"RS" (space) message & send to 7575

نئی سیاسی صف بندی

پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں ایک بار پھر غیر معمولی تلاطم اور تحرک محسوس کیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی تدریجی صف بندی‘ جماعت اسلامی کا مسلسل عوامی تحرک‘ پاکستان تحریک انصاف کی احتجاجی مہم اور جمعیت علمائے اسلام کی بدلتی سیاسی حکمت عملی ملکی سیاست کو ایک اہم مرحلے میں داخل کر چکی ہے۔ اس وقت ملک کو درپیش شدید اقتصادی دباؤ بالخصوص پٹرولیم مصنوعات کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں سے متاثرہ عوام کے مسائل کو سیاسی مقاصد کیلئے مشترکہ پلیٹ فارم پر یکجا کیا جا رہا ہے۔ اس تناظر میں حکومتی صفوں میں بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کا ادراک اور اپوزیشن کو پارلیمانی وآئینی ذرائع سے مصروف رکھنے کی کوششیں‘ ریاست کے داخلی استحکام اور سیاسی درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے میں بنیادی اور کلیدی حیثیت اختیار کر چکی ہیں۔ جماعت اسلامی نے بظاہر عوامی مسائل‘ خاص طور پر عام شہریوں پر پڑنے والے معاشی بوجھ کو احتجاج کا جواز بنایا۔ ملک کے مختلف شہروں میں ایک ماہ سے جاری دھرنوں اور مظاہروں کا رخ اب آہستہ آہستہ اقتدار کے مرکز اسلام آباد کی طرف ہو رہا ہے۔ جماعت اسلامی کے اس احتجاج کا مرکزی نقطہ پٹرولیم لیوی کا خاتمہ اور مقامی سطح پر پیدا ہونے والے خام تیل کے طریقہ کار اور اس کے نرخوں میں اصلاحات لانا ہے۔ جماعت اسلامی کے مذاکراتی نمائندوں کے مطابق اگر مقامی سطح پر پیدا ہونے والے تیل کے نرخوں کے نظام میں پائے جانے والے نقائص کو دور کیا جائے تو قومی خزانے اورعوام کو تقریباً ایک سو بیس ارب روپے کی خطیر بچت فراہم کی جا سکتی ہے۔ عوامی نظر سے دیکھا جائے تو جماعت اسلامی کا یہ مؤقف منطق پر مبنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن سمیت دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے جماعت اسلامی کی اس تحریک کی اخلاقی اور سیاسی حمایت کی ہے کیونکہ عوامی معاشی مسائل وہ مشترکہ راستے ہیں جہاں تمام سیاسی دھڑے بلا جھجک اتفاقِ رائے پیدا کر سکتے ہیں۔ جب حکومت اپنے انتظامی اور معاشی فیصلوں میں عدم توازن کا شکار ہوتی ہے‘ اپوزیشن جماعتیں الگ الگ بینر تلے شروع ہونے والی تحریکوں کو ایک مقصد کیلئے یکجا کر لیتی ہیں۔ اس وقت بھی اپوزیشن کی صف بندی اسی روایتی کلیے کے تحت آگے بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ ستمبر کے آخری ایام میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے دی جانے والی احتجاجی کال نے سیاسی ماحول میں تناؤ کو تقویت دی ہے۔ دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ایک منجھے ہوئے سیاسی کھلاڑی کی حیثیت سے حالات کی نبض پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں۔ اگرچہ وہ جماعت اسلامی کے احتجاج کو عوامی حقوق کی جنگ قرار دے رہے ہیں لیکن ان کی عملی اور تدبیری شمولیت حکومتی دباؤ میں بے پناہ اضافہ کر سکتی ہے۔ اگر جماعت اسلامی کا پہلے سے جاری احتجاج‘ تحریک انصاف کے جلسے جلوس اور جے یوآئی کی سٹریٹ پاور مل جاتی ہے تو یہ سہ فریقی اتحاد حکومت کیلئے سنگین انتظامی اور سیاسی چیلنج کا روپ دھار سکتا ہے۔
سیاسی انتشار اور اپوزیشن کے اس ممکنہ احتجاج کا بروقت ادراک کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے دفاعی سیاست کے بجائے پیش رفت کی پالیسی اپنانے کے اشارے دیے گئے ہیں۔ اس ضمن میں چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے دیگر اراکین کی تعیناتی کا معلق معاملہ ایک اہم اور مثبت پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن کو یقین دلایا ہے کہ آئینی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے مشاورت کا عمل مکمل شفافیت سے کیا جائے گا۔ پاکستان میں ماضی قریب کے انتخابات اور اہم تقرریوں پر اٹھنے والے سوالات اور تحفظات کے پیش نظر الیکشن کمیشن میں شفافیت اور آئینی طریقہ کار کی پیروی سیاسی استحکام کی ضامن ہے۔ الیکشن کمیشن کو تمام فریقوں کیلئے قابلِ قبول بنانا اپوزیشن کے بنیادی تحفظات کو دور کر سکتا ہے جس سے حکومت کو سیاسی محاذ پر تناؤ میں کمی اور ماحول کو معتدل بنانے کا موقع مل سکے گا۔
موجودہ سیاسی ہلچل اور اپوزیشن کی صف بندی کا ایک نہایت اہم پہلو پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی رہائی اور ممکنہ ریلیف کا حصول ہے۔ پی ٹی آئی جانتی ہے کہ اپوزیشن کا احتجاج عدالتی فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتا لہٰذا حکمت عملی کا رخ سیاسی مصالحت اور درمیانی راستے کی تلاش کی طرف موڑنے کی کوششیں جاری ہیں۔ تحریک انصاف کی موجودہ قیادت ‘ حکومت او ریاست ممکنہ طور پر ایک ایسا درمیانی راستہ تلاش کر سکتے ہیں جس میں طبی بنیادوں اور علاج کا جواز پیش کر کے خان صاحب کیلئے ریلیف حاصل کیا جا سکے۔ اس قسم کا فارمولا دونوں فریقوں کو سیاسی طور پر فیس سیونگ فراہم کرتا ہے۔ حکومت یہ مؤقف اختیار کر سکتی ہے کہ اس نے کوئی سیاسی سمجھوتہ یا این آر او نہیں دیا بلکہ انسانی ہمدردی اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے طبی سہولت دی ہے جبکہ تحریک انصاف اس ریلیف کو اپنے سیاسی دباؤ اور عوامی تحریک کی بڑی کامیابی کے طور پر پیش کر سکتی ہے۔ مزید یہ کہ علاج کی آڑ میں اگر سیاسی ملاقاتوں اور مشاورت کا سلسلہ بحال ہوتا ہے تو اس سے خان صاحب کی سیاسی سرگرمیاں ایک نیا رخ اختیار کر سکتی ہیں۔تاہم خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان کی جانب سے جتھے کے بل پر نظام کو گرانے کی جو بات کی گئی ہے نہ تو اس کی حمایت کی جا سکتی ہے اور نہ ہی عوامی احتجاج کو طاقت کے زور پر روکنے کو سپورٹ کیا جا سکتا ہے۔ اسلام آباد میں فیض آباد کے قریب ٹریفک پولیس کے آفس میں کنٹینرز کو جمع کیا جا رہا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت احتجاج کو روکنے کی تیاری کر رہا ہے۔پولیٹکل سائنس کا بنیادی اصول ہے کہ سٹریٹ پاور اور عوامی احتجاج کو کچلنے کیلئے طاقت کا استعمال ہمیشہ حکومتوں کے اپنے خلاف جاتا ہے۔ اگر حکومت نے اپوزیشن کے مشترکہ احتجاج کو طاقت کے زور پر دبانے کی کوشش کی تو یہ ایک ایسی سنگین سیاسی غلطی ہو گی جو اپوزیشن کو وہ سب کچھ حاصل کرنے کا موقع فراہم کر دے گی جو وہ محض احتجاج سے حاصل کرنے میں ناکام رہتی۔ شہریوں کے بنیادی معاشی مطالبات پر طاقت کا بے جا استعمال عوام کی ہمدردیاں اپوزیشن کے پلڑے میں ڈال دے گا جس کے نتیجے میں حکومت کو نہ صرف داخلی سطح پر سخت ناہمواری اور عوامی غصے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
پی ٹی آئی کو پچھلے کچھ عرصہ کے دوران احتجاج میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تاہم اس بار اپوزیشن کا احتجاج ماضی سے کس قدر مختلف ہے اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومت اور اپوزیشن میں سے کون سا فریق زیادہ لچکدار‘ دانشمندانہ اور دور اندیش حکمت عملی اپناتا ہے۔ جماعت اسلامی کا بظاہر عوامی فلاح اور معاشی ریلیف کیلئے شروع ہونے والا احتجاج ایک محدود تحرک نہیں رہا بلکہ پورے اپوزیشن دھڑے کیلئے ایک سیاسی محرک بن چکا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں اس وقت ایک ایسے مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جہاں کسی بھی فریق کی ایک معمولی سی غلطی یا بے تدبیری ملک کو شدید ترین سیاسی بحران کی طرف دھکیل سکتی ہے‘ یا پھر پائیدار سیاسی مصالحت کا راستہ ہموار کر سکتی ہے۔آنے والے ہفتے اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا پاکستان کی سیاست روایتی محاذآرائی اور ٹکراؤ کا شکار رہتی ہے یا پھر سیاسی بصیرت اور تدبر کے ذریعے ایک نئے‘ متوازن اور مستحکم سیاسی دور کاآغاز ہوتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...