"RBC" (space) message & send to 7575

نوجوان، بیداری اور خوف

انقلاب آئیں یا نہ آئیں‘ ہماری نسل کے لوگوں کو اب اس سے کوئی سروکار نہیں۔ جو ہم لا سکتے تھے‘ وہ تو لا نہ سکے۔ خواب دیکھنا بند تو نہیں کیے مگر اب خواب کچھ اور ہیں۔ بہرحال دل میں ایک خلش اور خوابیدہ خواہش ضرور موجود ہے اور تادمِ زیست رہے گی کہ دنیا میں امن ہو‘ انصاف ہو‘ استحصال ختم ہو‘ غربت نہ رہے اور سب لوگ آسودہ زندگی گزاریں۔ ہمارے انقلاب کے دنوں کے خواب کچھ ایسے ہی تھے۔ کروڑوں انسان جنہوں نے نوآبادیاتی اور سامراجی نظام سے آزادی حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کی‘ ان کے رہنمائوں نے قید کاٹی اور نجانے کتنے سولیوں پہ چڑھ گئے اور گولیوں کا نشانہ بنے۔ ان کے خواب بھی انصاف‘ قانون کی بالادستی‘ حقوق اور معاشی خوشحالی تھے۔ زیادہ تر بلکہ سب نظریات‘ اشتراکیت ہو یا سرمایہ داری نظام‘ وہ بھی اسی طرح کے سنہری خواب دکھاتے ہیں۔ مگر اس منزل تک پہنچنے کے سب کے راستے جدا ہیں۔ کچھ عرصہ ہماری اشتراکیت سے نظریاتی وابستگی رہی تو ہم مائوزے تنگ‘ لینن اور کارل مارکس کے فلسفوں کے ساتھ پوری دنیا میں انقلابی تحریکوں کا مطالعہ کرتے۔ شاید آپ یقین نہ کریں‘ یہ سب کچھ ہم نے جامعہ پنجاب میں چند سال کے دورِ طالبعلمی میں کیا۔ تب کتابیں پڑھنا اور علمی گفتگو کرنا باشعور نوجوانوں کی پہچان تھی۔ یہ سب کچھ دکھاوے یا کسی پر رعب ڈالنے کیلئے نہ تھا بلکہ خفیہ‘ خاموشی اور محدود دائرے میں سیاسی اور فکری شعور کا خود اختیاری سفر تھا۔ زمانہ بدلتا رہا اور ہم بھی۔ زیادہ تر افراد کا اندازِ فکر وعمل زمان ومکان میں آنے والی تبدیلیوں کے تابع ہوتا ہے۔ کم از کم اپنے بارے میں تو بلاجھجک کہہ سکتا ہوں کہ دیہات سے شہروں اور باہر کی دنیا کے سفر‘ قیام اور زندگی گزارنے کا سماجی اور فکری اثر ہوا جو عمر بھر ساتھ رہا۔ کوئی اس کا برملا اظہار کرے نہ کرے‘ شعوری لاشعوری طور پر دوسرے معاشروں کی اچھی باتیں ہماری اپنی سوچ اور اخلاقیات کا حصہ بن جاتی ہیں۔
بات زمانے کے بدلنے کی ہو رہی تھی‘ اشتراکی انقلابوں کے بارے میں بھی سوال اٹھنے لگے کہ جس سحر کی امیدیں ان سے بندھی تھیں‘ وہ ذاتی آمریت اور خاندانی بادشاہتوں میں تبدیل ہو گئیں۔ باقی دنیا کے ممالک میں بھی لوگ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ آخر میں انجام سٹالن اور مائو ہیں تو بہتر ہے اس طرف کا سفر ہی نہ کیا جائے۔ سرمایہ داری نظام اور اس کی پیدا کردہ عدم مساوات سے محروم طبقہ نہ پہلے خوش تھا اور نہ اب ہے۔ مزدور جو کارخانوں میں کام کرتے ہیں‘ ان کے بارے میں ہمارے اشتراکی مفکرین کی خوش فہمی یہ تھی کہ وہ سرمایہ داری نظام کے خلاف بغاوت کریں گے اور انقلاب پکے ہوئے پھل کی طرح ان کی جھولی میں آن گرے گا۔ اس کیلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ مزدوروں میں ان کے معاشی استحصال اور تنظیمی قوت کا شعور اجاگر کیا جائے۔ وہ بھی نہ ہوا‘ اور ہم نے دیکھا کہ چین اور سوویت یونین اور مشرقی یورپ کے سب ممالک نے اشتراکیت سے تائب ہو کر سرمایہ داری نظام کے بڑے پیر ومرشد کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔
اب آتے ہیں اصل مسئلے کی طرف کہ وہ انقلاب کیوں نہ آئے اور خصوصاً مارکس کا مزدور جسے وہ سرمایہ داری نظام کا گورکن کہتا تھا‘ وہ کیوں متحرک نہ ہو سکا؟ ہمارے زمانے کے نوجوانوں کی بیداری اور گزشتہ صدی کی ساٹھ کی دہائی میں عالمی سطح پر چلنے والی تحریکوں کے پیچھے ایک اہم مفکر ہربرٹ مارکوزے تھا۔ ہمارے ملک میں نہ اس وقت نہ اب لوگ اسے جانتے ہیں۔ یہ تو آپ کو ماننا پڑے گا کہ تاریخی طور پر یہ درست ہے کہ نوجوانوں کی بیداری کی تاریخ امریکہ میں شروع ہوئی اور اس میں بنیادی بات ویتنام کی جنگ میں جبری بھرتی تھی۔ جنگ ایک واقعاتی امر تھا۔ اصل بات تو ''کائونٹر کلچر‘‘ تحریک تھی۔ اس کا متبادل اردو میں نہیں ملا کہ 'برعکس ثقافت‘ تو کوئی بات نہ ہوئی۔ ہاں‘ روایت اور غالب افکار کے خلاف مزاحمت کی بات کریں تو شاید کام چل جائے۔ اس فلسفے اور تحریک پر اس وقت کچھ لکھنا مقصود نہیں۔ نوجوانوں اور ان کی بیداری جو ہمیشہ سے ایک سرسبز موضوع رہا ہے‘ ہمارے مفکرین اور مبصرین اس پہ روشنی کم ہی ڈالتے ہیں۔ اس کی وجہ بھی کچھ سمجھ میں آتی ہے۔ مارکوزے کا خیال تھا کہ کارخانوں کے مزدور اور معاشی طور پر متوسط طبقہ صارف معیشت کا حصہ بن چکے ہیں۔ وہ انقلاب میں نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام ہی میں آسودگی محسوس کرتے ہیں کہ اب وہ اس کا حصہ بن چکے ہیں۔ اب نوجوان ہی تھے جو اس نظام کے خلاف اپنے رویوں سے مزاحمت کر رہے تھے۔ مارکوزے نوجوانوں کو بھڑکا نہیں رہا تھا بلکہ ان کی تحریک کے سماجی اور نفسیاتی عناصر کو بغور دیکھ رہا تھا کہ ان کی بے چینی اور اضطراب کی بنیادی وجہ کیا ہو سکتی ہے۔ اس کے خیال میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات‘ دولت اور مراعات کا ایک غالب طبقے کے ہاتھ میں ارتکاز‘ ناانصافی اور ساتھ ہی نظام کو چلانے کیلئے نوجوان طبقے کی کمائی پر انحصار۔ کائونٹر کلچر تحریک کا فکری اور عملی نکتہ یہ تھا کہ ہمیں نہ وہ کامیابی چاہیے جیسے محفوظ نوکری‘ گھر‘ گاڑی اور اچھا معاشی مستقبل‘ جسے آپ اس کی معراج تصور کرتے ہیں‘ اور نہ ہی وہ کام جو آپ نظام کی صحت کو قائم رکھنے کیلئے ضروری خیال کرتے ہیں۔ لیکن یہ نوجوانوں کی تحریک میں ایک اقلیت تھی۔ سیاسی اور فکری طور پر باشعور نوجوان نظام کے اندر رہتے ہوئے اور کچھ دیگر طریقوں سے ناانصافی اور عدم مساوات کو ختم کرنے کیلئے کوشاں تھے۔ روایتی سیاسی جماعتوں میں کچھ نے جگہ بنا کر نظریاتی رخ موڑنے کی کوشش کی‘ جیسے امریکی ڈیمو کریٹک پارٹی یا برطانیہ کی لیبر پارٹی اور یورپی ممالک میں سوشل ڈیمو کریسی سے وابستہ سیاسی جماعتیں۔ اس تحریک کا نتیجہ یہ تھا کہ ہم نے دو تین عشروں تک یورپ اور امریکہ میں فلاحی ریاست کے نظریے اور سیاست کو غالب دیکھا۔ اسّی کی دہائی میں ان کے چراغوں کی روشنی مدہم پڑنے لگی۔
آج کی نوجوان تحریکیں عرب بہار سے لیکر بنگلہ دیش‘ نیپال‘ جہاں اس نے کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے ‘ اب کاکروچ جنتا پارٹی کی صورت میں آپ بھارت کے شہروں میں پھیلتی دیکھ رہے ہیں۔ یہ کہنا تو مشکل ہے کہ اتنی بڑی ریاست میں کوئی بہت بڑی تبدیلی وہ لا سکیں گے مگر سرمایہ داری نظام کے ساتھ کرپشن بھی ہو‘ انتخابات میں دھاندلی کا رواج بھی رکھا جائے اور ایک طبقے کی مذہبی جنونیت اور تشدد کی کہانیاں بھی آسمان کو چھو رہی ہوں تو شاید کوئی بھی طاقتور چین سے نہ سو سکے۔ عرب بہار کے علاوہ ہمارے غیر عرب پڑوسی ممالک میں اٹھنے والی نوجوانوں کی تحریکوں کو کچل دیا گیا۔ ہم اپنی بات نہیں کرتے‘ اور نہ ہی کرنے کی ضرورت ہے۔ یہاں چونکہ سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے‘ سب کچھ کنٹرول میں ہے‘ کہیں بھی کوئی سڑکوں پہ نہیں نکل رہا تو راوی سب چین نہیں لکھے گا تو کیا لکھے گا؟ پہلے ایک نکتہ چھوڑا تھا کہ ہمارے بڑے مبصرین اور مفکرین نوجوانوں کے بارے میں کچھ زیادہ بات نہیں کرتے۔ وجہ خوف ہے کہ کہیں بھڑوں کا یہ چھتّا عذاب نہ بن جائے۔ چلو انہیں لیپ ٹاپ وغیرہ تقسیم کرتے ہیں اور جامعات کو کہتے ہیں کہ ان کی سیر وتفریح کا بندوبست کریں۔ بھڑوں کا چھتّا اپنے جسم و روح کا رشتہ قائم رکھ کر آرام میں رہے گا‘ اور ہم بھی۔ اصل صورتحال کچھ مختلف ہے۔ امریکی جامعات سے لے کر ہر یورپی ملک کی جامعات تک نوجوان غزہ میں نسل کشی‘ ایران کے خلاف اسرائیلی اور امریکی جنگ‘ نسلی امتیاز اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات کے خلاف مظاہرے کرتے رہے ہیں۔ خاموش اب بھی نہیں‘ دنیا میں کہیں بھی نہیں۔ جنگل میں کام کرتے ہوئے مجھے بھڑوں سے واسطہ پڑتا ہے ۔ ایک ہفتہ پہلے ان کا حملہ ناکام کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔ چھوٹے چھتے کا حجم بڑھتا رہتا ہے‘ ایک کے بعد دوسرا اور تیسرا اور پھر دیکھا کہ جنگل کا ایک حصہ ان کے قبضے میں آ چکا ہے۔ نوجوان بیداری کی تحریکوں کی صورتحال بھی ایسی ہی ہے۔ بات نظام میں انصاف‘ قانون کی حکمرانی اور استحکام اور عدم مساوات کے خاتمے کی ہے‘ ورنہ بڑے لوگ خوف میں رہیں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...