ایسے ملک میں جہاں انتخابات کے بعد نتائج سے زیادہ ان کی ساکھ زیرِ بحث آتی ہو‘ کیا یہ مناسب نہیں کہ انتخابی نتائج کے فارم 45 اور فارم 47 فوری ویب سائٹ پر جاری کر دیے جائیں اور عوامی اعتراضات موصول ہونے کے بعد فارم 47 پر مزید کارروائی کرتے ہوئے فارم 48 مرتب کیا جائے؟ مزید یہ کہ چیف الیکشن کمشنر قوم کو یقین دلائیں کہ نتائج عوام کے ووٹ کی حقیقی اور مکمل عکاسی کرتے ہیں۔ جس حلقے میں فارم 45 اور فارم 47 کے درمیان تنازع ہو وہاں ریٹرننگ افسران سے حلف لیا جائے۔ اگر ادارے اپنی کارکردگی‘ شفافیت اور دیانت داری پر اتنے ہی مطمئن ہیں جتنا وہ دعویٰ کرتے ہیں تو پھر اس اخلاقی اور عوامی احتساب سے گریز کیوں؟ اصل بحران صرف دھاندلی کا نہیں بلکہ اعتماد کے فقدان کا ہے اور جب اعتماد ختم ہو جائے تو اعداد و شمار نہیں بلکہ کردار گواہی دیتے ہیں۔
آزاد کشمیر میں کالعدم قرار دی جانے والی ایکشن کمیٹی بنیادی طور پر ایک پانی بچاؤ تحریک تھی۔ جب نیلم جہلم پراجیکٹ شروع کیا گیا تو یہ کمیٹی آزاد کشمیر کا پانی ضائع ہونے سے بچانے کے مقصد کے تحت بنائی گئی تھی۔ آہستہ آہستہ اس کمیٹی نے اپنے مطالبات میں اضافہ کرنا شروع کر دیا۔ ان کا پہلا مطالبہ یہ تھا کہ انہیں بجلی مہنگی ملتی ہے اس لیے بجلی سستی کی جائے۔ حکومت نے آزاد کشمیر کیلئے بجلی کی قیمت تین روپے فی یونٹ کر دی۔ دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ انہیں آٹا سستا ملنا چاہیے جبکہ پورے پاکستان کے مقابلے میں آزاد کشمیر میں آٹا پہلے ہی سب سے سستا دستیاب ہے۔ اس سب کے باوجود گزشتہ سال اس تنظیم کی جانب سے جو احتجاج ہوا‘ اس میں سات پولیس اہلکار شہید کر دیے گئے اور ان کے جسدِ خاکی کی توہین بھی کی گئی۔ اب ایک سال بعد دوبارہ وہی سب شروع ہو چکا ہے۔ کالعدم ایکشن کمیٹی کے حکومت کے ساتھ مذاکرات ہوئے جن میں انہوں نے 38 مطالبات پیش کیے۔ حکومتی نمائندوں‘ جن میں پاکستان مسلم لیگ (ن)‘ پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں پر مشتمل مذاکراتی پینل شامل تھا‘ نے کالعدم کمیٹی کو بتایا کہ ان کے 35 مطالبات حکومت پہلے ہی پورے کر چکی ہے جبکہ باقی تین مطالبات پر مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔
کالعدم کمیٹی کا ایک مطالبہ یہ ہے کہ پنجاب میں کشمیری مہاجرین کی 12نشستیں ختم کی جائیں حالانکہ ان سیٹوں پر وہی کشمیری الیکشن لڑتے ہیں جو مقبوضہ کشمیر میں ہنگاموں کے دوران ہجرت کر کے پاکستان میں آباد ہوئے تھے۔ ان کا یہ مطالبہ بھی ہے کہ مہاجرین کی کشمیر میں شہریت ختم ہونی چاہیے۔ یہ مطالبات غیر مناسب ہیں اور حکومت نے انہیں مسترد ہی کرنا تھا۔ ایک انتہائی مضحکہ خیز مطالبہ یہ بھی کیا ہے کہ جس خطے کو آزاد کشمیر کہا جاتا ہے‘ اس کے نام کے ساتھ پاکستان کا حوالہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ صرف آزاد کشمیر کا نام استعمال کیا جائے۔ حکومت یہ تمام مطالبات آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ میں لے گئی۔ اب عدالت چاہے تو ان مطالبات کو قابلِ عمل قرار دے یا یکسر ناقابلِ عمل قرار دے۔ آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ نے واضح کر دیا کہ کسی احتجاجی تحریک یا ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے یہ احکامات لاگو نہیں ہو سکتے۔ یہ تمام کام آئینی ترمیم کے ذریعے ہی ممکن ہیں اور ترمیم کرنا منتخب اسمبلی کا کام ہے۔ یعنی یہ تمام مطالبات صرف آزاد کشمیر اسمبلی کے ذریعے ہی قابلِ عمل ہو سکتے ہیں۔ آزاد کشمیر میں اسمبلی موجود ہے جبکہ مطالبات ایک ایسی کمیٹی کر رہی ہے جو عوام کی منتخب کردہ نہیں۔ یہ عناصر شاید مخصوص طاقتوں کے اشارے پر اس حساس خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
جنرل باجوہ نے غالباً 2020ء میں اسلام آباد میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام ایک سکیورٹی کانفرنس منعقد کرائی تھی جس میں ''جیو اکنامکس‘‘ کی نئی اصطلاح متعارف کرائی گئی۔ انہی دنوں پاکستان اور بھارت میں ایک نیا کشمیر فارمولا زیر غور آنے کی بازگشت بھی سنائی دی۔ کہا جاتا ہے کہ جنرل باجوہ نے ''جیو پالیٹکس‘‘ یعنی سیاسی تنازعات کو پسِ پشت ڈال کر جیو اکنامکس پر مشترکہ کام کرنے کا تصور پیش کیا تھا۔ وہ لائن آف کنٹرول یعنی ایل او سی کو ایک مخصوص مدت کے لیے مستقل سرحد کا درجہ دے کر اپنی توجہ معاشی معاملات پر مرکوز کرنا چاہتے تھے۔ پاکستان کی مشرقی سرحد بھارت سے ملتی ہے مگر مستقل سرحد کے برعکس ایل او سی پر کشیدگی ہمیشہ برقرار رہتی ہے۔ اس لیے جنرل باجوہ سرحدی معاملات کو پُرامن بنا کر معیشت پر توجہ دینا چاہتے تھے۔ اس کے تقریباً ایک ماہ بعد اس وقت کے وفاقی وزیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے بھارت کے ساتھ تجارت بحال کرنے کا اعلان کر دیا‘ جو کہ اگست 2019ء میں مودی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا وفاقی علاقہ قرار دینے اور بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرنے کے متازع فیصلے کے بعد مکمل بند کر دی گئی تھی۔ ایسے حالات میں بھارت سے تجارت کے فیصلے پر شدید تنقید ہوئی اور عمران خان کی کابینہ کے اندر بھی رائے منقسم ہو گئی اور حکومت پر دباؤ بڑھ گیا جس کے نتیجے میں صرف دو دن بعد ہی اس خیال کو ترک کر دیا گیا۔ عام تاثر یہی ہے کہ حکومت کی جانب سے انکار کے اس فیصلے سے قمر جاوید باجوہ خوش نہیں تھے۔ بعد ازاں عمران خان اور قمر باجوہ کے تعلقات میں کشیدگی نے حالات کو مزید تلخ بنا دیا اور قمر باجوہ اپنی خواہش کے باوجود آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے متعلق اپنے منصوبے پر عملدرآمد ممکن نہیں بنا سکے۔ اپریل 2022ء میں عمران خان اقتدار سے محروم ہو گئے اور ملک میں سیاسی عدم استحکام بڑھتا چلا گیا۔ اس وقت کالعدم کمیٹی ابھی تشکیل کے مراحل میں تھی اور اُس کے عزائم کھل کر سامنے نہیں آئے تھے۔ ساتھ ہی یہ خدشہ بھی موجود تھا کہ اگر اس کمیٹی کے خلاف کوئی سخت اقدامات کیے گئے تو بھارت اس صورتحال سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ لیکن اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے مطالبات پاکستان کی سلامتی کے تقاضوں سے خلاف ہیں۔ چنانچہ آنے والے چند ہفتے پاکستان کے لیے بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔
پاکستان‘ بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی عالمی سفارتی سطح پر پذیرائی کے بعد بھارت نے آزاد کشمیر میں ایک نیا داؤ کھیلا ہے جس کا حل روایتی طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں۔ یقینا ہمارے نظام اور اجتماعی مزاج میں کئی کمزوریاںموجود ہیں اور بھارت انہی سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ آزاد کشمیر میں جو سیاسی اضطراب اس وقت نظر آ رہا ہے قانون کی حکمرانی‘ انصاف اور برابری ہی ان مسائل کا پائیدار حل فراہم کر سکتی ہے۔ مقتدر حلقوں اور سول انتظامیہ کوآزاد کشمیر کے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ حکومتِ پاکستان کو آئین کے آرٹیکل 257 اور آرٹیکل ایک کی ذیلی شق تین کے تحت آزاد کشمیر کے بارے میں آئینی راستہ نکالتے ہوئے اسے عبوری طور پر پاکستان کے صوبے کا درجہ دے دینا چاہیے۔ کالعدم کمیٹی کے اراکین وہی لوگ ہیں جو کشمیر کے مسئلے کے حوالے سے پاکستان کے بارے میں مثبت جذبات نہیں رکھتے۔ آزاد کشمیر میں ان کی سرگرمیاں اور نعرے ہوں یا بیرونِ ملک‘ خصوصاً برطانیہ میں ان کے ہم خیال افراد‘ یہ سب پاکستان کے بارے میں معاندانہ رویہ رکھتے ہیں۔ اس کا اندازہ کمیٹی کے حالیہ اجتماعات‘ ریلیوں میں ان میں گونجنے والے ریاست مخالف نعروں اور بدزبانی سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔