حالیہ برسوں میں پاکستان کی زرِ مبادلہ کی مارکیٹ میں ایک عجیب صورتحال دکھائی دی۔ روپیہ بظاہر ''مستحکم‘‘ نظر آیا‘ سرکاری ذخائر میں اضافہ ہوا اور ڈالر کی غیر قانونی مارکیٹ پہلے کی نسبت سکڑ گئی۔ ظاہری طور پر سب کچھ پُرسکون دکھائی دیتا ہے لیکن اس سکون کے پیچھے معیشت کمزور ہے۔ برآمدات نہیں بڑھ رہیں اور صنعتیں اعتماد کھو رہی ہیں‘ لہٰذا اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ اچھی معاشی حکمتِ عملی ہے یا صرف حکام کا چالاکی پہ مبنی کنٹرول؟
پاکستان ماضی میں کم از کم چھ بار زرِ مبادلہ کی بڑی بحرانی کیفیتوں کا سامنا کر چکا ہے۔ ان تکلیف دہ تجربات کے باوجود سٹیٹ بینک اب بھی روپے کی قدر کو قابو میں رکھنے پر بہت زیادہ توجہ دے رہا ہے۔ 2023ء اور 2026ء کے درمیان حکام واقعی کرنسی کو مستحکم کرنے اور ذخائر بڑھانے میں کامیاب ہوئے لیکن یہ استحکام مضبوط معیشت یا بڑھتی ہوئی برآمدات کے باعث نہیں آیا‘ بلکہ سرکاری پابندیوں اور غیر ملکی کرنسی تک رسائی محدود کئے جانے کے نتیجے میں پیدا ہوا۔ آج پاکستان میں عملی طور پر زرِ مبادلہ کی دو مارکیٹیں موجود ہیں۔ ایک سرکاری اور دوسری غیر رسمی۔ یہ صورتحال اس لیے موجود ہے کیونکہ ملک طویل عرصہ سے روپے کی قدر کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ سرکاری مارکیٹ پر سٹیٹ بینک آف پاکستان کی سخت نگرانی ہے۔ وہ برآمدات اور ترسیلاتِ زر سے آنے والی غیر ملکی کرنسی کا ایک حصہ اپنے کنٹرول میں لیتا ہے اور بینکوں کو بتاتا ہے کہ وہ درآمدات کے لیے کتنی رقم (زرمبادلہ) استعمال کر سکتے ہیں۔ گاہے گاہے لیٹرز آف کریڈٹ (ایل سیز) کھولنے پر پابندیاں بھی لگائی جاتی ہیں۔ خاص طور پر اُن اشیا کیلئے جو ''غیر ضروری‘‘ سمجھی جاتی ہیں۔ اس سے ڈالر کی طلب کم ہو جاتی ہے اور زرمبادلہ کی شرح کو مصنوعی طور پر مستحکم رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
استحکام کا یہ تاثر اس لیے اور بھی مضبوط ہو جاتا ہے کہ ترسیلاتِ زر بڑھ رہی ہیں۔ گزشتہ دو برسوں میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے پہلے سے زیادہ رقوم ملک میں بھیجی ہیں لیکن اس کہانی کو لازماً کامیابی کی کہانی نہیں کہا جا سکتا۔ درحقیقت یہ کہانی ملکی معیشت کے مسائل کی عکاسی کرتی ہے۔ بہت سے پاکستانی ملک چھوڑ رہے ہیں کیونکہ انہیں وطن میں اچھے مواقع نہیں مل رہے۔ اسی دوران مہنگائی نے پاکستان میں خاندانوں کی زندگی زیادہ مشکل بنا دی ہے اس لیے انہیں بیرونِ ملک سے زیادہ مدد کی ضرورت ہے۔ بعض صورتوں میں وہ خاندان جو بیرونِ ملک رہ رہے تھے‘ واپس پاکستان آ گئے ہیں۔ اس وجہ سے گھر کے کمانے والے مرکزی کردار پر مالی بوجھ بڑھ گیا ہے اور اسے زیادہ رقم وطن بھیجنا پڑ رہی ہے۔ یہ ترسیلاتِ زر ملک کو سہارا تو دے رہی ہیں لیکن ان کی بنیاد معاشی مشکلات ہیں‘ معاشی ترقی نہیں۔
دوسری طرف ڈالر کی طلب میں کمی آئی ہے۔ سرمائے کی بیرونِ ملک منتقل ہونے کی رفتار‘ یعنی وہ رقم جو ٹیکس چوری‘ بدعنوانی یا غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث ملک سے باہر جاتی ہے‘ کم ہو گئی ہے کیونکہ بین الاقوامی نگرانی زیادہ سخت ہو چکی ہے۔ سمگلنگ اور درآمدات کی کم قیمت ظاہر کرنے کے رجحان میں بھی کسی حد تک کمی آئی ہے‘ جزوی طور پر اس لیے کہ کمزور معاشی صورتحال کی وجہ سے لوگوں نے اخراجات کم کر دیے ہیں۔ مہنگی گاڑیوں‘ مشہور برانڈز کی اشیا یا تعلیم اور سیاحت کیلئے بیرونِ ملک سفر میں کمی آئی ہے کیونکہ مہنگائی زیادہ ہے اور روپیہ کمزور ہوا ہے۔ اس کے بجائے پاکستان کے اندر سیاحت کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے اور لوگ مقامی یونیورسٹیوں پر زیادہ انحصار کرنے لگے ہیں۔ لیکن یہ تبدیلیاں معاشی بہتری کی نہیں معاشی سست روی کی علامات ہیں۔
حکومت نے غیر ملکی اشیا کی طلب کم کرنے کیلئے درآمدی ڈیوٹیاں بھی بڑھائی ہیں (جو حال ہی میں معمولی سی کم کر دی گئی ہیں)۔ درآمدات کو مہنگا بنا کر حکومت نے ڈالروں کے ملک سے اخراج کو کم کرنے اور زرمبادلہ کی شرح پر دباؤ گھٹانے کی کوشش کی ہے‘ تاہم یہ کوئی طویل مدتی حل نہیں۔ اگرچہ اس سے وقتی طور پر درآمدات کم ہو سکتی ہیں لیکن اس سے ان مقامی کاروباروں کے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں جو درآمد شدہ خام مال پر انحصار کرتے ہیں۔ اس سے پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈیوں میں مسابقتی اہلیت کم ہو جاتی ہے اور معیشت میں غیر مؤثر طرزِ عمل کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔
اسی دوران سٹیٹ بینک نے زرمبادلہ کے کاروبار سے وابستہ افراد پر پابندیاں عائد کی ہیں اور سرکاری ادارے جیسے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) غیر رسمی مارکیٹ کو قابو میں رکھنے کیلئے چھاپے مارتے ہیں اس سے نظم وضبط کا ایک تاثر پیدا ہوتا ہے لیکن یہ نظم وضبط حقیقی معاشی اصلاحات پر مبنی نہیں۔ بعض صورتوں میں ایسی کارروائیاں بدعنوانی کو بھی جنم دے سکتی ہیں۔ مجموعی طور پر یہ نظام کمزور ہے اور اس کا انحصار مضبوط پالیسیوں کے بجائے زیادہ تر کنٹرول پر ہے۔ ان پالیسیوں کے دفاع میں سٹیٹ بینک اکثر حقیقی مؤثر زرمبادلہ شرح کا حوالہ دیتا ہے اور بعض اوقات دعویٰ کرتا ہے کہ یہ شرح ظاہر کرتی ہے کہ روپیہ اپنی اصل قدر سے کم ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال میں یہ پیمانہ زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ جب تجارت پر کچھ پابندیاں ہوں‘ درآمدات محدود ہوں اور قیمتیں مسخ شدہ ہوں تو ایسے اشاریے حقیقت کی درست عکاسی نہیں کرتے۔ اگر مارکیٹ کو آزادانہ طور پر کام کرنے دیا جائے تو روپے کی اصل قدر واضح ہو جائے گی۔ آج پاکستان کے پاس حقیقی استحکام نہیں بلکہ ایک عارضی وقفہ ہے۔ روپے کی مضبوطی زیادہ پیداوار‘ مؤثریت یا مضبوط برآمدات سے نہیں آئی بلکہ یہ مختلف پابندیوں اور غیر ملکی کرنسی تک رسائی محدود کرنے کا نتیجہ ہے۔ ایکسپورٹرز کو بڑھتے ہوئے اخراجات‘ سامان کی ترسیل میں تاخیر‘ ٹیکس واپسی میں رکاوٹوں اور خام مال کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اسی دوران یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ بین الاقوامی خریدار وں کا پاکستان پر ایک قابلِ اعتماد تجارتی شراکت دار کے طور پر بھروسا کم ہوا ہے۔ ملک آگے نہیں بڑھ رہا بلکہ جمود کا شکار ہے۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ روپیہ اس طرح مستحکم رکھا جا سکتا ہے یا نہیں‘ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس قسم کا استحکام معیشت کیلئے مفید ہے؟ جتنا زیادہ یہ مصنوعی نظام جاری رہے گا اتنا ہی اس کی وجہ سے صنعتوں کو نقصان پہنچے گا‘ سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہو گی اور ایک ناگزیر بحران وقتی طور پر مؤخر ہو جائے گا۔ یہ حقیقی معاشی نظم ونسق نہیں بلکہ زیادہ تر ایک دکھاوا ہے۔ اگر پاکستان حقیقی اور پائیدار معاشی استحکام چاہتا ہے تو اسے بنیادی امور پر توجہ دینا ہو گی۔
غیر ملکی زرمبادلہ کی مارکیٹ کو زیادہ کھلا اور شفاف بنایا جانا چاہیے۔ ایکسپورٹرز کو حقیقی مدد درکار ہے جیسے قابلِ اعتماد اور بین الاقوامی نرخوں کی مناسبت سے بجلی اور گیس کی فراہمی‘ خام مال تک رسائی‘ بروقت ٹیکس ریفنڈز‘ بیرونی تجارت کو آسان کرنے اور فروغ دینے کیلئے بہتر تجارتی خدمات‘ مؤثر سپلائی کا نظام اور ایسے آسان اور واضح ریگولیشنز جو غیر یقینی نہ ہوں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ سٹیٹ بینک کو پابندیوں پر انحصار کرنے کے بجائے شفاف انداز میں کام کرنا چاہیے۔ زرمبادلہ کی شرح کو مستحکم کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ مضبوط سرکاری مالیاتی نظام ہے۔ اس کا مطلب ہے غیر ضروری حکومتی اخراجات کو کم کرنا اور ایک منصفانہ اور شفاف ٹیکس نظام قائم کرنا۔ اگر حکومت اپنے فضول اخراجات پورے کرنے کیلئے قرض لینے اور نوٹ چھاپنے پر کم انحصار کرے گی تو کرنسی پر دباؤ کم ہوگا۔ مضبوط مالیاتی پوزیشن سے اعتماد پیدا ہوتا ہے‘ مہنگائی کم ہوتی ہے اور غیر ملکی کرنسی کی ضرورت کم ہو جاتی ہے۔ اس سے وقتی پابندیوں کے مقابلے میں زیادہ مستحکم اور پائیدار معیشت وجود میں آتی ہے۔ جب تک ایسی تبدیلیاں نہیں کی جاتیں‘ روپیہ ایک ایسے گھر کی مانند رہے گا جو ریت پر تعمیر کیا گیا ہو‘ اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ریت زیادہ دیر اپنی جگہ پر نہیں ٹھہرتی۔
(اس مضمون میں ڈاکٹر ندیم الحق کی معاونت شامل ہے)