پاکستان کی فکری تاریخ کا پہلا باب جن شخصیات کا تذکرہ کیے بغیر نامکمل ہے‘ ان میں ایک محمد اسد بھی ہیں۔ وہ پہلے آدمی ہیں جن کو پاکستان کی شہریت دی گئی اور ان کے نام پاکستان کا پہلا پاسپورٹ جاری ہوا۔ یہ باتیں کسی ایسے فرد کے لیے کوئی انکشاف نہیں جسے پاکستان کی تاریخ کے فکری پہلو سے کوئی دلچسپی ہے۔
علامہ اقبال سے ان کا تعلق رہا۔ وہ ان علمی کاوشوں کا براہ راست حصہ تھے جو پاکستان کی اسلامی تشکیل کے لیے‘ ابتدا ہی میں کی گئیں۔ اکتوبر 1947ء میں پنجاب کے وزیراعلیٰ نواب افتخار حسین ممدوٹ نے 'محکمہ احیائے ملتِ اسلامیہ‘ قائم کیا اور انہیں اس کا سر براہ بنایا گیا۔ وہ یہودی سے مسلمان ہوئے تھے۔ جرمن نو مسلم سکالر ولفرڈ ہوف مین نے کہا تھا کہ وہ اسلام کے لیے یورپ کا تحفہ ہیں۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے چودھری نیاز علی خاں کے نام ایک خط میں محمد اسد کے بارے لکھا: ''دورِ جدید میں اسلام کو جتنے غنائم یورپ سے ملے‘ ان میں یہ سب سے زیادہ قیمتی ہیرا ہے‘‘۔ محمد اسد کی یہی اہمیت ہے کہ اہلِ علم ان کی شخصیت اور افکار کے بارے میں متجسس رہے۔ ان کی کتابِ زندگی کے ایک ایک ورق کو پلٹا گیا۔ ان کے افکار میں اتر کر دیکھا گیا۔ ہر بڑے عالم اور مفکر کی طرح‘ ان کے خیالات کے گرد بھی اعتراضات کے تانے بانے بُنے گئے۔ ان کی دوسری بیوی بھی زیرِ بحث رہیں جس سے شادی کے لیے انہیں پاکستان کی وزارتِ خارجہ کو چھوڑنا پڑا۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد ارشد نے ان پر بہت کام کیا۔ محمد اکرم چغتائی نے بھی دادِ تحقیق دی۔ ڈاکٹر اکرام الحق یٰسین نے بھی ان پر کام کیا‘ بالخصوص ان کے جاری کردہ رسالے 'عرفات‘ پر۔
محمد اسد پر کیے گئے تحقیقی کام کے کئی زاویے ہیں۔ کسی شخصیت کی تفہیم میں اس کی تحریروں کے ساتھ‘ اس کے خطوط کا مطالعہ بہت اہم ہے۔ خط میں انسان کھلتا ہے‘ بالخصوص جب وہ بے تکلف احباب سے مخاطب ہوتا ہے۔ دورِ حاضر کی ٹیکنالوجی نے فرد شناسی کا یہ باب بند کر دیا۔ اب کوئی خط نہیں لکھتا۔ اسد کے دور میں مگر یہ رواج موجود تھا۔ ڈاکٹر محمد ارشد ان خطوط کی کھوج میں لگے رہے اور اسد کے 151 مکاتیب ڈھونڈ نکالے۔ ان کو شائع کر دیا گیا۔ ڈاکٹر خالد ندیم ایک قدم آگے گئے اور انہوں نے ان خطوط کا اردو میں ترجمہ کر ڈالا۔ یہ ترجمہ 'مکاتیبِ علامہ محمد اسد‘ کے عنوان سے شائع ہوا اور گزشتہ ایک ماہ‘ میرے زیرِ مطالعہ رہا۔
ڈاکٹر خالد ندیم کا تحقیقی کام حیران کن ہے۔ اُسے دیکھ کر میں سوچتا ہوں کہ ایک آدمی اتنی عرق ریزی کیسے کر سکتا ہے؟ انہوں نے 'کلیاتِ نثرِ اقبال‘ مرتب کی۔ اس میں اقبال کے تمام نثری کام کو جمع کر دیا گیا ہے۔ علامہ کے مضامین‘ تقاریر‘ کتابوں پر تبصرے‘ سب اس میں شامل ہیں۔ یہ کام پہلے بھی کیا گیا مگر ڈاکٹر صاحب کی تحقیق کے اپنے امتیازات ہیں جن کے بیان کا یہ موقع نہیں۔ 1200 سے زیادہ صفحات پر مشتمل ان کا ایک کام 'لفظیاتِ کلامِ اقبال (اردو)‘ بھی ہے۔ اس کا خاکہ رشید حسن خاں نے تیار کیا مگر اس کی عملی صورت گری ڈاکٹر خالد ندیم کے حصے میں آئی ہے۔ ان کے وسیع علمی و تحقیقی کام کا مکمل تعارف سرِ دست مقصود نہیں‘ صرف یہ واضح کرنا پیشِ نظر ہے کہ وہ اس کام کے اہل تھے اور اسد مرحوم کے مکاتیب کا یہ ترجمہ خود اس کا گواہ ہے۔ یہ بہت رواں ترجمہ ہے جس پر اصل کا گمان ہوتا ہے۔ اس پہ مستزاد ان کی تعلیقات اور حواشی ہیں جنہوں نے اس کی افادیت میں اضافہ کر دیا ہے۔
محمد اسد مرحوم نے ان خطوط میں اپنی زندگی اور افکار کے بارے میں بہت سی باتیں لکھی ہیں۔ انہوں نے بتایا ہے کہ رابطہ عالمِ اسلامی نے ان کے ترجمہ وتفسیرِ قرآن پر پابندی کیوں لگائی۔ اس پر انہوں نے اظہارِ افسوس کیا اورمعترضین کا اصل مسئلہ بیان کیا۔ پھر ان خطوط میں ان اعتراضات کا جواب دیا‘ جو ان کے خیالات یا ذات پر کیے گئے۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ جب ان پر ارتداد کا الزام لگا تو ایک شخص نے استقامت کے ساتھ میرا ساتھ دیا اور میرے وقار کا دفاع کیا۔ یہ مولانا مودودی تھے‘ درآں حالیکہ میں ان کی جماعت سے کبھی وابستہ نہیں رہا اور نہ ہی انہیں میری تمام آرا سے اتفاق تھا۔ پروفیسر خورشید احمد نے محمد اسد پر اپنے مضمون میں‘ جو 'ترجمان القرآن‘ میں شائع ہوا‘ انہیں اپنے علمی محسنوں میں شمار کیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ جب وہ فکری دوراہے پر کھڑے تھے تو مولانا مودودی اور علامہ اقبال کے افکار اور کتب کے ساتھ‘ اگر کسی کتاب نے ان کا ہاتھ تھاما تو وہ محمد اسد کی کتاب تھی 'اسلام دوراہے پر‘ (Islam at the Crossroads)۔
اس پس منظر میں ڈاکٹر محمد ارشد صاحب کی یہ 'تحقیق‘ حیرت میں ڈالتی ہے جسے ڈاکٹر خالد ندیم نے اس ترجمے میں نقل کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ محمد اسد نے اپنی تفسیر میں عقل پسندی کو اہم جانا۔ انہوں نے ابومسلم اصفہانی اور زمخشری جیسے معتزلیوں اور محمد عبدہٗ اور رشید رضا جیسے نو معتزلیوں سے استفادہ کیا۔ اس کے بعد وہ لکھتے ہیں: ''ان (کے) مخالفین میں متبحر اور ثقہ علما شامل نہیں تھے۔ ان معترضین کی اکثریت پاکستان سے تعلق رکھتی تھی اور یہ سبھی مولانا مودودی کے پیروکار تھے۔ یہ لوگ غلط سلط انگریزی میں عرب علما کو اپنے اعتراضات سے آگاہ کرتے تھے جو ان کے اپنے مخصوص نقطہ نظر کی عکاسی کرتے تھے اور وہ سیاق وسباق سے ہٹ کر کیے جاتے تھے‘‘۔ (صفحہ 274) ارشد صاحب نے اپنی اس تحقیق کے حق میں کوئی شہادت پیش نہیں کی۔ اگر وہ ایسا کرتے تو ان کا مقدمہ مضبوط ہو سکتا تھا۔ میرا احساس تو یہ ہے کہ اگر محمد اسد کی علمی حیثیت کا کسی نے اعتراف کیا تو وہ جماعت اسلامی ہی کا حلقہ تھا۔ اس پر پروفیسر خورشید احمد مرحوم کا وہ مضمون گواہ ہے جو انہوں نے اسد کی وفات پر ترجمان القرآن میں لکھا۔
محمد اسد نے سیلانی طبیعت پائی تھی۔ کسی ایک جگہ ٹک کر نہیں رہے۔ ایک جگہ انہیں پسند آ گئی اور وہیں گھر بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ اگلے خط سے معلوم ہوا کہ چند ماہ بعد ہی دل وہاں سے اچاٹ ہو گیا ہے۔ ان خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بیٹے طلا ل اسد‘ جو خود ایک نامور سکالر تھے‘ وہ اپنے والد سے خوش تھے اور نہ والد ان سے خوش تھے۔ پاکستان سے ان کی محبت تادمِ مرگ قائم رہی‘ اگر چہ وہ ذمہ دار لوگوں سے خوش نہیں رہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ اقوامِ متحدہ میں پطرس بخاری کے رویے نے انہیں بہت مایوس کیا۔ ان کے خلاف جو مہم چلی‘ وہ پطرس مرحوم کو اس کا محرک سمجھتے تھے۔ اس کا اظہار انہوں نے ممتاز حسن کے نام اپنے خط میں کیا۔
محمد اسد کے یہ خطوط ایک شخصیت ہی کو نہیں‘ ایک عہد کو سمجھنے میں بھی بہت مدد گار ہیں۔ یقینا ان کے علاوہ بھی مکاتیب ہوں گے جو اس مجموعے میں شامل نہیں ہو سکے۔ مثال کے طور پر پروفیسر خورشید احمد صاحب نے اپنے نام ان کے ایک خط کا ذکر کیا ہے جو اس کتاب میں شامل نہیں۔ ڈاکٹر محمد ارشد اور ڈاکٹر خالد ندیم ہمارے شکریے کے مستحق ہیں کہ ا نہوں نے عوامی پذیرائی کے شوق سے لاتعلق ہو کر‘ سنجیدہ تحقیقی کام کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا‘ جس کے نتیجے میں ہمیں ایک اہم کتاب میسر آئی۔ ہمیں ڈاکٹر خالد ندیم کی اگلی کتاب کا انتظار ہے جس میں انہوں نے علامہ اقبال پر سلیم احمد مرحوم کی تمام تحریریں جمع کر دی ہیں۔