی کی یہ گاڑی تبھی اچھے انداز میں چل سکتی ہے جب فریقین ایک دوسرے کے بارے میں محبت‘ احترام اور ایثار والا رویہ رکھیں۔ عصری معاشروں میں اس بات کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ لوگ چھوٹی چھوٹی بات پر طلاق دینے پر آمادہ و تیار ہو جاتے ہیں جبکہ اہلِ اسلام کو اس بات کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ اسلام ایک ایسا دین ہے جس نے انسانی معاشرے کی بنیادوں کو مضبوط کرنے پر خصوصی توجہ دی ہے۔ معاشرے کی سب سے بنیادی اکائی ''خاندان‘‘ ہے۔ اسلام نے میاں بیوی کے رشتے کو الفت‘ محبت اور سکون کا ذریعہ بنایا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ کا مقصد اس خاندانی نظام کو ٹوٹنے سے بچانا ہے لیکن گھریلو زندگی میں بعض اوقات ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں جہاں میاں بیوی کے درمیان اختلافات اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ ان کا ایک ساتھ رہنا محال ہو جاتا ہے۔ انہی ناگزیر حالات کے پیشِ نظر اسلام نے طلاق کو جائز قرار دیا ہے۔ مگر یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ طلاق کوئی کھیل یا مذاق نہیں ہے بلکہ یہ وہ آخری حل ہے جو اُس وقت اپنایا جاتا ہے جب اصلاح کی تمام کوششیں مکمل طور پر ناکام ہو جائیں۔ شریعت نے اسے جلد بازی میں رشتہ ختم کرنے کے لیے نہیں بلکہ ہم آہنگی کے خاتمے کی صورت میں مصلحت کے تحت ایک آخری راستے کے طور پر رکھا ہے۔
طلاق کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ مرد و زن ایک دوسرے کے بارے میں کدورت اور کراہت محسوس کرتے ہیں۔ اس کراہت اور کدورت سے بچنے کے لیے نبی کریمﷺ نے انسان کو دوسرے کے اچھے خصائل پر توجہ دینے کا حکم دیا ہے۔ اس حوالے سے صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''کوئی مومن مرد کسی مومن عورت (یعنی اپنی بیوی) سے نفرت نہ کرے۔ اگر اسے اس کی کوئی ایک عادت ناپسند ہو تو اس کی کوئی دوسری عادت اسے پسند بھی ہو گی‘‘۔ راوی کہتے ہیں: یا آپﷺ نے فرمایا: ''اس کے علاوہ کوئی اور (اچھی) خصلت ہو گی‘‘۔ کئی مرتبہ بہ امر مجبوری مرد اور عورت کے مابین ناراضی‘ کشیدگی اور دوری اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ طلاق کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا لیکن بلاضرورت طلاق کا مطالبہ کرنے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ اس حوالے سے جامع ترمذی میں حضرت ثوبانؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''جس عورت نے بغیر کسی بات کے اپنے شوہر سے طلاق طلب کی تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے‘‘۔
امام مسجد نبوی نے اس موقع پر یہ بات بھی بتلائی کہ بہت سے لوگ طلاق کے آداب سے مکمل طور پر ناواقف ہیں۔ یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے ایک ہی مجلس میں یا ایک ہی لفظ کے ساتھ تین طلاقیں دینا سخت ممنوع ہے۔ اسی طرح عورت کو حالتِ حیض میں طلاق دینا یا ایسے طہر (پاکیزگی کے ایام) میں طلاق دینا جس میں میاں بیوی کے مابین ازدواجی تعلق قائم ہوا ہو‘ شریعت کی رو سے ناجائز اور صریح خلاف ورزی ہے۔ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں۔ سورۃ البقرہ کی آیت: 229 میں فرمانِ الٰہی ہے: ''یہ اللہ کی حدود ہیں، ان سے آگے نہ بڑھو اور جو لوگ اللہ کی حدوں سے آگے بڑھ جائیں وہ ظالم ہیں‘‘۔
امام صاحب نے یہ بھی بتایا کہ آج ایک اور خطرناک رجحان جو ہمارے معاشرے میں عام ہوچکا ہے‘ وہ بات چیت کے دوران طلاق کے الفاظ کو بطورِ قسم‘ دھمکی یا چیلنج استعمال کرنا ہے۔ لوگ معمولی باتوں پر کہہ دیتے ہیں: ''مجھ پر طلاق ہے اگر میں نے یہ کام نہ کیا‘‘ یا ''اگر تم وہاں گئیں تو تمہیں طلاق ہے‘‘۔ بعض لوگ تو مہمان نوازی اور اصرار کے لیے بھی کہہ دیتے ہیں: مجھ پر طلاق ہے اگر تم ہمارے ہاں کھانا نہ کھائو۔ یاد رکھیے! طلاق کے الفاظ کو مذاق‘ قسم یا دھمکی کا ذریعہ بنانا اللہ کے احکامات کے ساتھ تمسخر ہے۔ زبان سے نکلے ہوئے ان الفاظ کے سنگین شرعی اور معاشرتی اثرات ہوتے ہیں جن سے پورا خاندان تباہ ہو جاتا ہے۔ طلاق اللہ تعالیٰ کی وہ حد ہے جس کی تعظیم اور حرمت کا پاس رکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ جہاں بعض لوگ طلاق کے لفظ کو مذاق کا ذریعہ بنا لیتے وہیں بعض لوگ شدید غصے کی حالت میں اس بات کو فراموش کر دیتے ہیں اور غصہ ٹھنڈا ہو جانے کے بعد ان کو اس لفظ کی ادائیگی کی وجہ سے شدید پچھتاوے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اس بلیغ خطبے کے بعد امام صاحب نے مسلم خاندانوں کے لیے دعائے خیر کرتے ہوئے فرمایا: اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے مسلم خاندانوں کی حفاظت فرمائے‘ ہمارے دلوں میں الفت و محبت پیدا کرے‘ ہماری زبانوں کو حدود اللہ کی پامالی سے محفوظ رکھے اور ہمیں دین کی صحیح سمجھ اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے‘ آمین!
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments