ابھی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی گورننس سے متعلق بے جان رپورٹ کی گرد بھی پوری طرح نہیں بیٹھی تھی کہ ورلڈ بینک نے بھی ایک بڑی ''دریافت‘‘ کر ڈالی۔ عالمی بینک بڑے زور و شور سے پاکستان میں مالی وفاقیت کے بارے میں ایک رپورٹ کی شکل میں اپنا تازہ نسخہ لے آیا۔ اس رپورٹ میں نہ تو کوئی خاص نئی بات ہے‘ نہ کوئی ایسی فکری جہت جو سنجیدہ غور و فکر پر آمادہ کرے۔ یہ رپورٹ حد درجہ تکنیکی نوعیت کی ایک مشق سے زیادہ کچھ نہیں۔ اس میں پاکستان میں ادارہ جاتی کمزوریوں کی فہرست مرتب کی گئی ہے اور کئی سفارشات پیش کی گئی ہیں‘ مثلاً اخراجاتی ذمہ داریوں کی زیادہ واضح تقسیم‘ صوبائی محصولات کی مضبوط تر وصولی‘ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں اصلاحات‘ زیادہ شفاف اور قواعد پر مبنی مالی منتقلیاں‘ بین الحکومتی ہم آہنگی کو زیادہ مؤثر بنانا اور بااختیار مقامی حکومتیں۔ اصولی طور پر ان سفارشات سے بہت کم لوگ اختلاف کریں گے۔ مسئلہ یہ ہے کہ رپورٹ ان سفارشات کو ایسے مسائل کے ٹیکنیکل حل کے طور پر پیش کرتی ہے جو بنیادی طور پر سیاسی نوعیت کے ہیں جبکہ پاکستان کی پولیٹکل اکانومی‘ وفاق اور صوبوں کے تعلقات کی بنیاد بننے والے آئینی معاہدے اور اس سیاسی سودے بازی کو‘ جس نے ملک کے مالیاتی ڈھانچے کو تشکیل دیا‘ محض سطحی انداز میں سمجھا گیا ہے۔ رپورٹ میں تجزیہ کرتے ہوئے یہ مفروضہ اختیار کیا گیا ہے کہ بہتر ٹیکنیکل انتظامات بتدریج وہ سیاسی حالات پیدا کر سکتے ہیں جو ان مجوزہ اقدامات کی کامیابی کیلئے ضروری ہیں۔ حقیقت میں یہ سیاسی حالات ادارہ جاتی اصلاحات کا نتیجہ نہیں بلکہ ان اصلاحات کو لانے کیلئے پیشگی شرط ہیں۔ ادارے سیاسی محرکات کو تشکیل نہیں دیتے بلکہ سیاسی محرکات اداروں کو تشکیل دیتے ہیں۔ رپورٹ بجا طور پر اسلام آباد کی جانب سے ان شعبوں میں مسلسل فراخدلانہ اخراجات پر تنقید کرتی ہے جو آئینی طور پر صوبوں کو منتقل کیے جا چکے ہیں۔ ان اخراجات کے نتیجے میں جوابدہی میں ابہام اور مالی عدم توازن پیدا ہوا لیکن رپورٹ اس بات کا جائزہ نہیں لیتی کہ کون سے محرکات اس صوبائی دائرہ اختیار میں مداخلت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اس کا جواب انتظامی کنفیوژن میں نہیں بلکہ سیاسی معیشت میں پوشیدہ ہے‘ یعنی سرپرستی کے نیٹ ورک کو برقرار رکھنا‘ سرکاری اداروں کی سلطنتوں اور ملازمتوں کے راستوں کا تحفظ کرنا‘ ادائیگیوں کے توازن کی مدد کیلئے ڈونرز کے مالی تعاون سے چلنے والے منصوبوں کو وفاقی سطح پر جگہ دینا اور ان شعبوں پر اثر و رسوخ برقرار رکھنا جنہیں آئین نے صوبائی حکومت کے سپرد کیا ہے۔
صوبے بھی اس معاملے میں بے قصور نہیں ہیں۔ انہوں نے مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے میں بہت کم دلچسپی دکھائی اور اپنی آمدنی کے ذرائع پر ٹیکس نافذ کرنے سے مسلسل گریز کیا ہے کیونکہ وہ سیاسی طور پر بھاری ثابت ہو سکتے تھے‘ نیز اس لیے بھی کہ ان کے سالانہ مالیاتی سرپلس وفاقی خسارہ پورا کرنے کیلئے منتقل کر دیے جاتے ہیں۔ یہ سب سیاسی محرکات ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی بگاڑ اتفاقی نہیں۔ یہ محض تکنیکی غفلت نہیں ہے۔ یہ ایسے سیاسی محرکات کی پیداوار ہے جنہیں جان بوجھ کر پیدا کیا گیا اور بڑی احتیاط سے برقرار رکھا گیا۔ اس کے باوجود ورلڈ بینک کی رپورٹ میں ان محرکات پر سرسری توجہ دی گئی کیونکہ وہ تکنیکی بیانیے میں آسانی سے فٹ نہیں بیٹھتے۔ خود ورلڈ بینک کا کئی دہائیوں تک مؤقف رہا کہ عدم مرکزیت (اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی)‘ بہتر جوابدہی‘ مضبوط صوبائی ملکیت اور بہتر عوامی خدمات کے حصول کا راستہ ہے۔ اس نے اٹھارہویں آئینی ترمیم کا خیر مقدم کیا تھا اور صوبوں کو اپنی وسیع تر ذمہ داریوں کی انجام دہی میں مدد دینے کیلئے وسائل بھی فراہم کیے تھے۔ اب جبکہ پاکستان شدید مالی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے‘ ورلڈ بینک کا بیانیہ بدل چکا ہے۔ اب عدم مرکزیت کو بڑھتی ہوئی حد تک انتشار‘ غیر ضروری تکرار اور معاشی استحکام میں خلل کا سبب قرار دیا جا رہا ہے۔ دونوں مؤقف کسی نہ کسی حد تک درست ہیں۔ لیکن رپورٹ یہ واضح نہیں کرتی کہ جس انتظام کو کبھی جمہوری اور ترقیاتی پیشرفت قرار دے کر سراہا گیا تھا وہ اچانک مالیاتی طور پر خراب کارکردگی کا بنیادی سبب کیسے بن گیا؟ کئی دہائیوں سے ورلڈ بینک پاکستان کے ترقیاتی منظرنامہ میں سب سے زیادہ سرگرم کرداروں میں شامل رہا ہے۔ اس نے نظام کی ساخت میں اصلاحات کے پروگراموں‘ سوشل ایکشن پروگرام‘ گورننس کی اصلاحات‘ عوامی اخراجات کے جائزوں‘ ٹیکس انتظامیہ کے منصوبوں‘ ادارہ جاتی مضبوطی کے اقدامات اور بے شمار تکنیکی معاونتی مشنوں کے ذریعے اربوں ڈالر خرچ کیے اور معیشت کے تقریباً ہر بڑے شعبہ میں مشورہ دیا‘ مالی معاونت فراہم کی‘ نگرانی کی اور جائزہ لیا۔ وہ کبھی بھی ایک غیر جانبدار بیرونی مبصر نہیں تھا۔ بہت کم ادارے یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ انہوں نے پاکستان کی عوامی پالیسی پر اس قدر گہرا اثر ڈالا ہو جتنا ورلڈ بینک نے ڈالا۔ اس طویل وابستگی کے باوجود ورلڈ بینک نے شاذو نادر ہی پاکستان کے مالیاتی ڈھانچے میں موجود آئینی تضادات اور ساختی خامیوں کی نشاندہی کی۔ یہ تضادات اور خامیاں ہی اس کی مدد سے چلنے والے پروگراموں کی کامیابی میں رکاوٹ بننے والے بنیادی عوامل تھے۔ ان کمزوریوں کو عالمی بینک اب ایک ''دریافت‘‘ کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ یہ کمزوریاں راتوں رات پیدا نہیں ہوئیں۔ یہ ابتدا ہی سے نظام کا حصہ تھیں۔ اب یہ رپورٹ کمزور تعلیمی نتائج‘ صحت کے ناقص اشاریوں‘ غیر مؤثر عوامی اخراجات اور خدمات کی بگڑتی ہوئی فراہمی کو اس بات کا ثبوت قرار دیتی ہے کہ مالی وفاقیت کو فوری اصلاح کی ضرورت ہے۔ ورلڈ بینک کا یہ کہنا غیر ارادی طور پر ایک ایسے ترقیاتی ماڈل پر فردِ جرم عائد کرنے کے مترادف ہے جس میں خود ورلڈ بینک ایک مرکزی شریک کار رہا ہے۔ ورلڈ بینک کے یہ انکشافات پالیسی سے متعلق بحثوں سے واقف کسی شخص کیلئے ہرگز نئے نہیں ہیں۔ ملکی ماہرین معاشیات‘ آئینی ماہرین‘ متعدد پالیسی کمیشنوں اور قومی مالیاتی کمیشن نے بارہا حکومتی اخراجات کی عدم مرکزیت اور محصولات کی مرکزیت کے درمیان کشیدگی کو نمایاں کیا ہے۔
ترقی یقینا ایک دشوار عمل ہے۔ بیرونی ادارے نہ تو سیاسی مفاہمت پیدا کر سکتے ہیں اور نہ آئینی اتفاقِ رائے۔ وفاق کسی تجارتی ادارے کی طرح نہیں ہوتا جس کی کامیابی کو مالی تناسب سے ناپا جا سکے۔ پاکستان کا وفاقی ڈھانچہ ایسے سیاسی معاہدے کے نتیجے میں وجود میں آیا تھا جس کا مقصد صوبوں کی دیرینہ شکایات اور ضرورت سے زیادہ مرکزیت کے احساس کا ازالہ کرنا تھا۔ اس لیے کوئی بھی جائزہ جو انتظامی اور مالی کارکردگی پر زور دے لیکن سیاسی عوامل کو پس منظر میں دھکیل دے‘ وہ نامکمل تشخیص کرتا ہے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ یہ بھی تسلیم کیا جائے کہ رپورٹ میں کہیں کہیں ان سیاسی پہلوؤں کا اعتراف بھی کیا گیا ہے لیکن وہ محض ضمنی حیثیت رکھتے ہیں۔ رپورٹ کے تکنیکی مشاہدات عمومی طور پر درست ہیں۔ پاکستان کو زیادہ واضح اخراجاتی ذمہ داریوں‘ صوبائی سطح پر زیادہ محصولات‘ شفاف مالی منتقلی‘ مؤثر مقامی حکومتوں اور زیادہ مربوط بین الحکومتی ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی اصلاح اس وقت تک قائم نہیں رہ سکتی جب تک وہ سیاسی محرکات تبدیل نہ ہو جائیں جنہوں نے ماضی کی ہر اصلاحی کوشش کو ناکام بنایا۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں رپورٹ ناکام دکھائی دیتی ہے۔ وہ اپنی تشخیص کو ایک نئی دریافت کے طور پر پیش کرتی ہے مگر کسی سنجیدہ خود احتسابی سے گریز کرتی ہے۔ حکومتوں کو کئی دہائیوں تک مشورے دینے‘ اصلاحات کی مالی معاونت کرنے‘ اداروں کا جائزہ لینے اور عوامی پالیسیوں کی تشکیل میں کردار ادا کرنے کے بعد ورلڈ بینک کو دیانتداری سے اس سوال کا سامنا کرنا چاہیے کہ وہ ملک کی ترقی میں اس قدر گہرائی سے شامل ایک ادارہ ہے تو اس نتیجے تک اتنی دیر سے کیسے پہنچا جس کی نشاندہی پاکستانی بہت پہلے کر چکے تھے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments