عالمی شہرت یافتہ کیمبرج یونیورسٹی کو دیکھنا اک خواب تھا‘ جو گزشتہ دنوں اس وقت شرمندۂ تعبیر ہوا جب میں جیفری چوسر کے شہر کینٹربری سے واپس لیسٹر کیلئے عازمِ سفر ہوا تو برادرم ڈاکٹر اطہر منصور جوآج کل کیمبرج یونیورسٹی میں ایک اہم عہدے پر فائز ہیں‘ نے مجھے کھانے پر مدعو کر لیا۔ دو گھنٹوں میں انہوں نے مجھے کیمبرج یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کرایا اور اس عظیم الشان درسگاہ کے تاریخی و تحقیقی ورثے پر بھرپور بریفنگ دی۔ بلاشبہ یہ عظیم الشان درسگاہ آٹھ سو سال سے زیادہ قدیم اور درخشندہ روایات کی امین ہے۔ یہ دنیا کی چند قدیم ترین اور سب سے معتبر جامعات میں سے ایک ہے۔ 1209ء میں کیمبرج کی بنیاد اس وقت رکھی گئی جب آکسفورڈ یونیورسٹی کے کچھ سکالرز مقامی لوگوں سے تنازع کے بعد کیمبرج آ کر آباد ہوئے۔ ابتدائی طور پر یہ غیررسمی تعلیم کا مرکز تھا مگر 1231ء میں بادشاہ ہنری سوم کی شاہی منظوری کے بعد اسے قانونی حیثیت اور تحفظ ملا۔ اس کے بعد اس تاریخی درسگاہ نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور دن دُگنی رات چوگنی ترقی کی۔
1284ء میں پیٹر ہاؤس کیمبرج کا پہلا کالج بنا۔ اس کے بعد پیمبروک‘ کنگز‘ سینٹ جانز اور ٹرینیٹی کالج جیسے ادارے قائم ہوئے اور اب کالجز کی تعداد 31 تک پہنچ چکی ہے۔ 1516ء میں یونیورسٹی نے ایک اہم تاریخی سنگِ میل عبور کیا اور ایراسمَس نے کیمبرج میں یونانی نئے عہد نامے کا ترجمہ کیا اور ایک منفرد تعلیمی نظام کی بنیاد رکھی۔ 1546ء میں ہنری ہشتم نے ٹرینیٹی کالج قائم کیا۔ 1584ء میں کیمبرج یونیورسٹی پریس کا آغاز ہوا جو آج بھی دنیا کا سب سے پرانا مسلسل چلنے والا پریس ہے جو علمی کتب اور تحقیقی رسائل کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتا آرہا ہے۔ 19ویں صدی میں یونیورسٹی میں کئی اصلاحات متعارف کرائی گئیں اور 1856ء کے کیمبرج یونیورسٹی ایکٹ کے ذریعے نصاب میں توسیع کی گئی جس کے نتیجے میں تاریخ‘ جدید زبانیں اور سائنس جیسے مضامین شامل کیے گئے۔ اسی طرح پرنس البرٹ نے قدرتی سائنس اور جدید تاریخ کو فروغ دیا۔ یوں کیمبرج یونیورسٹی تاریخی اعتبار سے جدید سائنسی علوم کا گہوارہ رہی ہے۔ اس کی کیونڈش لیبارٹری بین الاقوامی سطح پر فزکس کی تحقیق کا مرکز ہے جہاں الیکٹران‘ نیوٹران اور ڈی این اے کی ساخت جیسی دریافتیں ہوئیں۔ ریاضی اور فزکس کے شعبوں میں آئزک نیوٹن‘ جیمز کلارک میکسویل اور سٹیفن ہاکنگ جیسے بلند پایہ سائنسدان اسی درسگاہ سے وابستہ رہے۔ بیسویں صدی کے اوائل میں کیمبرج نے پی ایچ ڈی ڈگریاں دینا شروع کیں اور ریاضی کے مضمون میں پہلی ڈگری 1924ء میں دی گئی۔ 1858ء میں قائم ہونے والا کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن کا ادارہ اب 160 سے زائد ممالک کے 10 ہزار کے لگ بھگ تعلیمی اداروں میں امتحانات اور لاکھوں طلبہ و طالبات کو ہر سال تعلیمی اسناد فراہم کرتا ہے۔ IGCSE اور اے لیول اسی نظام کا حصہ ہیں۔ آج یہ دنیا کی پانچ بڑی جامعات میں شمار ہوتی ہے اور سو سے زائد نوبیل انعام یافتہ افراد اس عظیم الشان درسگاہ سے وابستہ رہے ہیں۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کیمبرج یونیورسٹی نے سائنس‘ ادب‘ سیاست اور فلسفے میں کئی ایسی شخصیات پیدا کی ہیں جنہوں نے وقت کا دھارا بدل دیا۔ ان میں سے چند عالمی شہرت یافتہ افراد کا ذکر ضروری ہے۔ جان ملٹن کو انگریزی زبان و ادب میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ وہ 1625ء سے 1632ء تک کرائسٹ کالج کیمبرج میں زیر تعلیم رہا اور اس کی کتاب Paradise Lost انگریزی ادب کے مستند شاہکار کا درجہ رکھتی ہے۔ سر آئزک نیوٹن 1661ء میں ٹرینیٹی کالج کیمبرج میں داخل ہوئے اور بعد ازاں حرکت کے تین قوانین‘ کششِ ثقل کا نظریہ اور کیلکولس کی بنیاد رکھی۔ ان کی کتاب Principia Mathematica کو جدید فزکس کی بنیاد مانا جاتا ہے۔ نیوٹن لگ بھگ 27سال تک شعبۂ ریاضی کے پروفیسر رہے۔ چارلس ڈارون 1836ء میں کرائسٹ کالج کیمبرج میں قدرتی الٰہیات کی تعلیم کیلئے داخل ہوئے مگر ان کی دلچسپی قدرتی سائنس میں بڑھ گئی۔ ڈارون نے نظریۂ ارتقا اور قدرتی انتخاب پیش کیا جبکہ شہرہ آفاق کتاب On the Origin of Species نے حیاتیات کو ہمیشہ کیلئے بدل دیا۔ اسی وجہ سے اسے جدید حیاتیات کا باپ کہا جاتا ہے۔ رابرٹ اوپن ہائمر 1924ء میں کرائسٹ کالج کیمبرج سے فارغ التحصیل ہوا اور مین ہٹن پروجیکٹ کے سائنسی ڈائریکٹر‘ ''ایٹم بم کے باپ‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ ایلن ٹیورنگ نے 1930ء کی دہائی میں کنگز کالج کیمبرج سے ریاضی اور منطق کے مضامین میں تعلیم حاصل کی‘ اس نے ٹیورنگ مشین ایجاد کی جو جدید کمپیوٹر کی بنیاد بنی۔ اسی نے دوسری عالمی جنگ میں جرمن کوڈ ''Enigma‘‘ توڑ کر اتحادیوں کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔ جارج ششم نے 1920ء میں کیمبرج سے تعلیم حاصل کی اور 1936ء سے 1952ء تک برطانیہ کے بادشاہ رہے۔ برٹرینڈ رسل نے ٹرینیٹی کالج کیمبرج سے 1893ء میں ریاضی میں فرسٹ کلاس ڈگری لی اوررسلز پیراڈاکس دریافت کیا۔ انہیں 1950ء میں ادب کا نوبیل انعام ملا۔ جیمز واٹسن اور فرانس کرک نے 1953ء میں کیونڈش لیبارٹری میں تحقیق کے دوران ڈی این اے کا ڈبل ہیلکس ڈھانچہ دریافت کیا۔ اس دریافت نے جینیات اور بائیو ٹیکنالوجی کے دروازے کھول دیے جس کے اعتراف میں دونوں عظیم سائنسدانوں کو 1962ء میں نوبیل انعام ملا۔ سٹیفن ہاکنگ 1962ء میں ٹرینیٹی ہال کیمبرج میں پی ایچ ڈی کیلئے آیا اور 1979 ء سے 2009ء تک یہاں پروفیسر رہا۔ اس نے بلیک ہولز اور کائنات کی ابتدا پر انقلابی کام کیا اور ہاکنگ ریڈی ایشن کا نظریہ پیش کیا۔ موٹر نیورون بیماری کے باوجود اس نے A Brief History of Time جیسی شاہکار کتاب لکھی جس نے پیچیدہ سائنس کو عام فہم بنا دیا۔ پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام نے 1950ء میں سینٹ جان کالج کیمبرج سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور بعد ازاں الیکٹروویک یونیفکیشن تھیوری پیش کی جس پر 1979ء میں انہیں نوبیل انعام دیا گیا۔ اس منفرد اعزاز کی بدولت وہ پہلے پاکستانی نوبیل انعام یافتہ سائنسدان تھے۔ جوزف سٹیگلیٹز بلاشبہ ایک بلند پایہ معیشت دان تھے جو 1970ء کی دہائی میں ٹرینیٹی کالج کیمبرج میں طالبعلم رہے۔ معیشت پر منفرد کام کیلئے انہیں 2001ء میں نوبیل انعام ملا۔ وہ عالمی بینک کے چیف اکنامسٹ بھی رہے۔
نوبیل انعام یافتہ افراد کی تعداد کے حوالے سے امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی سب سے آگے ہے جبکہ کیمبرج دوسرے نمبر پر ہے جس کی غیر مصدقہ تعداد 120اور مصدقہ سرکاری تعداد 109ہے جس میں 36نوبیل انعام صرف فزکس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں سلطنتِ برطانیہ کا دنیا بھر میں پھیلا ہوا راج ہو یا بیسویں صدی میں امریکہ کا سپر پاور بننے کا راز‘ یہ مقام و مرتبہ یقینی طور پر کیمبرج اور ہارورڈ جیسی تاریخی درسگاہوں کے درودیوار سے جڑا ہوا ہے۔ یہاں پر ایک اہم سوال ہے کہ اگر 1631ء سے 1653ء تک مغل شہنشاہ شاہجہان آگرہ میں اپنی بیوی ممتاز محل کی محبت میں تاج محل تعمیر کرانے کے بجائے ایک عالیشان یونیورسٹی قائم کرا دیتا تو کیا برصغیر پاک و ہند کی تاریخ و تہذیب یہی ہوتی یا اس سے مختلف ہوتی؟