سی ایس ایس کا امرت دھارا

جس معاشرے میں ہر طرف ناکامیوں کا راج ہو وہاں کامیابی کا اعلان جرم بن جاتا ہے۔ جہاں غم و آلام عام ہوں اور مایوسیوں کے بسیرے ہوں وہاں خوشی کے شادیانے بجانے والے کہاں اچھے لگتے ہیں۔ جہاں غربت و افلاس اور معاشی بدحالی کے ڈیرے ہوں وہاں خوشحالی اور معاشی آسودگی کسے برداشت ہو گی۔ جہاں ہر وقت لوگوں کو پیچھے دھکیلنے اور ان کے خوابوں سے کھیلنے کا رواج عام ہو وہاں اپنے میرٹ پر آگے بڑھنے والے بھلا کس کو اچھے لگتے ہیں۔ جہاں دوسروں کی ناکامیاں‘ محرومیاں اور پریشانیاں لوگوں کی تسکین کا باعث بنتی ہوں وہاں اپنی قوتِ بازو اور شبانہ روز انتھک کوششوں سے کامیاب ہو جانے والے کہاں بھلے لگتے ہیں۔ جہاں سوشل میڈیا پر وویوز کے چکر میں سارا دن لوگوں کے مسائل کا مذاق اڑایا جاتا ہے‘ ان کی ذاتی زندگی کے مخفی گوشوں کو کریدنے اور انہیں آشکار کرکے ان پر دھمال ڈالنے پر واہ واہ کی جاتی ہے۔ ہر دوسرا شخص صحافی‘ مبصر‘ مدبر‘ دانشور اور سینئر تجزیہ کار بنا بیٹھا ہے اور یہ تمام خدائی خدمت گار سارا دن دوسروں کو ٹھیک کرنے اور نظام درست کرنے کے راگ الاپنے پر مامور بھی ہیں اور مجبور بھی۔ اپنی ذات اور اپنے معاملات کی نگرانی اور درستی اور اپنے گریبان میں جھانکنے کی کوشش تک بھی ناپید ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر ایک ایسا موضوع درکار ہوتا ہے جس کی لاش پر سارا دن بھنگڑا ڈال کر دل کی بھڑاس نکالی جا سکے اور پھر اگلے روز نئے جوش و جذبے کیساتھ کسی کی پگڑی اچھالنے کا بلامعاوضہ فریضہ انجام دینے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔
گزشتہ دنوں سی ایس ایس کے حتمی نتائج کا اعلان کیا گیا جس میں حسبِ سابق کامیاب ہونیوالے خوش نصیبوں کی تعداد بہت کم تھی۔ اب سارے خود ساختہ دانشور اور تجزیہ کار سی ایس ایس کے ذریعے منتخب ہونے والوں پر چڑھ دوڑے ہیں اور سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ اس کٹھن ترین امتحان میں ٹاپ پوزیشن حاصل کرنیوالے ایک امیدوار کو بنایا گیا ہے جس کا تعلق ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ایک دور افتادہ گاؤں سے ہے اور وہ سکول ٹیچر کا بیٹا ہے۔ سی ایس ایس کے امتحان میں ہر سال پچیس سے تیس ہزار امیدواران اپلائی کرتے آرہے تھے جن کی تعداد اب ایک سکریننگ ٹیسٹ کے بعد تقریباً آدھی رہ گئی ہے کیونکہ اتنی بڑی تعداد میں امتحان کو منعقد کرنا اور پیپر چیکنگ کے دشوار گزار عمل میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کا بہت سارا وقت اور وسائل صرف ہوتے تھے۔ لہٰذا اب تمام اہل امیدواروں کو سکریننگ ٹیسٹ میں سے گزارا جاتا ہے تاکہ ایک خاص قابلیت کے حامل افراد ہی تحریری امتحان کے مرحلے تک پہنچ پائیں۔ گزشتہ سال سی ایس ایس کے تحریری امتحان میں 12792 امیدوار شامل ہوئے جن میں صرف 355 پاس ہوئے جو بعد میں نفسیاتی ٹیسٹ‘ انٹرویو اور طبی معائنہ کے مراحل سے گزرے۔ چند روز قبل ان تمام مراحل کے بعد حتمی نتائج کا اعلان کیا گیا جس میں کل 342امیدوار کامیاب قرار پائے مگر محدود سیٹوں پر مختلف محکموں میں منتخب ہونیوالوں کی تعداد محض 170ہے جبکہ باقی ماندہ 172 افراد پاس ہونے کے باوجود میرٹ پر پورا اترنے میں ناکام رہے۔ یوں تقریباً تیرہ ہزار امیدواران میں سے صرف 170خوش نصیب مختلف محکموں میں منتخب ہونے میں کامیاب رہے۔ ان اعداد و شمار میں سے سب سے زیادہ خوشگوار پہلو مردوں کے مقابلے میں خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ آج سے کم و بیش 24سال قبل جب ہم 29ویں کامن میں منتخب ہو کر سول سروسز اکیڈمی لاہور پہنچے تو ہمارے ساتھ خواتین کی تعداد لگ بھگ دس فیصد تھی جو بعد میں بتدریج بڑھنا شروع ہوئی اور اس سال حتمی نتائج کے مطابق 170میں سے 84مردوں کے مقابلے میں 86خواتین کامیاب قرار پائی ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ تحریری امتحان میں شامل کل 12792 امیدواران میں سے مردوں کی تعداد 7026 جبکہ خواتین کی تعداد 5766 تھی مگر پاس ہونے والے 355 میں سے 178 مردوں کے مقابلے میں خواتین کی تعداد 177 رہی اور حتمی نتائج کے بعد کل 170 میں سے 84 مردوں کے مقابلے میں خواتین کی تعداد 86 ہے۔ ان اعداد و شمار میں جہاں ہمارے لڑکوں کے مستقبل کیلئے ایک خطرے کی گھنٹی ہے وہاں ہمارے ملک و قوم کے روشن مستقبل کی نوید بھی ہے کیونکہ پڑھی لکھی باروزگار خواتین اپنے مثبت اور تعمیری کردار سے ہمارے ملک و معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرکے وطنِ عزیز پاکستان کے تابناک مستقبل کی بنیاد رکھ سکتی ہیں۔
ان نتائج کے اعلان کیساتھ ہی ایک طرف کامیاب امیدواروں اور ان کے اہلِ خانہ نے خوشیاں منائیں تو دوسری طرف سوشل میڈیا کے مفکرین نے ان کامیاب ہونے والوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے مختلف حوالوں سے ہدفِ تنقید بنایا۔ کئی مبصرین نے انہیں سول سروسز اکیڈمی میں تربیت حاصل کرنے سے پہلے ہی ممکنہ کرپشن کے الزامات کے تاج پہنائے تو کئی تجزیہ کاروں نے ان خوش قسمت افراد کی محنت‘ ذہانت اور قابلیت کو رگڑا لگانے میں پورا زور لگایا کیونکہ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ہمارے معاشرے میں تنقید کا چورن آسانی سے بکتا ہے اور اگر تنقید کیساتھ تضحیک کی آمیزش کر لی جائے تو یہ سونے پر سہاگا کا کام دیتی ہے اور لوگ اَش اَش کر اٹھتے ہیں‘ لہٰذا آج کل یہ خوش نصیب کامیاب ہو کر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنی کامیابی پر سینہ کوبی کرنیوالے نقادوں کی گولہ باری کی زد میں ہیں کہ گویا اس ملک کے مشکل ترین امتحان میں کامیاب ہو کر ان 170نوجوانوں نے کوئی گناہِ عظیم سر زد کر دیا ہے۔ سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ اس امتحان میں ٹاپ پوزیشن حاصل کرنیوالا امیدوار ہے۔ اس تنقید کی وجہ سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی اسکی مارکس شیٹ ہے جس کے مطابق اس نے انگریزی زبان اور انگلش مضمون والے پرچوں میں کم نمبر حاصل کیے جبکہ اختیاری مضامین میں کہیں زیادہ نمبر حاصل کیے اور اسی طرح وہ اپنے تحریری امتحان میں حاصل کردہ نمبروں کی نسبت انٹرویو میں زیادہ نمبر لینے میں کامیاب ہوا۔ تمام نقادوں کی خدمت میں عرض ہے کہ بارہ سو نمبروں پر مشتمل تحریری امتحان کا مرحلہ الگ ہے جبکہ تین سو نمبروں پر مبنی انٹرویو کا ایک الگ معاملہ ہے۔ دونوں مرحلوں کے تقاضے الگ ہیں۔ بہت سارے امیدواران تحریری امتحان میں اچھے نمبر حاصل کرنے کے باوجود انٹرویو میں بہتر کارکردگی نہیں دکھا سکتے کیونکہ ان میں خود اعتمادی اور کمیونیکیشن سکلز کا فقدان ہوتا ہے جس کے نتیجے میں وہ سوالات کے مؤثر جواب نہیں دے پاتے اور یوں تحریری امتحان میں بہتر کارکردگی کے باوجود انٹرویو میں اچھی پوزیشن حاصل کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ اس کے بر عکس کچھ امیدواران بے پناہ خود اعتمادی‘ متاثر کن لب و لہجے اور قوتِ اظہار و گفتار پر ملکہ رکھنے کے سبب تحریری امتحان میں مناسب نمبروں کے باوجود انٹرویو میں شاندار کارکردگی دکھا کر دوسروں کے مقابلے میں زیادہ نمبر حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ یہ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے اور اس بار بھی کچھ نیا نہیں ہوا۔ پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے امیدوار نے یقینی طور پر انٹرویو میں بہترین کارکردگی دکھائی ہو گی جس کی وجہ سے وہ 300 میں سے 225 نمبر حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔
اس سارے قضیے کا سب سے دلچسپ پہلو اسلام آباد اور لاہور میں واقع سی ایس ایس کی تیاری کروانے والی اکیڈمیاں ہیں جو کامیاب ہونے والے 170امیدواروں کی کامیابی کا تمام تر کریڈٹ لینے کی دوڑ میں شامل ہیں اور اس قدر متضاد بیانات اور مضحکہ خیز دعوے کر رہی ہیں کہ اگر ان تمام دعوؤں کو سچ مان لیا جائے تو کامیاب امیدواروں کی مجموعی تعداد ایک ہزار سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ مگر وہ بھی کیا کریں کیونکہ یہ سب اکیڈمیاں بھاری بھرکم فیسوں کے عوض طاقت‘ عزت‘ شہرت اور اختیارات کی آمیزش سے تیار کردہ سی ایس ایس کا امرت دھارا بیچتی ہیں جس کیلئے انہیں کامیابی حاصل کرنے والے خوش نصیبوں کو اپنے ساتھ منسلک کرنا پڑتا ہے۔ کہتے ہیں کہ کامیابی کے سو وارث ہوتے ہیں جبکہ ناکامی یتیم ہوتی ہے تو اس میں عجیب کیا ہے؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں