"RBC" (space) message & send to 7575

گھٹن، اضطراب اور خوف

ماحول کچھ ایسا ہی ہے۔ کون اس کا ذمہ دار ہے‘ کون سے ہاتھ ہیں جنہوں نے یہ کام کر دکھایا ہے اور کیوں ہم محسوس کرتے ہیں کہ ماحول میں خوف کی فضا بہت گہری ہو چکی ہے‘ یہ ایسے سوالات ہیں جن کے جواب میرے پاس نہیں۔ اگر ہوں بھی تو خوف کی وجہ سے ‘ جو بھاری پتھر کی طرح سینے پر بیٹھ سا گیا ہے‘ کچھ کہنے اور حل لکھنے کو جی نہیں چاہتا۔ اب تو میل ملاقاتیں صرف ذاتی تعلقات تک محدود ہیں‘ اور اپنے چند دوستوں کے درمیان بھی احتیاط کا دامن تھامے رکھتے ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ خوف سے وجود میں آنے والی فکرمندی نے ہمارے دوستوں کو فتوے صادر کرنے کی عادت میں مبتلا کر دیا ہے۔ ہم کوئی سیاسی اور سماجی بات کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں کہ کہیں کسی کو ناراض نہ کر بیٹھیں اور کوئی خواہ مخواہ ہمارے اوپر چڑھائی نہ کر دے۔ ہم اب لوگوں کی لفظی جنگوں‘ تیز وتند کاٹ دار لفظو ں اور زبان کی تلخی کو برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ ایسا لگتا ہے کہ کوئی بات کریں یا نہ کریں‘ آگے سے وہ جلے بھنے بیٹھے ہیں۔ زبان کی تلوار ہمہ وقت بے نیام رہتی ہے۔ سماجی سطح پر فکرمندی حد درجہ بڑھ جائے تو لوگ نفسیاتی طور پر زود رنج ہو جاتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ اپنے اُن دوستوں‘ جو کالج اور جامعہ پنجاب کے زمانے میں قریب ترین تھے‘ اُن سے بھی کھل کر بات نہیں کر سکتے۔ کسی سے ملیں تو کوشش ہوتی ہے کہ سیاست پر بات بالکل نہ کی جائے۔ مذہب‘ عقائد اور یہاں تک کہ مذہبی رہنمائوں سے متعلق تو ہم نے نصف صدی سے زیادہ عرصہ سے چپ سادھ رکھی ہے۔ عقل مندی کی بات یہ ہے کہ ہر کوئی کسی بھی سطح اور جذباتی معاملات میں اپنا پہلو ہر مجلس میں بچا کر رکھے۔ نجانے کون کیا فتویٰ‘ سخت گیری کا کوئی صفحہ الٹ کر کیسا الزام دھر دے کہ بچنا مشکل ہو جائے۔ ہمیں کوئی اس طرف گھسیٹنے کی کوشش کرے تو معذرت کر لیتے ہیں۔ سب کو ایسا ہی کرنا چاہیے۔ ہر آدمی اپنا راستہ خود چنتا ہے‘ اور اسے اس کا پورا حق حاصل ہے۔ ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں۔
حال ہی میں ہمارے کالج کے زمانے کے ایک دیرینہ دوست کو خیر وعافیت معلوم کرنے کے لیے فون کیا۔ ملاقاتیں تو سالوں نہیں ہوتیں۔ ایک ایسے دوست کے بارے میں معلومات درکار تھیں جو کبھی اُن سے اور مجھ سے رابطے میں رہتا تھا۔ انہوں نے فوراً کہا کہ افسوس ہے کہ ابھی تک اُن کے نزدیک وہ صحیح العقیدہ نہیں ہو سکا۔ گزارش کی کہ یہ آپ کا کام نہیں‘ آپ صرف اپنی فکر کریں۔ کہنے لگے کہ اسے جہنم کی آگ سے نہ بچا سکا تو یہ میری ناکامی ہو گی۔ زیادہ حیرت تو نہ ہوئی‘ مگر دکھ ضرور ہوا کہ ہمارے معاشرے میں کوئی بھی کسی کے گناہ گار ہونے کا اعلان کرکے اُس کے پیچھے پڑ سکتا ہے۔ دیہات میں تو چائے خانوں پر مذہب‘ فرقہ واریت اور سیاسی وابستگی پر تبصرے نہیں‘ مقابلے ہوتے ہیں۔ آخر میں سب دکھی‘ تھک ہار کر ایک دوسرے پر غضبناک نظریں ڈال کر رخصت ہوتے ہیں۔ یہ ہے ہماری سماجی محفلوں اور مجلسوں کی عدم برداشت کی فضا۔ میرا سوال ہے کہ آخر ان متنازع امور جنہیں صدیوں سے کوئی حل نہیں کر سکا‘ کو چھیڑنے کی ضرورت کیا ہے۔ اس کا اگر جواب دینے کی جسارت کر پائوں تو وجہ فکر مندی‘ جنونیت اور نفسیاتی الجھائو ہے۔ زعم ہے کہ‘ میرے دوست کی طرح‘ سچائی صرف اس کے پاس ہے‘ باقی سب کہیں دور اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں۔ کسی کے سماجی رجحان‘ عقائد اور سیاسی یا نظریاتی وابستگی کی جانچ کرکے کوئی فیصلہ صادر کرنا ایک طرح کے نفسیاتی تشدد کے زمرے میں آتا ہے۔ اس کے زخم ہم نے بہت کھائے ہیں‘ اس لیے آپ کو محتاط رہنے کا مشورہ دے رہا ہوں۔ اصل بات تو یہ ہے کہ لوگوں کے پاس کہنے کے لیے کچھ اور نہیں‘ سوائے غیبت اور دوسرے کے نجی معاملات پر بے مقصد لیکن بلاتکان بحث کرنے کے۔
ایک زمانہ تھا کہ ہم لوگو ں سے ملتے تو علمی باتیں ہوتیں۔ کوئی کتاب‘ کوئی فلسفی‘ ادیب‘ دانشور یا تاریخی واقعات زیرِ بحث آتے۔ کچھ کہہ کر اور دوسروں کو سن کر دل میں سرور پیدا ہوتا۔ طبیعت ہشاش بشاش ہو جاتی اور ذہن کی تھکاوٹ اور بوجھل پن دور ہو جاتا۔ آج کل وہ لوگ عمر کے آخری حصے میں خود اختیاری گوشہ نشینی کر چکے ہیں۔ انہوں نے دنیا سے تنگ آ کر تنہائی اور خلوت کی طرف رجوع کر لیا ہے۔ پروفیسر معین الدین نظامی صاحب کی ایک پوسٹ پڑھی تو محسوس ہوا کہ وہ تو میرے دل کی بات کر رہے ہیں۔ ہمیں بھی کئی دن‘ بلکہ ہفتے گزر جاتے ہیں کہ باہر جا کر کسی سے ملیں۔ جنگل کے کونے میں اور زیرِ زمین بیسمنٹ میں کتابوں کی الماریوں کے درمیان وقت گزارنے میں اب زیادہ فرحت محسوس ہوتی ہے۔ زمانے کے زخم کھا کھا کر طبیعت نڈھال ہو چکی ہے۔ اب معاملہ یہ بھی نہیں کہ ہم کوئی بات چھیڑیں‘ کسی کو اکسائیں‘ ارادتاً اشتعال دلائیں‘ ویسے ہی لوگ اپنے اندر کی آگ کو آپ پر برسا کر ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نظامی صاحب نے درست کہا کہ اب روحانی اور نفسیاتی اذیت برداشت نہیں ہوتی۔ لوگوں کے بدلے ہوئے سماجی رویوں کے پس منظر میں ان کی محرومیاں‘ شخصی عدم اعتدال‘ کہیں دل کے نہاں خانوں میں چھپا احساسِ ناکامی یا پھر لفظی تشدد میں تسکینِ ذات کی ناکام کوششیں کارفرما ہو سکتی ہیں۔
میرا شعبہ سماجی نفسیات ہرگز نہیں اور اگر یہ باتیں اپ کو سطحی اور بے سود لگیں تو معافی کا خواستگار ہوں لیکن یہ بات زیرِ بحث لانے کی ضرورت ہے کہ خوش دلی‘ بلاروک فطری قہقہے اور ایک دوسرے سے دل لگی میں ہلکی پھلکی چھیڑ خانیاں آخرکہاں غائب ہو گئیں؟ اس کی ذمہ دار گزشتہ نصف صدی کی وہ سیاست اور انتظامِ ریاست اور اس کی سمت ہے جن سے بحران در بحران کی کیفیت میں اب تیسری نسل پل رہی ہے۔ اس پر انتہا پسندی کے کئی رنگ غالب آ چکے ہیں‘ جن میں صرف سیاست اور مذہب ہی نہیں لسانیت ہے‘ جھوٹے بیانیے ہیں‘ حقیقی اور فرضی شکایتوں کے وہ دفتر ہیں جو ہر وقت لوگ ہمارے اوپر توپ کے دہانے کی طرح کھولنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ یہ فکرمندی اور اضطراب کی کیفیت کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ آج کل کے مضطرب دور میں لوگ نہ صرف مالی آسودگی کے باوجود ناخوش ہیں بلکہ اپنے معاشرے‘ ریاست اور کچھ اپنی تاریخ کے بارے میں جو کچھ کہہ ڈالتے ہیں وہ ناقابلِ بیان ہے۔ ان میں زیادہ تر اعلیٰ طبقات اور متوسط طبقے کے لوگ ہیں جن کے نزدیک آزادیاں‘ پُرسکون ماحول اور معاشی ترقی گزشتہ نصف صدی کی موروثی سیاست اور اس کی سرپرستی نے تباہ کر ڈالی ہے۔ جس طرح ہمارے جغرافیائی کونوں پر فساد برپا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر ہمارے سلامتی کے اداروں کے جوان اور عام شہری اس کا نشانہ بن رہے ہیں‘ ان سے عمومی فکرمندی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ معاشرہ ایک سمندر کے اندر ایک ایسے جہاز کی مانند ہے جس کا نہ کوئی پتوار ہے‘ نہ بادبان۔ گھٹن بدعنوانی‘ عدم اعتمادی اور ہر نوع کی انتہا پسندی کو جنم دیتی ہے۔ دیکھیں ہمارے جہاز کو نکالنے کے لیے کب کوئی پتوار سنبھالتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...