"SAC" (space) message & send to 7575

وفاق سے شکایات کا معاشی پہلو

پاکستان کا وفاق دباؤ میں ہے۔ وہ بندھن جو ہمارے وفاق کو ایک قومی معاہدہ میں جوڑے رکھتے ہیں‘ تناؤ کا شکار ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے چھوٹی وفاقی اکائیوں کا غصہ بڑھ رہا ہے۔ اس کی دو وجوہ ہیں۔ ایک‘ وفاقی اکائیوں کی جمہوری عمل سے بے اطمینانی اور دوسرا یہ احساس کہ ان کے اپنے اثاثوں اور قدرتی وسائل جیسے کوئلہ‘ گیس‘ بندرگاہوں کے استعمال اور قیمت کے تعین میں انہیں ایسے بامعنی اختیارات حاصل نہیں جو وہ چاہتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے کوشش کی گئی کہ سندھ اور خیبر پختونخوا میں سینکڑوں ایکڑ زمین کارپوریٹ کھیتی باڑی کیلئے مختص کر دی جائے۔ اس اقدام سے بدگمانیاں پیدا ہو گئیں‘ نتیجتاً اسلام آباد کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ دو صوبوں‘ خیبر پختونخوا اور بلوچستان یہ سمجھتے ہیں کہ سرحد پار تجارت پر اسلام آباد کی گرفت ہے جبکہ اس معاملہ میں ان کی مشاورت کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے۔ سندھ کو شکایت ہے کہ دریائی پانی کی تقسیم کیلئے ارسا کا ادارہ باہمی اتفاق رائے سے ایک معاہدہ کے تحت قائم کیا گیا تھا لیکن اس معاہدے سے انحراف کی کوششں کی گئی۔ چھوٹے صوبوں نے ان تجاویز کو بھی تشویش کی نظر سے دیکھا کہ موجودہ صوبوں کو چھوٹی اکائیوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ عمل عملاً اٹھارہویں ترمیم کو کمزور کرنے کے مترادف ہو گا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کو ازسر نو ترتیب دیا جائے تاکہ قومی محاصل میں صوبوں کا حصہ کم کر دیا جائے اور اخراجات کا زیادہ تر بوجھ صوبائی سطح پر منتقل کیا جائے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ صوبوں کے ساتھ یہ سب کچھ تو کیا جائے لیکن وفاقی حکومت کے حجم‘ اخراجات یا حد سے بڑھے ہوئے دائرہ کار کو معقول نہ بنایا جائے۔
خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ایسی گہری سماجی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں جن کے سبب روایتی سیاسی اشرافیہ غیر متعلق ہو گئی ہے۔ یہاں پر قیادت اب نوجوانوں نے سنبھال لی ہے۔ ایک بے چین اور مشتعل نوجوان اب سیاسی بیانیے کی قیادت کر رہا ہے‘ اور بلوچستان میں آبادی کے بڑے طبقات بظاہر پاکستانی ڈھانچے کے اندر حل تلاش کرنے پر آمادہ نہیں۔ ان شکایات کا تعلق ریاست کی ساخت سے ہے اور ان کی جڑیں گہری ہیں۔خیبر پختونخوا کے خدشات میں وہ حقوق نہ ملنا سرفہرست ہیں‘ جن کا وعدہ کیا گیا تھا (جیسا کہ پن بجلی کے منافع کی بروقت ادائیگی)۔ ریاست کے اس طرزِ عمل سے مزید مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ پشتون پاکستانی ریاست میں بنیادی حصہ دار ہیں۔ وہ مسلح افواج‘ سول انتظامیہ‘ تجارت اور قومی نقل وحمل کے ڈھانچے میں نمایاں طور پر موجود ہیں‘ اس کے باوجود صوبے میں یہ تاثر موجود ہے کہ وہ وفاق میں مکمل طور پر قابلِ قبول شراکت دار نہیں سمجھے جاتے۔ یہ تاثر نہ صرف خطرناک ہے بلکہ یہ پاکستان کے بنیادی تصور کو کمزور کرتا ہے۔
چھوٹے صوبوں میں اس بے چینی اور اضطراب سے نمٹنے کیلئے ضروری ہے کہ وفاقی ڈھانچہ کی ازسرنو تشکیل کی جائے۔ایک قابلِ عمل وفاق اب آئین کی نئی صورت گری کا تقاضا کرتا ہے۔ اٹھارہویں ترمیم سے مزید آگے بڑھ کر صوبائی خود مختاری کو مضبوط بنانا ہوگا اور اہم قدرتی وسائل (کوئلہ‘ تیل‘ گیس‘ معدنیات) کا مکمل اختیار ان صوبوں کے حوالے کرنا ہوگا جہاں وہ موجود ہیں۔ تصور کریں اگر پاکستان کی موجودہ سیاسی معیشت (پولیٹکل اکانومی) کو امریکہ میں منتقل کر دیا جائے تو ایسی صورت میں ریاست ٹیکساس اپنے تمام تیل کے باوجود امیر نہ ہوتی۔ نیویارک اور واشنگٹن اس کی دولت پر موج کر رہے ہوتے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ٹیکساس کی ریاست اپنی زمین کی پیداوار کی مالک ہے اور اس کو کنٹرول کرتی ہے۔ پاکستان میں وسائل پیدا کرنے والے صوبوں کی شہ رگیں اور قیمتی ترین اثاثے عملاً اسلام آباد کے کنٹرول میں ہیں۔ تاہم وسائل کے استعمال میں صوبائی اشرافیہ کی بدعنوانی بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے۔
یہ سمجھا جاتا ہے کہ پنجاب اپنے ترقیاتی راستے کا تعین کرنے کیلئے آزاد ہے لیکن بلوچستان اور خاصی حد تک سندھ کے پاس اس سطح کی آزادی نہیں۔ ان کے چند بڑے بڑے اثاثے‘ معدنیات اور ساحلی پٹی وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔ خیبر پختونخوا کو بھی اسی طرح کے مسائل درپیش ہیں۔ اسے اپنی گیس پر کنٹرول حاصل نہیں اور خالص پن بجلی کے منافع کی ادائیگی میں مسلسل تاخیر کا سامنا رہتا ہے۔ یہ دعویٰ کمزور ہے کہ صوبے مشترکہ مفادات کونسل کے ذریعے وفاقی فیصلوں میں ''حصہ لیتے‘‘ ہیں یا رائلٹی کے ذریعے انہیں معاوضہ ملتا ہے۔ حقیقتاً صوبوں کی ان معاملات میں شرکت محدود ہے کیونکہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس شاذ ونادر ہی ہوتا ہے‘ سو یہ ادارہ مؤثر نہیں۔ رائلٹی کی مقدار بھی معمولی ہے۔ ان دونوں میں سے کوئی بھی بات ایسی نہیں جس کی وجہ سے صوبوں کو اپنے وسائل کی ملکیت یا ان میں فیصلہ سازی کا اختیار ملتا ہو۔ ان امور میں وسائل کا استخراج‘ قیمت کا تعین اور لیز شامل ہیں۔ یہ معاملات تسلی بخش طور پر طے کرنے کی خاطر کوئی متبادل ادارہ بنانے کے بجائے ضروری ہے کہ حقیقی طور پر ایک بااختیار مشترکہ مفادات کونسل قائم کی جائے اور اس کا باقاعدہ اجلاس منعقد کیا جائے۔
وفاقی ترجمان شکوہ کرتے ہیں کہ آئین کے آرٹیکل 158 کے تحت کسی ایک صوبے کے مقامی صارفین کو ترجیح دینے سے وسائل کا ''غیر پیداواری استعمال‘‘ ہوتا ہے اور یہ دوسرے صوبوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ لیکن یہ مؤقف اس حقیقت کو نظرانداز کر دیتا ہے کہ پنجاب کی صوبائی حکومت اکثر گندم کی نقل وحرکت پر دفعہ 144 نافذ کر دیتی ہے جس سے وہ مارکیٹ کی قیمت سے کم نرخ پر گندم خرید کر اپنے صوبے کے شہریوں کو سبسڈی فراہم کرتی ہے۔ ناانصافی کے احساس کی کئی اور مثالیں بھی ہیں‘ مثلاً پنجاب اور سندھ اکثر گندم‘ کپاس اور متعلقہ مصنوعات خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو عالمی قیمتوں سے زیادہ پر فروخت کرتے رہے ہیں جبکہ مؤخر الذکر صوبوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ گیس ملک کو عالمی قیمت سے کم پر فراہم کریں۔ صوبوں کوبین الاقوامی معیار سے کم رائلٹی دی جاتی ہے اور وہ بھی تاخیر سے۔ حالانکہ پالیسی ساز اس پر اصرار کرتے ہیں کہ مارکیٹ کو عالمی منڈی کی قیمتوں کے مطابق ہونا چاہیے‘ اس سے نجی سرمایہ کاری اور وسائل کی مؤثر تقسیم کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے‘ یہی اصول خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے نکلنے والی معدنیات پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔ وسائل پیدا کرنے والے صوبوں کو عالمی قیمتیں ملنی چاہئیں جیسے دیگر اشیا کے صارفین معمول کے مطابق ادا کرتے ہیں۔
مزید برآں‘ اسلام آباد اُن ذمہ داریوں سے بھی چمٹا ہوا ہے جو اس کے دائرہ اختیار میں نہیں آنی چاہئیں۔ بلوچستان میں وہ اب بھی گوادر‘ گڈانی (چینی شراکت داروں کے ساتھ)‘ سیندک‘ ریکوڈک اور حتیٰ کہ صوبائی سڑکوں جیسے منصوبے چلا رہا ہے۔ اس سلسلے میں اکثر یہ جواز پیش کیا جاتا ہے کہ صوبے کے پاس یہ کام کرنے کی صلاحیت نہیں حالانکہ خود وفاقی ادارے بھی عملدرآمد کیلئے نجی ٹھیکیداروں کی خدمات لیتے ہیں۔ مرکز اپنی ذمہ داریاں چھوڑنے یا انہیں معقول حجم تک محدود کرنے سے انکاری ہے‘ حالانکہ اس کا دائرہ کار بہت زیادہ پھیلا ہوا ہے اور اہلیت محدود ہے۔ اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اگر صوبوں کو وسائل سے متعلق اختیارات منتقل کیے گئے تو رقوم ''بدعنوان صوبائی اشرافیہ‘‘ کے ہاتھوں غلط استعمال ہو جائیں گی۔ یہ رویہ مضحکہ خیز ہے۔ جو لوگ یہ دلیل دیتے ہیں وہ خود پاک صاف نہیں۔ نہ وہ اُس صوبے کے ووٹروں کے سامنے جوابدہ ہیں۔ یہ رقوم اکثر ایسے منصوبوں پرخرچ کی جاتی ہیں جن کو صوبائی حکومتیں شاید خود ترجیح نہ دیتیں۔ اگر اس دلیل کو منطقی انجام تک لے جائیں تو مطلب یہ بنتا ہے کہ ہمیں ''ایماندار اور خیر خواہ‘‘ برطانوی راج کی کالونی رہنا چاہیے تھا۔ موجودہ غیر منصفانہ انتظام کے باعث پیدا ہونے والی خرابی کا حل واضح ہے کہ ایک حقیقی وفاقی نظام کا قیام عمل میں لایا جائے نہ کہ ایسا نظام جو مبہم اور غلط تصورات کے تحت بنایا گیا ہو۔ سمت درست کرنے کیلئے وقت بہت کم ہے۔ اگر ہم نے بہتری کیلئے اقدامات نہ کیے تو بگاڑ بڑھ جائے گا۔ وفاق مزید دبائو کا شکار ہو سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں