دنیا اس وقت جغرافیائی‘ معاشی اور سٹرٹیجک تبدیلیوں کے دور سے گزر رہی ہے‘ جہاں طاقت کے روایتی مراکز تبدیل ہو رہے ہیں اور نئے اتحاد جنم لے رہے ہیں۔ ان حالات میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس بین الاقوامی سفارت کاری اور عالمی سیاست میں نہایت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے اور مسائل کا مشترکہ حل تلاش کرنے کا موقع میسر آیا ہے۔ اس عالمی اجتماع میں پاکستان توانا آواز کے ساتھ موجود تھا۔ عالمی سطح پر سفارتی تبدیلیوں کے تناظر میں پاکستان کا عالمی سطح پر باوقار‘ متوازن اور ناگزیر ریاست کے طور پر ابھرنا پاکستانی قوم کے لیے قابلِ فخر ہے۔ مئی 2025ء کے معرکہ حق میں بھارت کے خلاف حاصل ہونے والی شاندار اور فیصلہ کن فتح نے خطے میں پاکستان کی عسکری اور دفاعی صلاحیتوں کا لوہا منوایا جس کے اثرات سفارتی اور معاشی میدانوں میں پذیرائی کی صورت میں نظر آ رہے ہیں۔ عالمی برادری پاکستان کو ایک علاقائی فریق کے طور پر نہیں بلکہ جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں امن‘ استحکام اور توازن کی ضمانت سمجھتی ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب نے پاکستان کی بین الاقوامی اہمیت پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کو شاندار انسان کہنا اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے وزیراعظم کے خطاب کا کچھ حصہ شکریہ کے ساتھ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کرنا امریکی پالیسی سازی کے ایوانوں میں پاکستان کے مثبت اثر و رسوخ کا واضح اعتراف ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں پاک بھارت کشیدگی کے دوران امن کی بحالی‘ انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے اور ثالثی کے لیے امریکی صدر کی مساعی کا اعتراف کیا جسے بین الاقوامی سطح پر بے حد سراہا گیا۔ یہ سفارتی توازن اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان جارحیت کا شکار ہونے کے باوجود امن اور معقولیت کا علمبردار رہا ہے۔ دنیا نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نے مشکل حالات میں بھی ذمہ دار ایٹمی طاقت کا کردار ادا کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب کا آغاز قرآن پاک کی سورۃ الانفال کی آیت مبارکہ سے کیا جس نے دنیا کو یہ باور کرایا کہ اسلام کی بنیاد ہی امن‘ عدل اور باہمی احترام پر مبنی ہے۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں دنیا کے اہم بحرانوں اور ان کے اقتصادی و سماجی اثرات کا تفصیل سے احاطہ کیا اور عالمی رہنماؤں کو یاد دلایا کہ ترقی اور خوشحالی کی کوششیں اس وقت تک ناکام رہیں گی جب تک دنیا سے ناانصافی اور جنگ کے بادل چھٹ نہیں جاتے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے دنیا کی بڑی طاقتوں اور اقوام متحدہ کی توجہ اس جانب مبذول کروائی کہ عالمی برادری کا دہرا معیار دنیا کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ مشرقِ وسطیٰ بالخصوص سعودی عرب کی سلامتی کا معاملہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور عوام کے جذبات کا بنیادی محور رہا ہے۔ وزیراعظم نے حرمین شریفین کی حرمت اور سعودی عرب کی دفاعی سلامتی کے حوالے سے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے اسے پاکستان کی ریڈ لائن قرار دیا۔ سعودی عرب کی سرزمین پر حوثی باغیوں کے ڈرون اور میزائل حملوں کی پُرزور مذمت کرتے ہوئے انہوں نے دنیا پر واضح کیا کہ حرمین شریفین کی سلامتی‘ بقا اور حرمت پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر وقت اور ہر سطح پر کھڑا ہے اور اس معاملے میں کسی بھی قسم کی غفلت کی کوئی گنجائش نہیں۔ مکہ معاہدہ کی توثیق اور پاسداری کا اعادہ دراصل پاکستان کی اس پُرخلوص سوچ کا عکاس ہے کہ امت مسلمہ میں اتحاد‘ رواداری اور استحکام قائم رہے۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب اور ملاقاتوں میں یہ نکتہ بار بار اٹھایا کہ مسلمان ممالک کے درمیان اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اس مؤقف سے جہاں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تاریخی‘ دینی اور تزویراتی تعلقات کو مزید تقویت ملی ہے وہاں خطے میں تنازعات کے حل اور بین المسلمین یکجہتی کے لیے پاکستان کی سفارتی ساکھ بھی بے حد مضبوط ہوئی ہے۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ پاکستان کس طرح مشرقِ وسطیٰ میں امن کا ایک طاقتور اور قابلِ اعتماد داعی بن کر سامنے آیا ہے۔
عالمی جیو پولیٹکل منظر نامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ عالمی طاقتوں کے درمیان تعلقات کی کیمسٹری اور صف بندیاں تیزی سے بدل رہی ہیں جس کی ایک بڑی مثال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چینی صدر شی جن پنگ کی غیر معمولی پذیرائی اور امریکی فوجی اڈے پر چینی قیادت کا تاریخی اور پُرشکوہ استقبال ہے۔ یہ 1962ء کے بعد پہلا موقع تھا کہ کسی امریکی صدر نے ذاتی طور پر کسی غیرملکی رہنما کا اینڈریوز ملٹری بیس پر استقبال کیا۔ یہ تاریخی واقعہ دنیا میں چین کے ابھرتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ‘ معاشی طاقت اور ناقابلِ تسخیر حیثیت کا کھلا اعتراف ہے۔ چین اور امریکہ جیسے حریفوں کے درمیان سفارتی اور عسکری سطح پر ہونے والی اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئندہ کی عالمی سیاست کا دارومدار صرف محاذ آرائی پر نہیں بلکہ باہمی احترام‘ تزویراتی شراکت داری اور تعطل کے خاتمے پر ہو گا اور اس پورے عمل میں ایشیا کا کردار مرکزی ہوتا جا رہا ہے۔ امریکی دورے کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے جس انداز میں پاکستان کا نام لیا اور اسلام آباد معاہدے کا ذکر کیا وہ سفارتی دنیا میں ایک انتہائی مخلص اور برادر ملک کے لیے تحسین کا اعلیٰ ترین معیار ہے۔ چینی صدر کے اس بیان نے پاکستان کے اس مرکزی اور مثبت کردار کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا جو علاقائی امن و امان کی بحالی اور مذاکرات کے فروغ کے لیے خاموشی سے ادا کیا ہے۔ چینی صدر نے بین السطور دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ امن کا راستہ اسلام آباد سے ہو کر گزرتا ہے۔ چینی صدر کی جانب سے پاکستان کی پذیرائی اس بات کی گواہی ہے کہ دونوں ممالک کی شراکت داری محض چند معاشی یا تجارتی منصوبوں تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک اٹوٹ دفاعی‘ اخلاقی اور جیو سٹرٹیجک لڑی میں پروئی ہوئی ہے۔ چین اور پاکستان کی دوستی اب عالمی طاقتوں کی نظر میں خطے کی معاشی ترقی اور پائیدار امن کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ پاکستان کے بغیر اس خطے میں معاشی ترقی یا امن کا کوئی بھی فارمولا کامیاب نہیں ہو سکتا۔
پاکستان کی اس متوازن‘ مضبوط اور اصولوں پر مبنی سفارت کاری کا ہی نتیجہ ہے کہ دنیا پاکستان کی اہمیت کا اعتراف کر رہی ہے۔ امریکہ‘ چین‘ ایران‘ اور عرب ممالک سمیت دنیا کی تمام بڑی معاشی و عسکری طاقتیں اس بات پر متفق ہیں کہ جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن‘ معاشی راہداریوں کے فروغ‘ توانائی کی ترسیل اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے۔ پاکستان کی پوزیشن ایک ایسے اہم پل کی سی ہے جو مشرق اور مغرب‘ نیز مختلف معاشی بلاکس کو جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دنیا اب پاکستان کی آواز کو نہ صرف سنتی ہے بلکہ اس کے فیصلوں اور پالیسیوں کو قدر کی نظر سے دیکھتی ہے۔ یہ تاریخی لمحہ پاکستان کے لیے جہاں ایک عظیم کامیابی اور باعثِ فخر مرحلہ ہے وہاں یہ اس امر کا تقاضا بھی کرتا ہے کہ ہم بحیثیت قوم اپنے داخلی معاشی استحکام‘ سیاسی یکجہتی اور قومی اتحاد کو مضبوط سے مضبوط تر بنائیں۔ اگر پاکستان اپنی معیشت کو اسی سفارتی کامیابی کی طرز پر مضبوط بنا لیتا ہے تو اس سفارتی اور عسکری وقار کے ثمرات سے ملک و قوم کے مستقبل کو ہمیشہ کے لیے تابناک اور محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments