"AIZ" (space) message & send to 7575

شہریوں کے حقوق و فرائض

موجودہ دور میں دنیا بھر میں قومی ریاستیں قائم ہیں۔ ایک مثالی ریاست کیلئے ضروری ہے کہ اس میں بسنے والے شہریوں کے حقوق کا مکمل تحفظ ہو اور جو ذمہ داریاں ان پر عائد ہوتی ہیں وہ ان کو پوری تندہی اور دل سے ادا کریں۔ اسلام نے شہریوں اور ریاست کے حقوق و فرائض کو متوازن انداز میں بیان کیا ہے۔ ایک اسلامی معاشرے میں ہر فرد کو کئی بنیادی حقوق حاصل ہوتے ہیں‘ اسی طرح اس پر بہت سی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔ کتاب وسنت کے مطالعہ کے بعد شہریوں کے حقوق کے حوالے سے جو اہم نکات سامنے آتے ہیں وہ درج ذیل ہیں:
1۔ جان و مال اور عزت کا تحفظ: ایک مثالی اسلامی ریاست میں شہریوں کے جان ومال اور عزت کے تحفظ کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت عبداللہؓ بن عباس سے روایت ہے کہ دس ذوالحجہ کو رسول کریمﷺ نے منیٰ میں خطبہ دیا اور پوچھا: لوگو! آج کون سا دن ہے؟ لوگ بولے: یہ حرمت کا دن ہے۔ آپﷺ نے پھر پوچھا: یہ شہر کون سا ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ (مکہ) حرمت کا شہر ہے۔ آپﷺ نے پوچھا: یہ مہینہ کون سا ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ حرمت کا مہینہ ہے۔ پھر آپﷺ نے فرمایا: پس تمہارا خون‘ تمہارے مال اور تمہاری عزت ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہے جیسے اس دن کی حرمت‘ اس شہر اور اس مہینہ کی حرمت ہے۔ ان کلمات کو آپﷺ نے کئی بار دہرایا اور پھر آسمان کی طرف سر اٹھا کر فرمایا: اے اللہ! کیا میں نے (تیرا پیغام) پہنچا دیا۔ اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! آنحضرتﷺ کی یہ وصیت اپنی تمام امت کیلئے ہے کہ حاضر (اور جاننے والے) غائب (اور ناواقف لوگوں کو اللہ کا پیغام) پہنچا دیں۔ آپﷺ نے پھر فرمایا: دیکھو میرے بعد ایک دوسرے کی گردن مار کر کافر نہ بن جانا‘‘۔ 2۔ عدل وانصاف کا حق: ریاست کے ہر شہری کو عدل وانصاف کی یکساں فراہمی ہونی چاہیے اور اس حوالے سے کسی قسم کی زیادتی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ایک ریاست تبھی مثالی قرار پا سکتی ہے جب اس میں عدل وانصاف کے حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی نہ کی جائے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النحل کی آیت: 90 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''بیشک اللہ انصاف اور احسان کا حکم دیتا ہے‘‘۔ 3۔ مذہبی آزادی: ایک مثالی ریاست میں بسنے والے ہر شخص کو اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے کا پورا پورا حق حاصل ہوتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت: 256 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''دین میں کوئی جبر نہیں‘‘۔ ریاست کسی بھی شہری کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی اور نہ ہی کسی کو اس کے مذہب پر عمل پیرا ہونے سے روک سکتی ہے۔
4۔ شہریوں کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا: کسی بھی ریاست کیلئے یہ بات ضروری ہے کہ روٹی‘ کپڑا‘ رہائش اور علاج ومعالجہ کی سہولتیں تمام شہریوں کو فراہم کی جائیں اور اس حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے دورِ حکومت میں رعایا کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے بھرپور جستجو کی‘ جس کی وجہ سے آج بھی سماجی تحفظ سے متعلق بہت سے قوانین کو حضرت عمرؓ کی ذات کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے۔
5۔ ظلم سے تحفظ: حکمرانوں کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ سیاسی اور نظریاتی اختلافات کی وجہ سے رعایا کے ساتھ ظلم کا ارتکاب نہ کریں اور سیاسی اختلاف کے باوجود ان کو برداشت کریں۔ اس حوالے سے چند احادیث درج ذیل ہیں: صحیح مسلم میں حضرت سعیدؓ بن زید سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ''جس کسی نے زمین کی ایک بالشت (بھی) ظلم کرتے ہوئے کاٹ لی‘ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے سات زمینوں کا طوق (بنا کر) پہنائے گا‘‘۔ صحیح مسلم میں حضرت جریرؓ بن عبداللہ سے روایت ہے: کچھ بدوی لوگ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: کچھ زکوٰۃ وصول کرنے والے لوگ ہمارے پاس آتے ہیں اور ہم پر ظلم کرتے ہیں۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا ''اپنے زکوٰۃ وصول کرنے والوں کو راضی کیا کرو‘‘۔ حضرت جریرؓ نے کہا : جب سے میں نے رسول اللہﷺ سے یہ حدیث سنی ہے تو میرے پاس سے جو کوئی زکوٰۃ وصول کرنے والا گیا‘ راضی گیا۔ صحیح مسلم میں حضرت جابرؓ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''ظلم سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن (دلوں پر چھانے والے) اندھیرے ہوں گے‘‘۔
جس طرح شہریوں کے حقوق متعین ہیں اسی طرح ان پر کچھ فرائض بھی عائد ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے بعض اہم نکات درج ذیل ہیں:
1۔ اللہ‘ رسولﷺ اور حکمرانوں کی اطاعت: شہریوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرنے کے ساتھ ساتھ حاکم وقت کی بھی اطاعت کریں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النساء کی آیت: 59 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو‘ رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے صاحبانِ امر کی بھی‘‘۔ اس آیت مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اسلامی ریاست میں اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت کے بعد معروف اور جائز کاموں میں حکمرانوں کی بھی اطاعت کرنی چاہیے۔ 2۔ شرعی اور ملکی قوانین کی پابندی اور غیر شرعی قوانین سے اجتناب: شہریوں کی ذمہ داری ہے کہ شرعی اور ملکی قوانین کی پابندی کریں اور غیر شرعی امور سے اجتناب کریں۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ایک لشکر بھیجا اور اس کا امیر عبداللہ بن حذافہ سہمی کو بنایا۔ پھر (اس نے کیا کیا کہ) آگ جلوائی اور (لشکریوں سے) کہا کہ اس میں داخل ہو جائو۔ اس پر بعض لوگوں نے داخل ہونا چاہا لیکن کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم آگ (جہنم) ہی سے بھاگ کر آئے ہیں۔ پھر اس کا ذکر آنحضرتﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا: جنہوں نے آگ میں داخل ہونے کا ارادہ کیا تھا کہ اگر وہ اس میں داخل ہو جاتے تو اس میں قیامت تک رہتے۔ اور دوسرے لوگوں سے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت جائز نہیں ہے‘ اطاعت صرف نیک کاموں میں ہے۔
3۔ امانت داری: شہریوں پر یہ بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ریاست اور دوسرے شہریوں کے متعلقہ جو حقوق ان پر عائد ہوتے ہیں‘ ان کے حوالے سے امانت داری کا مظاہرہ کریں اور اس سلسلے میں جانبداری‘ پارٹی بازی اور اقربا پروری وغیرہ سے گریز کریں۔ اس حوالے سے سورۃ النساء کی آیت: 58 میں ارشاد ہوا: ''بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچائو‘‘۔ 4۔ امر بالمعروف ونہی عن المنکر: شہریوں کی ذمہ داری ہے کہ ریاست میں کسی مثبت کام کو دیکھ کر اس کی تائید اورکسی منفی کام کو دیکھ کر اس کی تردید کریں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے حوالے سے سورۂ آل عمران کی آیات: 104 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو بھلائی کی دعوت دے‘ نیکی کا حکم کرے اور برائی سے روکے‘‘۔ 5۔ امن کے قیام کیلئے ذمہ داری کا مظاہرہ: شہریوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ قیام امن کیلئے بھرپور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت عبداللہؓ بن عمرو سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا ''مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے (دیگر) مسلمان بچے رہیں‘‘۔ 6۔ مالیاتی ذمہ داریوں کی ادائیگی: حکومت کی طرف سے عائد جائز مالیاتی ذمہ داریوں کو ادا کرنا مسلمانوں کی دینی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے حکومت یا بیت المال کو نقصان پہنچانا کسی بھی طور پر جائز اور درست عمل نہیں ہے۔
اگر شہری اپنے حقوق اور فرائض کو احسن طریقے سے ادا کریں تو ایک مثالی معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ شہریوں کو اپنے حقوق اور واجبات کو درست طریقے سے ادا کرنے کی توفیق دے اور پاکستان کو ایک مثالی فلاحی ریاست بنا دے‘ آمین!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں