"KDC" (space) message & send to 7575

28ویں ترمیم بمقابلہ 18ویں ترمیم

18ویں آئینی ترمیم میں تبدیلی پاکستان میں وفاق اور صوبوں کے درمیان قائم آئینی توازن کو تبدیل کر سکتی ہے۔ 18ویں ترمیم کو 1973ء کے آئین کے بعد صوبائی خودمختاری کی سب سے مضبوط آئینی ضمانت قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس ترمیم کے ذریعے مرکز سے متعدد اختیارات صوبوں کو منتقل کیے گئے تھے۔اب اٹھائیسویں ترمیم میں اکثر اختیارات دوبارہ مرکز کو منتقل کرنے کی تیاریاں ہیں۔ 18ویں ترمیم کے حوالے سے بادی النظر میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ اس سے وفاق کے مالی اختیارات محدود ہوئے‘ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس ترمیم نے مشترکہ قانون ساز فہرست کو ختم کیا‘ متعدد اختیارات صوبوں کو منتقل کیے‘ مشترکہ مفادات کونسل کو مضبوط بنایا۔ تعلیم‘ صحت‘ ثقافت‘ بلدیاتی نظام‘ معدنیات اور مختلف انتظامی شعبوں پر صوبائی اختیار میں اضافہ کیا۔ قدرتی وسائل اور بجلی سے متعلق معاملات میں صوبوں کی شرکت کو زیادہ مؤثر بنایا۔ صدر کے اختیارات محدود کیے گئے اور پارلیمانی وفاقی نظام کو بحال کیا گیا۔ اس طرح یہ ایک بڑی غیرمرکزی آئینی اصلاح ثابت ہوئی۔
ممکنہ 28ویں ترمیم کے تحت مشترکہ قانون ساز فہرست کی بحالی زیرِ غور ہے۔ تعلیم کے شعبے کو دوبارہ وفاق کے سپرد کرنے کی تجویز بھی سامنے آ رہی ہے جس کے بعد وفاق چاروں صوبوں میں یکساں تعلیمی نصاب نافذ کر سکتا ہے۔ صحت کے شعبے میں بھی 18ویں ترمیم کے بعد بنیادی اختیار صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے‘ اگر شعبۂ صحت دوبارہ وفاق کے پاس جاتا ہے تو اس شعبے کے سبھی امور مرکز کے زیرِ انتظام آ سکتے ہیں۔ اس صورت میں بجٹ سازی‘ منصوبہ بندی‘ ریگولیشن اور قومی سطح کی صحت پالیسیوں کا کنٹرول وفاق کے پاس ہو گا۔ معدنیات کا شعبہ ایک حساس سیاسی مسئلہ بن سکتا ہے۔ اس وقت صوبوں کے پاس قدرتی وسائل پر نسبتاً مضبوط آئینی دعوے موجود ہیں۔ اگر صوبائی اختیارات واپس لیے گئے تو معدنیات‘ گیس‘ پن بجلی اور دیگر وسائل پر صوبائی کنٹرول کمزور پڑ سکتا ہے۔ پن بجلی کے منافع‘ بجلی منصوبوں پر مشاورتی اختیارات‘ فاٹا کے ضم شدہ اضلاع کی فنڈنگ اور قدرتی وسائل میں صوبائی شرکت جیسے معاملات دوبارہ تنازع کا باعث بن سکتے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 157کے عملی اختیارات پر بھی نظرثانی ناگزیر تصور کی جا رہی ہے۔ 18ویں ترمیم کا ساتویں این ایف سی ایوارڈ سے بھی گہرا تعلق ہے جس کے تحت صوبوں کے مالی حصے میں اضافہ کیا گیا تھا۔ ممکنہ 28ویں ترمیم میں صوبوں کی مالی خودمختاری محدود ہو سکتی ہے۔
پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے لیکن موجودہ آئینی ڈھانچے میں صوبوں کو حاصل خودمختاری کی وجہ سے بعض حلقوں کے نزدیک وفاق نسبتاً کمزور دکھائی دیتا ہے۔ اگر یہ اختیارات واپس لیے گئے تو نظام دوبارہ وفاقیت کی طرف جا سکتا ہے جہاں بڑے شعبوں پر وفاق کا غلبہ ہوگا۔ اگرچہ 28ویں ترمیم میں چند شقوں کی تبدیلی کے باوجود پاکستان بدستور 1973ء کے آئین کے تحت ایک وفاقی ریاست ہی رہے گا‘ تاہم انتظامی خودمختاری‘ پالیسی سازی کے اختیارات‘ آئینی قوت اور آزادانہ صوبائی پالیسیوں پر مرکز کا اثر بڑھ جائے گا۔ بعض حلقوں کے مطابق 18ویں ترمیم نے فیڈریشن کو بتدریج کنفیڈریشن کی طرف دھکیلنے کی راہ ہموار کی جبکہ صوبوں کو ملنے والے وسیع اختیارات کے باوجود عام آدمی کی حالت بہتر نہ ہو سکی۔ خصوصاً سندھ کے حوالے سے یہ تاثر موجود ہے کہ وہاں جاگیرداروں اور سیاسی اشرافیہ کا غلبہ زیادہ مضبوط ہوا ہے اور اداروں پر مخصوص سیاسی جماعتوں کے اثرات نمایاں ہیں۔ لہٰذا 28ویں سے پہلے یہ طے کرنا نہایت ضروری ہو گا کہ کون سی آئینی دفعات میں تبدیلی ناگزیر ہے۔نئے صوبے بنانے کیلئے آئین کے آرٹیکل 239 میں ترمیم کر کے صوبوں سے بعض اختیارات وفاق کو منتقل کرنے کی تجاویز بھی زیرِ غور بتائی جاتی ہیں۔ اسی طرح ووٹرز کی عمر 18 برس سے بڑھا کر 25برس کرنے کی تجویز بھی زیرِ بحث ہے۔ 2002ء سے قبل ووٹر کی عمر 21سال تھی اور یہی حد 1973ء کے آئین میں بنیادی حیثیت رکھتی تھی‘ تاہم جنرل پرویز مشرف نے آئین کی معطلی کے دوران ووٹر کی عمر 18سال مقرر کر دی تھی۔ اس سے قبل پانچ نومبر 1996ء کو صدر فاروق لغاری نے بینظیر حکومت برطرف کرنے کے بعد صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ووٹرز کی عمر 21 سے کم کر کے 18 سال کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اس وقت کے نگران وزیر قانون جسٹس فخر الدین جی ابراہیم نے اس آرڈیننس کے مسودے کو مسترد کر دیا تھا۔ اس وقت 28ویں ترمیم کے مختلف مسودات پسِ پردہ تیاری کے مراحل میں بتائے جا رہے ہیں۔
اگر سیاسی منظر کا جائزہ لیا جائے تو سفارتی محاذ پر حالیہ کامیابیوں کے بعد پاکستان کیلئے بین الاقوامی سطح پر نسبتاً سازگار فضا بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ عالمی حالات جس انداز میں پاکستان کے حق میں ہموار ہو رہے ہیں ان میں مقتدر حلقوں کو داخلی مسائل پر توجہ مرکوز کرنا ہو گی۔ کرپشن اب بھی قومی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھی جاتی ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے 11اگست 1947ء کو آئین ساز اسمبلی کے اجلاس میں کرپشن کو ناسور قرار دیا تھا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی خود یہ اعتراف کر چکے کہ گزشتہ تین برسوں میں تقریباً سو ارب ڈالر غیرقانونی طور پر ملک سے باہر منتقل کیے گئے۔ ملک کو کرپشن کی لعنت نے بہت مضبوطی سے جکڑ رکھا ہے۔ اس دلدل سے نکلنے کیلئے حکومت کو سخت اور جارحانہ انسدادِ کرپشن پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔ پاکستان کے آڈیٹر جنرل کی رپورٹس میں پنجاب میں کھربوں روپے کی بے ضابطگیوں کا ذکر سامنے آ چکا ہے جبکہ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جنرل (ر) نذیر بٹ 13 کھرب روپے کی ریکوری کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ بھارت میں چار برس بعد پٹرول کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی شدید عوامی اور سیاسی ردعمل کا باعث بنا ہے جبکہ ہمارے ہاں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ایک معمول بن چکا ہے اور پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ شاید پہلی بار ہے کہ جہازوں کیلئے استعمال ہونے والا ایندھن سستا ہے اور موٹر سائیکلوں میں ڈلنے والا پٹرول مہنگا ہے۔ پی آئی اے کی نئی انتظامیہ میں بااثر اشرافیہ کی موجودگی کے باعث پہلی مرتبہ جہازوں کا ایندھن پٹرول سے سستا ہو چکا ہے۔
آئین کے آرٹیکل 244 کے تھرڈ شیڈول کے آخری پیراگراف میں ''Will of People‘‘ کے مطابق عملدرآمد کی بات کی گئی ہے۔ بعض حلقے اس کی تشریح یوں کرتے ہیں کہ اگر عوام کی اکثریتی رائے یہ ہو جائے کہ حکومت عوامی خواہشات کے برخلاف پالیسیاں بنا رہی ہے تو ریاستی مداخلت کا جواز پیدا کر سکتے ہیں۔ اسی دلیل کو بنیاد بنا کر پانچ جولائی 1977ء کو مارشل لاء نافذ کیا گیا تھا کیونکہ مارچ 1977ء کے انتخابات کے بعد ملک بھر میں احتجاجی تحریکیں شروع ہو گئی تھیں۔ اسی طرح 12اکتوبر 1999ء کو جب جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھال کر آئین معطل کیا تھا تو اس وقت جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں پرویز مشرف کے ساتھ لیفٹیننٹ جنرل عزیز خان‘ میجر جنرل شاہد عزیز‘ میجر جنرل احسان الحق کے علاوہ شریف الدین پیرزادہ اور عبدالحفیظ پیرزادہ بھی موجود تھے۔
پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرانے کیلئے سفارتی سطح پر بھرپور سرگرم ہے اور بظاہر یہ کوششیں کچھ نتائج بھی دے رہی ہیں۔ دونوں ممالک کی جانب سے آنے والے بیانات سے مذاکرات کے نئے دور کے امکانات ظاہر ہو رہے ہیں۔ تاہم اس کشیدگی نے عالمی منظر نامے پر پہلے ہی تبدیلیوں کو جنم دے دیا ہے۔ پاکستان کو اس صورتحال میں ایک نیا سفارتی کردار ملا ہے اور محسوس ہوتا ہے کہ ریاستی ادارے اسی تناظر میں اپنی جغرافیائی سیاست کو ازسرِ نو ترتیب دے رہے ہیں۔ اس مقصد کیلئے محض جزوی تبدیلیاں کافی نہیں ہوں گی بلکہ موجودہ حکمتِ عملی کا جامع جائزہ لینا ہوگا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں