"KDC" (space) message & send to 7575

آڈٹ پورٹ لمحہ فکریہ

آزاد جموں کشمیرعام انتخابات ہفتہ بھر کی دوری پر ہیں‘مگرجمہوریت محض انتخابات کرا دینے کا نام نہیں‘ جمہوری عمل کی ساکھ آزادانہ شرکت‘ تمام جماعتوں کیلئے مساوی مواقع اور عوامی اعتماد پہ مبنی ہوتی۔ آزادکشمیرکے عوام کو اس حوالے سے کئی تحفظات ہیں ۔لوگوں کا ماننا ہے کہ موجودہ انتخابی نظام شفاف اور مسادی مواقع مہیا نہیں کرتا ۔ خدشہ ہے کہ ایسے تحفظات آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں اعتماد کے بحران کا سبب بن سکتے ہیں اور نئے وزیر اعظم کے مینڈیٹ پر شبہات پیدا کرسکتے ہیں۔آزاد کشمیر میں سیاسی انجینئرنگ کے تحت جس قسم کے چہرے آگے آ رہے ہیں ان کی عوام میں پذیرائی نہیں اور ان کا ماضی مشکوک ہے ‘ یہ صورتحال انتخابات کی ساکھ کو مجروح کر سکتی ہے۔آزاد کشمیر کو محض انتظامی کنٹرول یا طاقت کے زور سے نہیں چلایا جا سکتا اور کشمیری عوام کے سیاسی شعور‘تاریخی حساسیت اوراجتماعی عزت نفس کو نظر انداز کر کے خطے میں دیر پا استحکام قائم نہیں کیا جا سکتا۔
اب کچھ ذکر آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی مالی سال 2024-25ء کی اس رپورٹ کا جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نیلم جہلم ہائیڈرو پروجیکٹ کو مذکورہ مالی سال میں 128 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔ یہ نقصان کسی ایک حادثے یا ایک فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ طویل عرصے سے جاری انتظامی غفلت‘ تکنیکی کمزوریوں اور مؤثر نگرانی کے فقدان کا مجموعی عکس ہے جس کے اثرات قومی معیشت پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق منصوبے کو 29 ارب 41 کروڑ روپے کا خالص مالی خسارہ ہوا جبکہ ہیڈریس ٹنل کے انہدام کے باعث بجلی گھر کی بندش سے 99 ارب 18 کروڑ روپے کے کاروباری نقصانات ہوئے۔ یکم مئی 2024ء سے پاور ہاؤس بند ہے۔ رپورٹ کے مطابق بجلی گھر اپنی تکمیل کے بعد کسی ایک سال بھی تخمینہ شدہ 5150 گیگاواٹ آور سالانہ پیداوار کا ہدف حاصل نہیں کر سکا۔ جولائی 2022ء میں ٹیل ریس ٹنل منہدم ہوئی اور مئی 2024ء میں ہیڈریس ٹنل کے گرنے سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی بلکہ منصوبے کی مجموعی کارکردگی‘ مالی استحکام اور مستقبل کی آپریشنل صلاحیتوں پر بھی سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ۔ آڈٹ رپورٹ میں ایک انکشاف یہ بھی ہے کہ نیپرا کی جانب سے منصوبے کا مستقل ریفرنس ٹیرف آج تک منظور نہیں ہو سکا اس کے نتیجے میں یہ منصوبہ کم عبوری ٹیرف پر چلتا رہا اور اندازاً 77 ارب 35 کروڑ روپے کی ممکنہ آمدنی سے محروم رہا۔ یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ بڑے قومی منصوبوں میں بروقت ریگولیٹری فیصلوں اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی عدم موجودگی کس طرح مالی نقصانات میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق 30 جون 2025ء تک منصوبے کے موجودہ واجبات‘ موجودہ اثاثوں سے 307 ارب 89 کروڑ روپے زیادہ ہو چکے ہیں۔ قرضوں کی عدم ادائیگی کے باعث طویل مدتی قرضوں کو موجودہ واجبات میں منتقل کرنا پڑا جبکہ آپریٹنگ مارجن‘ قبل از ٹیکس اور بعد از ٹیکس منافع‘ سب منفی ہو چکے ہیں۔ یہ مالیاتی اشاریے اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ منصوبہ اپنی موجودہ حالت میں نہ صرف مالی دباؤ کا شکار ہے بلکہ اس کی پائیدار اقتصادی حیثیت بھی شدید خطر ے میں ہے۔ اتنے بڑے قومی نقصان کے باوجود ذمہ داروں کا تعین نہ ہونا ریاستی نگرانی کے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ قومی اہمیت کے حامل منصوبوں میں حادثات کی غیر جانبدار‘ بروقت اور جامع تحقیقات صرف ذمہ داروں کے تعین کیلئے ہی ضروری نہیں ہوتیں بلکہ آئندہ ایسے نقصانات سے بچنے کیلئے بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔
انتظامی غفلت کا یہ معاملہ صرف نیلم جہلم پروجیکٹ تک محدود نہیں۔ آڈیٹر جنرل کی حالیہ رپورٹس میں دیامر بھاشا ڈیم سمیت دیگر بڑے آبی منصوبوں میں بھی منصوبہ بندی کی خامیوں‘ لاگت میں غیر معمولی اضافے‘ تعمیراتی تاخیر اور انتظامی کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔یہ مشاہدات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اگر بڑے قومی منصوبوں کیلئے نگرانی‘ منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے نظام میں بنیادی اصلاحات نہ کی گئیں تو مختلف منصوبوں میں ایسے مسائل بار بار سامنے آ سکتے ہیں۔ دیامر بھاشا ڈیم انتہائی اہم منصوبہ ہے جس سے 4500 میگاواٹ بجلی‘ آٹھ ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت اور آبپاشی‘ سیلابی تحفظ اور قومی آبی سلامتی میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔ تاہم نیلم جہلم کے تجربے نے واضح کر دیا ہے کہ اگر شفاف نگرانی‘ بروقت فیصلے‘ انجینئرنگ معیار‘ مالی نظم و نسق اور مؤثر احتساب کو یقینی نہ بنایا گیا تو نہ صرف یہ بلکہ دیگر ایسے منصوبے بھی سنگین خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ نیلم جہلم پروجیکٹ کی خامیوں کو آئندہ تمام قومی منصوبوں کیلئے ایک عملی سبق بنایا جائے تاکہ مستقبل میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کو بہتر انداز میں محفوظ رکھا جا سکے۔ اتنے بڑے قومی نقصان کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی‘ قومی اسمبلی کی متعلقہ قائمہ کمیٹیاں‘ وزارتِ آبی وسائل‘ وزارتِ توانائی‘ واپڈا اور دیگر متعلقہ ادارے اس رپورٹ کا تفصیل سے جائزہ لیں گے‘ ذمہ داریوں کا تعین کریں گے اور جہاں غفلت‘ بدانتظامی یا دیگر بے ضابطگیوں کے شواہد موجود ہوں‘ وہاں مناسب انتظامی‘ مالی یا قانونی کارروائی کی سفارش کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ ان سفارشات پر عمل درآمد کی رفتار اور پیش رفت بھی عوام اور پارلیمنٹ کے سامنے شفاف انداز میں رکھی جائے تاکہ احتساب کا عمل صرف رپورٹوں تک محدود نہ رہے بلکہ اس کے عملی نتائج بھی سامنے آئیں۔ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ صرف ایک منصوبہ نہیں بلکہ پاکستان کے عوام کے اربوں روپے کی سرمایہ کاری ہے۔ اس منصوبے کی ناکامی‘ مسلسل مالی خسارے‘ انتظامی کمزوریوں اور غیر حل شدہ تکنیکی مسائل نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ قومی وسائل کی حفاظت صرف منصوبے بنانے سے نہیں بلکہ شفاف حکمرانی‘ بروقت نگرانی‘ادارہ جاتی ہم آہنگی‘ مؤثر انتظام‘ پیشہ ورانہ انجینئرنگ اور بلاامتیاز احتساب سے ممکن ہے۔ بڑے قومی منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف ان کی تعمیر پر نہیں بلکہ ان کی مستقل نگرانی‘ بروقت مرمت‘ شفاف مالی نظم و نسق اور واضح جوابدہی کے نظام پر بھی ہوتا ہے۔ جب یہ عوامل کمزور پڑ جائیں تو بہترین منصوبے بھی مطلوبہ نتائج دینے سے قاصر رہتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ منصوبے کی تکنیکی‘ مالی اور انتظامی خامیوں کا جامع جائزہ لے کر ایک قابلِ عمل روڈ میپ تیار کیا جائے تاکہ آئندہ فیصلے وقتی انتظام کے بجائے طویل مدتی قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کیے جائیں۔
پاکستان کو اس وقت جو بڑے چیلنجز درپیش ہیں‘ ان میں سے ایک معیاری قیادت اور وسائل کا فقدان ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ 24 کروڑ آبادی اور نوجوانوں کی اکثریت رکھنے کے باوجود ملکی معیشت دباؤ کا شکار ہے اور ملک کے عظیم منصوبے کرپشن کی زد میں ہیں۔ اگر قومی وسائل کے استعمال میں شفافیت‘ میرٹ اور پیشہ ورانہ صلاحیت کو اولین ترجیح نہ دی گئی تو ترقیاتی منصوبوں پر ہونے والی بھاری سرمایہ کاری مطلوبہ نتائج نہیں دے سکے گی۔ 1964ء میں منگلا ڈیم تقریباً چالیس کروڑ ڈالر کی لاگت سے تعمیر ہوا تھا۔ اس کا کریڈٹ اس وقت کے صدرِ مملکت ایوب خان اور ان کی معاشی ٹیم کو جاتا ہے۔ ملک کے پلاننگ کمیشن‘ واپڈا اور وزارتِ خزانہ کو اس وقت کے وزیر خزانہ محمد شعیب کی منصوبہ بندی کے بلیو پرنٹ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ماضی کے کامیاب منصوبوں کے تجربات سے رہنمائی حاصل کرنا کسی بھی ملک کی منصوبہ بندی کا اہم اصول سمجھا جاتا ہے۔ اگر کامیاب ماڈلز کے مثبت پہلوؤں کو موجودہ تقاضوں کے مطابق اختیار کیا جائے تو مستقبل کے قومی منصوبوں کی کارکردگی اور شفافیت دونوں میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...