تاریخ جب اپنا رخ بدلتی ہے تو وہ کسی روایتی راستے کی محتاج نہیں رہتی۔ برصغیر کی سیاسی تاریخ میں احتجاج اور تحریکوں کی طویل داستان ہے‘ جہاں احتجاج کی قیادت اکثر بڑی سیاسی جماعتیں کرتی تھیں اور مظاہروں کا مطلب جلاؤ گھیراؤ اور ہنگامہ آرائی ہوا کرتا تھا۔ لیکن جین زی نے اپنے منفرد اندازِ احتجاج سے ماضی کے مروجہ احتجاجوں کو غلط ثابت کیا ہے۔ حالانکہ نئی نسل کو اکثر 'ممی ڈیڈی‘ اور 'برگر بچے‘ کا طعنہ دیا جاتا تھا جن کے بارے میں عمومی خیال تھا کہ یہ محض سکرینوں تک محدود اور وقت ضائع کرنے والا طبقہ ہے۔ لیکن جب روایتی میڈیا سمیت پورا فکری طبقہ مصلحت پسندی کا شکار ہو کر سچ بولنے سے کترانے لگا تب جین زی نے بے خوف ہو کرجبر کے نظام کو چیلنج کیا۔ بنگلہ دیش میں طلبہ کی جانب سے حسینہ واجد کی برسوںسے قائم مضبوط حکومت کا تختہ الٹنے کا واقعہ ابھی دنیا کی یادداشت میں تازہ ہی تھا کہ بھارت میں جین زی نے اپنے حقوق کی خاطر سڑکوں پرآ کر یہ ثابت کر دیا کہ یہ نسل کسی بھی خطے میں ناانصافی کے خلاف سب سے متحرک اور ناقابلِ تسخیر قوت بن چکی ہے۔
بھارت میں اس احتجاج کی چنگاری قومی امتحانات میں ہونے والی بدعنوانی‘ بے ضابطگیوں اور پیپر لیک سکینڈل سے بھڑکی۔ لاکھوں محنتی طلبہ کا مستقبل جب مٹھی بھر رشوت خوروں اور تعلیمی مافیا کے ہاتھوں داؤ پر لگا تو غصے کا ایک طوفان امڈ آیا۔ لیکن نریندر مودی اور ان کے وزرا نے شاید خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ طلبہ کی یہ وقتی ناراضی دیکھتے ہی دیکھتے ایک ایسی ملک گیر تحریک میں بدل جائے گی جو اُن کی حکومت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دے گی۔ حکومتوں کا وتیرہ رہا ہے کہ وہ عوامی لاوے کو معمولی سمجھنے کی غلطی کرتی ہیں‘ تاہم جب سوسائٹی بالخصوص نوجوانوں میں ناانصافی کے خلاف لاوا پک رہا ہو تو اسے ایک بڑے عوامی احتجاج میں بدلنے کیلئے کسی بڑے سبب کی نہیں بلکہ صرف ایک چنگاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ طلبا تحریک کی سب سے دلچسپ اور منفرد بات اس کا اندازِ احتجاج ہے۔ نئی دہلی کے تاریخی مقام جنتر منتر پر جب طلبا جمع ہوئے تو انہوں نے تشدد کی جگہ ناچ گانے‘ دف‘ گٹار کی دھنوں‘ طنزیہ نعرے بازی اور فنکارانہ انداز کو اپنا ہتھیار بنایا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ پُرامن اور تخلیقی احتجاج پُرتشدد مظاہروں سے کہیں زیادہ اثر انگیز اور کامیاب ہو سکتا ہے۔ طلبا تحریک کی سب سے بڑی کامیابی روایتی بھارتی میڈیا کے خلاف تصور کی جا رہی ہے۔ وہی میڈیا جو برسوں سے عوام کے مسائل سے آنکھیں چرا کر صرف حکومتی بیانیے کو فرضی سچ بنا کر بیچتا رہا‘ جب گودی میڈیا کے اینکرز اور نمائندے مظاہرین کی کوریج کیلئے جنتر منتر پہنچے تو نوجوانوں نے ان کا استقبال پھولوں سے نہیں بلکہ شدید تنقید‘ سخت نعرے بازی اور بائیکاٹ سے کیا۔ بین الاقوامی سطح پر بھی نیویارک ٹائمز اور الجزیرہ جیسے معتبر عالمی اداروں نے اپنی رپورٹس میں نہ صرف بھارتی میڈیا کے بارے گودی میڈیا کی اصطلاح کو نمایاں کر رہے ہیں بلکہ بھارتی میڈیا اور حکومتی گٹھ جوڑ کی تلخ حقیقت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر رہے ہیں۔ طلبا کا مؤقف تھا کہ جو میڈیا عوام کی آواز بننے کے بجائے اقتدار کا ترجمان بن جائے وہ ان کی کوریج کا حقدار نہیں ہے۔ جب روایتی میڈیا کے راستے بند ہوئے تو جین زی نے اپنے سمارٹ فونز کو ہی اپنا ہتھیار بنا لیا۔ انسٹاگرام‘ ایکس (ٹوئٹر) ٹک ٹاک اور لائیو سٹریمز کے ذریعے میمز‘ ریلز اور طنزیہ پوسٹس کا ایک ایسا سیلاب آیا جس کے سامنے مودی سرکار ٹھہر نہ سکی۔ جب دہلی پولیس نے جنتر منتر پر موجود پُرامن طلبا پر تشدد کیا اور انہیں حراست میں لیا تو گودی میڈیا نے اس خبر کو دبانے کی کوشش کی لیکن نوجوانوں کی بنائی ہوئی لائیو وڈیوز چند ہی منٹوں میں دنیا بھر کے کروڑوں فونز تک پہنچ گئیں۔ اس ڈیجیٹل پیش قدمی نے ثابت کر دیا کہ اب عوامی تائید کی جنگیں محض روایتی سٹوڈیوز میں نہیں بلکہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر بھی جیتی جا سکتی ہیں۔
جین زی کو کمتر سمجھنے کی غلطی کی گئی تو اس کے نتائج بھیانک نکل سکتے ہیں۔ بھارت کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک کیس کی سماعت کے دوران نوجوانوں کیلئے ''کاکروچ‘‘ کا لفظ استعمال کیا تھا۔ اس طنز کے بطن سے ''کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کا جنم ہوا۔ ایک ایسا نام جو حکومتی غرور پر کاری ضرب بن گیا‘ دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں نوجوانوں کا سائبر مرکز بن گیا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اعلیٰ شخصیات کا بولا ہوا ایک غیر محتاط لفظ کس طرح سیاسی بیداری اور باقاعدہ تحریک کا روپ دھار سکتا ہے۔ بھارت میں طلبا تحریک کو شروع میں محض امتحانات کے پیپر لیک ہونے کا مسئلہ سمجھا جا رہا تھا‘ لیکن وقت کے ساتھ اس کا دائرہ اتنا وسیع ہوا کہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اس میں شامل ہوتے چلے گئے۔ ڈاکٹرز‘ وکلا‘ سول سوسائٹی کی شخصیات‘ شوبز کے ستارے اور بالخصوص ان طلبہ کے والدین بھی اپنے بچوں کے شانہ بشانہ سڑکوں پر آ کھڑے ہوئے۔ یہ تحریک اب صرف تعلیم اور امتحانات کے نظام میں اصلاحات کی مہم نہیں رہی بلکہ یہ ہندوستان کے روایتی نظام‘ ناانصافی اور حکومت اور میڈیا گٹھ جوڑ کے خلاف ایک بڑی عوامی تحریک کی علامت بن چکی ہے۔ سوشل میڈیا پر چلنے والی اس منظم مہم کے اثرات اتنے شدید ہیں کہ تمام بڑے میڈیا نیٹ ورکس کے بائیکاٹ کے باوجود مودی حکومت کے پاؤں اکھڑنے لگے ہیں۔ وہ وزیراعظم نریندر مودی جو عموماً ایسے داخلی مسائل پر خاموشی اختیار کیے رکھتے ہیں‘ انہیں بالآخر اس معاملے پر اپنا خصوصی وڈیو بیان جاری کرنا پڑا۔ صرف یہی نہیں بلکہ اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کیلئے مودی حکومت کو پیپر لیک مافیا کے خلاف سخت ترین اور فوری کارروائی کیلئے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا باضابطہ اعلان کرنا پڑا اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو بھی گزشتہ روز استعفیٰ دینا پڑا۔ ایک ایسی حکومت کیلئے جو اپنے فیصلے مسلط کرنے کیلئے مشہور ہے‘ یہ پسپائی جین زی کی اخلاقی اور ڈیجیٹل فتح کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
مودی کو اپنی کرسی بچانے کیلئے وزیر تعلیم کو قربانی کا بکرا بنانا پڑا اور شاید بھارت میں وقتی طور پر حالات معمول پر آ جائیں تاہم طلبا تحریک سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ بھارت میں جاری جین زی کا احتجاج محض ایک ملک کا معاملہ نہیں‘ یہ ان تمام ممالک کے حکمرانوں کیلئے وارننگ ہے جو طاقت کے زور پر نظام کو چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بنگلہ دیش سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ اور بھارت میں جین زی کی یہ بے خوف تحریک اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہے کہ آج کا نوجوان سہمے ہوئے شہریوں سے مختلف ہے۔ یہ وہ نسل ہے جو پروپیگنڈا کو سیکنڈوں میں بے نقاب کرنا جانتی ہے‘ جو زبردستی کے مسلط کردہ بیانیے کو قبول نہیں کرتی‘ جو اپنے حقوق مانگنا اور حاصل کرنا جانتی ہے۔ جین زی جدید دور کی ایک ایسی اَن دیکھی اور طاقتور قوت بن کر ابھری ہے جس کا نہ تو کوئی ایک روایتی رہنما ہے جسے گرفتار کر کے تحریک ختم کر دی جائے اور نہ ہی کوئی ایسا دفتر ہے جسے سیل کر دیا جائے۔ ان کا مرکز ہر وہ سمارٹ فون ہے جو ناانصافی کے خلاف بول رہا ہے۔ بھارت میں ہونے والے اس تاریخی احتجاج نے دنیا بھر کی حکومتوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اب اگر انہوں نے نوجوانوں کی آواز نہ سنی تو پھر وہاں بھی جنتر منتر جیسے میدان ہر شہر میں سجے ہوں گے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments