"AYA" (space) message & send to 7575

مولانا ذرا پھسل گئے

اپنی فوج یا اپنے فوجیوں کے بارے میں ایسی زبان کسی ملک میں استعمال نہیں ہوتی‘ چاہے وہ ملک امریکہ ہو‘ چین ہو یا جرمنی اور جاپان۔پالیسیوں اور فیصلوں کے بارے میں نہ صرف بات بلکہ تنقید بھی ہوتی ہے ۔ ویتنام اور عراق کی جنگوں پر تنقید ہوتی ہے لیکن سپاہیوں پر کوئی انگلی نہیں اٹھاتا‘ کسی صورت میں بھی نہیں۔ جو مولانا فضل الرحمن یہاں کہہ گئے اور اگر امریکہ میں ہوتے اور ایسی بات امریکی فوج کے بارے میں کہتے تو اُسی دن اُن کی سیاست وہاں ختم ہو گئی ہوتی۔ لیکن یہاں دیکھئے نامناسب بات اُن سے ہو گئی لیکن بحث کیا ہو ر ہی ہے کہ اس کے پیچھے ہاتھ کس کا ہے‘ کون سی سازش تیار ہو رہی ہے کہ مولانا نے یہ بات کہی؟ یعنی اس طرزِ گفتگو کے پیچھے محرکات کون سے ہیں۔ یہ بحث اتنی ہی لایعنی ہے جتنے کہ مولانا کے فوج کے بارے میں خیالات۔ کوئی سیاست پک رہی ہو یا نہ ہو‘ اپنی فوج کے بارے میں ایسی باتیں نہیں کی جاتیں۔
فوج تو ہر جگہ تنخواہ لیتی ہے۔ جن جرمن فوجوں نے جنگِ عظیم دوم میں روس پر حملہ کیا وہ بھی تنخواہ لیتی تھیں۔ دفاع کرنے والے روسی بھی تنخواہ لیتے تھے۔ جن جاپانی پائلٹوں نے پرل ہاربر پر حملہ کیا جاپانی سلطنت کے تنخواہ دار تھے اور جن امریکی فوجیوں نے جاپان کو ہرایا وہ بھی تنخواہ لیتے تھے۔ یہ کیسی بے تکی بات ہے کہ فوج کو تنخواہ کا طعنہ دیاجائے۔ تنخواہ دار تو مولانا خود بھی ہیں‘ ایم این اے کی تنخواہ اور مراعات لیتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ ایم این اے ہو یا خط تقسیم کرنے والا ڈاکیا وہ تنخواہ لیتے ہیں اُن کے پیشوں کا تقاضا یہ نہیں ہوتا کہ تنخواہ کے ساتھ جان ہتھیلی پر رکھیں۔ یہ افواج ہیں اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے جن کے فرضِ منصبی میں یہ شامل ہے کہ اپنا فرض نبھاتے ہوئے جان بھی دینی پڑے تو اس سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ کسی ایم این اے‘ سینیٹر ‘ وزیر یا کسی اور عہدے پر کوئی مامور ہواُن پر ایسی کوئی شرط عائد نہیں ہوتی۔ اور کیونکہ آخری قربانی بھی افواج کے فرضِ منصبی میں شامل ہوتی ہے اس لیے ہر معاشرے اور ملک میں جو دفاعِ وطن میں ہتھیار اٹھاتے ہیں اُن کی عزت کی جاتی ہے۔ کسی ایک ملک کا نام لے لیں جس کا وقار اس دنیا میں قائم ہے‘ وہاں ہر چیز پر تنقید کی جاسکتی ہے پر اپنے فوجی کی عزت پر انگلی نہیں اٹھائی جاتی۔ پر یہاں مولانا نے ایسے خیالات کا اظہار کرکے گُل تو کھلائے ہی ہیں‘ لیکن اُن کے جماعت کے اکابرین کو دیکھئے ایک بے تکے بیان کے حق میں تاویلیں دینے پر لگ گئے ہیں۔ کہہ رہے ہیں سیاق و سباق سے ہٹ کر ایک دو جملوں کو نہ لیا جائے حالانکہ اُن کے جملے بالکل واضح ہیں۔ اتنے واضح کہ کسی تشریح کی ضرورت نہیں رہتی۔
آئے روز نہ صرف ہمارے فوجی بلکہ پولیس اور ایف سی اہلکار کے پی کے اور بلوچستان میں جانوں کی قربانی دے رہے ہیں۔ یہ کیا طعنہ بنا کہ اپنے لہو کا احسان ہم پر کیوں ڈال رہے ہو کیونکہ تم نے جو پیٹی باندھی ہے اُس کیلئے تنخواہ لے رہے ہو۔ چکوال کا کوئی قبرستان نہیں جس میں ایک دو یا اس سے زائد قربانی دینے والوں کی قبریں نہ ہوں۔ لگا دیں پھر اُن قبرستانوں پر تختیاں کہ قبروں پر پرچم لہرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ اپنا فرض نبھانے کیلئے یہ ریاست سے تنخواہ وصول کرتے تھے۔ صحیح کہہ رہا ہوں ایسا بیان کسی اور ملک میں دیا جاتا تو مولانا اُسی دن سیاست سے فارغ ہو گئے ہوتے ۔کسی پالیسی یا کردار پر آپ معترض ہیں تو ضرور بولیے بلکہ تنقید کے تمام گولے برسا دیجئے‘لیکن بات کو یہاں تک لے آنا کہ قربانیوں کا احسان ہم پر کیا ڈالنا کیونکہ تم تو تنخواہ دار ہو اور تنخواہ لیتے ہو‘ یہ تو ایسی سوچ ہے کہ کہیں اور سنی نہ جا سکے۔ لیکن مولانا اور اُن کے ہمنوا ہیں کہ تاویلیں دیے جا رہے ہیں اور میڈیا کے پردھان کڑیاں جوڑ رہے ہیں کہ ایسا بیان کس چیز کا پیش خیمہ ہے۔
جن کا کوئی پیشہ ورانہ کردار نہیں کہ سیاست میں ملوث ہوں اُن پر کون تنقید نہیں کرتا۔ ایوب خان اور دوسرے تنقید کا نشانہ بنتے آئے ہیں۔ فوجی حکومتوں پر تنقید ہوتی رہی ہیمگر بات کو وہاں تک رکھئے اور وہاں تک رکھتے ہیں تو اچھے بھی لگتے ہیں۔ لیکن یہ کیا کہ تنخواہ داری کا طعنہ دیا جائے۔ ہمارے فوجی گولیاں کھا رہے ہیں‘ لیفٹین‘ کپتان‘ میجر اور کہیں کہیں لیفٹیننٹ کرنل شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔ اسلام آباد اور بڑے شہروں کی رونقیں انہی شہدا اور غازیوں کی وجہ سے ہیں۔ نہیں تو جس قسم کے جہاد ریاست اور مخصوص سوچ کے مذہبی عناصر افغانستان میں چلاتے رہے ہیں وہاں کی آگ ہمارے بڑے شہروں تک پہنچ چکی ہوتی۔ خود احتسابی کی ضرورت ہے کہ ایسے معرکوں کا سامان یہاں کیوں تیار ہوتا رہا۔ ہمارا کیا کام تھا کہ ہماری حکومتیں افغانستان کے معاملات میں دخل دیتی رہیں۔ اپنے مسائل حل نہ ہوئے اور دوسروں کے مسائل اپنے سر پر لے لیے۔ بات کی جائے تو اس پسِ منظر کو سامنے رکھا جائے۔ اپنی تنخواہ داری بھول کر سپاہ کی تنخواہ داری تک آپ کیسے پہنچ گئے؟
اور اگر کسی غصے کے بوجھ تلے ایسی بات آپ کر گئے تو انصاف کا تقاضا بنتا ہے کہ اپنے سینے میں بھی جھانکیے اور جو اپنا سیاسی کردار رہا ہے اس پر بھی ایک نظر ڈالیے۔ پرویز مشرف کے زمانے میں دینی جماعتوں کے اتحاد کا نام تو متحدہ مجلس عمل تھا لیکن عرفِ عام میں اسے مُلا ملٹری الائنس کہا جاتا تھا۔ تب کے معاملات میں قربت آپ کی ایسی تھی کہ وزیراعظم کے امیدوار بن بیٹھے۔ یہ وِکی لیکس کی مہربانی کہ اس وقت کی امریکن ایمبسڈر این پیٹرسن کا ایک خفیہ مراسلہ منظرِ عام پر آیا جس میں اس روداد کا ذکر ہے۔
یہ تو چلیں دور کی باتیں ہیں‘ چھبیسویں آئینی ترمیم تو کل کی بات ہے۔ اکابرین کو آپ کے ووٹوں کی ضرورت تھی اور جمہوری تقاضوں کے حق میں بڑی بڑی باتیں کرکے آپ کی حمایت انہیں کے پلڑے میں پڑی۔ مصلحت پسندی سیاست کا حصہ رہتی ہے۔ آپ کی حمایت آج جن کے حق میں گئی اس کی وجہ کوئی تھی یا نہیں تھی آپ کا معاملہ ہے۔ یہ جو تنخواہ والی بات آپ نے قصور کے جلسے میں کی پی ٹی آئی والوں سے پوچھیں کہ ایسے جلسے کی اجازت انہیں کبھی مل سکتی ہے؟ آپ ہیں تو آپ کیلئے سیاسی ضابطے ذرا مختلف ہیں۔ اس کے پیچھے جو بھی وجہ ہو یہ آپ کا مسئلہ ہے‘ لہٰذا اس ضمن میں زیادہ کیا بولنا۔ لیکن جو بات آپ سپاہ اور اور تنخواہ داری کے بارے میں کر گئے وہ آپ سے بھول ہوئی‘ اس کا کوئی دفاع نہیں نہ ہو سکتا ہے۔ آپ کو نقصان کیا ہونا ہے لیکن ایسے خیالات کا اظہار کرکے آپ نے اس سمجھداری پر ایک سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے جس سمجھداری کی آپ کو بڑی داد ملتی رہی ہے۔ اب ایک مہربانی کیجئے‘ اپنے حواریوں کو مزید تاویلوں سے روکیے۔ جو بھی بول رہا ہے بات کو مزید بگاڑ رہا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...