"KNC" (space) message & send to 7575

علاقائی دانش کی ضرورت

پاکستان جیسے سماج میں کیا ایسی علمی روایت پنپ سکتی ہے جو قومی ریاست کے تقاضوں سے ماورا‘ علاقائی پس منظر میں مسائل پر اظہارِ خیال کر سکے؟
نظریاتی سیاست کے دور میں کسی حد تک یہ ممکن رہا۔ نظریہ چونکہ جغرافیائی سرحدوں سے ماورا ہوتا ہے اس لیے عالمِ انسانیت کو ایک اکائی کے طور پر دیکھتا ہے۔ اشتراکیت کے علمبردار اس تناظر میں کلام کرتے رہے اور اسلامی انقلاب کے داعی بھی۔ نظریاتی وابستگی رکھنے والے چونکہ ہر جگہ موجود ہوتے تھے‘ اس لیے ان کے مابین ایک قرب کا پیدا ہونا فطری تھا۔ اس قرب کی وجہ سے انہیں الزامات کا ہدف بھی بننا پڑتا تھا مگر اکثر ایسے الزامات بے بنیاد ہوتے تھے۔ اس نظریاتی کشمکش میں‘ پاکستان کے اشتراکیت پسند سوویت یونین کے قریب تھے۔ انہیں روس نواز کہا جاتا تھا‘ خاص طور پر اُس وقت جب پاکستان میں ریاست کا مؤقف روس مخالف تھا۔ اسی طرح جماعت اسلامی اخوان کے ساتھ قربت محسوس کرتی تھی اور یہ بات پاکستان اور مصر کی حکومتوں کو پسند نہیں تھی۔ ایران کے مذہبی طبقے سے اسی طرح کی ہم آہنگی کا اظہار کرنے پر جماعت اسلامی کے ماہنامہ 'ترجمان القرآن‘ کی اشاعت پر 1960ء کی دہائی میں چند ماہ کے لیے پابندی لگا دی گئی تھی۔
آج بھی جہاں اس سیاست کا کوئی اثر باقی ہے وہاں اس کے آثار دیکھے جا سکتے ہیں۔ ایران کے لیے جماعت اسلامی کا والہانہ پن اسی کا مظہر ہے۔ پاکستان کے اہلِ تشیع بھی خود کو ایران سے قریب تر محسوس کرتے ہیں۔ لازم نہیں کہ ان سب کے مفادات ایران کے ساتھ وابستہ ہوں۔ یہ نظریاتی ہم آہنگی ہے جو انہیں ایک دوسرے کے قریب کرتی ہے اور اس محبت میں وہ کچھ دیر کے لیے خود کو ان جغرافیائی سر حدوں سے آزاد محسوس کرتے ہیں جو قومی ریاست نے قائم کی ہیں۔ یہی معاملہ ہم افغانستان کے ساتھ بھی دیکھتے ہیں۔ یہاں ایسے لوگ موجود ہیں جو پاکستان کو غلط اور افغان طالبان کے مؤقف کو درست سمجھتے ہیں۔ یہ الگ بات کہ وہ اس کا اعلانیہ اظہار نہیں کر پاتے۔
قومی ریاست سے وابستگی‘ کیا اس بات کو لازم کرتی ہے کہ ریاست کے مؤقف پر نقد نہ کیا جائے؟ کیا یہ حب الوطنی کے خلاف ہے؟ اگر ایک ریاست کا شہری یہ سمجھتا ہے کہ ریاست حق بجانب نہیں ہے تو کیا وہ اس کے خلاف بات نہیں کر سکتا؟ میں اس باب میں پہلے بھی ارون دھتی رائے کا حوالہ دے چکا ہوں۔ وہ بھارت کی ریاست پر نقد کرتی ہیں اور اس کے بدلے میں انہیں سزا بھی ملتی ہے۔ پاکستان میں پرویز ہود بائی جیسے چند نفوس ہیں جو اسی طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ وہ اس اصولی مؤقف کے حامی ہیں کہ دنیا ایٹمی ہتھیاروں سے پاک ہو۔ اس حوالے سے وہ امریکہ اور بھارت ہی پر نہیں‘ ریاستِ پاکستان پر بھی تنقید کرتے ہیں۔ تاہم‘ ہم جانتے ہیں کہ اکثریت ان کے بارے میں کیا رائے رکھتی ہے۔ قومی ریاستوں میں بالعموم ریاست یا ریاستی پالیسی پر تنقید کو گوارا نہیں کیا جاتا۔
امریکہ اور بر طانیہ وغیرہ میں مگر معاملہ یہ نہیں ہے۔ وہاں ایسی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں جن میں امریکی اور برطانوی حکمتِ عملی پر تنقید ہوتی ہے۔ عراق پر امریکی حملے کے خلاف امریکہ میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ وہاں ایسی دانش پنپ سکتی ہے جو امریکہ کی جغرافیائی حدوں کی قید میں نہ ہو۔ چومسکی اس کی ایک مثال ہیں۔ کیا امریکہ ایک قومی ریاست نہیں ہے؟ کیا وہاں حب الوطنی کا کوئی جذبہ نہیں پایا جاتا؟ کیا ریاست کی حکمتِ عملی پر تنقید حب الوطنی سے متصادم ہے؟ علامہ ا قبال کیا اسی جانب متوجہ کرنا چاہتے تھے جب انہوں نے کہا: ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے؟ سب سے بڑا چیلنج تو ایک عالمِ دین کے لیے ہے۔ دین کا پیغام تو یہ ہے کہ انصاف کی بات کی جائے‘ چاہے یہ اولاد اور دیگر وابستگیوں کے مفادات کے لیے نقصان دہ ہو۔ دین ایک آفاقی تصور ہے اور ماورائے رنگ و نسل‘ ملک و وطن‘ انسانیت کے لیے ہدایت کا پیغام ہے۔ مسلمان علما آج امریکہ‘ بھارت اور روس جیسے ممالک کے شہری ہیں۔ امریکہ میں تو قدرے آزادی ہے‘ کیا بھارت میں وہ انصاف کے ساتھ کھڑے رہ سکتے ہیں؟
جنوبی ایشیا اس وقت مسائل کی زد میں ہے۔ بھارت میں غربت اور افلاس ہے۔ وہاں کے ادارے بھی تباہ حال ہیں۔ ٹی وی ڈرامے اور فلمیں ہر سماج کی معاشرت کے عکاس ہوتے ہیں۔ ان سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں کا تھانہ کچہری ہمارے ان اداروں سے مختلف نہیں۔ افغانستان میں بھوک اور افلاس نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ بنگلہ دیش کا حال بھی اچھا نہیں۔ اس کے باوصف بھارت اپنے عوام کے مسائل کے حل کو ترجیح دینے کے بجائے‘ اسلحہ جمع کرتا رہتا ہے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ پاکستان جیسا ملک بھی جواباً ایسا کرنے پر مجبور ہے۔ افغانستان روس سے دفاعی معاہدے کر رہا ہے حالانکہ عقل کا تقاضا ہے کہ وہ پاکستان سے تعلقات کو بہتر بنائے اور ہمسایہ ممالک سے ان امور پر بات کرے جن کا تعلق رفاہِ عامہ سے ہے۔
آج اس خطے میں ایسی دانش نہیں پائی جاتی جو علاقائی سطح کا وژن رکھتی ہو اور خطے کے مجموعی مفاد میں سوچتی ہو۔ کوئی ایسا نظریہ سامنے نہیں آ رہا جو ایک ارب سے زیادہ آبادی کے مجموعی مفاد سے پھوٹا ہو۔ بیسویں صدی میں ایسے لوگ موجود تھے جو اس حوالے سوچتے تھے۔ تیسری دنیا‘ غیر جانبدار دنیا‘ علاقائی تعاون کی تنظیمیں‘ ترقی پذیر ممالک کا اتحاد‘ افریشیا‘ کئی تصورات تھے جنہیں ذوالفقار علی بھٹو اورسہارتو جیسے لوگ پیش کر رہے تھے۔ وہ دور فکری اعتبار سے زیادہ توانا تھا۔ اس کی بنیادیں اگرچہ نظریاتی تھیں لیکن یہ تصورات قومی ریاست سے ماورا‘ خطے کی سطح پر انسانی اجتماع کی دعوت دے رہے تھے۔ سوچ یہی تھی کہ علاقے میں امن ہو اور سب مل کر عوام کے بھلے کی سوچیں۔ اگر پاکستان‘ بھارت اور افغانستان میں دوستی ہو تو اس سے یہ علاقہ کبھی غذائی قلت کا شکار نہ ہو اور کھانے پینے کی اشیا سستی ہو جائیں۔
آج اس خطے کی ضرورت ہے کہ یہاں اسی طرح کی دانش پیدا ہو جو قومی ریاست سے ماورا‘ علاقائی مسائل کو ہدف بنائے اور اس کا ایسا حل تجویز کرے جو انصاف کے تقاضوں کے مطابق اورقیامِ امن کے لیے ہو۔ جو ملکوں کے مابین دشمنی کی نہیں‘ بقائے باہمی کی بات کرے۔ جو عوام کی ترقی کو موضوع بنائے۔ جو باہمی تجارت کے فروغ کی بات کرے۔ میں جانتا ہوں یہ ایک مشکل کام ہے۔ انسان کی فطرت بدلی ہے نہ طاقت کی حرکیات۔ موجودہ حالات میں یہ دیوانے کا خواب ہے۔ اس کے باوصف یہ آواز ضرور اٹھنی چاہیے۔ ایک سادہ مؤقف ہے: مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ اس کو قبول کرنے میں کیا عذر مانع ہے؟ پانی کی تقسیم میں باہمی معاہدوں کا احترام ہونا چاہیے۔ اس کو قبول کرنے میں کیا رکاوٹ ہے؟ کسی ملک کی سرزمین دوسرے ملک میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ اس مؤقف کو سمجھنے میں کیا پیچیدگی ہے؟
پاکستان میں‘ اس سوچ کے ابھرنے کے لیے حالات زیادہ سازگار ہیں۔ ہم مسلمان ہیں اور بحیثیت پاکستانی بھی‘ علاقائی معاملات میں ہمارا مؤقف قرینِ انصاف ہے۔ ہم انصاف کی بات کریں تو ہمیں ان رکاوٹوں کا کم سامنا کرنا پڑے گا جو قومی ریاست کی پیدا کردہ ہیں۔ تاہم اگر کوئی ایک آدھ رکاوٹ ہو بھی تو امکان ہے کہ حکمت کے ساتھ اسے دور کیا جا سکتا ہے۔ اس خطے کے عوام بھی 'سٹیٹس کو‘ سے تنگ آ چکے۔ آزاد کشمیر کے حالات اسی فرسٹریشن کا اظہار ہیں۔ بھارت میں بھی اضطراب ہے۔ امن کی بات کا عوامی سطح پر خیر مقدم ہو گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں