بابے جنہیں خود نوشت لازماً لکھنی چاہیے

خود نوشت کے حوالے سے اہم ترین بابے مجیب الرحمن شامی ہیں!!
وہ جو فرنگی زبان میں کہتے ہیں In the middle of it‘ یعنی ہنگاموں کے درمیان رہنا‘ تو شامی صاحب کم از کم پچپن‘ ساٹھ برس سے صحافتی اور سیاسی ہنگاموں کے درمیان جی رہے ہیں۔ ان سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ مجھے بھی ہے۔ خاص کر ضیا الحق کے عہد کے حوالے سے۔ ٹی وی ٹاک شوز میں اس موضوع پر ان سے کھل کر اختلاف کا اظہار کرتا رہا۔ دسترخوان کی طرح ان کا دل بھی بڑا ہے۔ اختلافِ رائے کو محبت اور مسکراہٹ کے ساتھ برداشت کرتے ہیں۔ اختلاف کے باوجود اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ بے شمار واقعات و حالات کے گواہ ہیں۔ ان کا مطالعہ اور معلومات حیران کن ہیں۔ جب بھی تاریخ اور سیاست کے ضمن میں مشکل پیش آئے تو ان سے پوچھتا ہوں اور وہ ایک سیکنڈ میں اس طرح رہنمائی کرتے ہیں جیسے اسی کی تیاری کر کے بیٹھے ہوئے تھے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ یہ زحمت انہیں رات گئے دیتا ہوں۔
شامی صاحب کی خود نوشت پاکستان کی تاریخ‘ سیاست اور شخصیات کا انسائیکلو پیڈیا ہو گی۔ اس میں بے پناہ معلومات ہوں گی۔ بھٹو صاحب کے زمانے میں معتوب رہے۔ جنرل ضیا کا انہیں قرب حاصل رہا۔ شریف فیملی سے ان کے سیاسی اور ذاتی روابط ہیں۔ زندگی جیسے عہد ساز اور طوفانی جریدے کے مدیر رہے۔ قومی ڈائجسٹ کئی دہائیوں سے نکال رہے ہیں۔ ایک روزنامے کی ایڈیٹر شپ اس کے علاوہ ہے۔ ایسے شخص کی خود نوشت معلومات کا خزانہ نہیں ہو گی تو کیا ہو گی؟ وہ بہادری کی طرح اپنے خیالات اور آرا سے رجوع بھی کر سکتے ہیں۔ اگر میں بھول نہیں رہا تو مظفر محمد علی مرحوم کو دیے گئے ایک طویل انٹر ویو میں مشرقی پاکستان کے حوالے سے انہوں نے اپنے خیالات سے برملا رجوع کیا۔ کچھ دوسرے صاحبان کی طرح‘ جن کا نام شامی صاحب کے نام کے ساتھ ‘ بدقسمتی سے‘ بریکٹ کیا جاتا ہے‘ شامی صاحب نے تذبذب‘ آئیں بائیں شائیں اور مذبذبین بین ذلک لا الی ھؤلاء ولا الیھؤلا کی صورت حال اپنے اوپر کبھی طاری نہیں کی۔
ظاہر ہے خود نوشت لکھنے پر انہیں‘ یا کسی کو بھی مجبور نہیں کیا جا سکتا۔مگر نہ لکھنے کی صورت میں وہ قومی تاریخ کے طالب علموں کا نقصان کریں گے۔ میں یہ کہنے کی جسارت نہیں کر سکتا کہ وہ کتمانِ حق کے مرتکب ہوں گے۔ مگر بڑے بڑے سیاستدانوں اور اس میدان کے کھڑپینچوں کے بارے میں ان کی معلومات تحیر خیز ہیں جو صفحۂ قرطاس پر منتقل ہوں تو ٹھہرے ہوئے پانیوں میں بلا کا ارتعاش پیدا کریں گی۔ ہم تو‘ بقول سعدی یہی عرض کر سکتے ہیں کہ: خیری کُن ای فلان و غنیمت شمار عمر!!!
دوسرے بابا جی جنہیں خود نوشت لکھنی چاہیے‘ عطا الحق قاسمی ہیں۔ کچھ حصے وہ لکھ بھی چکے ہیں۔ جیسے وزیر آباد میں قیام کے بارے میں کئی قسطیں چھپ چکی ہیں۔ اپنی زندگی کے کچھ دیگر ٹکڑوں پر بھی وہ لکھتے رہے ہیں۔ یعنی اگر وہ خود نوشت لکھنا شروع کریں گے تو بہت سا کام انہیں کیا ہوا مل جائے گا۔ بس اسے زمانی لحاظ سے ترتیب دینا ہو گا۔ ہاں بہت سے اضافے کرنا ہوں گے۔ ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں جو کچھ وہ جانتے ہیں اور جن پہلوئوں کے بارے میں وہ جانتے ہیں ‘ شاید ہی کوئی اور جانتا ہو۔ پھر پیرایۂ بیان جکڑ لینے والا! سبحان اللہ!! ایک بار مجھے ایک واقعہ سنا رہے تھے جو اُس وقت پیش آیا جب بھارت میں‘ وہ اور ضمیر جعفری مرحوم ہوٹل کے ایک ہی کمرے میں قیام فرما تھے۔ جی چاہتا تھا وہ بولتے رہیں اور میں سنتا رہوں۔ بہت سے شاعر شَرَبَ یَشرِبُ کے درمیان ہی نہیں‘ دورانِ سفر بھی بے نقاب ہوتے ہیں۔ عطا صاحب بے شمار ''بے نقابیوں‘‘ کے عینی شاہد ہیں۔ وہ ڈرنے والے ہیں نہیں لیکن اگر خوفِ فسادِ خلق سے بچنا چاہیں تو نام تبدیل کر سکتے ہیں یا اشاروں میں نشاندہی کر سکتے ہیں۔ ان کی خود نوشت ادب کی نہیں مگر ادیبوں کی ایسی تاریخ ہو گی جس میں عبرت کا سامان بھی ہو گا اور چٹخارہ بھی ہو گا۔ دعا ہے کہ ان کا دل اس کام کی طرف مائل ہو۔ دعا کے علاوہ اور تو کوئی چارۂ کار نہیں!
تیسرے بابا جی جنہیں خود نوشت لازماً لکھنی چاہیے‘ افتخار عارف ہیں۔ نہیں معلوم کچھ اور احباب نے کبھی انہیں کہا یا نہیں مگر میں نے کئی بار ان کی خدمت میں اس حوالے سے عرض گزاری کی۔ ادیبوں اور شاعروں کے متعلق ان کی ذاتی معلومات بے شمار ہیں اور بے پناہ ہیں۔ وہ پاکستان آنے سے پہلے تعلیم مکمل کر چکے تھے۔ بھارت‘ خاص طور پر لکھنؤ کے حوالے سے ان کے پاس اطلاعات کا قابلِ رشک ذخیرہ ہے۔ پھر وہ الیکٹرانک میڈیا میں اہم مناصب پر رہے۔ لندن میں طویل قیام رہا۔ شاید ہی کوئی پاکستانی یا بھارتی ادیب ہو جو وہاں ان کے پاس نہ آیا ہو۔ ان کے پاس مشاہدات کا بہت بڑا انبار ہے۔ یوں سمجھیے ایسا خرمن ہے جس میں کئی طرح کے خوشے ہیں۔ جب بھی کسی ادبی علمی شخصیت کے بارے میں ان سے پوچھا‘ ان کی معلومات نے حیران کر دیا۔ اس میں شک نہیں کہ ان کی صحت کے مسائل ہیں۔ اگر لکھنا ان کے لیے فقدانِ راحت کا سبب ہے تو وہ کسی بھی نیازمند کو ڈکٹیٹ کرا سکتے ہیں۔ ان کی خود نوشت ایک انتہائی قیمتی مخزن ہو گی۔کاش وہ اس کارِ خیر پر آمادہ ہو جائیں۔
مستنصر حسین تارڑ صاحب کی کئی تصانیف ان کی خود نوشت بھی ہیں۔ خود نوشت شعیب بن عزیز کو بھی لکھنی چاہیے۔ یہ بابا جی متعدد وزرائے اعلیٰ کے قریبی مشیر رہے ہیں۔ ڈی جی پی آر پنجاب میں سربراہ سمیت کئی حیثیتوں میں کام کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ لباس ہائے فاخرہ کے نیچے کون کون برہنہ ہے اور کس کس کے لیے عزتِ نفس پرِ کاہ کی حیثیت نہیں رکھتی۔ یہ معلومات قوم کی امانت ہیں جو قلم بند ہونی چاہئیں۔ ادیبوں شاعروں کے نہاں خانے بھی ان کے سامنے وا تھے۔ مگر جو بابا جی بیسیوں احِبّا کے پُرزور‘ مسلسل‘ اصرار اور مار کٹائی کے باوجود ابھی تک شعری مجموعہ ترتیب دینے پر آمادہ نہیں ہوئے‘ ان کا خود نوشت لکھنا معجزہ ہی ہو گا۔ مگر ہم خواہش تو کر ہی سکتے ہیں!
اب کچھ بابیوں کا بیان ہو جائے۔ آپا کشور ناہید اپنی کتھا لکھ چکیں۔ ان کی کئی اور کتابوں میں بھی خود نوشت کے ٹکڑے موجود ہیں۔ شہرت سے گریزاں پروین قادر آغا کی خود نوشت انتہائی دلچسپ ہو گی۔ اس کی کئی وجوہ ہیں۔ ان کا تعلق اُس لاہور سے ہے جو فصیل کے اندر تھا۔ وہ سر شیخ عبد القادر کی سگی پوتی ہیں۔ شیخ عبد القادر تقسیم سے پہلے کئی بلند مناصب پر فائز رہے۔ مگر ان کا بہت بڑا منصب یہ تھا کہ انہوں نے بانگ درا کا دیباچہ لکھا۔ ادبی جریدہ مخزن کا اجرا انہوں نے 1901ء میں کیا۔ علامہ اقبال سمیت بر صغیر کے چوٹی کے ادیبوں اور شاعروں کی تخلیقات مخزن میں چھپتی رہیں۔
جسٹس منظور قادر ‘ پروین قادر آغا کے سگے چچا تھے۔ آغا صاحبہ کی خود نوشت کا جو حصہ ان کے خاندان کی تاریخ اور حالات پر مشتمل ہو گا‘ وہ ادب اور تاریخ کے شائقین کیلئے خوانِ یغما سے کم نہ ہو گا۔ پروین قادر آغا سول سروس کے بلند ترین مناصب پر فائز رہیں۔ انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی کی نائب صدر رہیں۔ ریٹائر منٹ کے بعد بیسیوں ٹرسٹ اور فلاحی ادارے چلا رہی ہیں۔ میری ناقص معلومات کی رُو سے پاکستان سول سروس سے وابستہ کسی خاتون نے ابھی تک خود نوشت نہیں لکھی۔ وہ وفاقی سیکرٹری بھی رہیں۔ ان کی خود نوشت‘ اگر وہ لکھیں تو کئی پہلوؤں سے اپنی نوعیت کی منفرد تصنیف ہو گی۔ جس زمانے میں انہوں نے سول سروس میں شمولیت اختیار کی‘ خواتین کی تعداد سول سروس میں آٹے میں نمک سے بھی کم تھی۔ اس حوالے سے ان کے تجربات بہت کچھ بتائیں گے! گفتنی بھی ناگفتنی بھی!!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں