"KNC" (space) message & send to 7575

صدر ٹرمپ کی حیرت اور ایرانیوں کے آنسو

صدر ٹرمپ کو حیرت ہے کہ ایرانیوں کی آنکھوں میں آنسو کیوں ہیں۔ مجھے عالمی طاقت کے راہنما کی بصیرت اور معلومات پر حیرت ہے کہ جسے اتنے سادہ سوال کا جواب معلوم نہیں۔ اگر معلوم ہوتا تو وہ کبھی ایران پر حملہ نہ کرتا۔
ایران کا انقلاب نصف صدی سے امریکی جامعات اور تھنک ٹینکس کی تحقیق کا موضوع ہے۔ روح اللہ خمینی صاحب کی کتب مدتوں پہلے ترجمہ ہو چکی تھیں۔ ان کے خطبات پر مشتمل کتاب 'حکومتِ اسلامی‘ 1970ء میں شائع ہو چکی تھی۔ اس میں انہوں نے اپنا سیاسی فکر اور عزائم دونوں بیان کر دیے تھے۔ مشرقِ وسطیٰ کی اسلامی تحریکوں بالخصوص الاخوان المسلمون کے بعد سب سے زیادہ تحقیق ایران کے انقلاب پر ہوئی۔ اس کا سبب یہ تھا کہ مشرقِ وسطیٰ سے امریکی مفادات براہِ راست وابستہ تھے۔ 'سیاسی اسلام ‘ کی اصلاح کو مقبول بنانے کیلئے ایران کا انقلاب حوالہ بنا۔ ایران کی تاریخ‘ تہذیب‘ اس کے نظریاتی خدو خال‘ شخصیات‘ ایک ایک پہلو پر تحقیق ہوئی۔ مشرقِ وسطیٰ میں اس کے کردار پر نہیں معلوم کتنی عالمی کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔ ایران نصف صدی سے امریکہ کی خارجہ پالیسی کا مرکز ہے۔ ایران آٹھ سال عراق کے ساتھ نبرد آز ما رہا۔ صدام حسین کے پیچھے جو کوئی تھا اس کے پیچھے امریکہ تھا۔ اس کا تو کوئی امکان نہیں کہ انہوں نے سیاست یا کسی بھی موضوع پر کبھی کوئی کتاب پڑھی ہو لیکن یہ دور انہوں نے بچشمِ سر دیکھا۔ اچنبھا ہے کہ اس کے باوصف انہیں ایرانیوں کے آنسوؤں پر حیرت ہے۔
یہ محض ایران کا معاملہ نہیں۔ آئیڈیالوجی جب طاقت کے حصول کا آلہ بنتی ہے تو پھر ایک ایسی قوت وجود میں آتی ہے جس کا مقابلہ کرنا آسان نہیں ہوتا۔ جب مذہب آئیڈیالوجی بن جاتا ہے تو پھر معاملہ سنگین تر ہو جاتا ہے۔ آئیڈیالوجی کا تجربہ اہلِ مغرب کو اشتراکیت کی صورت میں ہوا۔ امریکہ نے اس کے خلاف جو جنگ لڑی اس میں اسے نظریاتی محاذ پر پسپائی کا سامنا کر نا پڑا۔ اس میں شبہ نہیں کہ اس نے ایک کامیاب معاشی نظام وضع کر لیا لیکن یہ حقیقت پسندانہ تھا‘ رومانوی نہیں تھا۔ آئیڈیالوجی ایک رومان کا نام ہے اور انسان کی فطرت یہ ہے کہ رومان کی طرف لپکتا ہے۔ اشتراکیت ایک رومان تھا۔ امریکہ نے اس کمی کو 'اسلامی آئیڈیالوجی‘ سے پورا کرنا چاہا۔ مشرقِ وسطیٰ میں یہ کوشش کی گئی کہ 'سیاسی اسلام‘ کو اشتراکیت کے مدِ مقابل لا کھڑا کیا جائے۔ اسے سیاسی اسلام سے اس وقت اس سے زیادہ دلچسپی نہ تھی کہ یہ سرمایہ داری کی نظریاتی کمزوری کا مداوا بن جائے۔ امریکہ نے بہت کامیابی کے ساتھ سیاسی اسلام کو اشتراکیت سے لڑا دیا۔ اسلام پسندوں کو امریکہ نوازی کا طعنہ سننا پڑا‘ در آں حالیکہ امریکہ کو اسلام پسندوں سے کوئی ہمدردی تھی نہ اسلام پسندوں کو امریکہ سے۔
اس آئیڈیالوجی کو آخری مرتبہ افغانستان میں استعمال کیا گیا۔ یہاں 'سیاسی اسلام‘ نے قتال کی تعبیر اختیار کر لی جبکہ اپنے تشکیلی دور میں یہ ایک طرزِ حیات کا نام تھا۔ افغان جہاد کے بعد امریکہ کو خیال ہوا کہ 'سیاسی اسلام‘ سے جو کچھ کشید کیا جا سکتا تھا‘ کر لیا گیا۔ اس نے اسے تاریخ کے کوڑے دان کے حوالے کر دیا۔ آئیڈیالوجی کی تفہیم کے باب میں یہ اس کی بڑی غلطی تھی۔ نظریہ آسانی سے نہیں مرتا اور اگر مذہبی ہو تو کبھی نہیں۔ اس امریکی غلطی کی سزا امریکہ سمیت ساری دنیا نے بھگتی۔ یہ 'سنی سیاسی اسلام‘ کا قصہ ہے۔ شیعہ سیاسی اسلام ابھی عالمی منظر نامے پر نمایاں نہیں ہوا تھا۔ رضا شاہ پہلوی کا ایران امریکہ کی جیب میں تھا جس کا کسی آئیڈیالوجی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
'شیعہ سیاسی اسلام‘ سے امریکہ کا پالا 1979ء میں پڑا جب ایران میں اس آئیڈیالوجی کے ماننے والے برسرِ اقتدار آئے۔ سنی سیاسی اسلام کے برعکس شیعہ اسلام کا تو جنم ہی بطور سیاسی آئیڈیالوجی ہوا۔ یہ ایک سیاسی تحریک تھی جو اسلام کے صدرِ اوّل میں پیدا ہوئی۔ ہمیشہ اقلیت میں رہی مگر اس نے مشکلات میں بھی زندہ رہنے کا ہنر سیکھا۔ زیادہ تر ادوار میں یہ ایک منفعلانہ مزاحمت (Passive Resistance) کی تحریک رہی۔ اس کا امتیاز یہ تھا کہ اس نے مظلومیت کو اپنی طاقت بنا لیا۔ 'شہادت‘ ایک حکمتِ عملی کا عنوان بن گئی۔ حادثۂ کربلا کو بطور استعارہ اس کامیابی سے استعمال کیا گیا کہ سنی اسلام میں بھی اگر کسی کو سیاسی اسلام کے حق میں دلیل لانا پڑی تو اس استعارے سے سب سے زیادہ مدد لی گئی۔ اب بات کی تفہیم کیلئے علامہ اقبال‘ مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا مودودی کی شاعری اور نثر دیکھ لیجیے۔ واقعۂ کربلا جب استعارہ بنا اور اسے سنی اور شیعہ دونوں نے قبول کر لیا تو پھر مسلمانوں کی تاریخ ہی نہیں اس کے علوم کی بھی تشکیلِ نو ہو گئی۔
دورِ جدید میں شیعہ اسلام کی اس قوت (Potential) کو خمینی صاحب نے دریافت کیا۔ انہوں نے نہ صرف آئیڈیالوجی کا بطور سیاسی قوت احیا کیا‘ جسے اشتراکیت کھو چکی تھی بلکہ اس کے ساتھ ایک خطۂ زمین کو اس کی عملی حقیقت بنانے کیلئے بھی جد و جہد کی۔ یہ کام کیسے ہوا اور اس کے نتائج کیا نکلے‘ اس کا ایک مظہر ایرانی انقلاب تھا اور دوسرا آیت اللہ خامنہ ای کا جنازہ۔ ایران کی قیادت جانتی تھی کہ یہ مظلومانہ شہادت کیا برگ و بار لا سکتی ہے۔ کربلا کا استعارہ ان کے سامنے تھا۔ انہوں نے تدفین کو کئی ماہ مؤخر کیا اور اس وقت کا انتظار کیا جب اس شہادت اور مظلومیت میں چھپی قوت پوری طرح نمودار نہ ہو جائے۔ وہ وقت آیا تو ان کی تدفین کا فیصلہ کر لیا۔ میرا تاثر ہے کہ جناب خامنہ ای کی شہادت اور جنازے نے ایرانی انقلاب سے زیادہ خطے‘ مسلم دنیا اور عالمی سیاست کو متاثر کیا ہے۔ حجاز کی طرح عراق اور ایران بھی اب نئے مراکز کے طور پر ابھر رہے ہیں جو مذہب و سیاست کا مرکز ہوں گے۔
امریکی صدر کو حملے سے پہلے جو بریفنگ دی گئی ہو گی مجھے یقین ہے کہ اس میں یہ سب کچھ بتایا گیا ہو گا۔ ممکنہ نتائج کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہوگا۔ اس بات کی تصدیق ان خبروں سے بھی ہوتی ہے جو حملے کے آغاز میں سامنے آئیں۔ ان کے مطابق تمام ایجنسیوں نے انہیں سٹرٹیجک حوالوں سے بتایا کہ کیا کیا چیلنجز متوقع ہیں۔ جیسے آبنائے ہرمز کی اہمیت۔ پورا امکان ہے کہ انہیں ایرانی قوم کی نظریاتی مزاحمتی قوت کے بارے میں بتایا گیا ہو گا۔ خامنہ ای کئی کتابوں کے مصنف تھے۔ '250سالہ انسان‘ میں انہوں نے نبی کریمﷺ کے بعد امامت کی پوری تاریخ بیان کرتے ہوئے اسے اپنے نظریاتی مشن کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے بتایا ہے کہ نبوت و امامت کی تاریخ اور آخری امام کی آمد کے مابین ایرانی انقلاب کی کیا حیثیت ہے۔ یہ دور محض انتظار کا دور نہیں۔ ہم نے وہ سٹیج تیار کرنا ہے جو امام مہدی کے ظہور کیلئے ضروری ہے۔ ''ہمارا انقلاب درحقیقت اس عظیم ہدف اور انقلاب کا پیش خیمہ‘ مقدمہ اور اس راہ میں ایک بڑا اقدام ہے ... اگر ہم نے یہ قدم نہ اٹھایا ہوتا یقینا حضرت ولی العصر کا ظہور تاخیر کا شکار ہو سکتا تھا‘‘۔
یہ سب لکھا ہوا موجود ہے۔ کچھ خفیہ نہیں۔ خمینی صاحب تو یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ اب تقیہ کا دور بھی ختم ہو گیا۔ اس کا تعلق کمزوری سے تھا اور اب ہم کمزور نہیں ہیں۔ اگر یہ سب باتیں امریکی صدر کو حملے سے پہلے معلوم نہیں تھیں تو انہیں اپنی بصیرت اور معلومات کی کمی کا ماتم کر نا چاہیے نہ کہ ایرانیوں کے آنسوؤں پر اظہارِ حیرت۔اس ماتم میں تو اب امریکی ریاست کے تمام ذمہ داران کو شریک ہو نا چاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں