"RKC" (space) message & send to 7575

نئی نسل بنام پرانی نسل

بات نیپا ل اور بنگلہ دیش سے ہوتی ہوئی بھارت تک پہنچ گئی ہے۔ نوجوان نسل نے بھارت میں پیپر لیکس ایشو کو لے کر جس طرح وہاں وزیرتعلیم کا استعفیٰ لیا ہے وہ پوری دنیا میں ایک نئی مثال بن کر سامنے آیا ہے۔ پاکستان میں بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ صرف بھارت میں ممکن ہوا ہے‘ پاکستان میں ایسا ممکن نہیں۔ پاکستان میں بھی ایسا ہوچکا ہے۔ وہاں وزیرتعلیم سے استعفیٰ لیا گیا تو ہمارے ہاں سٹوڈنٹس کے احتجاج سے پیدا ہونے والے دبائو کے بعد جنرل ایوب خان کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ جنرل ایوب کے اقتدار کے آخری دنوں میں کراچی میں طالب علموں کی ریلی پر ہونے والی فائرنگ سے ایک طالب علم کی موت کے بعد مظاہروں میں شدت آگئی جو کراچی سے پنجاب تک پہنچی اور پھر مشرقی پاکستان میں بھی مظاہرے شروع ہو گئے۔ ویسے بھی پاکستان میں فوجی حکومت دس سال ہی چلتی ہے اس کے بعد اسے جانا ہی ہوتا ہے۔ جنرل ایوب‘ جنرل ضیااور جنرل مشرف کے رجیم اس کی مثال ہیں۔ سیاسی وزیراعظم ہمارے ہاں بھٹو صاحب کے دور کو چھوڑ کر دو تین برس سے آگے نہیں بڑھ سکے اور مسلسل وزیراعظم تبدیل ہوتے رہے ہیں لہٰذا ایک سافٹ سیاسی انقلاب ہر دو تین سال کے بعد آتا رہتا ہے۔ لوگ مطمئن رہتے ہیں کہ چلیں حکومتیں بدل رہی ہیں ورنہ مظاہرے تو جنرل ایوب اور جنرل مشرف کے خلاف بھی شروع ہو گئے تھے‘ جب وہ تین برس کے بجائے دس برس تک اقتدار میں بیٹھ گئے۔ جنرل ضیابھی بہت غیرمقبول ہو چکے تھے اور آٹھ برس کے بعد 1985ء میں ان کا جانا ٹھہر گیا تھا۔ محمد خان جونیجو اکیلے ہی ان کیلئے بھاری ثابت ہوئے۔ سوال یہ ہے کہ لوگوں کو سڑکوں پر کیوں آنا پڑتا ہے؟ جو لوگ ان سے ووٹ لے کر پاور میں آتے ہیں وہ ان کے مسائل پر توجہ کیوں نہیں دے پاتے یا خود کو ذمہ دار کیوں نہیں سمجھتے؟ انہیں کیوں لگتا ہے کہ اب انہیں کوئی ڈکٹیٹ نہیں کراسکتا؟
میرا رپورٹنگ کا تجربہ کہتا ہے کہ حکومتوں کو غیرمقبول کرنے میں زیادہ تر بیوروکریٹ کلاس کا تعلق ہوتا ہے جو گراس روٹ لیول پر لوگوں کے مسائل کو ہینڈل نہیں کرتی بلکہ مسائل پیدا کرتی ہے۔ سیاسی حکمران بھی اچھے بیوروکریٹس کے بجائے ایسے بیوروکریٹس کو لگواتے ہیں جو اُن کے ذاتی ملازم بن کر اُن کی مالی اور سیاسی فلاح کا کام کریں نہ کہ عوام کو مطمئن رکھیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرے میں عدم اعتماد بڑھتا رہتا ہے۔ جو لیڈر ایک دفعہ پارلیمنٹ پہنچ جائے اس کے بعد وہ خود کو کسی کے آگے جوابدہ نہیں سمجھتا۔ اسے لگتا ہے اس نے ووٹ لے لیا ہے اب جو چاہے کرے۔ سیاستدانوں کو شوق ہوتا ہے کہ ان کا ڈیرہ آباد رہے اور اہلِ علاقہ ہر قسم کا کام لے کر ان کے پاس آئیں اور وہ اَن داتا بن کر وہ مسائل حل کریں تاکہ کل کو ووٹ انہیں پڑیں اور جو ووٹ نہیں دے گا اس کا جینا حرام کر دیں گے۔ مجھے خود یاد ہے کہ ہمارے گائوں میں ہم نے 1980ء اور 1990ء کی دہائیوں میں جس ایم پی اے؍ایم این اے کو ووٹ نہیں دیا اس نے میری سگی بہن جو سکول میں پڑھاتی تھی ‘کے لگاتارا دو درجن ٹرانسفر کرائے۔ آخرکار اللہ بھلا کرے ملتان کے ہمارے قابلِ احترام وکیل میاں عباس صاحب کا جنہوں نے ملتان ہائی کورٹ سے سٹے لے کر دیاتو ہماری بہن کے تبادلے رُکے۔ ذہن میں رکھیں وہ پرائمری سکول کی استاد تھیں۔ ٹرانسفر کرانے والے جماعت اسلامی کے ایم پی اے اور پیپلز پارٹی کے ایم این اے تھے۔ دیہات میں آپ کا جینا حرام کر دیا جاتا تھا۔ استاد ہوں‘ استانیاں یا کلرک اورمحکمہ صحت کی نرسز یا ڈاکٹرز‘ مرد وخواتین کسی کی خیر نہیں۔ یہ جمہوریت کا ماڈل چلتا رہا ہے۔ یہ تبادلوں کی سیاست عمران خان حکومت میں عثمان بزدار کے دور میں ختم ہوئی جب سسٹم کو آٹومیٹک کیا گیا اور مریم نواز صاحبہ نے بھی اسے جاری رکھا ہے۔
جمہوریت کا مطلب ہوتا ہے عوام آپ کو طاقت دے کر اقتدار دیتے ہیں اور آپ وہی طاقت واپس عوام کو ایک سسٹم کی شکل میں دیتے ہیں۔ ہم سب پرویز مشرف پر تنقید کرتے ہیں لیکن ان کے دور کی ضلعی حکومتیں اس ملک کی تقدیر بدل سکتی تھیں کہ مقامی لوگ خود پر حکومت کریں۔ ضلعی انتظامیہ اور فنڈز اُن کو دیے جائیں اور وہ خود خرچ کریں۔ انہیں کوئی لاہور ‘ کراچی‘ پشاور یا کوئٹہ سے نہ بتائے کہ آپ نے اپنے ضلع میں کیا کرنا ہے۔ ہمارے سیاستدانوں اور بیوروکریٹس نے اس نظام کو نہیں چلنے دیا۔ ڈپٹی کمشنرز کو اپنا سٹیٹس خطرے میں پڑتا دکھائی دیا اور انہوں نے ورلڈ بینک سے کروڑوں ڈالرز کے قرضے لے کر آکسفورڈ‘ کیمبرج‘ ہاورڈ میں داخلے لے لیے کہ ہم اپنی گورننس صلاحتیں بڑھانے جارہے ہیں۔ یہ 2001ء؍2002ء کی بات ہے۔ تو کیا ہوا ہمارے ہاں گورننس بہتر ہوگئی؟ الٹا آج خواجہ آصف کہتے ہیں کہ ہمارے بابوز پرتگال میں جائیدادیں خرید رہے ہیں۔ تھرڈ ورلڈ ممالک میں جب آپ گورننس بہتر نہیں کرتے تو عوام سڑکوں پر آتے ہیں۔ فیملی فرینڈز پیکجز شروع کرتے ہیں تو لوگوں کو ناانصافی لگتی ہے۔ یہ بات طے ہے کہ ہر نسل اپنے سے پہلے والی سے زیادہ تیز اور سمجھدار ہوتی ہے اور یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ اگر نئی نسل زیادہ تیز نہ ہوتی تو انسان یہاں تک نہ پہنچتا۔ یہ فطری ارتقائی عمل ہے جو انسانی تاریخ کے ساتھ جاری ہے۔
اب جو کچھ انڈیا میں ہوا ہے یا اس سے پہلے بنگلہ دیش میں ہوا وہ برسوں کا غصہ تھا جو اکٹھا ہورہا تھا۔ جب جمہوری حکومتیں مسلسل دھونس دھاندلی اور جبر سے حکمرانی کرنے لگتی ہیں اور خوف کا ہتھیار استعمال کرتی ہیں تو ایک مرحلے پر وہ خوف ختم ہو جاتاہے۔ اگرچہ ہر ملک میں ایسے انقلاب کی وجوہات مختلف ہوتی ہیں۔ ضروری نہیں جو وجوہات انقلابِ فرانس کی تھیں وہی روس میں بالشویک انقلاب کے وقت بھی تھیں یا جو کچھ بنگلہ دیش میں ہوا وہی بھارت میں ہورہا تھا۔ ہر معاشرے اور ملک کی مختلف وجوہات ہوتی ہیں۔ بہت کم معاشرے ہوتے ہیں جو مطمئن زندگی گزارتے ہیں۔ برطانیہ کو دیکھ لیں وہاں بھی عوام اپنے وزیراعظم سے مطمئن نہیں ہورہے اور اب ساتواں وزیراعظم آیا ہے۔ وہاں اس لیے پُرتشدد انقلاب نہیں آتے کہ وہاں وزیراعظم خوداستعفیٰ دے دیتا ہے اور یہی جمہوریت ہوتی ہے کہ مجھ سے کوئی بہتر لائو۔ تھرڈ ورلڈ ممالک میں ایک ہی وزیراعظم برسوں تک چمٹا رہتا ہے۔ حسینہ واجد سولہ سال سے تھیں تو مودی بارہ سال سے وزیراعظم ہیں۔ نئی نسل دیکھتی ہے کہ ان کے حکمران اُن سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں تو وہ ان کی حاکمیت ماننے سے انکاری ہو جاتے ہیں۔ اگر کسی کو یہ لگے کہ اس کا حاکم اس سے قابلیت اور اخلاقی قوت میں بہت کم ہے تو وہ کیونکر اس کی عزت کرے گا؟ جمہوریت ناگزیر ہے اور اس کے بغیر گزارہ نہیں کیونکہ اس نظام کی وجہ سے صدیوں سے جاری اقتدار کی کشمکش میں بہنے والا لہو بند ہوا۔ پہلے تو بادشاہ کو قتل کر کے ہی چہرہ بدلا جاتا تھا۔ اب آپ پانچ سال کے بعد اپنی مرضی کا حکمران لا سکتے ہیں۔ لیکن جب آپ کی مرضی کا حکمران ہر قیمت پر آپ کا حاکم لگ کر بیٹھنا چاہتا ہے چاہے اس کیلئے کتنا ہی لہو کیوں نہ بہانا پڑے‘ دھاندلی کرنی پڑے تو وہ جمہوری حاکم نہیں رہ جاتا۔ وہ بدترین آمر بن جاتا ہے۔ جو لوگ بھارت میں وزیرتعلیم کے استعفیٰ کو جمہوریت کی فتح قرار دے رہے ہیں وہ یاد رکھیں یہ استعفیٰ جمہوری اقتدار کی وجہ سے نہیں دیا گیا‘ورنہ وہ پیپر لیکس کے بعد ذمہ داری قبول کر کے خود استعفیٰ دے دیتا۔ یہ استعفیٰ نوجوانوں نے لیا ہے اور دینا پڑا ہے ورنہ مودی کا پورا اقتدار خطرے میں تھا۔ جمہوری انداز میں استعفیٰ بھارت کے سابق وزیر ریلوے لال بہادر شاستری ( بعد میں وزیراعظم) نے 1956ء میں ٹرین حادثے پر دیا تھا یا پھر جنوبی کوریا کے وزیراعظم نے 2014ء میں سمندر میں بچوں کی ڈوبنے والی کشتی میں ان کے والدین کے آنسو دیکھ کر دیا تھا کہ اس کی حکومت انہیں نہ بچا سکی۔ اس ٹریجڈی کی ذمہ داری قبول کرنے اوراستعفیٰ دینے سے شاید ان دکھی والدین کا دکھ کچھ کم ہوسکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...