"AYA" (space) message & send to 7575

رُت بدلی تو دیکھیں گے

فی الحال انتظار ہی سہی۔ اور کریں بھی کیا۔ جب بھی انسان ارادہ باندھے تو دیکھنا چاہیے کہ متبادل کیا ہے۔ نظر تو یہی آ رہا ہے کہ پرانی عادت سے مجبور صبح اخبارات کا جائزہ لیں حالانکہ مولا کا کرنا کیا ہے کہ اخبارات میں پڑھنے کو کچھ رہا ہی نہیں۔ فلٹر صرف انٹرنیٹ کی تصویروں پر ہی نہیں لگے ہوتے اور جگہوں پر بھی موجود ہیں۔ یاد پڑتا ہے اخبارات کے مطالعے پر اچھی خاصی دیر لگا کرتی تھی‘ اب بس ایک نظر دوڑائی‘ سرخیاں دیکھیں اور اخبار کو پرے کر دیا۔ انٹرنیٹ کی البتہ یہ بات ہے کہ جہاں گمراہی کے پہلو بہت ہیں اور انسان اگر چاہے تو سارا دن فضولیات میں غرق ہوتا جائے لیکن ساتھ ہی اچھائیاں بھی بہت ہیں۔ تاریخ کا کون سا پہلو ہے جس کے بارے میں انٹرنیٹ پر مواد نہ مل جائے۔ داد دینی پڑتی ہے اُن لوگوں کو جو تحقیق بھری چیزیں پیش کرتے ہیں۔ یہ بھی پرانی عادت ہے ہماری کہ کسی اچھی ڈاکیومنٹری کو دیکھ لیتے ہیں۔ فریڈرک دی گریٹ آف پروشیا‘ نپولین‘ بِسمارک‘ پہلی جنگ عظیم‘ ہٹلر‘ جنگ عظیم دوم‘ لینن‘ سٹالن‘ نام لیتے لیتے تھک جائیں گے۔ ان سب پہ انٹرنیٹ پر ایسی ایسی شاندار تحقیق ہے کہ ایسے مطالعے میں انسان گم ہو جائے۔
سفر پر نکلتے نہیں ہیں پر سوچتے ضرور ہیں۔ یہ ساون کا مہینہ ختم ہو اور پھر بھادوں بھی بیت جائے تو اس دفعہ جنوب کی طرف یاترا کرنا چاہیے۔ سکھر جائیں وہاں ایک دو روز پڑاؤ لگے اور پھر سیہون اور بھٹ شاہ حاضری دیں۔ کیسا اچھا وقت گزرے۔ بہت عرصہ ہوا جو ان دو مقامات پر حاضری دی۔ اب وقت آ چکا ہے کہ دوبارہ دی جائے۔ کوئٹہ کا اکثر خیال ذہن میں آتا ہے۔ ظاہر ہے اندرونِ صوبہ نہ گھوم سکیں گے لیکن کچھ روز کوئٹہ ہی قیام ہو جائے۔ معلوم ہو اہے کہ کوئٹہ پریس کلب میں قیام کرنے کا اچھا بندوبست ہے۔ منت ترلا کریں گے‘ جگہ مل ہی جائے گی۔ لوگوں سے مل لیں گے‘ حالات اور موسم کا کچھ اندازہ ہو جائے گا۔ ویتنام اور افغانستان کی جنگیں ہوں تو مغربی دنیا کے کتنے ہی صحافی وہاں پہنچ جایا کرتے تھے۔ ویتنام کی جنگ میں تو امریکی میڈیا پر کم ہی قدغنیں تھیں۔ بڑی اچھی رپورٹنگ اُن سالوں میں وہاں سے ہوئی۔ افغانستان کی جنگ تک امریکی سمجھ گئے تھے کہ میڈیا کو آزاد چھوڑنا گھاٹے کا سودا ہے۔ لہٰذا افغانستان جنگ میں میڈیا کو کھلے عام نہیں چھوڑا گیا۔ یعنی رپورٹنگ پر کچھ نہ کچھ کنٹرول آ گیا تھا لیکن پھر بھی صحافی کابل میں تو بیٹھے تھے اور وہاں سے روزانہ رپورٹیں فائل کرتے تھے۔ ہماری صورتحال ذرا مختلف ہے۔ کے پی اور بلوچستان کے حساس علاقوں میں جانا صحافیوں کے لیے اتنا آسان نہیں۔ آسان کیا تقریباً ناممکن ہے۔ لیکن اور کہیں نہ گئے صرف کوئٹہ میں ہی قیام ہو کچھ تو موسم کو جانا جا سکتا ہے۔ بس ہمت باندھنے کی بات ہے اور ہمت خود سے ہی آنی ہے کسی اور نے تو بھرنی نہیں۔ دیکھتے ہیں پھر کب شیرِ میدان بنتے ہیں۔
کشمیر نسبتاً قریب ہے‘ ان دنوں وہاں نہیں گئے۔ بڑی بات البتہ یہ ہے کہ جانے کی کوشش بھی نہیں کی۔ کسی نہ کسی طریقے سے راولا کوٹ تو جایا جا سکتا تھا۔ سڑکوں پر ناکے ہوں پہاڑوں کا راستہ تو اپنایا جا سکتا ہے۔ لیکن سچ پوچھئے کاہلی طبیعت کا حصہ بن چکی ہے۔ غازی تو ہم ہیں لیکن صوفوں اور چارپائیوں کے‘ چارپائیاں بھی ایسی جہاں گاؤ تکیے دستیاب ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اکثر سفر خیالی رہتے ہیں۔ وہ کیا تھی برمکیوں کی دعوت جس کا دستر خوان خیالات کی دنیا میں ہی سجایا گیا تھا۔ ہمارے کارواں خوابوں کی دنیا میں ہی آراستہ ہوتے ہیں۔
خاصی عجیب بات ہے کہ روس میں کمیونزم کا جنازہ نکل گیا۔ سوویت یونین کئی حصوں میں بٹ گیا۔ روس کی وہ طاقت نہ رہی جو سٹالن اور بعد میں سرد جنگ کے زمانے میں ہوا کرتی تھی۔ لیکن اس سارے زوال کے باوجود لینن کا نام زندہ ہے۔ روسی حکومت لینن کا نام نہیں لیتی لیکن چین‘ ویتنام اور شمالی کوریا میں آج بھی لینن کو انقلاب کا دیوتا مانا جاتا ہے۔ کال مارکس کے نام کے ساتھ ہی لینن کا نام آتا ہے۔ مارکس نے تو فلسفہ دیا تھا‘ تاریخ کی تشریح کی تھی لیکن لینن نے بتایا تھا کہ انقلاب کو بروئے کار کیسے لانا ہے‘ کہ کیسے ایک انقلابی جماعت کو بننا چاہیے اور پھر اقتدار حاصل کرنے کے حوالے سے اُسے کیا کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے لکھا بھی اور جو اس حوالے سے ان کی کتابیں ہیں شہرہ آفاق ہیں۔ اور پھر اپنے ہی دیے گئے نسخے پر انقلاب لا کر دکھایا۔
فروری 1917ء میں زار نکولس دوم سبکدوش ہوا اور ایک قائم مقام حکومت معرضِ وجود میں آئی۔ لینن تب سوئٹزر لینڈ میں بیٹھا تھا۔ پیٹرو گریڈ میں موجود تمام انقلابیوں نے سمجھا بشمول لینن کی اپنی پارٹی کے لیڈروں نے کہ فی الحال جو کچھ ہوا ہے کافی ہے۔ جرمنوں کی مہیا کی ہوئی ایک ٹرین پر لینن سفر کرتے ہیں اور بالآخر پیٹرو گریڈ پہنچتے ہیں۔ ریلوے سٹیشن پر رات کا وقت تھا‘ لوگ آئے ہوئے تھے لینن کا استقبال کرنے۔ لیڈروں نے تقریریں تیار کی ہوئی تھیں۔ ٹرین سے اترتے ہی ایک آرمرڈ کار پر لینن چڑھتا ہے اور بغیر کسی تمہید کے قائم مقام حکومت کی دھجیاں اڑاتا ہے‘ فورا ًجنگ بندی کا کہتا ہے اور نعرہ دیتا ہے امن‘ زمین اور روٹی۔ پلیٹ فارم پر جمع لیڈر دم بخود ہو جاتے ہیں لیکن ورکر اور موجود فوجی پُرجوش نعرے لگانے لگتے ہیں۔ پوری سینٹرل کمیٹی لینن کے مؤقف کو سمجھ نہیں سکتی اور اس کی مخالفت کرتی ہے۔ لیکن متعدد نشستوں کے بعد لینن کی لائن کے وہ قائل ہو جاتے ہیں۔ اتنا بیان کرنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ انٹرنیٹ پر بہت ہی شاندار ڈاکیومنٹریاں لینن پر موجود ہیں۔ انقلاب یہاں کس نے لانا ہے اور ہم نے تو کہا کہ غازی ہیں تو گفتار کے لیکن سن اور دیکھ کر آگاہی تو ہو جائے گی۔
کبھی خیال جاتا ہے کھیتی باڑی کریں۔ بھگوال جو ہمارا گاؤں ہے وہاں جانا ہوتا ہے تو کم ازکم ایک شام کیلئے کاشتکار ہو جاتے ہیں۔ سوچ کی حد تک مال مویشی کے مالک بن بیٹھتے ہیں۔ چکوال واپسی ہوتی ہے تو خیالات کہیں اور گھوم جاتے ہیں۔ مستقل مزاجی کا مطلب پوچھنا ہو تو کوئی ہم سے پوچھے۔ پھر کسی شام ماحول بنے تو خیال آتا ہے کہ مشہور پرفارمر مہک ملک کا قیام سرگودھا میں ہی تو ہے۔ چکوال سے اتنا دور نہیں‘ وہاں کبھی جایا جائے۔ راستہ پوچھ ہی لیں گے‘ طریقۂ ملاقات بھی معلوم ہو جائے گا۔ پر ایسے خیالات اُسی زمرے میں آتے ہیں جس کے بارے میں وہ لافانی الفاظ کہے گئے کہ چھوڑو رات کی باتیں‘ رات گئی بات گئی۔
لاہور جانا تقریباً چھوٹ گیا ہے۔ پہلے کچھ نہ کچھ مصرف ہوا کرتا تھا اب نہیں رہا۔ ویسے بھی ہمارا لاہو رخاصا مختصر سا ہے‘ زمزمہ توپ سے لے کر اُس سرائے تک جہاں اکثر قیام ہوتا ہے۔ باقی لاہور سے ہماری اتنی جانکاری کبھی رہی نہیں۔ گلبرگ جانے کیلئے ذہنی کوشش کرنی پڑتی ہے۔ اُس سے آگے جو وسیع سوسائٹیوں کے علاقے ہیں سچ پوچھئے وہاں کبھی جانے کا دل نہیں کیا۔ جس دوست کا پوچھیں اُس کا قیام وہاں ہو چکا ہے لیکن وہ دور کے علاقے لگتے ہیں۔ اتنا سفر طے نہیں ہوتا۔ پرانے لاہور بھی کیا جائیں‘ فوڈ سٹریٹوں کو دیکھ کر ویسے دل اچاٹ ہو جاتا ہے۔ اور جہاں تک سردار ہیرا سنگھ کے نام سے منسوب علاقہ ہے اُس کی ویرانی اب مسلمہ ہو چکی ہے۔ پائے کھانے تو وہاں ہم نے جانا نہیں۔
پھر سیہون ہی رہ جاتا ہے اور ہماری انتظار کی گھڑیاں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...