ناقدین اکثر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ لاہور کو پنجاب حکومت کی جانب سے اس کے جائز حصے سے زیادہ وسائل ملتے ہیں اور یہ کہ یکے بعد دیگرے آنے والی صوبائی حکومتوں نے چھوٹے شہروں اور اضلاع کی قیمت پر اس شہر پر انفراسٹرکچراور دیگرسہولتوں کی بارش کی ہوئی ہے۔ تاہم حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ لاہور کو صوبائی حکومت کی ایسی نوازشات کی بالکل ضرورت نہیں۔ یہ بذات خود ایک امیر شہر ہے جس کی ترقی کی راہ میں دانستہ طور پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔ اس شہر کا واسطہ ایک ایسی صوبائی انتظامیہ سے ہے جو شہر کے اثاثوں پر کنٹرول تو رکھتی ہے لیکن شہر کو ان اثاثوں کا انتظام کرنے‘ ان سے فائدہ اٹھانے یا انہیں استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے رہی۔ اس طرح درحقیقت صوبائی انتظامیہ نے شہر کی اپنی دولت پر ایک پوشیدہ ٹیکس عائد کیا ہوا ہے۔ اگر پبلک اثاثوں کے لحاظ سے دیکھا جائے تو لاہور جنوبی ایشیا کے امیر ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے باوجود ایک متحرک‘ رہنے کے قابل اور معاشی طور پر مضبوط و متحرک شہر بننے کی اس کی صلاحیت دب کر رہ گئی ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں جیسا کہ صوبائی مداخلت‘ پیچیدہ ریگولیٹری ڈھانچہ اور مسلسل سیاسی و انتظامی بدانتظامی۔ یہ صورتحال اس لیے بھی ابتر ہو جاتی ہے کہ شہر میں مختلف بکھری ہوئی ایجنسیاں ہیں جن کے ایک جیسے اختیارات ہیں اور ان کی ذمہ داریوں کے بارے میں شدید ابہام پایا جاتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان تمام مسائل کے باوجود آج تک کسی نے درست طور پر یہ شمار ہی نہیں کیا کہ شہر کے پاس اصل میں کیا کچھ موجود ہے‘ کون کون سے قیمتی اثاثے ہیں۔ لاہور شہر کھربوں روپے مالیت کی عوامی زمین‘ جائیداد‘ پارکوں اور تاریخی مقامات کا مالک ہے مگر ایک نہایت اہم عنصر مکمل طور پر غائب ہے اور وہ یہ کہ شہر کے پاس کوئی جامع مالی گوشوارہ موجود نہیں۔ کوئی بیلنس شیٹ نہیں۔ ایسا کوئی منظم اندراجی نظام نہیں جو ان شہری اثاثوں کی فہرست تیار کرے‘ ان کی مالیت کا تعین کرے‘ شہر کی مجموعی مالی حیثیت واضح کرے۔ اس سرمایہ کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے اور اسے ترقی دینے کے لیے ضروری انتظامی ڈھانچہ فراہم کرے۔ دنیا کے بڑے شہروں جیسے ٹورنٹو‘ سنگاپور اور کوپن ہیگن میں پبلک اثاثوں کا فعال اور مؤثر انداز میں انتظام کیا جاتا ہے تاکہ طویل مدتی دولت پیدا کی جا سکے‘ خدمات کی فراہمی بہتر بنائی جا سکے اور پائیدار شہری ترقی کے لیے سازگار حالات مہیا کیے جا سکیں۔ یہ شہر اپنے اثاثوں کو سٹرٹیجک دولت سمجھتے ہیں نہ کہ محض انتظامی معاملہ۔ اس کے برعکس لاہور میں ہم یہ بھی شمار نہیں کرتے کہ ہمارے پاس کیا کیا ہے‘ چہ جائیکہ ہم ان وسائل کا کسی حکمت عملی کے تحت انتظام سنبھالیں۔ ایک مؤثر اثاثہ جاتی گنتی اور حساب کتاب کا نظام موجود ہو تو اس کی مدد سے فوکس شہر کے سیا سی کنٹرول کے بجائے اس کی معاشی کارکردگی کی جانب مڑ جائے گا۔ یہ نظام اثاثوں کے تجارتی استعمال‘ صارف فیس‘ نئی زون بندی‘ ازسرِنو مالیت کے تعین اور زمین و جائیداد کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے بہتر فائدہ اٹھا کر وسائل پیدا کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ یہ نظام ادارہ جاتی ذمہ داریوں کو واضح کرے گا‘ اثاثوں کے مقامات اور مالیت کو عوام کے سامنے لا کر بدعنوانی کے مواقع کم کرے گا۔ اس کی مدد سے حقیقت پسندانہ طویل مدتی منصوبہ بندی ممکن ہو جائے گی اور پائیدار مالی ذرائع‘ جیسے بلدیاتی بانڈز اور دیگر سرمایہ جاتی مارکیٹ کے طور طریقوں کے لیے راستہ کھل جائے گا۔ شہر کا ایک قابلِ اعتماد مالی خاکہ موجود ہو تو وہ نجی سرمایہ کاری کو بھی راغب کر سکتا ہے۔ یوں انفراسٹرکچر اور خدمات کی فراہمی کے لیے ایک منظم اور مربوط سرکاری اور نجی شراکت داری ممکن ہو سکتی ہے۔
شہر کی مالی حالت اور پیداواری صلاحیت کے واضح ادراک کے بغیر منصوبہ بندی کرنے میں یہ نقص ہوتا ہے کہ وہ وقتی اور ہنگامی نوعیت کی ہوتی ہے۔ ایسی منصوبہ بندی ردِعمل پر مبنی اور بکھری ہوئی رہتی ہے۔ سادہ الفاظ میں یوں کہیے کہ اگر آپ کسی چیز کا حساب کتاب نہیں رکھتے تو آپ اس کا انتظام نہیں کر سکتے اور اسے ترقی بھی نہیں دے سکتے۔ نتیجتاً ہمارے سامنے ایک ایسا شہر ہے جو کھربوں روپے کے اثاثوں کا مالک ہے لیکن اس کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا جاتا ہے اور اسے اس طرح چلایا جاتا ہے جیسے اس کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔ لاہور کے اثاثوں کا ایک محتاط تخمینہ بھی لگایا جائے تو اس سے شہرکی غیر استعمال شدہ استعداد کا زبردست اور حیران کن حجم ہمارے سامنے آتا ہے۔ ذیل میں کچھ نکات دیکھیے:
شہر میں ہزاروں ایکڑ قیمتی شہری زمین ہے جیسے پارکس‘ سرکاری دفاتر‘ رہائشی اور تربیتی ادارے‘ نجی کلب‘ اعلیٰ تعلیمی ادارے اور گالف کے میدان۔ یہ سب شہر کے سب سے زیادہ تجارتی اہمیت رکھنے والے علاقوں میں واقع ہیں لیکن یا تو بہت کم کرایہ ادا کرتے ہیں یا بالکل کچھ بھی ادانہیں کرتے جبکہ پراپرٹی ٹیکس بھی نہ ہونے کے برابر ادا کیا جاتا ہے۔ ممکنہ اور حقیقی آمدن کے درمیان فرق نہایت واضح ہے۔ پنجاب نے 2024-25ء میں پورے صوبہ سے پراپرٹی ٹیکس کی مد میں صرف آٹھ کروڑ ڈالر جمع کیے جبکہ صرف ممبئی شہر میں اس مد میں 73 کروڑ ڈالروصول کیے گئے۔ اورنج لائن میٹرو اور اس سے منسلک سٹیشنوں کی زمین ایک بڑا اثاثہ ہے لیکن اسے بہت کم استعمال کیا گیا ہے۔ مناسب منصوبہ بندی اور مؤثر نظم و نسق کے ذریعے ان سفری مراکز کو وسیع تجارتی‘ پرچون کاروبار اور مخلوط استعمال (ایک ہی علاقہ میں رہائش اور کمرشل سرگرمیاں) کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس طریقہ سے حاصل ہونے والی آمدن سے میٹرو کے اپنے آپریشنز اور توسیع کے اخراجات پورے کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس وقت پبلک سٹیڈیم‘ تقریبات کے مقامات اور تاریخی ورثے کے مقامات اتنی آمدن بھی پیدا نہیں کرتے کہ ان کی بنیادی دیکھ بھال کے اخراجات پورے ہو سکیں۔ ان کا وسیع شہری ترقی میں حصہ ڈالنا تو دور کی بات ہے۔ بہت سی کھیلوں کی سہولتیں سال کے بیشتر حصے میں غیر فعال رہتی ہیں جبکہ عوام کو ان تک محدود یا بالکل بھی رسائی حاصل نہیں ہوتی۔ یہ اس شہرکے فزیکل اور شہری سرمایہ دونوں کا ضیاع ہے۔ شہر میں منظم تفریح اور ثقافتی سرگرمیوں کی بہت کمی ہے اور اس سرمایہ کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ شہر کی سڑکیں روزانہ لاکھوں مسافر استعمال کرتے ہیں اور ان سڑکوں پر شہر بھر میں بے ترتیب کھڑی گاڑیاں نظر آتی ہیں۔ یہ ایک اور آمدن کے ممکنہ ذریعہ کا ضیاع ہے۔ بامعاوضہ پارکنگ نظام‘ ٹریفک کے دباؤ کے مطابق پارکنگ کے نرخوں کا تعین اور ٹول چارجز دنیا بھر کے شہروں میں آمدن پیدا کرنے کے اہم آزمودہ ذرائع ہیں۔ یہ وسائل الیکٹرک بسوں کے ایک مکمل بیڑے کے اخراجات پورے کر سکتے ہیں اور ان کی مدد سے دباؤ کے شکار ٹرانسپورٹ نظام پر بوجھ بھی کم ہو سکتا ہے۔
پانی کی فراہمی‘ صفائی‘ ٹھوس کچرا اٹھانے کے انتظامات اورپبلک ٹرانسپورٹ (بس) کے نظام سے متعلق بنیادی سہولتوں کو جتنی آمدن پیدا کرنی چاہیے وہ اپنی استعداد سے کم سطح پر کام کر رہی ہیں۔ مناسب نرخ بندی‘ بہتر وصولی اور ان خدمات کے تجارتی استعمال سے مالی پائیداری اور خدمات کے معیار دونوں میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ اگر ان اثاثوں کو محتاط اندازے کے مطابق بھی مارکیٹ کی قیمت پر جانچا جائے تو ان کی مجموعی مالیت آسانی سے کھربوں روپے تک پہنچتی ہے۔ اس سلسلہ میں کچھ نہ کرنے اور بے عملی کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ آئندہ کالم میں ہم اس موضوع پر مزید گفتگو کریں گے۔
(اس مضمون میں ڈاکٹر ندیم الحق کی معاونت شامل تھی)