ایران جنگ شروع ہونے کے بعد اگرچہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے کفایت شعاری کیلئے بعض اقدامات کیے ہیں لیکن یہ کافی نہیں کیونکہ حکومت کے مالیاتی نظام کا بحران اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ یہ منہدم ہونے کے قریب دکھائی دیتا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل نہیں کر سکا۔ اس نے مقررہ ہدف کے مقابلے میں 610 ارب روپے کم جمع کیے ہیں۔ اس کے باوجود بڑے پیمانے پر کوئی ایسی سنجیدہ کوشش دکھائی نہیں دیتی جس کے ذریعے ملک میں رائج بے تحاشا سرکاری اخراجات اور مراعات کے کلچر کو مستقل طور پر ختم کیا جا سکے یا کم از کم اس میں نمایاں کمی لائی جا سکے۔
سرکاری اخراجات آمدن سے کہیں زیادہ ہو چکے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں حکومت نے عوام کو تو کفایت شعاری کا بہت درس دیا لیکن خود فضول خرچیاں کرتی رہی۔ مثال کے طور پر گزشتہ تین برسوں میں وفاقی اور صوبائی بجٹوں میں تنخواہوں اور مراعات کی مد میں 65 فیصد اضافہ ہوا‘ جو افراطِ زر کی شرح سے کہیں زیادہ ہے۔ سرکاری مراعات کے اس کلچر کی جڑیں نہایت مضبوط ہو چکی ہیں حالانکہ ملک اس کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہا۔ سیاسی رہنما اور ریاستی اہلکار اکثر عوامی وسائل کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں۔ وہ اربوں روپے ایسے کاموں پر خرچ کر دیتے ہیں جن سے عام شہریوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا‘ بلکہ اس کے برعکس عوام کو اپنی جیب خالی کرنا پڑتی ہے تاکہ مراعات یافتہ طبقے کی عیش و عشرت برقرار رہ سکے۔
کفایت شعاری کیلئے بڑے اور تسلسل کے ساتھ کیے جانے والے اقدامات کی اہمیت کا اندازہ ہم اپنی قومی معیشت کی زبوں حالی سے بخوبی لگا سکتے ہیں۔ ملک قرضوں میں جکڑا ہوا ہے۔ ہمارا مجموعی ملکی قرض (اندرونی اور بیرونی ملا کر) ٹیکس سے حاصل ہونے والی سالانہ آمدن کے مقابلے میں 650فیصد زیادہ ہے جبکہ ہمارے جیسے معاشی حجم رکھنے والے 20ممالک کا اوسط 214فیصد ہے۔ ہمیں آئندہ چار برسوں میں تقریباً 100ارب ڈالر کا بیرونی قرض واپس کرنا ہے‘ جو ہماری برآمدی آمدن کے 265 فیصد کے برابر ہے جبکہ پاکستان جیسے معاشی حجم کے ممالک میں یہ شرح 64 فیصد ہے۔ اس قرض پر سالانہ سود کی ادائیگی 3.6 ارب ڈالر ہے‘ جو 2022ء کے بعد سے 81 فیصد بڑھ چکی ہے۔ سود اور اصل زر کی واپسی مجموعی طور پر سالانہ برآمدی آمدن کا تقریباً 42 فیصد بنتی ہے۔ چین‘ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے سٹیٹ بینک میں 12.5 ارب ڈالر بطور سیف ڈپازٹ جمع کروا رکھے ہیں۔ ان تین ممالک سمیت دیگر ممالک سے دوطرفہ قرض تقریباً 34 ارب ڈالر ہے‘ جو ہمارے کل بیرونی قرض کا 38 فیصد بنتا ہے۔ قرضوں کی اس دلدل سے نکلنے کیلئے ضروری ہے کہ حکومتیں اپنے اخراجات میں کمی کریں اور اپنی چادر کے مطابق پاؤں پھیلائیں۔ آئیے اب سرکاری اخراجات کے بنیادی مسائل کا جائزہ لیتے ہیں۔
ضرورت سے بڑا وفاقی ڈھانچہ: اٹھارہویں ترمیم کے تحت متعدد ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل کی جا چکی ہیں لیکن اس کے باوجود وفاقی حکومت کا حجم مسلسل بڑھتا گیا ہے۔ اس وقت وفاق کے پاس 42 ڈویژنز‘ 400 سے زائد محکمے اور تقریباً ساڑھے چھ لاکھ ملازمین ہیں۔ اگر نام نہاد خودمختار اداروں کو بھی شامل کیا جائے تو یہ تعداد گیارہ لاکھ سے تجاوز کر جاتی ہے۔ ان میں سے کئی ادارے قیمتی کمرشل زمینوں پر قائم ہیں۔ اسلام آباد کے بلیو ایریا سے گزرنے پر متعدد ایسے سرکاری ادارے دکھائی دیتے ہیں جنہیں عجیب و غریب نام دیے گئے ہیں‘ اور شاید ہی کوئی واضح طور پر بتا سکے کہ وہ عملی طور پر کیا خدمات انجام دے رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے اداروں کے فرائض غیرضروری یا متروک ہو چکے ہیں۔ حکومت نئی نئی ایجنسیاں قائم کرتی ہے اور ملازمتیں پیدا کرتی ہے جبکہ غیر ضروری ادارے ختم نہیں کیے جاتے کیونکہ ان سے فائدہ اٹھانے والے عناصر ان کی بندش کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر مالی سال 2024-25ء میں وفاق اور صوبوں نے 65 سے زائد نئے ادارے قائم کیے یا پرانے اداروں میں توسیع کی۔ سیاستدان ڈویژنز کے انضمام کی مخالفت کرتے ہیں کیونکہ کم ڈویژنز کا مطلب کم وزارتی عہدے ہیں‘ جبکہ بیوروکریسی بھی اس لیے مزاحمت کرتی ہے کہ سیکریٹری سطح کی اسامیوں میں کمی سے اختیارات اور مراعات متاثر ہوتی ہیں۔
صوبائی حکومتوں کی ابتری: دوسری جانب صوبائی حکومتیں بڑے پیمانے پر روزگار فراہم کرنے والے دفاتر کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ یہاں افسران کو مختلف قسم کے الاؤنسز دیے جاتے ہیں۔ ملازمین کی فہرست میں غیرہنر مند چپڑاسیوں‘ چوکیداروں‘ ڈرائیوروں اور کلرکوں کی بھرمار ہے جبکہ حقیقی مہارت رکھنے والے پیشہ ور افراد کی کمی ہے۔ پنجاب میں 2000ء میں 22 محکمے تھے‘ جو اَب بڑھ کر 48 ہو چکے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی پنشن کا مجموعی بوجھ 3500 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے‘ جس میں 2600 ارب روپے ان سرکاری کاروباری اداروں اور جامعات کا بوجھ بھی شامل ہے جن کی ضمانت حکومت نے لے رکھی ہے۔
ریگولیٹری اداروں کی بھرمار اور ترقیاتی فنڈز کا ضیاع: ملک میں حکومت کے قائم کردہ ایک سو سے زائد ریگولیٹری ادارے موجود ہیں‘ جن کی وجہ سے مارکیٹ کا قدرتی توازن متاثر ہوتا ہے‘ مارکیٹ فورسز کو آزادانہ کام کرنے کا موقع نہیں ملتا‘ معاشی سرگرمیاں محدود ہو جاتی ہیں اور کاروبار کرنے کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ خودمختار اداروں کے نقصانات‘ سبسڈی کے اخراجات اور سرکاری املاک کی حقیقی مارکیٹ ویلیو سے فائدہ نہ اٹھانے کے منفی اثرات بالآخر وفاقی حکومت کو برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ مزید یہ کہ ہر سال ایک ہزار ارب روپے سے زائد رقم ایسے کاموں پر خرچ ہو جاتی ہے جو پہلے ہی صوبوں کو منتقل کیے جا چکے ہیں یا ایسے منصوبوں اور اداروں پر لگائی جاتی ہے جن کی ذمہ داری صوبوں کو اٹھانا چاہیے۔ ان مقاصد کے حصول کیلئے بہتر اور زیادہ مؤثر متبادل طریقے بھی موجود ہیں لیکن ان پر توجہ نہیں دی جاتی۔
صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے والا ایک اور اہم عامل یہ ہے کہ وفاقی حکومت سیاسی نوعیت کے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کرتی رہتی ہے‘ جن کے فوائد اور نقصانات کا کوئی مؤثر جائزہ لینے کا نظام موجود نہیں۔ یہ منصوبے بظاہر کم لاگت سے شروع کیے جاتے ہیں حالانکہ ابتدا ہی میں واضح ہوتا ہے کہ وقت کے ساتھ ان کی مدت اور لاگت دونوں میں اضافہ ہو گا۔ مثال کے طور پر نیلم جہلم منصوبے کا ابتدائی تخمینہ 85 ارب روپے تھا‘ جو بڑھ کر 800 ارب روپے تک جا پہنچا‘ اور اب یہ منصوبہ بند پڑا ہے۔ اسی طرح اسلام آباد ایئرپورٹ کا ابتدائی تخمینہ 150ا رب روپے تھا‘ جو بڑھ کر تقریباً ایک ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا۔ منصوبوں کی منظوری کے ساتھ ہی اعلیٰ عہدوں پر عملہ تعینات کر دیا جاتا ہے جبکہ گاڑیاں‘ فون اور لیپ ٹاپ جیسے وسائل اصل کام شروع ہونے سے پہلے ہی خرید لیے جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ یہ منصوبے برسوں تعطل کا شکار رہتے ہیں۔ وفاقی ترقیاتی پروگرام کے تحت اس وقت ملک میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تعداد 1300سے زائد ہے‘ جنہیں مکمل کرنے میں 14سے 15سال درکار ہوں گے اور اس کے باوجود ہر سال نئے منصوبے شامل کیے جاتے رہتے ہیں۔ اس صورتحال کو بہتر کیسے بنایا جائے اور حکومت کے اخراجات اور آمدن میں توازن کیسے قائم کیا جائے‘ یہ ایک نہایت اہم سوال ہے جس پر ہم آئندہ گفتگو کریں گے۔