جمہوریت ہمیں ویسے راس نہیں‘ اس کی نزاکتیں قومی مزاج کے مطابق نہیں۔ حکمران ہیں کہ سبق تھانیداری کا سامنے رکھتے ہیں۔ برداشت کا مادہ جو کسی بھی جمہوری نظام کیلئے ضروری ہے‘ ہمارے حکمرانی دائروں میں کہیں نظر آتا نہیں۔ پھر زور زبردستی سے ہی کام چلایا جاتا ہے۔ یہ تصور بھی اچھا ہے اگر زور زبردستی کی باتیں چل جائیں اور مفید ثابت ہوں۔ پنجاب اور سندھ کے حالات دیکھ لیں‘ جس طریقے سے نظام چلایا جا رہا ہے ہمارے سامنے ہے۔ کوئی چوں بھی کہیں سے آئے تو ردِعمل کچھ اس قسم کا ہوتا ہے کہ پھر کہنے کی ہمت نہیں رہتی۔ کاش پنجاب اور سندھ سارا پاکستان ہوتے‘ پھر تو کوئی مسئلہ نہ تھا۔ مسئلہ بنا ہوا ہے باقی دو صوبوں میں اور وہاں پر سیاست کرنے کے کچھ مختلف ذریعے اپنائے جا رہے ہیں۔
یہاں تک نوبت آنی نہیں چاہیے تھی۔ دونوں مغربی صوبوں میں جو کچھ ہو رہا ہے شورش کے زمرے میں آتا ہے۔ ایسی روشیں پہلے بھی سر اٹھاتی تھیں لیکن جہاں آپریشن ضروری سمجھا گیا خاطرخواہ نتائج حاصل ہو جاتے تھے۔ جیسا کہ پچھلے ادوار میں سوات میں آپریشن ہوا اور پھر وزیرستان میں۔ یہ تب کی بات ہے جب جنرل اشفاق پرویز کیانی فوج کے سربراہ تھے۔ اُن کے بعد جنرل راحیل شریف آئے اور 2014ء میں خیبر پختونخوا میں جو آپریشن شروع کیا گیا وہ بہت حد تک کامیاب رہا۔ سوچ یہ پیدا ہوئی کہ عسکریت پسندی کو کاری ضرب لگ چکی ہے اور پھر سے ریاست کیلئے یہ خطرہ نہیں بنے گی۔ لیکن اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ صورتحال مختلف ہے‘ کے پی کے وسیع علاقوں میں عسکریت پسندی نے پھر سر اٹھایا ہے اور صورتحال گمبھیر ہو رہی ہے۔ عسکریت پسندی کے اس نئے دور میں ایک فرق یہ ہے کہ اس کے پیچھے افغانستان کی طالبان حکومت کھڑی ہے۔ کسی بھی شدت پسند تحریک کیلئے ضروری ہے کہ پیچھے معاونت اور امداد کا ایک علاقہ ہو۔ کالعدم ٹی ٹی پی کو ایسی معاونت افغانستان سے مل رہی ہے۔ گوریلا جنگ کا بنیادی اصول یہ ہے کہ اپنے چنے ہوئے ٹارگٹ پر اپنے متعین کردہ وقت پر حملہ ہو اور پھر پیچھے بھاگنے اور چھپنے کا راستہ ہو۔کالعدم ٹی ٹی پی کیلئے یہ شرائط افغانستان پوری کر رہا ہے۔
ٹی ٹی پی کا وجود افغان طالبان سے جڑا ہوا ہے۔ بھولنا نہیں چاہیے کہ یہ نام نہاد افغان جہاد کا شاخسانہ ہے۔ افغان طالبان سترہ سال تک امریکہ سے برسرپیکار رہے اور یہاں سے گئے ہوئے لوگ جو اُس میں شامل ہوئے اُنہوں نے ہی بعد میں کالعدم ٹی ٹی پی کی صورت اختیار کی۔ بلوچستان میں مسئلہ بالکل الگ ہے۔ بلوچ ناراضگی تو دہائیوں پر محیط ہے لیکن جس شورش نے اب اتنی خطرناک شکل اختیار کر لی ہے اس کی شروعات نواب اکبر بگٹی کے 2006ء میں مارے جانے سے ہوتی ہے۔ پہلے بھی ناراض بلوچ نوجوان ہوتے تھے لیکن جیسے شعلے آگ میں بھڑک اٹھتے ہیں‘ نواب بگٹی کے مارے جانے نے اجتماعی بلوچ ذہن پر گہرا اثر چھوڑا۔ بہت سے پڑھے لکھے لوگوں کے ذہنوں میں عجیب خیالات جنم لینے لگے۔ اُس شروع کے الاؤ کا نتیجہ اب دیکھا جا سکتا ہے جب وہاں کی شورش کا پھیلاؤ بڑھتا گیا ہے اور اُس کی شدت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ ایک اور خطرناک زاویہ جو سامنے آ رہا ہے وہ یہ کہ شورشیں جو بالکل مختلف تھیں اُن کے بارے میں اب رپورٹیں آ رہی ہیں کہ اُ ن میں قدرے اشتراک پیدا ہو رہا ہے۔ پہلے گڑبڑ تو بلوچ علاقوں پر پھیل رہی تھی۔ بلوچستان کا پختون علاقہ بہت حد تک اس شورش سے محفوظ تھا۔ لیکن اب جو زیارت وغیرہ میں حملے ہوئے ہیں اُن سے پتا چلتا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کی انٹری پختون علاقوں میں ہو رہی ہے۔
عسکریت پسندی کے حوالے سے بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ اُس کا جغرافیہ ہے۔ پھیلے ہوئے سنگلاخ قسم کے علاقے جن پر کنٹرول کرنا مشکل‘ آمدورفت مشکل اور اس کے برعکس شورش پسند عناصر چپے چپے سے واقف۔ موٹر سائیکلوں پر سوار جتھوں کا کبھی ایک مقام پر حملہ کبھی کہیں اور۔ جیسے اوپر عرض کیا یہاں تک نوبت آنی نہیں چاہیے تھی۔ بلوچستان کی صورتحال کو گہری نظر سے دیکھنے کی ضرورت تھی۔ اس شورش کی نوعیت کا مطالعہ کرنے کی ضرورت تھی‘ کہ یہ لوگ کون ہیں ان کی لیڈرشپ کہاں سے آ رہی ہے۔ یہ نوابوں کی مسلح تحریک تو ہے نہیں۔
نواب بگٹی کے قتل کا سانحہ 2006ء میں ہوا اور یہ بیس سال بعد کی بات ہے‘ یعنی بیس سال سے یہ لاوا اُبل رہا ہے۔ سمجھنے کے بجائے اسلام آباد سے کیا ہوتا رہا‘ کبھی کوئی نئی پارٹی بن رہی ہے‘ سرکاری اشیرباد سے نئے لوگ آ گے لائے جا رہے ہیں‘ قائم مقام وزیراعظم کسی کو بنایا جا رہا ہے۔ جن لوگوں کی صحیح معنوں میں عوامی حیثیت کچھ زیادہ نہیں اُنہیں پال پوس کے آگے لانے سے کیا حاصل ہو سکتا ہے؟ یہ تو ایسا ہی ہے جیسے امریکی ویتنام میں کر رہے تھے۔ کبھی ایک مہرے پر ہاتھ رکھنا پھر اُسے ہٹا کر ایک نیا مہرہ آگے لانا۔ سارے تجربے بری طرح ناکام رہے کیونکہ عوامی حیثیت دوسری طرف تھی۔ شدت پسند تحریکیں جہاں بھی چلی ہیں یہ اُن کے بارے میں بنیادی باتیں ہیں۔ ان میں کوئی راکٹ سائنس کا عمل دخل نہیں۔ لیکن پھر بھی بات کو سمجھنا نہیں اور رویہ ایسے رکھنا جس سے دوسری طرف منفی اثرات ہی پڑتے ہوں۔ ایسی باتیں کرنا کہ بلوچستان کی صورتحال ایک تگڑے ایس ایچ او کی مار ہے۔ ڈھونڈیں پھر ایسے ایس ایچ او کو اور وہاں بھیجیں۔ کہنے کا مطلب یہ کہ جو کچھ کے پی اور بلوچستان میں ہو رہا ہے بچوں کا کھیل نہیں۔ وہاں صورتحال بڑی سنجیدہ رخ اختیار کر چکی ہے۔ اور اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
کیا کرنا چاہیے‘ کیا ہونا چاہیے یہ کوئی اتنا پیچیدہ حساب کتاب نہیں۔ لیکن مسئلہ یہاں یہ ہے کہ عوامی حمایت کی بات کریں تو موڈ فوراً خراب ہو جاتا ہے۔ ریاست کے معاملات اڈیالہ میں مقید خاص قیدی کے حوالے سے دیکھے جاتے ہیں۔ صرف پنجاب اور سندھ کا مسئلہ ہو پھر تو ٹھیک ہے جیسے چل رہا ہے چلتا رہے۔ مسئلہ تو بنا ہوا ہے دوسری قسم کی شورش کا جو مغربی صوبوں میں جاری ہے۔ خاطرخواہ نتائج حاصل ہونے کیلئے وہاں عوامی حمایت کی ضرورت ہے۔ یہ اٹل حقیقت سمجھ لینی چاہیے کہ بغیر عوامی حمایت کے کوئی شدت پسند تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی۔ عوامی حمایت ساتھ ہو پھر ہی شدت پسندوں سے نمٹا جا سکتا ہے۔ نامور تحریریں گوریلا جنگوں کے بارے میں کون سی ہیں؟ چیئرمین ماؤ کی سب سے آزمودہ تحریر ہے۔ اُنہوں نے صرف اس بارے لکھا نہیں بلکہ گوریلا جنگ کی کمان بھی کی۔ پڑھ لیجیے کہ وہ کیا کہتے ہیں۔ ویتنام جنگ کا مطالعہ ہونا چاہیے۔ ساتھ پڑوس میں جو طالبان کی تحریک امریکہ کے خلاف تھی اُس کے مطالعے سے بہت کچھ حاصل ہو سکتا ہے۔ طالبان حکومت سے ہمارے تعلقات خراب ہیں‘ وہ الگ بات ہے لیکن سترہ سال پر محیط مزاحمت کے نتیجے میں اُنہوں نے امریکیوں کو شکست دی۔ یہ کوئی چھوٹی بات نہیں۔ اس کا بغور جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ہم پنجاب والے بے خبری کی نیند سو رہے ہیں۔ ہمیں کیا ادراک اُس کا جو کچھ دریائے سندھ کے پار اور دور بلوچستان میں ہو رہا ہے۔ خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں اگر سننے کی سکت ہو۔ پر جو چہرے سامنے ہیں اُن سے کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ اپنے بَل پر تو بیٹھے نہیں کسی اور کے مرہونِ منت ہیں‘ یہ سب کو معلوم ہے۔ حالات ایسے اور سامنے کی قیادت لاچار۔ ہم جیسے دعا ہی کر سکتے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments