"AIZ" (space) message & send to 7575

محرم الحرام

اللہ تبارک وتعالیٰ کائنات کو بنانے والے ہیں۔ اس وسیع وعریض کائنات میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے بعض مقامات کو دوسرے مقامات اور بعض اوقات اور ایام کو دوسرے ایام اور اوقات کے مقابلے میں فوقیت اور فضیلت عطا کی ہے۔ چنانچہ مکہ اور مدینہ کو دوسرے شہروں پر فضیلت حاصل ہے جبکہ شہروں میں سب سے فضیلت والی جگہیں مسجدیں ہیں۔ اسی طرح جب ہم ایام پر غور کرتے ہیں تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہفتے کے ایام میں سے جمعہ کے دن کو فضیلت دے رکھی ہے۔ اسی طرح سال میں بہت سے ایام ایسے ہیں جن کو دیگر ایام پر فضیلت حاصل ہے۔ چنانچہ ذوالحجہ کے پہلے عشرے کو حج اور قربانی کی مناسبت سے دیگر ایام کے مقابلے میں فضیلت حاصل ہے۔ رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں کو سال کی باقی تمام راتوں پر فضیلت حاصل ہے۔ اسی طرح جب مہینوں کی بات آتی ہے تو چار مہینے تخلیقِ ارض وسما کے دن ہی سے فضیلت والے ہیں جن میں رجب‘ ذیقعد‘ ذی الحج اور محرم الحرام شامل ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ان عظمت والے مہینوں کے حوالے سے سورۃ التوبہ کی آیت: 36 میں ارشاد فرماتے ہیں: '' مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک کتاب اللہ میں بارہ ہی ہے‘ اسی دن سے جب سے آسمان و زمین کو اس نے پیدا کیا ہے‘ اس میں سے چار حرمت و ادب والے مہینے ہیں۔ یہی درست دین ہے‘ تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو‘‘۔ اس آیت مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم کرنے سے بچنا چاہیے۔ اس لیے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کو معزز اور محترم مہینے قرار دیا ہے۔ چنانچہ ان محترم اور معزز مہینوں میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی نافرمانی سے بچنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرنی چاہیے۔
احادیثِ مبارکہ کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ رمضان المبارک کے فرض روزوں کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والے روزے محرم الحرام کے ہیں۔ رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت سے قبل نبی کریمﷺ یومِ عاشور کے روزے کا خصوصی انتظام فرماتے تھے لیکن رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت کے بعد اب اسے ایک اختیاری روزے کا درجہ حاصل ہو چکا ہے۔ بہت زیادہ فضیلت کے باوجود اس روزے کو رکھنا فرض نہیں ہے۔ جس شخص کیلئے ممکن ہو وہ اس کو رکھ لے اور اگر کوئی اس کو چھوڑ دیتا ہے تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ اس حوالے سے صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز (تہجد) ہے‘‘۔ مسند احمد میں حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے نبی کریمﷺ اپنے صحابہ کو دس محرم کا روزہ رکھنے کا حکم دیتے‘ پھر جب ماہِ رمضان کے روزے فرض ہو گئے تو نبی کریمﷺ ماہِ رمضان ہی کے روزے رکھنے لگے اور عاشورہ کا روزہ چھوڑ دیا‘ اب جو چاہے وہ روزہ رکھ لے اور جو چاہے نہ رکھے۔
محرم الحرام کی فضیلت جہاں کتاب وسنت سے ثابت ہے وہیں اس مہینے میں بہت سے اہم تاریخی واقعات بھی رونما ہوئے جن میں سے بعض اہم درج ذیل ہیں:
1۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات: فرعون زمین پر اللہ تبارک وتعالیٰ کا بہت بڑا باغی حکمران تھا جس نے زمین کو بنی اسرائیل کے لوگوں کیلئے تنگ کر رکھا تھا۔ ان پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑتا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کے پاس اللہ کی توحید کی دعوت لے کر گئے لیکن اس نے اس دعوت کو قبول کرنے کے بجائے موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ عناد اور بغض کا رویہ اختیار کیا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے موسی علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے لوگوں کو فرعون کے ظلم سے 10 محرم الحرام کو نجات دے دی۔ یہود اس کی مناسبت سے روزہ رکھا کرتے تھے۔ چنانچہ نبی کریمﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ''نبی کریمﷺ مدینہ میں تشریف لائے تو (دوسرے سال) آپﷺ نے یہودیوں کو دیکھا کہ وہ عاشورا کے دن روزہ رکھتے ہیں۔ آپﷺ نے ان سے اس کا سبب معلوم فرمایا تو انہوں نے بتایا کہ یہ ایک بابرکت دن ہے‘ اسی دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن (فرعون) سے نجات دلائی تھی۔ اس لیے موسیٰ علیہ السلام نے اس دن کا روزہ رکھا تھا۔ آپﷺ نے فرمایا: پھر موسیٰ علیہ السلام کے (شریکِ مسرت ہونے میں) ہم تم سے زیادہ مستحق ہیں؛ چنانچہ آپﷺ نے اس دن روزہ رکھا اور صحابہ کرام کو بھی اس کا حکم دیا‘‘۔ نبی کریمﷺ نے بعد ازاں یہود سے مشابہت کی وجہ سے 9 محرم الحرم کا روزہ رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ بعض اہلِ علم نے اس سے یوں سمجھا کہ شاید نبی کریمﷺ نے 10 کے روزے کو 9 سے تبدیل فرما دیا ہے جبکہ جمہور علماء کی رائے یہ ہے کہ 10 تاریخ پر 9 تاریخ کے روزے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
2۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت: اسی مہینے کی پہلی تاریخ کو مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو ذی الحجہ کے آخری ایام میں قاتلانہ حملے سے زخمی ہوئے تھے‘ اس دنیائے فانی سے خلعتِ شہادت کو زیب تن کرتے ہوئے رخصت ہو گئے اور شہادت کے بعد آپ کو نبی کریمﷺ کے پہلو میں دفن کر دیا گیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے زمانۂ نبوت اور اپنے دورِ خلافت میں دین اسلام کی بھرپور انداز سے خدمت کی اور مسلمانوں کی شان وشوکت اور دین کی ہیبت وسطوت میں آپ کی خدماتِ عالیہ کی وجہ سے بہت زیادہ اضافہ ہوا۔ آپؓ نے رفاہِ عامہ کے ایسے ایسے کام انجام دیے کہ جن کی وجہ سے آج بھی مغربی مفکرین خدمت خلق کے باب میں آپ کو ایک مثال سمجھتے ہیں۔ یہ مہینہ آپ کی شہادت کی یاد کو تازہ کرتا اور آپ کی عظیم المرتبت شخصیت کی ہمہ گیر خدمات کی یاد دلاتا ہے۔
3۔ سیدنا حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت: نبی کریمﷺ کے اہلِ بیت میں سے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ایک نمایاں اور بلند مقام رکھتے ہیں۔ آپؓ سیدنا علی المرتضیٰ اور حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہما کے لختِ جگر ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نبی کریمﷺ کی محبتوں کا مرکز ومحور رہے۔ نبی کریمﷺ نے سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو نوجوانانِ جنت کا سردار قرار دیا اور ساری زندگی ان کے ساتھ محبت فرماتے رہے۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ زہد وتقویٰ اور للہیت کے اعتبار سے ایک انتہائی مثالی شخصیت ہیں۔ زندگی بھر کتاب وسنت پر عمل پیرا رہے اور زندگی کے آخری ایام بھی آپؓ نے زہد وتقویٰ اور للہیت میں گزارے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے محرم الحرام کی 10 تاریخ کو آپؓ کو شہادت کی خلعتِ فاخرہ عطا فرمائی اور آپؓ اس دنیا سے ایک مظلوم شہید کی حیثیت سے رخصت ہوئے۔ سیدنا حسینؓ اور آپ کے اہلِ خانہ کی مظلومانہ شہادت کی کسک آج بھی دنیا ئے اسلام کے ہر فرد کے دل میں موجود ہے۔ لوگ سیدنا حسنین کریمینؓ سے اس حد تک والہانہ محبت کرتے ہیں کہ ان کے نام نامی پر اپنی اولاد کا نام رکھنا اپنے لیے باعثِ فخر وسعادت گردانتے ہیں۔ محرم الحرام کا مہینہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اگر ہم حقیقت میں ان عظیم شخصیات سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں تو ہمیں ان کے سیرت وکردار سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جس انداز سے اثر ورسوخ کے مقابلے میں جدوجہد کی‘ حضرت عمر فاروقؓ نے جس اعتبار سے اسلام کی خدمت کی اور سیدنا حسینؓ جس انداز سے تقویٰ‘ للہیت اور کتاب وسنت کے ساتھ تمسک والی زندگی گزارتے رہے‘ یقینا یہ اہلِ اسلام کیلئے بہت بڑی تحریک کا سبب ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں اپنے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے‘ آمین!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں