"AYA" (space) message & send to 7575

لے دے کے ڈھنگ کے دو کام ہی ہوئے

پہلا تھا چین کے ساتھ تعلقات استوار کرنا اور اس میں ریاست یا اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ اتنا نہیں تھا جتنا کہ ایک شخص کا‘ ذوالفقار علی بھٹو۔ باقی حکومت اور کابینہ اُس وقت کی امریکہ نواز تھی اور چین سے کوئی اتنا لگاؤ نہیں تھا۔ بھٹو کی سوچ مختلف تھی اور چین کی اہمیت کا احساس وہ دلواتے رہے۔ 1962ء کی چین ہندوستان جنگ کے بعد ویسے بھی عسکری حلقوں کی آنکھیں ذرا کھل گئیں جب دیکھا کہ کس تیز رفتاری سے چینی لبریشن آرمی نے ہندوستان فوج پر سبقت حاصل کی ہے۔ پاک چین دوستی کی صحیح بنیاد تو 1963ء کے سرحدی معاہدے سے ڈلی۔ اُس معاہدے کے لیے جو مذاکرات ہوئے ان میں پاکستانی ٹیم کی قیادت بھٹو کر رہے تھے۔ جس طریقے سے پاکستان نے چین کی خوشنودی حاصل کی بھٹو کی جگہ کوئی اور ہوتا تو شاید ایسا ممکن نہ ہوتا۔
دوسرا ڈھنگ کا کام ایٹم بم بنانا تھا۔ یہ فیصلہ بھی ریاست یا اسٹیبلشمنٹ کا نہیں تھا۔ اپنے دور میں صدر ایوب خان نے ایٹم بم بنانے میں کوئی دلچسپی نہ دکھائی۔ یہ 1974ء میں ہندوستان نے ایٹمی دھماکہ کیا تو بھٹو نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ صلاحیت پاکستان بھی حاصل کرے گا۔ بھٹو نے کسی سے رائے نہ لی‘ جسے ہم اسٹیبلشمنٹ کہتے ہیں اس سے نہ پوچھا‘ کوئی قومی اتفاقِ رائے پیدا نہ کیا۔ بس فیصلہ کیا کہ ہندوستان نے دھماکہ کیا ہے تو ہم بھی صلاحیت حاصل کریں گے چاہے ہمیں اس کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے۔ کوئی کمزور دل لیڈر ہوتا تو شاید ایسا نہ کر سکتا۔
اہم نکتہ البتہ یہ ہے کہ گو بڑے پائے کے اور سائنسدان بھی تھے‘ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن بھی موجود تھا‘ لیکن ایٹم بم بنانے کی صلاحیت پاکستان نے حاصل کی تو اُس میں اہم کردار ایک ہی شخص کا تھا‘ ڈاکٹر عبدالقدیر خان۔ ڈاکٹر اے کیو خان نہ ہوتے‘ ہاتھ پاؤں تو پاکستان نے مارنے تھے لیکن پاکستان اتنی آسانی سے اس صلاحیت کے قریب نہ پہنچ پاتا۔ بھٹو نے تو فرانس کے ساتھ نیوکلیئر ری پروسیسنگ پلانٹ حاصل کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔ وہ پلانٹ ایسا تھا کہ اُس میں یورینیم کی افزودگی ہوتی تو پلوٹونیم بنتا جاتا اور پلوٹونیم ہی وہ مادہ ہے جس سے ایٹم بم بنتا ہے۔ امریکہ نے معاہدہ دیکھا تو بھٹو اور فرانس دونوں پر پریشر ڈالنا شروع کیا‘ اس غرض سے کہ معاہدہ منسوخ ہو۔ ساری گفتگو اور سارا پریشر اس نیوکلیئر ری پروسیسنگ پلانٹ کے بارے میں تھا اور یہ پلانٹ امریکی پریشرکی زد میں آ چکا تھا۔
بھٹو جب اس مخمصے میں پھنسا ہوا تھا تو ایک گمنام سائنٹسٹ جو کہ نیدرلینڈ میں قیام پذیر تھا‘ سے پیغام موصول ہوا جس میں ایٹم بم کا ذکر تھا۔ پاکستان کے ایٹم بم کی تاریخ تو یہاں سے شروع ہوتی ہے۔ وہ گمنام سائنسدان اے کیو خان تھے۔ اور بھٹو کو داد دینی پڑتی ہے کہ پیغام کی اہمیت اُس نے فوراً بھانپ لی۔ اے کیو خان نے گیس سنٹری فیوج ٹیکنالوجی کا بتایا کہ یہ طریقہ بھی ہے جس سے پلوٹونیم بن سکتا ہے۔ بھٹو نے فوراً حامی بھرلی اور کام شروع ہو گیا۔ پہلے ڈاکٹر اے کیو کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا‘ حکومت اور نوکر شاہی سے جس قسم کی معاونت ملنی چاہیے تھی وہ نہیں مل رہی تھی۔ بھٹو کو پتا چلا تو غلام اسحق خان‘ اے جی ایم قاضی اور آغا شاہی کی ایک کمیٹی بنائی کہ اے کیو خان کے سارے معاملات یہ کمیٹی طے کرے گی۔ وہاں سے کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کا صحیح کام شروع ہوا اور ایٹم بم حاصل کرنے کے صحیح راستے پر پاکستان چل نکلا۔
ڈاکٹر اے کیو صرف سائنسدان نہ تھے بہت اعلیٰ منتظم بھی تھے۔ بلیو پرنٹ اور پلان اُن کے پاس تھے‘ طریقہ اُنہیں سب پتا تھا لیکن جو جو سامان کی ضرورت تھی وہ دنیا بھر سے حاصل کرنا تھا جہاں امریکہ پاکستان پر نظر رکھے ہوا تھا۔ سپیشل قسم کی مشینوں اور پرزہ جات کا حاصل کرنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ اس کے لیے ایک پورا نیٹ ورک بنانا پڑا‘ دفتر کوئی ملائیشیا میں کھولا گیا کوئی ایجنٹ دبئی میں بٹھایا گیا۔ جرمنی میں لوگ تھے ان کو نیٹ ورک کا حصہ بنایا گیا۔ کئی پرزے اور مشینیں امریکی پابندیوں کے ہوتے ہوئے سمگل کرنا پڑیں۔ اس مقصد کے لیے سیٹھ عابد جیسے لوگ کام آئے۔ یعنی ایک طرف چھپ چھپا کر کہوٹہ میں سب کچھ کیا جا رہا تھا اور دوسری طرف دنیا بھر سے ضروری اشیا حاصل کرنے کے لیے ایک تگ و دو جاری تھی۔ اس سارے کام کو اکٹھا کرنا اور سمیٹنا ڈاکٹر اے کیو خان کا کام تھا۔ ان جیسا ڈائنیمک آدمی ہی ایسا کام کر سکتا تھا۔ یہاں یہ بھی کہنا ضروری ہے کہ ایٹم بم کا پروگرام شروع تو بھٹو نے کیا لیکن جنرل ضیا الحق نے اس میں کوئی کمی نہ آنے دی۔ کام تو سارا ڈاکٹر اے کیو خان کر رہے تھے لیکن پیسے کے لحاظ سے انہیں کھلی چھٹی تھی۔ جو وہ چاہتے انہیں زبان ہلانے کی دیر ہوتی اور غلام اسحق خان اور اے جی ایم قاضی وسائل مہیا کر دیتے۔ تب ہی جا کے پاکستان ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ جیسے عرض کیا سائنسدان تو اور بھی تھے لیکن جس ہنر اور ہوشیاری کی ضرورت تھی وہ ڈاکٹر اے کیو خان نے خوب دکھائی۔
یہ کام اتنا آسان ہوتا تو ایران بم نہ بنا لیتا۔ ان کے وسائل ہم سے زیادہ ہیں۔ اعلیٰ پائے کے سائنسدانوں کی تعداد ہم سے زیادہ ہے۔ ان کا مجموعی تعلیمی نظام ہم سے کہیں آگے ہے۔ لیکن اتنے سالوں سے لگے ہوئے ہیں اور بم ان سے نہیں بن سکا۔ ایٹمی صلاحیت حاصل کر لیتے تو اسرائیل اور امریکہ اتنی آسانی سے اس پر جھپٹ پڑتے؟ جنگ میں ایران نے بہت استقامت دکھائی‘ امریکہ اور اسرائیل کے دانت کھٹے کیے ہیں لیکن حملہ تو اس پر ہوا‘ ایک بار نہیں دو بار۔ بھاری نقصان اسے اٹھانا پڑا ہے۔ اور جنگ میں استقامت کے باوجود امریکہ اپنی مرضی کی شرائط ایران سے منوانا چاہتا ہے۔ میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی میں ایران بہت آگے جا چکا ہے لیکن بہت کچھ کرکے بھی ایٹم بم کا راز اس کے ہاتھ نہیں لگا۔ اور اگر ایسا ہو جاتا تو پھر امریکہ اور اسرائیل نے اس دیدہ دلیری سے ایران پر حملے نہیں کرنے تھے۔ شمالی کوریا کی مثال ہمارے سامنے ہے‘ امریکی پریشر سے بے نیاز ہے تو صرف اس لیے کہ اس نے ایٹمی ہتھیار بنا لیے ہیں۔
پاکستان کا کمال اس لحاظ سے زیادہ بنتا ہے کہ ایک ایسا ملک جس سے اور ڈھنگ کے کام اتنے نہیں ہوئے‘ معیشت ناگفتہ بہ حالت میں قرضوں کے نیچے ملک دبا ہوا‘ بجلی کا قرض جسے سرکلر قرضہ کہا جاتا ہے ملکی گردن پر طوق کی مانند لٹکا ہوا ہے۔ اور ایسا ملک جہاں خطِ غربت سے نیچے آدھی آبادی رہتی ہے اس نے وہ کر لیا جو کسی اور اسلامی ملک سے نہیں ہو سکا۔ عراق نے کوشش کی اور اسرائیلیوں نے اس کے ری ایکٹر تباہ کر دیے۔ شام نے کچھ کرنا چاہا تو اسرائیل نے اس پر حملے کر دیے۔ کرنل معمر قذافی کی خواہش تھی کہ ایٹم بم بنائے۔ دولت کی کوئی کمی نہ تھی لیکن قذافی ناکام ہی رہے۔ اور مغربی ممالک نے حشر ان کا وہ کیا کہ موت کا وہ منظر دیکھا نہیں جا سکتا۔
مجھ جیسے لوگ ڈاکٹر اے کیوخان پر ناک چڑھایا کرتے تھے کہ یہ کیا نیوکلیئر نیوکلیئر لگے ہوئے ہیں۔ اس سے کیا ہو گا‘ کون سی چیز ناقابلِ تسخیر ہو جائے گی۔ دیگر مسلمان ملکوں کا حشر دیکھ کر اب اے کیو خان کی بات سمجھ آتی ہے کہ جس قسم کی حالت مسلمانوں کی بن چکی ہے ان کے دفاع کے لیے یہ چیز ضروری ہے۔ ایران نے اس میں دیر کر دی اور نقصان اُٹھانا پڑا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں