"RKC" (space) message & send to 7575

بے روزگار بھی کچھ رحم کریں

کچھ دیر پہلے سینئر صحافی راجہ لیاقت کی فیس بک پروفائل پر ایک وڈیو دیکھی۔ اس وڈیو میں تین پولیس اہلکار ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کے سامنے کیمرے کی طرف پیٹھ کیے کھڑے تھے‘ جن پر الزام تھا کہ وہ پولیس ناکوں پر موٹر سائیکل سواروں کو روک کر پیسے بٹورتے تھے۔ تاہم اس وڈیو میں پیسے لینے کا طریقہ کچھ مختلف بتایا جا رہا تھا۔ وہ ہر ناکے پر بائیکرز کو روکتے اور اگر کاغذات کی پڑتال میں کوئی خرابی نہ ملتی تو ان کا فون لے لیتے‘ اسے الٹ پلٹ کر کے دیکھتے اور کہتے کہ اس فون میں گڑبڑ ہے‘ اس کی ٹمپرنگ کی گئی ہے‘ لہٰذا تین ہزار روپے نکالو۔ آج کل موبائل کیمروں نے رشوت لینے والوں کی زندگی کچھ مشکل کر دی ہے۔ جب یہ ناکے پر کھڑے اپنی ''انجینئرنگ‘‘ کا رعب جھاڑتے ہوئے پیسے پکڑ رہے تھے تو کسی دل جلے نے ان تینوں کی ریکارڈنگ کر لی۔ وہ ساری ریکارڈنگ اعلیٰ پولیس حکام تک پہنچی تو انہیں بلا لیا گیا اور یہ گفتگو اسی حوالے سے ہو رہی تھی۔ پولیس افسر طنزیہ انداز میں پوچھنے لگا کہ تم تینوں انجینئر ہو کہ فون کو ہاتھ لگاتے ہی پتا چل جاتا ہے کہ اس میں گڑبڑ ہے‘ اور وہ گڑبڑ ٹھیک کرنے کا ریٹ تین ہزار روپے ہے؟ ان میں سے ایک ملزم اہلکار کہنے لگا کہ وہ 19سال سے سروس کر رہا ہے اور اس نے پہلی دفعہ پیسے پکڑے ہیں‘ آئندہ ایسا نہیں کرے گا۔ اس پر پولیس افسر نے ایک بہت اہم بات کی جو ہمارے معاشرے اور انسانی نفسیات پر پوری اترتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بھی بندہ کرپشن پر معطل یا برطرف ہوتا ہے وہ بحال ہو کر دوبارہ ضرور کرپشن کرتا ہے۔
اندازہ کریں کہ اس بات میں کتنی گہرائی ہے۔ طویل سروس کے دوران ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کے سامنے کتنے ایسے کیسز آئے ہوں گے کہ جنہیں کرپشن پر ملازمت سے برطرف کیا گیا وہ کسی نہ کسی طرح بحال ہوئے اور دوبارہ رشوت لیتے پکڑے گئے‘ اور پھر ان کے سامنے اسی طرح پیش ہوئے ہوں گے جیسے یہ اہلکار پہلی مرتبہ پیش ہوئے تھے۔ لہٰذا وہ یہ بات یقینا اپنے طویل تجربے کی بنیاد پر کہہ رہے ہوں گے کہ بحال ہو کر کرپٹ ملازم دوبارہ رشوت لینا شروع کر دیتا ہے بلکہ زیادہ اعتماد کے ساتھ یہ کام کرتا ہے۔وہ سوچتا ہے کہ جو بدنامی ہونی تھی یا یار دوستوں اور رشتہ داروں کو پتا چلنا تھا‘ وہ تو چل چکا۔ اب نیک بن کر کیا کرنا ہے؟ پھر اس پورے عمل میں اس نے سفارش ڈھونڈی ہو گی‘ یا کسی اور کو پیسے دے کر خود کو بحال کرایا ہوگا۔ اگر متعلقہ افسر رشوت نہیں لیتا ہو گا تو شاید اس سے بڑے افسر کو اپیل کی ہو گی۔ وہاں سے بھی بحالی نہ ہوئی ہو گی تو پھر آئی جی کو اپیل گئی ہو گی۔ اگر آئی جی نے بھی زیرو ٹالرنس رکھا ہوگا اور برطرفی پر مہر لگا دی ہوگی تو پھر سروسز ٹربیونل میں چیلنج کیا ہوگا۔ وہاں سے بھی انکار ہوا تو ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ تک گیا ہوگا۔ کسی نہ کسی فورم پر وہ بحال ہو ہی جائے گا۔
اوّل تو سروسز ٹربیونل تک جانے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی‘ اس سے پہلے ہی کوئی پیٹی بھائی اسے بحال کرا دے گا۔ اکثر افسران کو اپنی فورس کے مورال کی فکر رہتی ہے کہ اگر ایک کے خلاف ایکشن لیا تو سب کا مورال متاثر ہو گا‘ لہٰذا بس وارننگ دے کر بحال کر دو کہ جا بیٹا جہاں سے چھوڑا وہیں سے کام شروع کر دو‘ بس احتیاط کرنا کہ اب کی دفعہ تمہاری وڈیو یا آڈیو ریکارڈ نہ ہو تاکہ تم انکوائری میں صاف مُکر سکو اور ہم تمہارے خلاف کوئی کارروائی نہ کریں۔ میری کئی مرتبہ پولیس افسران سے بات ہوئی تو ان کے ذہن میں ایک ہی لفظ ہوتا تھا کہ کارروائی کرنے سے مورال ڈاؤن ہو گا۔
مجھے اپنا مرحوم پولیس افسر دوست عمر شیخ یاد آ گیا۔ کیا زبردست افسر تھا جو پولیس فورس میں خصوصاً افسران اور کولیگز کے درمیان خاصا غیر مقبول تھا۔ شیخ صاحب تیز مزاج انسان تھے اور بعض اوقات جلدی ردِعمل دے دیتے تھے لیکن ان کی ایک بات عوام کو بہت پسند تھی۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ قانون توڑنے پر جو سزا عوام کو دی جاتی ہے وہی سزا پولیس اہلکاروں کو بھی ملنی چاہیے۔ وہ کہتے تھے کہ یہ کہنا غلط ہے کہ اس سے مورال ڈاؤن ہو گا‘ یہ کیا منطق ہے کہ کسی اہلکار نے غلط کام کیا ہے تو اسے اس لیے کچھ نہ کہو کہ مورال کم ہو گا۔وہ کہتے تھے کہ پولیس کی عوام میں عزت اور وقار اس وقت بڑھے گا جب پولیس اہلکار کو بھی غلط کام کرنے پر وہی سزا ملے گی جو عوام کو ملتی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں الٹا تصور رائج ہے۔ اکثر افسران کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے ماتحتوں کے ہر جرم پر پردہ ڈال دو تاکہ ان کا مورال ڈاؤن نہ ہو۔ وہ افسران یہ نہیں سوچتے کہ جب اس سزا کا دوسرے اہلکاروں کو پتا چلے گا تو وہ خیال کریں گے کہ ہم سے یہ غلطی نہیں ہونی چاہیے‘ ورنہ ہمیں بھی یہی سزا مل سکتی ہے۔
مجھے یاد ہے کہ عمر شیخ آر پی او ڈیرہ غازی خان تھے تو ایک قتل کیس میں ایک ڈی ایس پی نے ملزمان سے پیسے لے کر انکوائری خراب کر دی تھی۔ عمر شیخ نے خود تفتیش کی اور اس ڈی ایس پی کو اپنے دفتر میں بلا کر ہتھکڑی لگوا دی۔ وہ اکثر ایسا کرتے تھے۔ عوام سے زیادہ ان کا زور پولیس اہلکاروں کو درست کرنے پر ہوتا تھا۔ ان کا تصور ہی یہ تھا کہ پہلے پولیس فورس اپنے اندر اس قانون کا خوف پیدا کرے جس کے تحت وہ عوام کو پکڑ کر تھانے میں بند کرتی ہے اور سزائیں دلواتی ہے۔ یہ کیسا اصول ہے کہ جب کوئی عام آدمی جرم کرے تو اسے مار مار کر بھرکس نکال دو یا جیل بھجوا دو لیکن اگر وہی جرم کوئی پولیس والا کرے تو اسے صرف وارننگ دے دو؟ عمر شیخ وارننگ نہیں دیتے تھے بلکہ قصوروار اہلکاروں کو ہتھکڑی لگوا کر تھانے میں بند کروا دیتے تھے۔
جب لاہور کے تین اہلکاروں کو اپنے افسر کے سامنے کھڑا دیکھا تو خیال آیا کہ کبھی یہ تینوں بھی بے روزگار رہے ہوں گے۔ یہ بھی صبح شام اٹھتے بیٹھتے اس سسٹم کو گالیاں دیتے ہوں گے کہ سیاستدان اور بیوروکریٹس اس ملک کو لوٹ کر کھا گئے‘ ہم غریب کدھر جائیں۔ ان تینوں کو بھی نوکری سے پہلے کسی پولیس اہلکار نے ناکے پر روک کر پیسے لیے ہوں گے جس پر انہوں نے پوری بستی میں ڈھنڈورا پیٹا ہوگا کہ دیکھو یہاں سب کرپٹ ہیں۔ سسٹم کو گالیاں اور حکمرانوں کے خلاف گفتگو اس وقت تک ایک غریب یا بے روزگار آدمی کرتا ہے جب تک خود اسے طاقت نہیں ملتی اور وہ اس سسٹم کا حصہ نہیں بن جاتا جسے وہ بے روزگار ہو کر روز گالیاں دیتا تھا۔
ہو سکتا ہے یہ بات بڑی سخت اور بے حس لگے لیکن اب مجھے اکثر پڑھے لکھے بے روزگاروں پر ترس نہیں آتا۔ مجھے بھی لمبا تجربہ ہے۔ ان سب کا رونا دھونا اس لیے نہیں ہوتا کہ انہیں سرکار عوام سے ٹیکس لے کر جو تنخواہ دے گی وہ اسی میں گزارا کریں گے بلکہ وہ اوپر کی کمائی کے خواب دیکھتے ہیں۔ اپنی غربت دور کرنے کا آسان طریقہ انہیں سرکاری نوکری نظر آتا ہے۔ جن جن محکموں میں عوام سے رشوت لی جاتی ہے وہاں بیٹھے افسران اور اہلکار بھی کبھی عوام کا حصہ تھے‘ بے روزگار تھے‘ اور وہ بھی سسٹم کو گالیاں دیتے تھے۔ سب کو کرپٹ کہتے تھے۔ ہمیں سسٹم اس وقت تک برا لگتا ہے جب تک سسٹم ہمارے ہاتھ نہیں لگتا۔ یہ سب جو آج آپ سے پیسے لیتے ہیں یہ سب کبھی عوام تھے‘ پڑھے لکھے بے روزگار تھے۔ بس ایک چانس میٹرک یا ایف اے پاس غریب اور بے روزگار کو ملنے دیں‘ پھر دیکھیں وہ کیسے ہر حد پار کرتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں