کبھی سوچا ہے کہ آخر درجنوں مسلم اکثریتی ممالک میں‘ آج کے دور میں خفیہ اور اعلانیہ خانہ جنگیوں‘ باہمی کشمکش‘ تفرقہ بازی اور لسانی بنیادوں پر عسکریت پسندی کی آگ کیوں بھڑک رہی ہے؟ اپنے ہی قریبی خطے میں وہ ممالک جنہیں ہم امتِ مسلمہ کہتے ہیں‘ ایک دوسرے پر تباہ کن بمباری کیوں کر رہے ہیں؟ کس کس ملک کی بات کروں کہ جہاں ظاہری طور پر حالات کچھ قابومیں نظر آتے ہیں‘ وہاں بھی بے چینی کا طوفان برپا ہونے کا اندیشہ ہے۔ عصرِ حاضر میں کہ جب دنیا سائنس اور ٹیکنالوجی‘ تعلیم اور معاشی ترقی کے میدانوں میں نئی دنیائیں دریافت کرکے اپنے آپ کو آباد کر رہی ہے‘ ہم کیوں اپنے آپ کو تباہی کی طرف مسلسل دھکیلنے پر تلے ہوئے ہیں۔ یہ صرف ایک ملک کا معاملہ نہیں‘ ایک ایسی تہذیب سے جڑے سب ممالک کا ہے‘ جس میں دو انسانوں کے درمیان پہلا کلام سلام اور سلامتی ہوتا ہے۔ کاش اس بنیادی فلسفے کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے مستحکم سیاسی نظام کی بنیاد رکھتے۔ پہلے تو دیکھیں کہ ہو کیا رہا ہے اور صدیوں سے یہی کچھ ہم اپنی تاریخ میں کیوں ہوتا دیکھتے آئے ہیں۔ بات بہت سادہ سی ہے کہ جن قوموں نے جائز حکومت بنانے‘ اُسے جائز اور پُرامن طریق سے تبدیل کرنے کا ہنر سیکھ لیا‘ انہی قوموں کے مقدر میں طاقت‘ خوشحالی‘ امن وسلامتی اور جدید تعلیم کی روشنی آئی ہے۔ مضمون لکھتے وقت میرے ذہن میں پہلا خیال افغانستان کی طرف گیا، اس کے بعد ایران‘ وسطی ایشیا‘ مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کی طرف چلا گیا۔ اپنی بات آپ کے قیاس اور خیالوں پر چھوڑ دیتے ہیں مگر روزانہ کی بنیاد پر قتل وغارت‘ انصاف اور قانون کے اداروں پر اٹھتے غم وغصہ کے اظہار کی خبریں دیکھ کر دل کڑھتا ہے۔ نظر کراچی میں ہونے والے تازہ واقعات کی طرف جاتی ہے جہاں ایک ہی خاندان کی حکومت عشروں سے قائم ہے۔ خیر آپ گھبرائیں نہیں‘ ملک مضبوط ہاتھوں میں ہے‘ سب ٹھیک ہو جائے گا۔
زوال کے اصل اسباب میرے نزدیک دو ہیں ۔ ایک کی طرف سے پہلا اشارہ کر چکا ہوں کہ سیاسی جائزیت کا قیام اور پُرامن انتقالِ اقتدار کا طریقہ کار جس کی بنیاد عوام کا حقِ رائے دہی ہے۔ اس کے علاوہ آپ جس بھی طریقہ کار کی بات کریں‘ جائزیت اور پُرامن کے معیار پر پورا نہیں اترے گا۔ دوسرا سبب جمہوریت کی نفی میں پنہاں ہے‘ کہ اگر آپ اکثریت کی رائے کا احترام نہیں کرتے تو تشدد‘ زور آزمائی‘ دھونس اور دھاندلی پر انحصار کرتے ہیں۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب مغرب میں روشن خیالی کی لہر ابھری‘ جس کی بنیاد انسانی سوچ‘ اس کی رائے‘ اہمیت‘ حقوق اور جوابدہ حکومت تھی‘ مسلم سلطنتوں میں بیٹا باپ کو‘ باپ بیٹوں کو اور بھائی بھائیوں کو قتل کرکے تخت و تاج سنبھالتے تھے۔ کوئی شک ہے تو اس وقت کی تین بڑی مسلم سلطنتوں کے حالات اٹھا کر دیکھ لیں؛ مغل‘ ایران اور سلطنت عثمانیہ۔ مغرب میں بھی بادشاہتیں تھیں مگر اُن کے خلاف جدوجہد ہوئی‘ بہت خون خرابہ ہوا‘ جیسے انقلابِ فرانس‘ اور ایک طویل معاشرتی بحث شروع ہوئی کہ کس طرح جائزیت اور پُرامن انتقالِ اقتدار کے اصول وضع کیے جائیں۔ جلد یا بدیر‘ رضا مندی یا دبائو‘ مجبوری یا رعایت‘ جو بھی کہیں اصلاحات ہوئیں‘ پھر امن اور استحکام کے ساتھ ترقی کی منازل طے ہونے لگیں۔ اُس دور میں مسلم سلطنتوں میں بھی اصلاحات کی بات کرنے والوں کی کمی نہ تھی مگر خوف کے پہرے اتنے سخت تھے کہ ان کی آوازیں جبر کے غاروں میں دب کر رہ گئیں۔ تمام طاقت مخالفین کو کچلنے میں صرف ہوتی۔ تاریخ کے قارئین کو اورنگزیب کے بارے میں معلوم ہوگا کہ 27 سال تک وہ مرہٹوں کے خلاف دکن میں لڑتا رہا اور وہیں وفات پائی۔ یہاں ہم ان کے بھائیوں کی بات نہیں کرتے‘خصوصاً دارا شکوہ کی۔ مؤرخ اس بات پر متفق ہیں کہ اگر دارا شکوہ اورنگزیب کے خلاف اپنی مہم میں کامیاب ہو جاتا توآج جنوبی ایشیا کی تاریخ‘ سیاست اور جغرافیائی نقشہ بہت مختلف ہوتے۔ برطانیہ کی ایسٹ انڈیا کمپنی کی بنیاد سولہویں صدی کے آخری دن‘ 31 دسمبر 1600ء کو رکھی گئی تھی اور سات سالوں میں اس نے سورت میں اپنا کاروبار شروع کر دیا تھا۔
سوچتا ہوں اگر امریکہ اور برطانیہ ایران میں مداخلت کرکے 1953ء میں ڈاکٹر مصدق کی حکومت ختم نہ کرتے تو آج مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ مختلف ہوتا۔ خیر شہنشاہ رضا پہلوی کو ہٹانے کی تحریک میں مصدق کا نیشنل فرنٹ پیش پیش تھا۔ انقلاب کے بعد مصدق پارٹی کے ابوالحسن بنی صدر ہی پہلے صدر منتخب ہوئے‘ مہدی بازرگان پہلے عبوری وزیر اعظم اور کریم سنجابی کچھ دیر کیلئے وزیر خارجہ بنے۔ موجودہ حالات پر کچھ زیادہ لکھنے کو جی نہیں چاہتاکہ پھر کیا ہوا۔ ایرانی انقلاب کو ہم نے کامیاب ہوتے قریب سے دیکھا اور اُس کے خلاف پورے خطے میں مخالفت بھی‘ جو ایران عراق جنگ کی صورت اختیار کر گئی۔ ایران کا انقلاب اور طرزِ حکومت ایک طبقے کیلئے تو ابھی تک مثالی ہے مگر دیگر مسلم ممالک کیلئے وہ مثال نہیں بن سکا۔ اگر بنا ہے تو افغانستان کیلئے جہاں امیر المومنین‘ سپریم لیڈر کی صورت‘ قندھار سے ملک چلا رہے ہیں۔ افغانستان کا بگاڑ بھی اندرونی کشمکش‘ اقتدار کی جنگ اور اُس کیلئے بیرونی طاقتو ں کی اعانت حاصل کرنے کی دوڑ سے پیدا ہوا۔ میرے خیال میں مصدق کے دور کی طرح افغانستان کے آج کے حالات اور اس خطے کی سلامتی بالکل مختلف ہوتی اگر 1964ء کے آئین کے مطابق‘ جس کے تحت دو انتخابات ہوئے، مجلس بنی اور بڑی حد تک اظہار کی آزادی تھی‘ آگے بڑھتے رہتے۔ سردار دائود نے وہی کیا جو بارکزئیوں نے محمد زئیوں کے ساتھ کیا تھا‘ جنہوں نے موجودہ افغانستان کی ریاست کی بنیاد رکھی تھی۔ نصف صدی کے بعد آج کا افغانستان دیکھیں کہ کہاں کھڑا ہے! تنہا‘ غربت کا شکار اور ایک اور خانہ جنگی کے دہانے پر۔ طاقت کے زور پر جو اقتدار میں آتے ہیں‘ انہیں اسی کے زور پر رخصت کیا جاتا ہے۔
کچھ اور مثالیں بھی آپ کے سامنے ہیں ۔ لیبیا میں کرنل قذافی کبھی گرجتے برستے تھے۔ سوڈان‘ یمن‘ صومالیہ‘ شام اور لبنان کے المیے کی کیا بات کریں کہ وہ بھی تقسیم ہیں اور جن بنیادوں پر ہیں وہ ہمارے زوال کے اسباب میں سے ہیں۔ پھر آپ کی توجہ اس سادہ سے اصول کی طرف دلاتا ہوں کہ عوام کی منشا کے مطابق آئین کے تحت حکومت قائم ہو اور آزادانہ شفاف انتخابات میں اسے تبدیل کرنے کا واضح طریقہ کار ہو۔ گزشتہ دس برسوں میں برطانیہ میں سات وزیراعظم تبدیل ہوئے ہیں‘ان میں سے چھ اپنی پارٹی نے بدلے ہیں ۔ ملک میں کوئی بھونچال آیا نہ بحران۔ 10 ڈائوننگ سٹریٹ سے ایک رخصت ہوتا ہے تو اس کی جگہ اگلے دن کوئی اور چنا جاتا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ زیادہ تر مسلم ممالک میں آج بھی فاتح کا تصور غالب ہے۔ جس کسی نے افغانستان‘ لیبیا‘ شام‘ سوڈان اور یمن فتح کر لیے‘ ملک اُسی کا ہے۔ یہاں دربار فاتحین کا ہی معتبر ہے کہ کیسے کیسے قصیدے نہیں لکھے اور کہے جاتے۔ مغرب بھی آپ کو یہی کہتا ہے کہ آپ کے معاشرے اپنی تاریخی اور ثقافتی روایت کے اعتبار سے جمہوریت پسند نہیں‘ نہ ہی وہ انسانی‘ صنفی اور مذہبی مساوات کے قائل ہیں ۔ ہم نے اپنی پوری زندگی آپ کے سامنے یہ ثابت کرنے میں لگا دی ہے کہ یہ شرق شناسی محض تعصب کے سوا اور کچھ نہیں‘ مگر جب ہم اپنی سیاسی تاریخ کو دیکھتے ہیں‘ حالات کی طرف نظر دوڑاتے ہیں اور مختلف ممالک میں جاری خلفشار اور لڑائیوں کی طرف دھیان جاتا ہے مگر اس بے بسی پر اب رونا چھوڑ دیا ہے۔ معاف کرنا‘ آج کچھ تلخ نوائی کی طرف طبیعت ہو گئی۔ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔ مجھے تو جنگوں‘ خون خرابے اور کرپشن سے خوف آتا ہے کہ اب ان کے تانے بانے بُنے ہوئے ہیں۔ جائزیت حصولِ اقتدار تک محدود نہیں ‘ یہ زندگی کے ہر شعبے کا احاطہ کرتی ہے۔ اگر اصلاح نہیں تو پھر ایسے ملکوں میں فساد اور تباہی ہی دیکھیں گے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments