"SAC" (space) message & send to 7575

سٹیٹ بینک کی مہنگائی سے لڑائی؟

سٹیٹ بینک آف پاکستان ہر دو ماہ بعد نئی شرحِ سود کا اعلان کرتا ہے۔ یہ شرح بڑھانے پر کہا جاتا ہے کہ سٹیٹ بینک مہنگائی کے خلاف لڑ رہا ہے اور جب شرح کم کی جاتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ بینک کاروبار کی ترقی میں مدد دینا چاہتا ہے۔ دونوں صورتوں میں پیغام ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے: سٹیٹ بینک شرحِ سود کے ذریعے نہایت احتیاط سے معیشت کی رہنمائی کر رہا ہے۔ لیکن ایک بات ایسی ہے جس کے بارے میں عوام کو بہت کم بتایا جاتا ہے۔ آج ہم اس پوشیدہ نکتے پر بات کرتے ہیں۔
ایک طرف سٹیٹ بینک مہنگائی کو قابو میں رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے تو دوسری طرف خاموشی سے نجی بینکوں کو تقریباً 16ہزار ارب روپے قرض بھی دے رہا ہے۔ مرکزی بینک کے اس عمل پر عوامی سطح پر بہت کم بات ہوتی ہے لیکن اس کارروائی سے ایک واضح سوال جنم لیتا ہے: اگر سٹیٹ بینک معاشی نظام میں موجود رقم (زر) کی مقدار کم کرنا چاہتا ہے تو پھر وہ بینکاری نظام میں کھربوں روپے کیوں ڈال رہا ہے؟ اس سوال کا جواب اس بات میں پوشیدہ ہے کہ یہ رقم درحقیقت کس مقصد کیلئے استعمال ہو رہی ہے۔ یہ نئی فیکٹریوں یا پیداواری کاروباروں کی مالی معاونت کیلئے استعمال نہیں ہو رہی بلکہ یہ رقم حکومت کو اس کے بے تحاشا اخراجات میں مدد دینے کیلئے استعمال ہورہی ہے۔ حکومت ٹیکسوں کی مد میں حاصل ہونے والی آمدنی سے کہیں زیادہ خرچ کرتی ہے۔ اس فرق کو پورا کرنے کیلئے وہ نجی بینکوں سے قرض لیتی ہے۔ چونکہ حکومتی قرض کا حجم بہت زیادہ ہوتا ہے اس لیے بالآخر بینکوں کے پاس ڈپازٹس کیلئے رقوم کم پڑنے لگتی ہیں۔ پھر سٹیٹ بینک مداخلت کرتا ہے اور بینکوں کو قرض دیتا ہے تاکہ وہ حکومت کو قرض دیتے رہیں۔ اس طرح حکومت کا نظام چلتا رہتا ہے۔ بینکوں کے پاس رقوم کی دستیابی برقراررہتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ نئی رقم (زر) بھی مسلسل نظام میں شامل ہوتی رہتی ہے۔ اسی عمل سے ملک کی مالیاتی پالیسی میں ایک بنیادی تضاد جنم لیتا ہے۔ سٹیٹ بینک کہتا ہے کہ وہ شرح سود بڑھا کر مہنگائی کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بلند شرح سود کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ اور کاروبار کم خرچ کریں‘ طلب میں کمی آئے اور قیمتوں میں اضافہ کی رفتار سست ہو جائے۔ لیکن جب کھربوں روپے نجی بینکوں میں ڈالے جائیں گے تو اس سے معاشی نظام میں دستیاب رقم (زر) کی مقدار بھی بڑھے گی۔ زیادہ رقم کا مطلب ہے زیادہ اخراجات جس سے قیمتیں مزید اوپر چلی جاتی ہیں۔ یعنی ایک پالیسی آگ بجھانے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ دوسری مسلسل آگ بھڑکانے کیلئے اس میں ایندھن ڈال رہی ہے۔
اگر حکومتی اخراجات بدستور بے قابو رہتے ہیں تو سٹیٹ بینک کے اس دعوے میں کوئی سنجیدگی نہیں کہ صرف شرحِ سود مہنگائی پر قابو پا لے گی۔ جب ہم حکومت کے حقیقی قرض کی لاگت کو دیکھتے ہیں تو یہ مسئلہ مزید واضح ہو جاتا ہے۔ ظاہری طور پر حکومت بلند شرحِ سود ادا کرتی ہے لیکن سٹیٹ بینک نجی بینکوں کو قرض دے کر منافع کماتا ہے اور بعد میں اس منافع کا بڑا حصہ دوبارہ حکومت کو منتقل کر دیتا ہے۔ نتیجتاً حکومت کی قرض لینے کی خالص لاگت نہایت معمولی رہ جاتی ہے۔ یہ لاگت نصف فیصد سے بھی کم ہے۔ جب قرض تقریباً مفت ہو تو کوئی بھی حکومت کم خرچ کیوں کرے گی؟
دوسری جانب کاروباری حلقے مسلسل شرحِ سود میں کمی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ قرضوں کی بلند لاگت سرمایہ کاری کو نقصان پہنچاتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ممکن ہے انہیں پہلے ہی کم شرح سود پر قرض مل رہے ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر سٹیٹ بینک نجی بینکوں میں رقم ڈپازٹ کرنا بند کر دے تو بینکوں کو ڈپازٹس حاصل کرنے کیلئے کہیں زیادہ سخت مقابلہ کرنا پڑے۔ اس کے نتیجے میں بازار کی شرح سود آج کی پالیسی شرح سے بھی زیادہ ہو جائے گی۔ دوسرے لفظوں میں موجودہ شرح سود پہلے ہی مصنوعی طور پر کم رکھی جا رہی ہے۔ اس لیے کاروباری ادارے ایک ایسی رعایت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جس کا انہیں مکمل طور پر احساس بھی نہیں۔ ایک اور غلط فہمی مہنگائی کی وجوہات سے متعلق ہے۔ بہت سے پالیسی ساز مہنگائی کا ذمہ دار تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں یا عالمی منڈیوں کو قرار دیتے ہیں۔ یہ عوامل یقینا قیمتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں لیکن صرف عارضی طور پر۔ یہ عوامل قیمتوں میں ایک مرتبہ اضافہ کا سبب بن سکتے ہیں لیکن ان کی وجہ سے مہنگائی ہر مہینے مسلسل نہیں بڑھ سکتی۔ مہنگائی میں مسلسل اضافے کی وجہ معیشت میں زر کی رسد مسلسل بڑھنا ہے۔ جو اس وقت بڑھتی ہے جب سٹیٹ بینک حکومت کو قرض دینے کیلئے مالی معاونت کرتا ہے اور مسلسل نئی کرنسی چھاپتا رہتا ہے۔ سٹیٹ بینک سرکاری طور پر کہتا ہے کہ وہ مہنگائی کو ہدف بنانے کے نظام پر عمل کرتا ہے اور اس کا مقصد مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے درمیان رکھنا ہے۔ لیکن مہنگائی کو ہدف بنانے کا یہ نظام صرف اسی وقت مؤثر ثابت ہوتا ہے جب حکومتیں اپنی مالی استطاعت کے اندر رہ کر اخراجات کریں۔پاکستان کو دیگر چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ جیسے ٹیکسوں میں اچانک اضافہ‘ بجلی اور ایندھن کی قیمتوں میں غیر متوقع تبدیلیاں اور قواعد و ضوابط میں بار بار رد و بدل۔ ان عوامل کی وجہ سے مہنگائی سے متعلق توقعات متاثر ہوتی ہیں اور قیمتوں میں اضافے کو تقویت ملتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ بیرونِ ملک سے آنے والی ترسیلاتِ زر (چودہ ہزار ارب روپے)‘ بینکاری نظام سے باہر گردش کرنے والی نقد رقم (بارہ ہزار ارب روپے)‘ جو بنیادی طور پر غیر رسمی‘ غیر دستاویزی کاروبار استعمال کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں غیر ملکی قرضے اور سٹیٹ بینک کی خصوصی مالیاتی سکیمیں بھی موجود ہیں۔ یہ تمام عوامل شرح سود کی تبدیلیوں سے متاثر نہیں ہوتے۔ تاہم مہنگائی بڑھانے والے یہ بنیادی عوامل نہیں ہیں۔ مہنگائی کے دباؤ کا سب سے بڑا ذریعہ بدستور حکومت ہے جو اپنی مالی استطاعت سے بڑھ کر اخراجات کر رہی اور اپنے بجٹ کی مالی معاونت کیلئے قرض پر انحصار کر رہی ہے۔ یہ قرض اب تقریباً 36 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ یہ رقم نجی بینکوں کے ڈپازٹس کے 120 فیصد کے برابر ہے۔
ایک اورعامل بھی ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ موجودہ نظام اس طرح کام نہیں کر رہا جیسا کہ دعویٰ کیا جاتا ہے۔ ملک میں اکثر مہنگائی اس وقت بڑھتی ہے جب روپے کی قدر کم ہوتی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پروگراموں کے دوران پاکستانی کرنسی کی شرحِ مبادلہ عموماً مستحکم رکھی جاتی ہے جس سے مہنگائی میں کمی کا رجحان پیدا ہوتا ہے۔ جیسے ہی آئی ایم ایف کا پروگرام ختم ہوتا ہے اور روپے کی قدر گرتی ہے‘ مہنگائی تیزی سے واپس آ جاتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں مہنگائی بنیادی طور پر کرنسی کی شرحِ مبادلہ میں ہونے والی تبدیلیوں سے متاثر ہوتی ہے۔ اس صورت میں کہا جاسکتا ہے کہ قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا اصل ذریعہ شرحِ سود نہیں ہے۔ یہ تو صرف اس پورے عمل کا ایک حصہ ہے۔
اصل چوائس نہایت واضح اور سادہ ہے۔ یا تو حکومت کو اپنے اخراجات کم کرنا ہوں گے تاکہ سٹیٹ بینک حقیقی معنوں میں مہنگائی کو قابو میں رکھنے پر توجہ دے سکے یا پھر پالیسی سازوں کو یہ تاثر دینا بند کر دینا چاہیے کہ مہنگائی کو ہدف بنانے کا نظام مؤثر طریقے سے کام کر رہا ہے۔ آج ہمارے پاس دونوں صورتوں کی خرابیاں موجود ہیں۔ سٹیٹ بینک خود کو مہنگائی کے خلاف لڑنے والا مرکزی بینک ظاہر کرتا ہے جبکہ دوسری طرف وہ حکومت کے مالی خسارے کی معاونت کی خاطر خاموشی سے بے تحاشا مقدار میں نئی کرنسی بنا رہا ہے۔ اگلی بار جب کاروباری رہنما کم شرح سود کا مطالبہ کریں تو انہیں پہلے ایک مختلف سوال پوچھنا چاہیے: کس شرح سے کم؟ اگر بینکاری نظام سٹیٹ بینک کی اس پوشیدہ معاونت کے بغیر کام کر رہا ہوتا تو ممکن ہے شرحِ سود حقیقت میں کہیں زیادہ بلند ہوتی۔ سٹیٹ بینک کی موجودہ (پالیسی) شرح سود پہلے ہی رعایت یافتہ ہے۔ رقم کی حقیقی قدر عوام کی نظروں سے اوجھل رکھی جا رہی ہے۔ (یہ مضمون ڈاکٹر ندیم الحق کے اشتراک سے لکھا گیا۔)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...