"SAC" (space) message & send to 7575

بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری

اکثر ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کا بجلی کا شعبہ معیشت کیلئے سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے اور اس میں بنیادی اصلاحات کے بغیر بہتری کی توقع کرنا مشکل ہے۔ یہ شعبہ کمزور پالیسیوں اور گورننس کے پیچیدہ اور اُلجھے ہوئے ڈھانچے کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ بجلی کے نظام کا یہ ڈھانچہ 20 سے زائد اداروں پر مشتمل ہے۔ ایک بڑا مسئلہ بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے دوران ہونے والا غیرمعمولی نقصان ہے۔ یہ نقصان مجموعی طور پر پیدا ہونے والی بجلی کا تقریباً 17فیصد ہے‘ جو جنوبی کوریا (3.6فیصد)‘ امریکہ (5فیصد) اور چین (8فیصد) جیسے ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کا بنیادی مسئلہ ان کی کمزور گورننس ہے۔ ہمارے ملک میں بجلی کی چوری عام ہے اور یہ مختلف طریقوں سے کی جاتی ہے۔ مثلاً غیر قانونی کنکشن کے ذریعے‘ بجلی کا استعمال کم ظاہر کرکے یا اسے بلنگ کی دوسری اقسام میں منتقل کرکے۔ اس کے ساتھ ساتھ پرانی تاروں‘ فرسودہ برقی آلات اور گرڈ کے نظام میں ناکافی سرمایہ کاری کی وجہ سے بھی بڑے پیمانے پر تکنیکی نقصانات ہوتے ہیں۔ زیادہ تر ڈسکوز تقریباً بغیر کسی ایکویٹی کے قائم کی گئی تھیں۔ یعنی ان کے پاس اپنا کوئی قابلِ ذکر سرمایہ نہیں تھا۔ اسکے نتیجے میں وہ مالی طور پر کمزور رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے نیٹ ورک کی مناسب دیکھ بھال یا اس میں بہتری نہیں کر سکتیں‘ نہ ہی اس کی گنجائش میں اضافہ کر سکتی ہیں اور نہ ہی بجلی کی قابلِ اعتماد فراہمی یقینی بنا سکتی ہیں۔ ان ڈسکوز کے نقصانات بالآخر گردشی قرضوں میں اضافے کی صورت میں حکومتی بوجھ میں اضافہ کرتے ہیں۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر حکومت ڈسکوز کی نجکاری پر غور کر رہی ہے۔ امید یہ ظاہر کی جا رہی ہے کہ نجی ملکیت ان کی کارکردگی بہتر بنائے گی‘ نقصانات کم کرے گی اور مسلسل ہونے والے مالی خسارے کا خاتمہ کرے گی۔ تاہم یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف نجکاری سے سستی اور بلاتعطل بجلی فراہم کی جا سکے گی؟ اس سوال کی کئی ٹھوس وجوہات موجود ہیں۔ اس ضمن میں پہلا سوال یہ ہے کہ آخر نجکاری کس چیز کی ہو گی؟ کیا بجلی کے کھمبے اور تاریں بھی فروخت کی جائیں گی؟ اگر یہ انفراسٹرکچر کسی ایک کمپنی کے پاس چلا جاتا ہے تو اس کی اجارہ داری قائم ہو جائے گی اور دوسری کمپنیوں کیلئے اس سے مقابلہ کرنا ممکن نہیں رہے گا۔ اور اگر ان کی نجکاری نہیں کی جاتی تو پھر نجکاری کا اصل مقصد کیا رہ جائے گا؟ کمپنیوں کے درمیان حقیقی مقابلہ اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب بجلی فراہم کرنے والی متعدد کمپنیاں ایک ہی نیٹ ورک پر یکساں مواقع اور شرائط کے ساتھ منصفانہ طور پر کام کر سکیں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ سرکاری نااہلی کی جگہ نجی کمپنیوں کی اجارہ داری لے لے گی۔دوسرا سوال یہ ہے کہ پورے ملک میں بجلی کے یکساں نرخوں کی پالیسی کا کیا بنے گا؟ کیا نجی کمپنیوں کو بجلی کے نرخوں میں تبدیلی کرنے کی اجازت دی جائے گی‘ چاہے یہ فیصلے سیاسی طور پر غیرمقبول ہی کیوں نہ ہوں؟ کیا نجی کمپنیوں کو عملہ کم کرنے‘ ادائیگی نہ کرنے والے سرکاری اداروں کی بجلی منقطع کرنے اور بجلی چوری کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے اختیارات حاصل ہوں گے؟ ایسے اختیارات کے بغیر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مؤثر معاونت کے بغیر نجی کمپنیوں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آنا مشکل ہے۔
ایک بنیادی مسئلہ بجلی کے نظام کی ساخت سے بھی جڑا ہوا ہے۔ بجلی بل کا 70 فیصد سے زیادہ حصہ بجلی پیدا کرنے کے مرحلے سے تعلق رکھتا ہے۔ اگر بجلی پیدا کرنے کیلئے درکار ایندھن اور ترسیلی نظام حکومت کے کنٹرول میں رہے اور سرکاری ادارے سخت نظم و ضبط کے بغیر نجی کمپنیوں کیلئے نیٹ ورک کے استعمال کے معاوضے خود طے کرتے رہیں تو ایسی صورت میں نجی ڈسکوز کے پاس اپنی کارکردگی بہتر بنانے یا اخراجات کم کرنے کی گنجائش بہت محدود رہ جائے گی۔ اس صورت میں صرف بلنگ‘ میٹرنگ یا سروس آپریشنز کی نجکاری سے بنیادی مسائل حل نہیں ہو سکیں گے۔ بین الاقوامی تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ بجلی کی تقسیم کی نجکاری درمیانی آمدن والے ممالک میں نسبتاً بہتر نتائج دیتی ہے جہاں حکومتیں مستحکم ہوں‘ پالیسیاں قابلِ اعتبار ہوں‘ کمپنیوں کی انتظامیہ پیشہ ورانہ ہو اور سیاسی عزم مضبوط ہو۔ کامیاب نجکاری کی ایک مثال ترکیہ کی ہے جہاں صرف ڈسٹری بیوشن سسٹم کی نجکاری کی گئی جبکہ دیگر بنیادی انفراسٹرکچر سرکاری تحویل میں ہی رکھا گیا۔
پاکستان میں بجلی کی سبسڈی کے مسئلے کو بھی واضح اور دو ٹوک انداز میں حل کرنا ضروری ہے۔ جن ممالک میں گھریلو صارفین کیلئے بجلی کے شعبے کی نجکاری کی گئی وہاں مختلف صارف کیٹیگریز کے درمیان نرخوں میں فرق بتدریج کم ہوتا گیا۔ اس وقت ہمارے ہاں صورتحال یہ ہے کہ بعض صارفین دراصل دوسروں کو سبسڈی فراہم کر رہے ہیں۔ مثلاً کم بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کیلئے بجلی کا نرخ بہت کم رکھا گیا ہے جبکہ زیادہ بجلی استعمال کرنے والوں کیلئے یہ خاصا زیادہ ہے۔ اسی طرح تجارتی اور صنعتی صارفین کیلئے بھی بجلی کے نرخ نسبتاً بلند ہیں۔ نجی کمپنی غالباً زیادہ نرخ ادا کرنے والے بڑے صارفین‘ یعنی صنعتی یا تھوک صارفین کو ترجیح دے گی جبکہ کم منافع بخش صارفین یعنی گھریلو صارفین سے گریز کرے گی۔ گھریلو صارفین کو بجلی فراہم کرنے کے نظام کی دیکھ بھال پر زیادہ اخراجات آتے ہیں جبکہ صنعتی صارفین کو بجلی فراہم کرنے کی لاگت نسبتاً کم ہوتی ہے۔
ملک میں ایک اہم تبدیلی یہ بھی آ رہی ہے کہ شمسی توانائی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ خصوصاً بڑے صارفین‘ جیسے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین اور کارخانے تیزی سے شمسی توانائی کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال میں نجکاری سے وابستہ کئی توقعات پوری نہیں ہو سکیں گی کیونکہ ایسے حالات میں حکومت کیلئے کیپسٹی پیمنٹس ادا کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ اس وقت ملک میں صنعتی صارفین کو مہنگی بجلی فروخت کرکے چھوٹے گھریلو صارفین کو رعایتی نرخوں پر بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ اس نظام کو کراس سبسڈی کہا جاتا ہے۔ دنیا کے جن ممالک میں بجلی کی تقسیم کاری کی نجکاری کی گئی وہاں عموماً گھریلو اور زرعی صارفین کیلئے بجلی کے نرخ بڑھ گئے اور کراس سبسڈی میں کمی واقع ہوئی۔ کیا پاکستان میں ایسا کرنا ممکن ہوگا؟ کیونکہ اسکے سیاسی نتائج خاصے حساس ہو سکتے ہیں۔ بین الاقوامی تجربہ بھی بتاتا ہے کہ نجکاری اکثر کسی ملک کے چند منتخب علاقوں میں کامیاب ہوئی‘ پورے ملک میں یکساں طور پر نہیں۔
پاکستان کیلئے ریگولیٹری صلاحیت کو بہتر بنانا بھی نہایت اہم ہو گا۔ اس وقت اس شعبے میں ایک سے زیادہ اداروں کے پاس ایک جیسے اختیارات موجود ہیں اور یہ نظام مختلف اداروں کے درمیان کمزور ہم آہنگی اور سیاسی مداخلت کا شکار ہے۔ ریگولیٹری ادارے اکثر سیاسی اثر و رسوخ سے متاثر رہتے ہیں اور ان میں ایسے افراد تعینات ہو جاتے ہیں جن کے پاس مطلوبہ تکنیکی مہارت نہیں ہوتی۔ حتیٰ کہ بعض ایجنسیوں کو خودمختار قرار دیے جانے کے باوجود ان کے اختیارات اکثر ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے محدود کر دیے جاتے ہیں۔ نتیجتاً وہ آزاد نگران اداروں کے طور پر کارکردگی اور خدمات کے اعلیٰ معیار پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے ماتحت اداروں کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ آئین کے تحت بجلی وفاق اور صوبوں کا مشترکہ موضوع ہے یعنی اس میں وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتوں کا کردار شامل ہے۔ ان کے درمیان ذمہ داریوں کے بارے میں واضح اتفاق کے بغیر نجکاری ریگولیٹری تنازعات‘ انتظامی الجھاؤ اور طویل اختلافات کو جنم دے سکتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا نظام کی ساخت اور اس کی گورننس سے متعلق بنیادی مسائل کو سنجیدگی سے حل کیا جا رہا ہے؟ نجکاری کوئی جادوئی حل نہیں۔ جب تک مارکیٹ کے ڈھانچے‘ ریگولیشن‘ بجلی کے نرخوں کی پالیسی‘ قوانین کے نفاذ اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے بارے میں واضح حکمت عملی طے نہیں کی جاتی نجکاری سے وابستہ بلند اہداف حاصل کرنا ممکن نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں