یہ بحث بہت پرانی ہے کہ عقل بڑی یا بھینس۔ کسی کا جسمانی طور پر طاقتور ہونا زیادہ اہم ہے یا اس کی ذہانت اہم ہے؟ وقت بدلنے کیساتھ ساتھ طاقت کا تصور بدلتا رہا ہے۔ ذہانت بھی اپنے رنگ دکھاتی رہی ہے۔ اگرچہ قدیم زمانوں کی کہانیاں پڑھیں تو ایک بات مشترکہ ملتی ہے کہ بادشاہ یا قبیلے کے سردار کا جسمانی طور پر طاقتور ہونا ضروری ہے۔ اکثر ہم بچوں کی کہانیوں میں پڑھتے ہیں کہ بادشاہ اپنی بیٹیوں کی شادی ایسے نوجوانوں سے کرتے تھے جو جسمانی طور پر مضبوط ہوتے تھے۔ وہ زمانے ہی ایسے تھے کہ انسانی معاشروں کو حفاظت کیلئے اپنے سے زیادہ بہادر اور طاقتور بندہ چاہیے ہوتا تھا جو انہیں آفات اور حملوں سے بچا سکے۔ آپ ڈھائی تین ہزار سال پرانا یونانی ڈرامہ کنگ ایڈی پس پڑھیں تو اس میں جو اجنبی شہر میں داخل ہوتا ہے وہ اسے ہی بادشاہ بنا دیتے ہیں کیونکہ ان کا اپنا بادشاہ شکار کھیلنے گیا تھا اور واپس نہیں لوٹا۔ شہر پر آفتوں نے حملہ کر رکھا تھا‘ انہیں لگا یہ نوجوان تگڑا ہے‘ انہیں آفات سے بچائے گا۔ خیر‘ وہ الگ کہانی ہے کہ اس کا انجام کیا ہوا۔ کچھ سمجھدار اور ذہین لوگ جسمانی سے زیادہ ذہنی طاقت کے حامی رہے اور انہوں نے ان ایشوز پر کتابیں بھی لکھیں۔ ان میں The Art of War بہت مشہور ہے، پھر میکاولی کی The Prince ہے‘ اور پھر Meditations کا اپنا الگ مقام ہے جو رومن جنرل Marcus Aurelius نے لکھی تھی۔ اسے پڑھنے سے پتا چلتا ہے کہ انسان ہر دور میں عقل اور ذہن کو کیسے سمجھ داری سے استعمال کرنے پر یقین رکھتا تھا۔
آج کل میں عربی میں لکھی گئی اس طرح کی کہانیاں پڑھ رہا ہوں جن کا نام ہے Fables of Bidpai۔ کہا جاتا ہے کہ سینکڑوں برس پرانی یہ کہانیاں دراصل سنسکرت میں لکھی گئی تھیں لیکن بعد میں عرب ورلڈ تک پہنچیں تو عربی اور فارسی زبان میں ڈھل گئیں۔ انہیں بڑے عرصے کے بعد انگریزی زبان میں ترجمہ کیا گیا اور یوں یہ پوری دنیا تک پہنچیں۔ میں نے خود آکسفورڈ یونیورسٹی کی آن لائن لائبریری سے پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کر کے اس کو پرنٹ کرا کے کتابی شکل دلوا کر پڑھنا شروع کیا ہے تو الگ ہی دنیا میرے اوپر عیاں ہونا شروع ہوگئی ہے۔ ایک روایت کے مطابق یہ کہانیاں ایک انڈین فلاسفر برہمن بدھپائی نے لکھی تھیں جو قدیم انڈیا کے ایک ظالم بادشاہ Dabshalim کا مشیر تھا۔ ان کہانیوں کے ذریعے اس نے بادشاہ کو سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ اسے کیسے ایک اچھے‘ سمجھ دار اور نرم دل بادشاہ کی طرح اپنی رعایا پر حکومت کرنی چاہیے۔ کہا جاتا ہے کہ جب اس کی مشہوری ایران کے بادشاہ خسرو کے دربار تک پہنچی تو اس نے اپنا اہم مشیر انڈیا بھیجا کہ اس کی ایک کاپی ایران لے آؤ اور پھر اس کا ترجمہ کیا گیا۔ کہا جاتا ہے یہ ترجمہ 750ء میں کیا گیا جبکہ سنسکرت اور مڈل پرشین زبانوں میں ان کہانیوں کا مسودہ غائب ہوگیا۔ پھر اس کا ترجمہ عربی زبان میں ہوا تھا جو میسر تھا‘ جہاں سے دو سو سال پہلے اس کا انگریزی میں ترجمہ کیا گیا۔
یہ کہانیاں دراصل دو کرداروں کی باہمی گفتگو پر مشتمل ہیں اور یہ کہانیاں جانوروں کے منہ سے سنائی گئی ہیں۔ جانور ان کہانیوں کے ذریعے حکمران کے اچھے کردار‘ اخلاقی سبق‘ فیصلوں کے اچھے برے اثرات کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔ اس میں ایک شیر ہے جو جنگل کا بادشاہ ہے اور ساتھ دو کردار گیڈر ہیں جو کہانیاں سناتے رہتے ہیں جن کے نام Kalila اور Dimna ہیں۔ ایک دن ان میں بحث ہوگئی کہ جسمانی طور پر طاقتور جانور کا مقابلہ کیسے کیا جاسکتا ہے۔ جس پر دمنہ بولا: تم جسمانی طاقت کو سامنے رکھ کر نتیجہ اخذ کررہے ہو لیکن یہ ضروری نہیں ہوتا کہ جسمانی طور پر طاقتور ہی جیتے۔ اگر آپ کے پاس ذہانت اور ہنر ہے تو آپ وہاں بھی کامیاب ہوسکتے ہیں جہاں طاقت ہار جاتی ہے۔ اس نے کہانی سنانی شروع کی کہ ایک کوے نے کیسے ایک سانپ سے اپنا بدلہ لیا۔
ایک کوے (مادہ) نے ایک پہاڑی پر اپنا گھونسلا بنا رکھا تھا لیکن اس کے قریب سانپ کا بھی بل موجود تھا۔ جونہی کوے کے بچے ہوئے تو ایک دن سانپ آیا اور اس کے بچوں کو کھا گیا۔ اس پر کوا بہت گہرے صدمے کا شکار ہوا۔ وہ گیدڑ کے پاس گیا جو اس کا پرانا دوست تھا اور اس سے مشورہ کیا کہ وہ سوچ رہا ہے کہ جب سانپ سو رہا ہو تو وہ جا کر اپنی چونچ سے اس کی آنکھیں ہی نوچ کر نکال دے اور اسے مار ڈالے۔گیدڑ نے منع کر دیا کہ یہ کام مت کرنا اور کہا کچھ اور سوچتے ہیں جس میں خطرہ بہت کم ہو اور اگر اس نے وہی کچھ کیا جو ہنس راج نے کیکڑے کے ساتھ کرنے کی کوشش کی تھی تو انجام بھی وہی ہوگا۔ گیدڑ نے اسے کہانی سنائی کہ ہنس راج کا جہاں بسیرا تھا وہاں ایک جھیل تھی۔ وہ وہیں جوان اور بوڑھا ہوا اور اب شکار کرنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ وہ بھوکا مرنے سے ڈرتا تھا۔ ایک دن وہاں سے ایک کیکڑا گزرا جس نے ہنس راج کی بری حالت دیکھی تو وجہ پوچھی۔ اس پر ہنس راج نے اسے بتایا کہ وہ پریشان ہے کیونکہ ایک دن اس نے دو مچھیروں کو باتیں کرتے سنا تھا کہ یہاں بہت مچھلیاں ہیں اور وہ اب یہاں سے پکڑا کریں گے۔ اب وہ مچھلیاں پکڑیں گے تو اس کا کیا بنے گا‘ وہ کہاں سے کھائے گا؟ اس پر کیکڑا مچھلیوں کے پاس گیا اور انہیں بتایا کہ اس نے کیا سنا ہے۔ مچھلیوں نے فوراً اپنا ایک ایلچی ہنس راج کی طرف بھیجا کہ آپ مشورہ دیں‘ اب کیا کریں۔ وہ خوف زدہ مچھلیاں بڑے خطرے کا سن کر ہنس راج کا چھوٹا خطرہ بھول گئیں۔ ہنس راج نے مشورہ دیا کہ اس خطرے سے بچنے کا ایک ہی حل ہے کہ وہ یہ جھیل چھوڑ کر ایک اور قریبی جھیل میں شفٹ ہوجائیں جہاں وافر خوراک بھی موجود ہے۔ ساتھ ہی ہنس راج نے ان مچھلیوں کو اپنی خدمات بھی پیش کر دیں کہ وہ انہیں اپنی کمر پر بٹھا کر وہاں ڈراپ کر آئے گا۔ مچھلیاں خوش ہوگئیں۔ یوں اب روزانہ ہنس راج دو مچھلیاں اپنی پیٹھ پر بٹھاتا۔ وہاں سے اڑ کر پہاڑ پر جاتا اور مزے سے مچھلیاں کھاتا۔ ایک دن جب وہ حسبِ معمول دو مچھلیاں لینے آیا تو وہاں کیکڑے سے ملاقات ہوگئی۔ کیکڑے نے کہا یار‘ وہ بھی ان حالات میں خوف زدہ ہے۔ کیا وہ اسے بھی ان مچھلیوں کی طرح اپنی پیٹھ پر بٹھا کر اُس جھیل میں لے جائے گا جہاں وہ روز مچھلیوں کو لے جاتا ہے۔ اس پر ہنس راج نے کہا کیوں نہیں‘ بیٹھ جاؤ میری کمر پر اور اسے بھی وہیں لے گیا جہاں وہ مچھلیوں کو لے جا کر کھاتا تھا۔ جب کیکڑے نے وہاں نیچے مچھلیوں کی ہڈیاں دیکھیں تو اسے اپنے ہنس راج دوست پر شک ہوا تو اس نے ہنس راج کی گردن کو وہیں جکڑ لیا اور اس کا گلا دبا دیا۔ وہاں سے وہ واپس ان مچھلیوں کے پاس گیا جو بچ گئی تھیں اور انہیں بتایا کہ ان کا ہمدرد ہی ان کا قاتل تھا جس سے انہوں نے مشورہ مانگ کر مدد لی تھی‘ اس نے ان سب مچھلیوں کو نگل لیا۔ گیدڑ کہنے لگا: اس کہانی سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ چالاک اور مکار ایک دن خود اپنے جال میں پھنس جاتا ہے۔ گیدڑ نے کہا: میرے ذہن میں منصوبہ ہے جس سے تمہیں نقصان نہ ہوگا اور سانپ سے بدلہ بھی لے سکو گے۔ تم ایسا کرو‘ کسی عورت کے کپڑے کا کچھ حصہ کہیں سے اپنی چونچ میں لے کر لوگوں کے اوپر سے گزرو تاکہ وہ دیکھ سکیں تم اپنی چونچ میں کچھ لے کر جا رہے ہو اور جا کر وہاں گرا دو جہاں سانپ کا گھر ہے۔ وہ لوگ فوراً بھاگیں گے تاکہ کپڑا لے سکیں۔ باقی سانپ کا بندوبست وہ خود کر لیں گے۔ کوے نے یہی کیا۔ ایک دن اس نے ایک عورت کو دیکھا جو گھر کی چھت پر نہا رہی تھی اور کپڑے ایک سائیڈ پر رکھے تھے۔ وہ کوا نیچے گیا اور وہاں رکھا نیکلس اپنی چونچ میں ڈال کر اڑ گیا۔ چند لوگ دیکھ رہے تھے‘ وہ اس کے پیچھے دوڑے۔ کچھ دور ان لوگوں نے کوے کو وہ نیکلس کسی جگہ گراتے دیکھا۔ وہاں پہنچے تو نیکلس سانپ کے قریب پڑا تھا۔ انہوں نے پہلے سانپ کو مارا‘ پھر نیکلس اٹھا کر لے گئے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments