"KDC" (space) message & send to 7575

اسلام آباد میں اُڑتی خبریں

پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور امن کے لیے ''اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ طے کرانے میں ثالثی کا اہم کردار ادا کیا۔ اس تاریخی پیش رفت نے خطے میں پاکستان کا سفارتی قد بڑھایا ہے اور ملک کے لیے کئی معاشی اور سٹرٹیجک فوائد کی راہ کھول دی ہے۔ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کی جو میزبانی کی ہے اس سے پاکستان کی عالمی سطح پر یہ پہچان بنی ہے کہ وہ خطے میں امن قائم کرنے اور بڑے ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان کی کامیاب ثالثی کا اعتراف کرتے ہوئے برگن سٹاک میں امریکہ اور ایران کے مابین پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات کے موقع پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل بہترین سپہ سالار ہیں اور اگر ان کی حکمت عملی نہ ہوتی تو ہم یہاں نہ ہوتے‘ وہ ایک زبردست سفارت کار کے طور پر ایک نئے مستقبل کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ امریکی نائب صدر کے ان ریمارکس کے پاکستان کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے اور اکتوبر تک اہم تبدیلیوں کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
آج کل اسلام آباد میں مختلف حلقوں میں یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ آنے والے چند روز میں وفاقی کابینہ میں بڑے پیمانے پر ردو بدل متوقع ہے‘ جبکہ حکومتی نظم و نسق‘ اختیارات کے استعمال‘ ادارہ جاتی حدود اور احتسابی نظام کی فعالیت سے متعلق اہم سوالات بھی زیرِ بحث ہیں۔ اس ممکنہ ردو بدل کی وجہ یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انسدادِ بدعنوانی کے محکموں کی جانب سے بعض معاملات پر متعدد مرتبہ تشویش کا اظہار کیا گیا اور متعلقہ حلقوں کو ممکنہ خطرات اور بے ضابطگیوں سے آگاہ کیا گیا۔ مگر ان وارننگز اور سفارشات کو مطلوبہ اہمیت نہ ملنے کی وجہ سے احتساب اور نگرانی کے ذمہ دار حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اندر کی خبر دینے والے کہتے ہیں کہ سیاسی دباؤ اور بعض بااثر حلقوں کی مبینہ مداخلت کے باعث صورتحال پیچیدہ ہوئی ہے تاہم ان دعوؤں کی حکومت یا کسی آزاد تحقیقاتی ادارے کی جانب سے تصدیق نہیں کی گئی۔ البتہ ان افواہوں سے وفاقی کابینہ کے اہم ارکان اور کلیدی وزارتوں کے کردار پر بحث میں اضافہ ہوا ہے۔ مبصرین کے مطابق ان اہم وزارتوں میں کسی بھی تبدیلی کے اثرات محض انتظامی نوعیت کے نہیں ہوں گے بلکہ قومی سلامتی‘ خارجہ پالیسی‘ داخلی نظم و نسق‘ معاشی معاملات‘ ترقیاتی منصوبوں اور سول سروس کے انتظامی ڈھانچے پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ سیاسی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ممکنہ رد و بدل کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ کچھ معاملات میں مبینہ طور پر ادارہ جاتی حدود سے تجاوز کیا گیا اور فیصلوں پر قانونی دائرہ اختیار اور عوامی مفاد کے بجائے دیگر عوامل کے زیر اثر اقدامات کیے گئے۔ ان معاملات کی حقیقت جاننے کیلئے شفاف اور قانون کے مطابق کارروائی پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ قومی خزانے اور عوامی اعتماد کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ جمہوری نظام کی مضبوطی کیلئے ضروری ہے کہ ادارے آزادانہ طور پر کام کریں‘ پارلیمنٹ کے منظور کردہ قوانین کی مکمل پاسداری ہو اور احتسابی نظام کسی سیاسی دباؤ سے بالاتر ہو۔ ان کے مطابق اگر ادارہ جاتی مداخلت یا احتسابی عمل میں رکاوٹوں کے الزامات ثابت ہوتے ہیں تو حکمرانی کے معیار پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
دوسری جانب حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ تمام فیصلے آئینی طریقہ کار اور قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جا رہے ہیں۔ تاحال کابینہ میں کسی تبدیلی یا کسی وزیر کے خلاف کارروائی کا کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔ تاہم اسلام آباد میں اس وقت بہت ہلچل ہے‘ دیکھنا یہ ہے کہ جاری مشاورت کسی بڑے انتظامی اقدام کی صورت اختیار کرتی ہے یا یہ معاملہ محض قیاس آرائیوں تک محدود رہتا ہے۔ تاہم اقتدار کی راہداریوں میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ جس طرح محسن نقوی حالیہ دنوں میں خارجہ محاذ پر سرگرم ہوئے ہیں‘ آنے والے دنوں میں وفاقی کابینہ میں ردوبدل کرتے ہوئے محسن نقوی کو وزارتِ خارجہ سونپی جاسکتی ہے جبکہ اسحاق ڈار وزارتِ خزانہ سنبھال سکتے ہیں اور نائب وزیراعظم کا عہدہ‘ جو علامتی حیثیت کا حامل ہے‘ تحلیل کیا جا سکتا ہے۔
علاوہ ازیں پینڈورا پیپرز اور مئی 2024ء میں منظرعام پر آنے والی ''دبئی اَن لاکڈ‘‘ کی ہوشربا رپورٹس بھی زیر غور ہیں جن میں انکشاف کیا گیا تھا کہ پاکستانی اشرافیہ نے دبئی میں 11 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی جائیدادیں خفیہ طور پر خرید رکھی ہیں۔ تاہم عوام یہ سے حقیقت پوشیدہ نہیں کہ ملک کی اشرافیہ ایک دوسرے کے مفادات کی محافظ ہے‘ اس لیے اشرافیہ کے خلاف کسی سنگین کارروائی کا کوئی امکان نہیں۔ برطانوی مصنفہAnatol Lievenنے اپنی کتاب Pakistan: A Hard Countryمیں اسی خاندانی جکڑ بندی اور رشتہ داریوں کے نظام کو پالیسی کے جمود اور سٹیٹس کو کی اصل جڑ قرار دیا ہے۔ پاکستان کی سالمیت‘ معاشی استحکام‘ بیرونی سرمایہ کاری اور گوادر کو ترقی دینے کیلئے ملک میں سیاسی استحکام ناگزیر ہے۔ حکومت اپنے مفادات کی خاطر اسلام آباد میں ایک الگ اسمبلی بنانے پر آمادہ دکھائی دیتی ہے جس سے آئین کے بنیادی ڈھانچے پر اثر پڑ سکتا اور جگ ہنسائی بھی ہو سکتی ہے۔اسلام آباد کے حوالے سے وزارت منصوبہ بندی میں جو روڈ میپ تیار کیا گیا ہے‘ اس کے بارے میں حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آئی۔ بلا شبہ ہمارے ہاں مقامی حکومتوں کا نظام کمزور ہو جانے سے پارلیمنٹ کا معیار نیچے آ چکا ہے۔ بلدیاتی نمائندوں اور قانون سازوں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کر دیا گیا ہے۔ لوگ اپنے مسائل کے حل کیلئے جن اراکینِ پارلیمنٹ کو منتخب کرتے ہیں‘ ان کی استعداد اور تعلیمی قابلیت اس سطح کی نہیں ہوتی کہ وہ آئین سازی اور قانون سازی میں فعال کردار ادا کر سکیں۔ اسی لیے عام تاثر یہ ہے کہ پارلیمنٹ اپنی مؤثر حیثیت کھو چکی ہے۔ پاکستان کی موجودہ صورتحال میں میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی کا یہ قول درست محسوس ہوتا ہے کہ ''جمہوریت کی نقالی آمریت سے بھی بدتر ہوتی ہے کیونکہ یہ عوام کو کچھ کرنے نہیں دیتی‘‘۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں جاری صورتحال کو دیکھیں تو گزشتہ برس مئی میں آپریشن سندور کی ناکامی اور پاکستان کی طرف سے آپریشن بنیانٌ مرصوص کے بعد سے بھارت کو عالمی سطح پر ہزیمت کا سامنا ہے۔ اسے یہ احساس ہو چکا ہے کہ وہ جنگی میدان میں کسی طور پاکستان کو شکست نہیں دے سکتا؛ چنانچہ اب وہ اوچھے ہتھکنڈوں پر اُتر آیا ہے۔ شنید ہے کہ آزاد کشمیر میں احتجاج کرنے والی کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے پیچھے بھارت ہی کی حمایت ہے تاکہ خطے کا امن برباد کیا جا سکے۔اس کالعدم کمیٹی کے مطالبات کو تسلیم کرنے سے کشمیر کی متنازع حیثیت کو زک پہنچنے کا اندیشہ ہے اور کل کو ایل او سی کو بین الاقوامی سرحد کے طور پر تسلیم کروانے کی کوشش بھی کی جا سکتی ہے۔ شنید ہے کہ اس کالعدم تنظیم کا اگلا ہدف آزاد کشمیر کو صوبے کا درجہ دلوانا ہے۔ بظاہر یہ تجویز اچھی محسوس ہوتی ہے لیکن یہ صورتحال مقبوضہ کشمیر پر بھارت کامستقل قبضہ تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ مقتدر حلقے چاہتے ہیں کہ آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ ایک ساتھ اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیریوں کی رائے شماری کے ذریعے کیا جائے‘لہٰذا تب تک اس کی سیاسی و جغرافیائی حیثیت میں کوئی تبدیلی تسلیم نہیں کی جا سکتی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں