"AIZ" (space) message & send to 7575

وقت کی قدر

اللہ تبارک وتعالیٰ کی نعمتیں اَن گنت اور بے پایاں ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ ابراہیم کی آیت: 34 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور اگر تم شمار کرنا چاہو اللہ کی نعمتوں کا تو تم نہیں کر سکتے ان کا احاطہ‘‘۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے جنات اور انسانوں کو مخاطب کر کے سورۃ الرحمن کی متعدد آیات میں ارشاد فرمایا: ''پس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے؟‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت وقت ہے۔ یہ نعمت بہت سی مادی نعمتوں سے زیادہ قیمتی ہے۔ جو شخص وقت کی قدر کرتا ہے‘ اس کو مختلف حوالوں سے کامیابی حاصل ہوتی ہے اور جو شخص وقت کی قدر نہیں کرتا‘ اس کو مختلف طرح کی محرومیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس بات کا عام مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ وقت کو ضائع کرنے والے لوگ اس ضیاع کا ازالہ نہیں کر پاتے جبکہ اس نعمت سے فائدہ اٹھانے والے لوگ مطمئن اور مسرور نظر آتے ہیں۔
نظامِ کائنات میں وقت کی پابندی کی بہت سی نشانیاں موجود ہیں۔ سورج ہر روز اپنے مقررہ وقت پہ نکلتا اور وقتِ مقررہ ہی پر غروب ہوتا ہے۔ اسی طرح چاند وقتِ مقررہ کے ساتھ گھٹتا اور بڑھتا ہے۔ اجرامِ سماویہ کے اس نظم وضبط سے انسان کو اندازہ ہوتا ہے کہ وقت کی پابندی کس قدر اہمیت کی حامل ہے۔ کتاب وسنت کا مطالعہ کرنے کے بعد وقت کی اہمیت مزید اجاگر ہو کر سامنے آتی ہے۔ ارکانِ اسلام میں سے نماز کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ یہ شہادتین کے بعد اسلام کا دوسرا اہم رکن ہے۔ نمازوں کو انسان پر وقتِ مقررہ پر فرض کیا گیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النساء کی آیت: 103 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''یقینا نماز مومنوں پر مقررہ وقتوں پر فرض کی گئی ہے‘‘۔ جہاں ہر نماز کی ادائیگی کے لیے ایک خاص وقت مقرر ہے‘ وہیں نمازِ باجماعت کی ادائیگی کے لیے انسان کو وقت کی اضافی پابندی کرنا پڑتی ہے‘ کیونکہ اس حوالے سے معمولی سی کوتاہی کی وجہ سے انسان باجماعت نماز سے محروم ہو جاتا ہے۔ جو لوگ نمازوں کو وقتِ مقررہ کے بعد ادا کرتے ہیں‘ وہ درحقیقت بہت بڑی غفلت اور کوتاہی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ان کے بالمقابل نمازوں پر محافظت اور ان پر دوام اختیار کرنے والے ہر اعتبار سے قابلِ قدر اور لائقِ تحسین ہیں۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض لوگ اس حوالے سے اس حد تک ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ برسہا برس تک تکبیر اولیٰ کے ساتھ نمازوں کو ادا کرتے ہیں۔
اسی طرح جب ہم زکوٰۃ کی ادائیگی کی بات کرتے ہیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ہر قمری سال گزر جانے کے بعد انسان پر اپنے جمع شدہ مال پر زکوٰۃ دینا لازم ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کمی کوتاہی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ زکوٰۃ کی ادائیگی اور انفاق فی سبیل اللہ کے حوالے سے کوتاہی کا مظاہرہ کرنے والے لوگوں کو دردناک عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ یہی حال رمضان المبارک کے روزوں کا ہے۔ رمضان المبارک کے روزوں میں سحری اور افطاری کے اوقات مقرر ہیں۔ سحری کا وقت بیت جانے کے بعد کھانا کھانا درست نہیں۔ اسی طرح افطار کا وقت آ نے سے قبل بھی کھانا کھانے کی کوئی گنجائش نہیںہے۔ رمضان المبارک کا مہینہ جہاں تقویٰ اور للہیت کی دعوت دیتا ہے وہیں وقت کی پابندی کا بھی درس دیتا ہے۔ جو لوگ رمضان المبارک میں سستی اور لاپروائی کا مظاہرہ کرتے ہیں‘ وہ کئی مرتبہ سحری اور اس کی برکات سے محروم رہ جاتے ہیں۔
اسی طرح کتاب وسنت کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حج کے مہینے معلوم ہیں اور ان مہینوں یعنی شوال‘ ذیقعد اور ذی الحج میں احرام باندھنے والا شخص حج کے لیے احرام باندھتا ہے۔ حج کے ارکان کو 8 ذوالحجہ سے لے کر 12 یا 13 ذوالحجہ تک ادا کیا جاتا ہے۔ وقوفِ عرفات‘ مزدلفہ میں ٹھہرنا‘ منیٰ میں جمرات کو کنکریاں مارنا اور دیگر تمام ارکان کی ادائیگی کی ایک خاص ترتیب ہے جن کو مقررہ طریقے کے مطابق ادا کرنا ضروری ہے اور اس ضمن میں وقت کی پابندی کا خیال بھی کرنا چاہیے۔ جو شخص وقت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان تمام ارکان کی درست طریقے سے ادائیگی کرتا ہے‘ اسی کا حج درست قرار پاتا ہے۔ اس کے مدمقابل حج کے ارکان کی ادائیگی میں وقت کی پابندی نہ کرنے سے حج میں کمال پیدا نہیں ہوتا‘ جبکہ بعض ارکان کی بجا آوری میں غفلت اور کوتاہی کی وجہ سے انسان کا حج سرے سے ضائع ہو جاتا ہے۔ ارکانِ اسلام کی ادائیگی کے حوالے سے وقت کی پابندی کا جو سبق ملتا ہے‘ اسے انسان کو اپنی زندگی کے جملہ معاملات میں بھی لاگو کرنا چاہیے۔
دین و دنیا کے معاملات میں ایسے شخص کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جو وقت کی پابندی کرنے والا ہو۔ چنانچہ وہ سرکاری افسر ہو یا استاد‘ اگر وہ وقت کا پابند ہے تو اس کی ساکھ اور قدر ومنزلت میں اضافہ ہوتا ہے تاہم اگر وہ اس حوالے سے غفلت اور کوتاہی کا مظاہرہ کرتا ہے تو اس کی ساکھ مجروح ہوتی ہے۔ طالب علم ایسے استاد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو وقت کی پابندی کرنے والا ہو۔ اسی طرح ایسے طالب علم کی عزت اور وقار میں بھی اضافہ ہوتا ہے کہ جو وقت کا پابند ہو اور اپنے کاموں کو بروقت مکمل کر کے جمع کرانے والا ہو۔ کامیاب تاجر کے لیے بھی وقت کی پابندی کرنا انتہائی ضروری ہے۔ جو لوگ وقت کی پابندی کرتے ہیں‘ وہ تجارت کے شعبے میں دوسرے لوگوں سے سبقت لے جاتے ہیں۔ بہت سے لوگ ذہانت وفطانت کے باوجود کاروبار میں اس لیے ترقی نہیں کر پاتے کہ وہ باقاعدگی کے ساتھ تجارت کو توجہ نہیں دیتے۔ ان کے بالمقابل اوسط ذہانت رکھنے والے بہت سے لوگ محنت اور باقاعدگی کی وجہ سے کامیابی سے ہمکنار ہو جاتے ہیں۔ سائنس کی دنیا میں عروج حاصل کرنے والے لوگوں نے اپنے وقت کو بالکل بھی ضائع نہیںہونے دیا۔ ان کی محنتوں کی وجہ سے دنیا آج بہت سی جدید ایجادات سے استفادہ کر رہی ہے۔ بہت سے سائنسدانوں نے اپنا وقت تحقیق وتجربات میں اس حد تک صرف کیا کہ لوگ ان کی محنتوں کو دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ انہوں نے اپنی بہت سی خواہشات اور سہولتوں کو اپنے تجربات اور تحقیق کی وجہ سے نظر انداز کر دیا اور ہمہ وقت انسانیت کو فائدہ پہنچانے کے لیے وقف رہے۔
اسی طرح علم وحکمت کے معاملات ہیں۔ جو شخص مطالعے‘ تعلیم اور تحقیق پر توجہ دیتا ہے‘ وہ شخص کامیاب ہو جاتا ہے جبکہ اس سلسلے میں کوتاہی اور غفلت کا مظاہرہ کرنے والے لوگ ناکام ونامراد ہو جاتے ہیں۔ بہت سے ممتاز ائمہ اور علماء جنہوں نے وقت کی قدر کی‘ آج بھی دنیا ان کی محنت سے استفادہ کر رہی ہے۔ امام ابوحنیفہ‘ امام شافعی‘ امام مالک اور امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہم نے فقہ کی خدمات کے لیے اپنے آپ کو وقف کیے رکھا۔ اسی طرح امام بخاری‘ امام مسلم‘ امام ترمذی‘ امام ابن دائود‘ امام نسائی اور امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہم اجمعین احادیث کی خدمت کے لیے وقف رہے اور ایسی کتب کو مدون کیا کہ سینکڑوں سال گزر جانے کے باوجود بھی لوگ ان سے استفادہ کر رہے ہیں۔ امام ابن تیمیہ‘ امام ابن قیم‘ امام ابن کثیر اور حافظ ذہبی جیسے علماء کی خدمات کی وجہ سے ہمارے پاس دینی معلومات کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ ان کے بالمقابل جن لوگوں نے اس حوالے سے کوتاہی اور غفلت کا مظاہرہ کیا‘ آج ان کا نام صفحۂ ہستی سے مٹ چکا ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ دین اور دنیا کے معاملات میں کامیابی حاصل کریں تو ہمیں وقت کی بھرپور طریقے سے قدر کرنی چاہیے اور کسی قسم کی کوتاہی اور غفلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ اسی راستے پر چل کر ہم اپنے دین ودنیا کو بہتر بنا سکتے اور اپنی آل اولاد اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال بن سکتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو وقت کی قدر کرنے کی توفیق دے‘ آمین!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں