"SAC" (space) message & send to 7575

آئی ایم ایف پر انحصار کی وجوہات

ہر چند ماہ بعد پاکستانی حکام اور ان کے ہمنوا ایک گھسا پٹا نعرہ لگاتے ہیں کہ پاکستان کو کسی بھی طرح آئی ایم ایف کو چھوڑ دینا چاہیے۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کی خاطر جو الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں وہ بھی لوگ کئی بار سُن چکے ہیں‘ یعنی برآمدات‘ پیداوار میں اضافہ‘ انسانی وسائل‘ ٹیکنالوجی‘ گورننس وغیرہ۔ ان الفاظ کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے جیسے یہ مسئلے کا حل ہوں۔ گویا ان الفاظ سے آئی ایم ایف سے آزادی کا راستہ متعین ہو جائے گا۔ اس ساری گفتگو میں جو بات کبھی موجود نہیں ہوتی وہ یہ ہے کہ منزل تک پہنچنے کا راستہ کیا ہے‘ یعنی کس راستے پر چل کر منزل تک پہنچنا ہے؟ اس گفتگو میں ان ٹھوس پالیسی اقدامات یا ادارہ جاتی تبدیلیوں کا ذکر بہت ہی کم کیا جاتا ہے جن کی مدد سے اس مقصد کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہ نعرہ لگانے والوں کی خواہشات ہی ان کا ہدف بن جاتی ہیں۔ ان نعروں کے جو نتائج نکلنے ہیں ان کو اصلاحات سمجھ لیا جاتا ہے اور اصلاحات کا عمل محض باتوں تک محدود رہ جاتا ہے۔اکثر یہ غلطی کی جاتی ہے کہ آئی ایم ایف کو چھوڑنے کے نام نہاد ''منصوبوں‘‘ میں اپنی خواہشات کو ہی طریقِ کار سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ کہنا کہ برآمدات بڑھنی چاہئیں کوئی پالیسی نہیں۔ یہ مطالبہ کرنا کہ اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی ہونی چاہیے کوئی حکمتِ عملی نہیں۔ یہ تو مطلوبہ نتائج ہیں‘ طریقہ کار نہیں۔ اصل سوال زیادہ چبھتا ہوا ہے اور وہ یہ کہ کون کون سی مخصوص تبدیلیاں کی جائیں جو آنے والے دنوں میں ہمارا رویہ اور طرزِ عمل بدل دیں؟
یہ الجھن‘ یہ کنفیوژن اتفاقی نہیں ہے۔ بات یہ نہیں کہ پاکستان اس لیے بار بار آئی ایم ایف کے دروازے پر جاتا ہے کہ اس کے پاس خیالات کی کمی ہے۔ بلکہ وہ اس کے پاس اس لیے جاتا ہے کہ اس کا معاشی نظام ہی ایسا ہے جس میں لازمی طور پر بیرونی ادائیگیوں کے توازن کا بحران پیدا ہوتا رہتا ہے۔ آئی ایم ایف پر انحصار کوئی ٹیکنیکل ناکامی نہیں ہے۔ یہ انحصار ایک مخصوص پولیٹکل اکانومی کا نتیجہ ہے۔ اس کی وجہ سے آئی ایم ایف پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اس بات کی آسانی سے پیش گوئی کی جا سکتی ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا ہی پڑے گا کیونکہ پولیٹکل اکانومی کا مروجہ نظام حکومت کے ذریعے ناجائز مراعات لینے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جبکہ معیشت میں نئے لوگوں‘ نئے خیالات کو آنے سے روکتا ہے۔ یہ پولیٹکل اکانومی نظام پر قابض طاقتور لوگوں کو محفوظ بناتی ہے‘ توانائی (بجلی‘ پٹرول‘ گیس) کی غیر حقیقی‘ مسخ شدہ قیمتیں مقرر کرتی ہے‘ برآمدات پر بالواسطہ ٹیکسوں کی بھرمار کرتی ہے اور قواعد وضوابط کی پابندی کے بجائے صوابدید اور من مانی پر انحصار کرتی ہے۔ اگر آئی ایم ایف کو چھوڑنا ہو تو محض اس سے آزادی کا نعرہ لگا کر اسے نہیں چھوڑ سکتے۔ اگر واقعی آئی ایم ایف پروگرامز سے نکلنا ہے تو اپنے گھر میں اس نظام کو تبدیل کرنا ہو گا جو بار بار وہ مالی خلا پیدا کرتا ہے جس کی وجہ سے بار بار آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے۔
کسی ملک کو آئی ایم ایف کے پاس اس صورت میں جانا پڑتا ہے جب معیشت کے تین معاملات ایک ساتھ پیدا ہو جائیں: زرِ مبادلہ کی آمدنی بیرونی خلا کو پُر کرنے میں ناکام ہو جائے‘ بجٹ کے مالی خسارے نوٹ چھاپ کر یا سخت شرائط والے قرض لے کر پورے کیے جائیں اور معیشت پر اعتماد زمین بوس ہو جائے‘ جس کی وجہ سے ملک عالمی سرمایہ کی منڈیوں سے کٹ جائے۔ پاکستان بار بار اس صورتحال کا اس لیے شکار نہیں ہوتا کہ یہ اس کی بدقسمتی ہے بلکہ وجہ یہ ہے کہ پاکستان ایسی ریاست ہے جو پوری سرگرمی سے غلط رعایتوں کی ترغیبات دے کر (خصوصاً تجارت کے ذریعے) پیداواری صلاحیت اور معاشی نمو کو نیچے دھکیل دیتی ہے۔ اس کا نتیجہ ایسی معیشت کی شکل میں نکلتا ہے جو ساخت کے اعتبار سے کمزور ہے‘ جو وقتاً فوقتاً زرمبادلہ سے محروم ہو جاتی ہے اور اس پر اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال سے نکلنے کا آغاز اس طرح ہو گا کہ ہم یہ وہم چھوڑ دیں کہ معیشت کو ٹھیک کرنے کیلئے صرف منصوبہ بندی ہی کافی ہے۔ بہت عرصہ ہو گیا کہ ہم نے یہ تصور کیا ہوا ہے کہ معاشی ترقی اور نمو پنج سالہ‘ دس سالہ منصوبوں‘ پراجیکٹس اور کانفرنسوں کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔ اسی دوران اصل میں ہوتا یہ ہے کہ حقیقی معیشت لوٹ کھسوٹ پر مبنی ٹیکس کے نظام‘ صوابدیدی اجازت ناموں‘ مسخ شدہ قیمتوں (اصل قیمت کو بگاڑ کر) اور ریگولیشن کے بوجھ تلے دبتی چلی جاتی ہے۔ حکومت کا یہ طرزِ عمل اس بات کا عکاس ہے کہ ریاست کو مارکیٹ پر اعتماد نہیں اور اسے مبالغہ کی حد تک یہ یقین ہے کہ وہ معیشت کو خود سے چلانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
معاشی نمو صرف بہتر منصوبوں سے نہیں آتی۔ یہ تب ہوتی ہے جب کاروباری ادارے سرکاری اجازت ناموں کی بھیک کے بغیر کام شروع کر سکیں۔ اپنے کاروبار کو وسعت دے سکیں‘ اپنی بنائی ہوئی چیز کو برآمد کر سکیں‘ لوگوں کو ملازم رکھ سکیں اور سرمایہ کاری کر سکیں‘ یعنی مقابلہ پر مبنی ایک آزاد ماحول ہو‘ یقینی صورتحال ہو اور قواعد پر مبنی نظام ہو۔ سرکاری اجازت ناموں‘ ریگولیشن والے ماحول میں آئی ایم ایف پر انحصار ہی جنم لیتا ہے‘ اور یہی وہ چیز ہے جسے ٹھیک کرکے آئی ایم یف کو چھوڑا جا سکتا ہے۔
اصلاح کا آغاز توانائی (بجلی اور گیس) کے شعبوں سے ہونا چاہیے کیونکہ یہی وہ شعبہ ہے جہاں ہر آئی ایم ایف پروگرام بالآخر ناکام ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں توانائی کا بحران صلاحیت کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ پالیسی‘ قیمت طے کرنے اور نظم ونسق کی ناکامی کا معاملہ ہے۔ سرکاری نااہلی کی سزا صارفین اور ٹیکس دینے والوں کو توانائی کی غیر یقینی فراہمی اور مسخ شدہ (بگڑی ہوئی) قیمتوں کی صورت میں ملتی ہے۔ اس شعبے کو ٹکڑوں میں بٹے ہوئے تقریباً دو درجن ادارے کسی ہم آہنگی کے بغیر چلا رہے ہیں۔ اس شعبہ میں پالیسی بے ربط ہے‘ یعنی یقینی مقررہ منافع‘ بے معنی رعایتیں اور سیاسی فیصلے۔ یہ بے ربطگی اور کمزور مینجمنٹ قیمتوں کے ڈھانچے کو بگاڑتی اور سرکاری نااہلی کو تحفظ دیتی ہے۔ بجلی‘ گیس کی تقسیم کار کمپنیاں نقصانات اور چوری چکاری پر کسی کو جواب دہ نہیں۔
اس عمل کے کیا نتائج نکلیں گے ان کی آسانی سے پیش گوئی کی جا سکتی ہے۔ سرمایہ کاری کے غلط اشاریے‘ کھپت میں کمی اور سولر انرجی کی گرتی ہوئی قیمت کے باعث صارفین کا سرکاری گرڈ کو تیزی سے چھوڑنا اور نہ ختم ہونے والا گردشی قرض جو بجٹ کے ایک نیم مالی خسارے کی طرح ہوتا ہے اور بالآخر مہنگائی‘ قرض یا آئی ایم ایف کی شرائط کی صورت اختیار کرلیتا ہے‘ اس کا حل نہ مزید رعایتیں ہیں نہ عارضی بیل آؤٹ پیکیجز۔ اس کا حل قواعد پر مبنی قیمتوں کا تعین ہے۔ شفافیت پر مبنی اور لاگت کے عکاس نرخ‘ خودکار رد وبدل کا میکانزم اور گورننس کے ایسے معاہدے جنہیں نافذ کیا جا سکے۔ غریبوں کو تحفظ دینا ہو تو انہیں براہ راست‘ ٹارگٹڈ سبسڈی دی جائے نہ کہ مسخ شدہ نرخ متعین کرکے جو پورے نظام کو دیوالیہ کر دیں۔ (اس مضمون میں ڈاکٹر ندیم الحق کی معاونت شامل تھی)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں