نامکمل تعلیم کا احساس تو ہمیشہ رہا لیکن اب جا کے صحیح احساس ہو رہا ہے کہ ادھوری تعلیم ہماری کتنی رہی۔ زندگی ساتویں دہائی سے گزر رہی ہے اور اب جا کے صحیح معنوں میں استاد بڑے غلام علی خان کی موسیقی کی عظمت کا کچھ معلوم ہو رہا ہے۔ خیال اُن کا پہلے بھی سنا‘ مدت ہوئی جب ہندوستان پہلی بار گئے تو موسیقی کی ایک دکان سے اُن کی کچھ سی ڈی وغیرہ خریدیں۔ ایک سی ڈی اُن کی راگ جے جے ونتی کی تھی ۔ خان صاحب کی گائیکی کمال کی تھی اور یہ راگ ویسے بھی بہت مدہوش کر دینے والا ہے۔ وہ سنتے رہتے‘ ایک دو اور ریکارڈنگ تھیں اُن کی‘ کوئی صحیح طرح سمجھ نہ آتی۔ موسیقی کے بارے میں ویسے بھی ہماری تکنیکی جانکاری بہت کم ہے۔ کوئی تانوں وغیرہ کے بارے میں سوال کرے تو کچھ زیادہ نہ کہہ سکیں۔ بس شوق رہا ہے اور جو سماعت کو آواز یا لَے اچھی لگی اُس کو سنتے رہے۔ لیکن اسے عمر کا تقاضا سمجھیے یا کسی اور چیز کا کہ اب جا کے جب شام ڈھلے موسیقی سننے کا موقع ملتا ہے اور یوٹیوب سے خان صاحب کی کچھ گائیکی نکال لیتے ہیں تو یوں سمجھیے کہ اُس میں غرق ہونا پڑتا ہے۔ ایسی کیفیت پہلے نہ ہوتی تھی لیکن اب شاموں کو دل یہی چاہتا ہے کہ ہم ہوں اور خان صاحب کی گائیکی۔ سنتے ہیں تو کسی اور چیز کی تمنا نہیں رہتی۔ شبِ غم کے تقاضے بھول جاتے ہیں اور دھیان کسی اور فضول حرکت پر بھی نہیں جاتا۔
کوئی پوچھے کہ سنتے کیا ہو تو کیا جواب دیں گے۔ اُن کا راگ کیدار تو سنتے آئے ہیں اور کوئی میری مانے تو پہلی فرصت میں خان صاحب کا یہ راگ سُن لے۔ کامود بھی سنتے آئے ہیں اور اس کے بارے میں یہی کہیں گے کہ جس بشر نے خاں صاحب کا کامود نہیں سنا اُس نے کچھ نہیں سنا۔ راگ یمن کی ایک اُن کی پرفرمانس ہے جو اُنہوں نے 1956ء میں بنگلور میں کی۔ سنیے تو سہی اور ہر چیز بھول جائیں گے۔ بھوپالی بھی سنتے آئے ہیں اور جونپوری بھی۔ لیکن کچھ شامیں پہلے اُن کا راگ چھایانٹ سنا۔ اُس کا تجزیہ کرنا ہم جیسے نالائقوں کے بس کی بات نہیں۔ اتنا کہیں گے کہ سنیے اور شروع کی تان ہی سے کسی اور دنیا میں کھو جائیں گے۔ جے جے ونتی کا ذکر تو ہوا اُسی پر مبنی خان صاحب کا ایک ترانہ ہے یا پتا نہیں صحیح لفظ کیا ہے اُسے پکارنے کا‘ بول ہیں 'بنتی کا کریے‘۔ خان صاحب کی تان اٹھتی ہے تو پتا نہیں آسمانوں سے کہیں اوپر چلی جاتی ہے۔ یہ بندش کوئی زیادہ لمبی نہیں ہے لیکن سننے کا موقع ملے تو عظمتِ موسیقی کی کچھ سمجھ آنے لگے گی۔
اور ایک اور راگ‘ ہنس دھونی۔ بہت سال ہوئے پہلی بار میڈم کِشوری اَمونکر سے یہ راگ سنا۔ کیا گاتی ہیں‘ کیا آواز اور سُر اور تان پہ کیا عبور۔ لیکن کچھ عرصہ پہلے خاں صاحب کا راگ ہنس دھونی سنا اور کیا کہیں بس برباد ہی ہو گئے۔ شامیں ہماری ایسی گزرتی تھیں کہ بے چینی برقرار رہتی تھی۔ تمنا کسی چیزکی‘ خیال کہیں اور بکھرا ہوا لیکن جب سے خان صاحب کی موسیقی کا جادو سر چڑھا ہے تو یقین مانیے کہ گانا اُن کا شروع ہوتا ہے اور دنیا کی ہر چیز بھول جاتی ہے۔ مطلب سمجھ جائیں‘ طلب کسی اور چیز کی نہیں رہتی۔ خیالوں کے ہر دریچے پر گائیکی حاوی ہو جاتی ہے۔ اور کسی اور خیال کی گنجائش نہیں رہتی۔ جوانی سے خان صاحب کی عظمت اور اُن کی گائیکی کی تعریف سنتے آئے تھے۔ بہت سی تعریف ہمیں ایک رسم کی مانند لگتی تھی کہ بس ویسے ہی کی جا رہی ہے۔ اب کچھ کچھ دنیائے موسیقی میں خان صاحب کا صحیح مقام نظر آنے لگا ہے۔ پوری سمجھ تو شاید ہمیں کبھی نہ آئے کیونکہ اتنی بڑی بات سمجھنے کیلئے کچھ موزوں صلاحیت بھی ہونی چاہیے اور یہ اقرار تو ہم برملا کرتے آئے ہیں کہ موسیقی کے بارے میں ایسی صلاحیت یا سمجھ ہم میں کبھی نہ تھی۔
یہی ادھوری تعلیم ہے جس کے بارے میں رو رہے ہیں۔ فوج کی تعیناتی لاہور میں ہوئی تو عمر بمشکل انیس بیس سال تھی۔ ہماری رجمنٹ کا پڑاؤ والٹن ایئرپورٹ کے بالکل بغل میں تھا۔ وہاں سے فاصلہ گلبرگ تھری کا کچھ زیادہ نہ تھا۔ تعمیرات زیادہ نہ تھیں‘ ویرانہ زیادہ تھا۔ اور گلبرگ تھری میں ہی ملکہ ترنم کی رہائش گاہ تھی۔ اتنی سمجھ یا ہمت ہوتی تو کسی شام میڈم کے آستانے پر حاضری دینے چلے جاتے۔ ظاہر ہے کسی نے اندر جانے نہیں دینا تھا لیکن کوشش تو ہونی چاہیے تھی کہ نوجوان افسر ہیں اور میڈم کو سلام کرنا چاہتے ہیں۔ پہلے روز نہیں تو کوشش کرتے رہتے کسی خوش نصیب شام کو کوئی ترس کھا جاتا اور کچھ لمحوں کیلئے میڈم کے سامنے حاضر ہو جاتے۔ لیکن وہی بات ‘ نہ اتنی سمجھ نہ اتنی ہمت۔
لوئر اردو کے پڑھے‘ اردو شاعری سے ہم ویسے ہی ناآشنا تھے لہٰذا فیض صاحب کی شاعری کا کچھ زیادہ پتا نہ تھا۔ اُن کا قیام ماڈل ٹاؤن میں ہوتا تھا جو کہ والٹن کے خاصا قریب ہے۔ وہاں حاضری کبھی دے دیتے۔ عظیم موسیقار خواجہ خورشید انور حیات تھے‘ ڈھونڈتے اُن کے در پر پہنچ جاتے۔ اُنہوں نے کیا وقت ہم پر ضائع کرنا تھا لیکن دیکھ تو لیتے اور اگر بار بار آتے تو کسی محفل میں شاید ایک کونے بیٹھنے کا موقع مل جاتا۔ لیکن یہ سب چیزیں ہم سے نہ ہوئیں کیونکہ سمجھ نامکمل تھی۔ جس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اب مکمل ہو گئی ہے۔ اس عمر میں بھی ہمارے خیالات بکھرے ہی ہیں‘ کچھ دھیان ایک چیز پر‘ تھوڑا سا دھیان کسی اور چیز پر۔ اور انہی بکھرے خیالات کے ساتھ زندگی گزری ہے۔ لیکن اُن دنوں کا پاکستانی معاشرہ نسبتاً سادہ اور شفاف تھا۔ آج کل کی بھیڑ اور ہنگامہ تب نہ تھا۔ موسیقی اور شاعری کی محفلیں ہوتی تھیں لیکن ہم اُن سے ناواقف رہے۔ زندگی میں یہ ہمارا نقصان رہا ہے۔
سردار ہیرا سنگھ سے منسوب محلے کا ذکر کریں تو بہت سے لوگ چونک پڑتے ہیں کہ دیکھو بات پھر وہاں چل نکلی ہے۔ لیکن یہاں ذکر صرف اتنا بتانے کیلئے کہ یہ علاقے تب آباد ہوا کرتے تھے۔ موسیقی اور رقص کا ایک منفرد کلچر ان جگہوں میں نظر آتا تھا۔ استاد دامن کا قیام اسی بازار کی ایک کوٹھڑی میں تھا۔ داستانیں سننے کو ملتی ہیں کہ سامانِ شب سے آراستہ فیض صاحب بھی کبھی کبھار استاد دامن کے ہاں حاضری دیتے تھے۔ یہ بڑے لوگوں کی باتیں ہیں‘ فیض صاحب کوئی چھوٹے آدمی تھے؟ لیکن وہاں جا رہے ہیں۔ سننے میں آتا ہے کہ ایک دفعہ فراق گورکھپوری ہندوستان سے آئے ہوئے تھے اور فیض صاحب اسی محلے میں اُنہیں لے کر گئے۔ اس بازار کے ہوتے ہوئے کون کمبخت کہیں اور جانے کی سوچتا بھی۔ لیکن جو ہم رونا رو رہے ہیں وہ یہ کہ لاہور میں رہتے ہوئے بھی استاد دامن کی طرف جانے کا کبھی خیال نہ آیا۔ ایک وجہ اُس محلے میں نہ جانے کی یہ تھی کہ کپتانی کی تنخواہ میں جیب خاصی ہلکی ہوا کرتی تھی۔ کسی نامور چوبارے پر جانے کا سوچ بھی نہ سکتے تھے کیونکہ چند سکوں سے تو وہاں کام نہ چلتا۔ اُس کے علاوہ استاد دامن کا ہم نے اتنا کون سا سن رکھا تھا کہ باقاعدہ وہاں جانے کی سوچتے۔
پر ایک خیال شدت سے ستاتا ہے۔ استاد بڑے غلام علی خان تو یہاں کے تھے۔ کچھ سال نومولود ریاست میں قسمت آزمائی لیکن دل نہ لگا اور ہندوستان چلے گئے۔ وہیں اُن کا فن بلندیوں پر پہنچا‘ وہیں اُن کو شہرت ملی۔ کتنے ہی ایسے مسافر اس سرزمین سے ہوئے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments