27جولائی کو آزاد جموں و کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہو رہے ہیں۔ اس مرتبہ پہلی بار انتخابات ایک ہی روز کرانے کے بجائے تین مرحلوں میں منعقد کیے جا رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کے مطابق یہ فیصلہ امن و امان کی صورتحال اور حساس انتخابی حلقوں میں سکیورٹی فورسز کی مؤثر دستیابی کے پیشِ نظر کیا گیا ہے تاکہ ہر مرحلے میں فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے انتخابی عمل کو پُرامن‘ شفاف اور منظم انداز میں مکمل کر سکیں۔ پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن‘ دوسرے مرحلے میں دو اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں دس اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی مجموعی طور پر 53 نشستیں ہیں‘ جن میں 45 عام نشستیں براہِ راست انتخابات کے ذریعے پُر کی جاتی ہیں جبکہ آٹھ نشستیں خواتین‘ علما‘ ٹیکنوکریٹس اور اووسیز کشمیریوں کیلئے مخصوص ہیں جو بعد ازاں منتخب اراکین کی نمائندگی کی بنیاد پر مختص کی جاتی ہیں۔ شنید ہے کہ الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے مرحلہ وار الیکشن کرانے کا فیصلہ سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بغیر کیا ۔ پاکستان میں بھی 1993ء تک مرحلہ وار انتخابات کرائے جاتے تھے۔ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کرانے کیلئے تین سے سات روز تک کا وقفہ ہوتا تھا۔ جیسا کہ 1970ء میں ہونے والے عام انتخابات میں سات دسمبر کو قومی اسمبلی کے انتخابات منعقد ہوئے تھے جبکہ صوبائی اسمبلی کے انتخابات 17 دسمبر 1970ء کو کرائے گئے۔ اس کا گہرا اثر ملک کی سیاسی تاریخ پر پڑا اور جب حتمی نتائج آئے تو مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ نے قومی اسمبلی کی 163 نشستیں حاصل کر لیں۔ دس دن بعد مشرقی پاکستان اسمبلی کے انتخابات میں عوامی لیگ نے صوبائی اسمبلی کی تمام نشستوں پر بھی برتری حاصل کر لی۔ مغربی پاکستان میں قومی اسمبلی کی 83 نشستیں پاکستان پیپلز پارٹی نے حاصل کر لیںجبکہ چاروں صوبائی اسمبلیوں میں نتائج تقسیم ہو گئے۔ پاکستان میں پہلی مرتبہ ایک ہی روز میں عام انتخابات 1997ء میں منعقد ہوئے جس کیلئے صدر فاروق لغاری نے صدارتی آرڈیننس جاری کیا تھا ۔ بعد ازاں اٹھارہویں ترمیم میں اس کو آئینی و قانونی حیثیت دے کر آئین کے آرٹیکل 224 میں تحفظ دے دیا گیا۔ لیکن آزاد جموں و کشمیر کے الیکشن کمیشن نے ریاست میں مرحلہ وار انتخابات کا فیصلہ ازخود کیا ہے۔ اصولی طور پر وزیراعظم آزاد کشمیر اور صدر آزاد کشمیر کو صدارتی آرڈیننس کے ذریعے فیصلہ کرنا چاہیے تھا۔ بادی النظر میں آزاد کشمیر کے الیکشن کمیشن کو ازخود فیصلہ کرنے کے اختیارات نہیں ہیں۔
اس وقت جبکہ سیاسی جماعتیں آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کیلئے تگ و دو کر رہی ہیں‘ آزاد کشمیر میں ان کی تاریخ پر نظر ڈالنا ضروری معلوم ہوتاہے۔ آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر سردار عبدالقیوم خان نے جولائی 1975ء میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے نام خط لکھا تھا جس میں ان کی توجہ اس جانب دلائی گئی کہ اقوامِ متحدہ کی قرارداد کی روشنی میں آزاد جموں و کشمیر متنازع علاقہ ہے لہٰذا یہاں فی الحال پاکستان پیپلز پارٹی کے دفاتر قائم نہیں ہونے چاہئیں۔ سردار عبدالقیوم خان نے اپنے خط میں یہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ آزاد کشمیر میں کسی بھی پاکستانی سیاسی پارٹی کے قیام سے کس طرح تحریکِ آزادی و الحاق متاثر ہو سکتی ہے‘ اس سے کسی پاکستانی لیڈر کو فائدہ نہیں پہنچے گا بلکہ یہ عین وہی راستہ ہو گا جو بھارت نے ریاست کو ضم کرنے کیلئے اختیار کیا ہے اور جس کی زبردست مخالفت حکومتِ پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کی حکومت کی طرف سے کی جاتی رہی ہے۔ سردار عبدالقیوم خان نے خط میں یہ بھی لکھا تھا کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم حسین شہید سہروردی اور فیلڈ مارشل ایوب خان بھی اپنی سیاسی پارٹیوں کی بنیاد آزاد کشمیر میں رکھنا چاہتے تھے لیکن میرے کہنے پر انہوں نے اپنا ارادہ ترک کر دیا۔اسی طرح کئی دیگر زعمائے ملت نے بھی‘ جن کا آزاد کشمیر میں پارٹیاں قائم کرنے کا حق بہت فائق تھا‘ سردار عبدالقیوم کی گزارشات کو قابلِ پذیرائی سمجھا۔ یہ بات قومی سطح پر طے شدہ تھی کہ ریاست کشمیر کی مکمل آزادی تک سیاست کا دائرہ وہاں تک وسیع نہ کیا جائے گا۔ وزیراعظم بھٹو نے سردار عبدالقیوم کی درخواست پر ملی نقطۂ نظر سے غور کرنے کے بجائے ان کی حکومت کو ایگزیکٹو آرڈر کے تحت برطرف کر دیا اور آزاد کشمیر میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھ دی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے اس فیصلے کے بعد دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی وہاں اپنے دفاتر قائم کر لیے لیکن آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کے دفاتر قائم ہونے کے بعد جو پہلے انتخابات ہوئے ان میں پیپلز پارٹی کو ایک فیصد ووٹ بھی کاسٹ نہ ہوئے۔ تقریباً 98فیصد ووٹروں نے اُن انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔ اسی دوران وزیراعظم بھٹو نے کشمیر کے حالات کی مانیٹرنگ کیلئے وزارتِ اطلاعات و نشریات میں ایک سیل قائم کر دیا تھا جس کے سربراہ ایس ایم وسیم تھے‘ میں بھی اس سیل کا ممبر تھا لہٰذا کشمیر کی ساری سیاسی قیادت اس سیل کے ذریعے رابطے میں رہتی تھی۔ وزیراعظم بھٹو نے چوہدری محمد حسین‘ جو سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سلطان محمود کے والد تھے‘ کے ذریعے کشمیر کی اندرونی سیاست کا شیرازہ بکھیر دیا اور شیخ منظر مسعود کو آزاد کشمیر کا صدر مقرر کرا دیا‘ اور سردار عبدالقیوم کو نقصِ امن کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا۔ بعد ازاں مسٹر بھٹو کے اقتدار سے سبکدوش ہونے کے بعد مارشل لاء حکام نے سردار قیوم کو جیل سے رہا کر کے آزاد کشمیر کی حکومت کا سربراہ مقرر کر دیا۔ اصولی طور پر آزاد جموں و کشمیر میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے دفاتر قائم کرنے کا آغاز وزیراعظم بھٹو نے کیا تھا‘ جس کی وجہ سے آزاد جموں و کشمیر کی ریاستی سیاسی جماعتیں پس منظر میں چلی گئیں۔
اگر آزاد کشمیر کی جغرافیائی تاریخ کی بات کی جائے تو تقسیم سے قبل گلگت اور بلتستان کا علاقہ بھی ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تھا۔ اس میں گلگت ایجنسی‘ جس میں بانہال‘ کوہِ غذر‘ یاسین اور چلاس کے علاقے‘ نیز ہنزہ اور نگر کی ریاستیں‘ بونجی اور استور کا سارا علاقہ شامل تھا۔لیکن آج کل حکومت آزاد کشمیر کے عمل دخل میں جو علاقہ ہے اس میں صرف تین ڈویژنزمظفرآباد‘ میرپور اور پونچھ آتے ہیں‘ اور اس میں بھی ہر ڈویژن کا کچھ نہ کچھ حصہ مقبوضہ کشمیر میں رہ گیا ہے۔ حکومت آزاد کشمیر کے زیرِ نگرانی کل رقبہ 13ہزار 297 مربع کلو میٹر ہے جسے عملاً صدرآزاد کشمیر کنٹرول کرتا ہے۔
ادھر مشرق وسطیٰ کی صورتحال کی بات کی جائے تو وہاں جنگ کے شعلے پھر بھڑک اٹھے ہیں اور ایران امریکہ تصادم دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے۔ ایران اب تک بھرپور مقابلہ کر رہا ہے لیکن اگر آگے چل کر ایران میں جنگ کی وجہ سے بدامنی پیدا ہوئی تو اس کے اثرات یہاں بھی محسوس کئے جاسکتے ہیں ۔ بلوچستان پہلے ہی تشویشناک صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ بھارت اور افغان طالبان کی طرف سے بی ایل اے کو ملنے والی معاونت کی وجہ سے صوبے میں دہشت گردی میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ صوبائی یا وفاقی حکومت اس صورتحال کو مؤثر تدارک کرتی دکھائی نہیں دیتیں اس لیے سارا دباؤ اور بوجھ مقتدر حلقوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ملکی سالمیت کیلئے سب کو مل کر کردار ادا کرنا ہو گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments