ہم نے گزشتہ کالم میں بحث کی تھی کہ صرف شرح سود تبدیل کرنے سے افراطِ زر پر اثر نہیں پڑتا کیونکہ پاکستان میں افراطِ زر کے متعدد اور بھی عوامل ہیں۔ سٹیٹ بینک نے ابھی تک دیگر عوامل کو نظر انداز کرکے صرف شرح سود ہی کو مہنگائی روکنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے‘ حالانکہ محض شرح سود پر توجہ مرکوز کرنے سے معاشی نمو اور روزگار کو نقصان پہنچتا ہے۔ سٹیٹ بینک کو ایسی حکومت کا بھی سامنا ہے جو بے تحاشا اخراجات کر رہی ہے۔ ان حالات میں مرکزی بینک کو بیک وقت معاشی نمو بڑھانے‘ افراطِ زر کم کرنے اور زرِ مبادلہ کی شرح کو مستحکم رکھنے کے لیے درکار ہتھیار میسر نہیں۔ متعدد ملکوں میں صرف افراطِ زر کو ہی تنہا ہدف نہیں سمجھا جاتا‘ مثلاً چین اور امریکہ کے مرکزی بینک قیمتوں کے استحکام کے ساتھ ساتھ روزگار بڑھانے کو بھی اپنی ذمہ داری میں شامل کرتے ہیں۔
ہماری معیشت دباؤ اور مندی کا شکار ہے جس میں اجرت اس تناسب سے نہیں بڑھتی جس اعتبار سے قیمتیں بڑھتی ہیں‘ کیونکہ معاشی ترقی کی رفتار کم ہے اور اس کی نسبت افرادی قوت میں اضافہ کی رفتار زیادہ ہے۔ لہٰذا افراطِ زر سے محنت کش‘ کارکنان زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ زیادہ شرحِ سود کے ذریعے قلیل مدتی غیر ملکی سرمایہ کاری (سٹاک مارکیٹ‘ حکومت کے قلیل مدتی ٹی بلز اور طویل مدتی پی آئی بیز) کو اپنی طرف مائل کیا جا سکتا ہے اور مزید قرض بھی لیا جا سکتا ہے۔ اس سے روپے کی قدر بھی بلند رہتی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ روپے کی قدر کو اس طریقے سے بلند سطح پر رکھنا بنیادی معاشی اشاریے اور برآمدات کی صلاحیت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس طرح سے حاصل کیا گیا سرمایہ غیر یقینی صورتحال کی ہلکی سی جھلک دیکھتے ہی بھاگ جاتا ہے۔ مسئلہ ادائیگی کی صلاحیت کا ہے نہ کہ صرف نقدی کی دستیابی کا۔ ذخائر بڑھانے‘ موجودہ قرض کی ادائیگی اور تجارتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے مزید قرض لینا ایک ایسے بوجھ کو مزید بڑھا دیتا ہے جو پہلے ہی تیزی سے سکڑتی ہوئی اور صنعتکاری سے محروم ہوتی ہوئی معیشت کے لیے بہت بھاری بوجھ ہے۔ یہ عمل مستقبل کی ذمہ داریوں کو پورا کرنا مزید مشکل بنا دیتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے: الف) طلب کے اہم عوامل بشمول مالیاتی خسارہ‘ ترسیلاتِ زر اور بڑی غیر رسمی؍ نقدی معیشت پر شرحِ سود میں تبدیلیوں کا اثر نہیں ہوتا۔
ب) لاگت میں اضافے کے عوامل بشمول درآمدی پابندیاں‘ ذخیرہ اندوزی اور اجارہ داریاں بھی شرحِ سود میں رد وبدل سے متاثر نہیں ہوتیں۔
تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سٹیٹ بینک کا کوئی کردار نہیں؟ کیا حقیقی منفی شرحِ سود (جو افراط زر سے کم ہو) کا بچت یا افراط زر کی توقعات پر کوئی اثر نہیں ہوتا؟ ظاہر ہے کہ جب شرح سود کم ہو گی تو لوگ بینکوں سے سرمایہ نکال کر سونے‘ ڈالر‘ رئیل اسٹیٹ یا لسٹڈ کمپنیوں میں لگائیں گے جہاں انہیں زیادہ شرح منافع ملنے کی توقع ہو گی۔
درحقیقت پاکستان میں بچت کی شرح طویل عرصے سے تقریباً جمود کا شکار ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ سرمایہ مختلف اثاثوں کے درمیان منتقل ہوتا رہتاہے‘ اس میں مجموعی اضافہ نہیں ہوتا۔ تقریباً 45 فیصد گھرانے ایسے بینک اکائونٹس کے حامل ہیں جن پر سود نہیں ملتا اور زیادہ تر وہ لین دین کیلئے ہوتے ہیں۔ باقی 55 فیصد میں سے بڑی اکثریت (70 فیصد سے زائد) بچت اکائونٹس پر مشتمل ہے‘ جو عملاً کرنٹ اکائونٹس کی طرح ہی کام کرتے ہیں۔ سٹاک مارکیٹ میں فعال تاجروں کی تعداد ہر ہفتہ 25 ہزار سے بھی کم ہے۔ حال ہی میں پراپرٹی کے کاروبار میں نمایاں کمی کے بعد اس تعداد میں تھوڑا اضافہ ہوا ہے۔ مہنگائی سے بچاؤ کے طور پر لوگ رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرتے تھے لیکن اس میں بھی رکاوٹ آگئی کہ ایف بی آر نے ٹیکس ریونیو بڑھانے کے لیے جائیداد کی قیمتوں پر نظرِ ثانی کرکے انہیں بڑھا دیا اور جائیداد کے حقیقی لین دین پر بلند شرحوں سے ٹیکس لگا دیے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اگر کوئی خالی پلاٹ کا مالک ہے تو اس پر بھی تصور کر لیا گیا کہ آمدن ہو رہی ہے اور اس تصوراتی آمدنی پر ٹیکس لگا دیا گیا۔
اندرونی طلب میں کمی‘ عالمی سیاسی کشیدگی اور ملکی سطح پر زرمبادلہ کے سخت کنٹرول کے باعث اب سرمایہ سونے کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ یہ صرف اس لیے نہیں ہو رہا کہ لوگ بہتر منافع کے لیے بینکاری نظام سے رقوم نکلوا رہے ہیں‘ اس کے اصل عوامل یہ ہیں: سیاسی عدم استحکام‘ گہری معاشی اور پالیسی غیر یقینی‘ بڑی اور تیزی سے بڑھتی غیر رسمی اور غیر دستاویزی معیشت اور ٹیکس سے بچائی گئی رقوم میں اضافہ۔ یہ بچتیں حقیقی شرحِ سود سے قطع نظر باضابطہ بینکاری نظام میں آتی جاتی رہتی ہیں اور بڑی مقدار میں سرمایہ لاکرز میں چلا جاتا ہے یا ایران جنگ سے پہلے تک دبئی منتقل ہو رہا تھا۔
صنعتی شعبے کا بڑا حصہ کئی وجوہات کی بنا پر اپنی کام جاری رکھنے اور مسابقت میں رہنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ مثال کے طور پر وہ ادارے جنہوں نے عارضی معاشی بحالی سہولت (ٹی ای آر ایف) کے تحت قرض لیا‘ موجودہ شرحوں پر بھاری قرض کی ادائیگی کا بوجھ اٹھا رہے ہیں جبکہ وہ اپنی مکمل استعداد سے کم پر کام کر رہے ہیں کیونکہ ان کے اخراجات (توانائی‘ ورکنگ سرمایہ وغیرہ) حریفوں اور تجارتی شراکت داروں کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ قلیل اور درمیانی مدت میں کیا کیا جا سکتا ہے؟ زیادہ تر ضروری اصلاحات کا تعلق مالی امور (بجٹ کے اخراجات) اور گورننس سے ہے۔ غذائی اشیا کی مہنگائی سے نمٹنے کے لیے دہری حکمتِ عملی درکار ہے: درمیانی مدت میں فصلوں کے پیٹرن کو بدلنا اور پیداوار میں اضافہ کرنا‘ اور فوری طور پر ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت کھولنا‘ جس سے سمگلنگ کم ہوگی۔ اسی طرح سولر ٹیوب ویلز پر درآمدی محصولات ختم کرنا‘ ہائی سپیڈ ڈیزل پر محصولات اور پٹرولیم لیوی کم کرنا اور کھاد بنانے والی کمپنیوں کو یوریا کی قیمتیں کم کرنے پر مجبور کرنا۔
اجارہ داریوں کا خاتمہ کیا جائے‘ صرف تجارت کھول کر نہیں بلکہ درآمدی ٹیکسوں میں نمایاں کمی یا مکمل خاتمے کے ذریعے تاکہ حقیقی مقابلہ بازی کی فضا پیدا ہو۔ سیمنٹ کی صنعت 60 فیصد سے کم صلاحیت پر چل رہی ہے مگر اجارہ داری قیمتوں کے ذریعے 26 فیصد منافع کما رہی ہے۔ کھاد کی صنعت گیس کی فراخدلانہ سبسڈی (بنیادی خام مال) سے فائدہ اٹھاتی ہے حالانکہ 35 فیصد سے زیادہ مجموعی اور 23 فیصد سے زیادہ خالص منافع کما رہی ہے‘ جو ایپل کمپنی کے 22 فیصد منافع سے بھی زیادہ ہے۔ اس سطح پر مقامی کھاد کی قیمتوں کے لیے حکومت اور مسابقتی کمیشن کی سخت نگرانی ضروری ہے۔ مالی خسارہ (سرکاری بجٹ کا) کم کرنا۔ اس کیلئے وفاقی حکومت کو محدود کیا جائے۔ اس ضمن میں درج ذیل اقدامات کیے جانے چاہئیں: وفاقی حکومت کی ڈویژنز (وزارتوں) کو دو تہائی تک کم کرنا‘ زائد عملے کو ایک مشترکہ پول میں رکھنا اور نئی بھرتیوں‘ گاڑیوں کی خریداری اور نئی ترقیاتی سکیموں پر پابندی لگانا اور سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کا جائزہ لے کر کم ترجیحی یا کم خرچ ہونے والے منصوبوں (جن پر 20 فیصد سے کم خرچ ہوا ہو) کو ختم کرنا کیونکہ اب تک ان پر جو خرچ ہوا وہ عملے کی تنخواہوں‘ گاڑیوں‘ دفاتر‘ بجلی اور ٹیلی فون کے اخراجات ہیں‘ اور صوبائی نوعیت کے منصوبے متعلقہ صوبوں کو منتقل کرنا۔ بجلی کے ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نظام میں سرمایہ کاری (ڈسٹری بیوشن کے شعبہ میں انتظامی نجکاری کے ذریعے) تاکہ تکنیکی خامیوں اور گورننس کی کمزوریوں کو دور کیا جا سکے۔
ممکن ہے ہمیں یہ ضرورت بھی پڑے کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جن کے تحت حکومتی قرض پر افراط زر کی شرح سے کم شرحِ سود پر قرض واپس کیا جائے اور واپسی کی مدت میں توسیع حاصل کی جائے۔