"RBC" (space) message & send to 7575

آم، آمدنی اور عدالت

ہمارے نزدیک جس نے اپنے ملک کے آم نہیں کھائے اس کا نام دنیا کے خوش بخت لوگوں کی فہرست میں شامل کرنے کیلئے کوئی تیار نہیں ہو گا۔ ہم جیسے درویش کچھ زیادہ خوش قسمت ہیں کہ کبھی کبھار آموں کے گھنے جھنڈ کے اندر کچھ وقت گزارنے‘ صبح و شام ٹہلنے اور فرصت ہو تو رات بسر کرنے کا بھی بندوبست کر لیتے ہیں۔ اگرچہ ہماری آم کھانے کی عادت وہ کبھی نہیں رہی جو ہمارے خطے کے سب سے بڑے آم شناس‘ اسد اللہ خاں غالب کی تھی۔ ہم زیادہ تر آموں کو درختوں کی ٹہنیوں کے ساتھ پیوستہ دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ ہم جیسے کاشتکاروں کی توجہ پورا سال پیڑوں پر رہتی ہے۔ جنوبی پنجاب میں‘ جہاں آموں کے باغ صوبے کے دیگر حصوں کی نسبت کئی گنا زیادہ ہیں‘ وہاں کہاوت مشہور ہے کہ آموں کے درختوں کو بچوں کی طرح پالنا پڑتا ہے۔ فرق یہاں یہ ہے کہ انسانوں کے بچے تو جوان ہو کر اپنا کہیں گھر بسا لیتے ہیں اور والدین کی ذمہ داریاں ختم یا کم ہو جاتی ہیں۔ آموں کے پیڑوں کے بارے میں یہ نہیں کہہ سکتے۔ سارا سال ان پر نظر رکھنا پڑتی ہے۔ آج کل جب پھل اتارا جا چکا ہے اور سیزن آخری دنوں پر ہے‘ آم کے باغوں کی صفائی کا مرحلہ شروع ہو جائے گا۔ کچھ کھاد‘ خوراک کا بندوبست اور گرم علاقوں میں تقریباً ہر دو ہفتے بعد‘ یا اس سے بھی زیادہ‘ پانی دینا پڑتا ہے۔ ٹھنڈ پڑتے ہی کچھ سپرے اور کچھ محنت کے بعد ہم امیدِ بہار آنکھوں میں سجائے اگلے سال فروری کا انتظار کریں گے۔ عرض یہ ہے کہ درجۂ حرارت بڑھنے اور موسمی تبدیلیوں کے حوالے سے جن علاقوں پر سب سے زیادہ منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں‘ ہمارا ملک ان میں سب سے نمایاں ہے۔
جب پتلی شاخوں میں خوابیدہ کلیاں پھولوں کی صورت میں اپنی آمد کا آہستہ آہستہ اعلان شوخی کے ساتھ کرتی ہیں تو موسم کے ستائے کسانوں کے دلوں کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں۔ پھول نکلنے کے بعد اگر سردی کی کوئی نئی لہر آ گئی تو یوں سمجھیں کہ باغ آگ میں بھسم ہو گیا۔ کئی بار ایسا ہو چکا ہے۔ درختوں کے اندر چھپے کچھ پھول کچھ دیر بعد کلیوں کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ اگر سردی کی کوئی اور لہر آ جائے یا گرمی کا موسم کچھ وقت پہلے آ جائے تو یہ پھول کلیاں بھی خدا حافظ کہہ کر زمین پر گر جاتے ہیں۔ آم تو ہوں گے‘ مگر ان کو دیکھنے اور تلاش کرنے کے لیے تیز نظر رکھنے والے لوگوں کی خدمات حاصل کرنا ہوں گی۔ اگر موسم نے ساتھ دیا اور باغ آموں سے بھر گیا تو اگلا سامنا آندھیوں کا کرنا ہوتا ہے۔ وہ باغوں کو ایسے جھنجھوڑتی ہیں جیسے کوئی جن انسان کو پکڑ لے اور اسے ہلا ہلا کر ہلکان کر دے۔ ہم قسمت کے مارے‘ آموں کے باغوں کے شوقین‘ ہر صبح گرے ہوئے آموں کی بوریاں بھرنے کے لیے بھی مزدور لگاتے ہیں۔ کچے قلمی آموں کا اچار بھی نہیں بنا سکتے۔ میں لوگوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ کچے آموں کو سبزی کے ساتھ پکا کر کھائیں‘ لیکن یہ گوشت خور قوم اس طرف دھیان نہیں دیتی۔ آندھیوں سے بچتے بچاتے کچھ آم درختوں پر اگر ٹک گئے ہوں تو ٹھیکے دار دو دو‘ تین تین کی ٹولیوں میں پھل کا جائزہ لیتے ہیں۔ چکر لگانے کے بعد اس سرد مہری سے رخصت ہوتے ہیں کہ اس سے زیادہ بدحال باغ انہوں نے آج تک نہیں دیکھا۔ ان کی اپنی دنیا ہے۔ بھائی بندی اور رازداری سے کام کرتے ہیں اور ہم ان کے سامنے بے بس ہیں۔ ہمیں مارکیٹ ویلیو کا شاید پانچواں‘ چھٹا حصہ مل جائے تو شکر کرتے ہیں کہ پہلے جو سارا سال خرچ کیا وہ تو نکلے‘ اور اگلے سال کے لیے امیدِ بہار کا سہارا ہو جائے۔ کچھ اور باتیں کروں تو دل گہرے زخم کی طرح دکھنا شروع ہو جاتا ہے۔ باغ فروخت کرتے وقت ہم طے کر لیتے ہیں کہ خاص مقدار میں ہمیں آم اسی طرح باکس میں بند کر کے دیں گے جس طرح وہ مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں۔ ہمارے ان مہربانوں میں سے آج تک کوئی ایسا معقول آدمی نہیں ملا جو کچھ اچھی نسل کے آموں پر ہمارا بھی نام لکھ دے۔ گزشتہ سال تو اپنے باغ کا ایک آم بھی نصیب نہ ہوا۔ اس سال کچھ ملا اور دو چار دانے اپنے حصے میں آئے تو شکر ادا کیا۔
جو درخت کسی زمانے میں بہت محبت کے ساتھ لگائے تھے وہ اپنی محبت لوٹا رہے ہیں۔ آم کھانے میں شاید نہیں مگر درختوں کے ساتھ انہیں لگا دیکھنا دیرینہ اور گہرا شوق ہے۔ نئی قسموں کو علاقے کی نرسریوں میں دور دور تک تلاش کرنا‘ زمین میں لگانا اور ہر روز دعاؤں میں یاد رکھنا اب بھی جاری ہے۔ کچھ لوگ تو طنز کرتے اور ہلکی پھلکی ہنسی بھی اپنے ہونٹوں پر بکھیرتے ہیں کہ بابا جو پودا لگا رہا ہے‘ اس کا پھل کب کھائے گا؟ یقین جانیے مجھے ان لوگوں کے تاثرات دیکھ کر انتہائی مسرت کا احساس ہوتا ہے۔ انہیں کیا سمجھاؤں کہ زندگی کا ہر سانس امید کے ساتھ جڑا ہونا چاہیے۔ جب یہ دولت آپ کے دل اور دماغ سے نکل گئی تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ زندہ ہیں یا اگلے جہان رخصت ہو گئے ہیں۔ کچھ قریبی دوست بھی فقرہ کس دیتے ہیں کہ چھوڑو! یہ بھی کوئی کام ہے‘ اب آرام کرو۔ ہمیں تو دل کا آرام چاہیے‘ جو درخت لگانے‘ ان کی نگہداشت کرنے‘ سائے میں کرسی ڈال کر کافی کی چسکی لینے اور سامنے درختوں پر پرندوں کی چہکار سے ملتا ہے۔
آموں کے باغ اور ان کے لیے زمین کی خریداری کی منصوبہ بندی تقریباً نصف صدی پہلے اس غرض سے کی تھی کہ نوکری کا عرصہ مکمل کرنے کے بعد معقول معاشی وسائل حاصل ہوں گے۔ کبھی کوئی محتاجی تھی نہ ہے‘ سب کچھ ضرورت سے کہیں زیادہ میسر ہے۔ آموں کے درختوں سے محبت اور باغ لگانے کے شوق میں اتنے سال گزارنے کے بعد میرا زراعت کے بارے میں نظریہ جدید ہونے کے بجائے قدیم بلکہ قدامت پسند ہو گیا ہے۔ میں اسے سرمایہ کاری سمجھتا ہوں‘ نہ اس سے بڑی دولت کمانے کی فکر ہے۔ درخت اپنی رونقیں دکھاتے رہیں‘ اور آپ آزادی کے ساتھ جہاں چاہیں کرسی ڈال کر باغ کے ماحول‘ اس کے اندر کیڑے مکوڑوں اور پرندوں کا مشاہدہ کریں تو اس آمدنی کا آپ سرمایہ داری نظام کے حوالے سے تعین نہیں کر سکتے۔ اس کے لیے صرف ایک ہی معیار ہے اور وہ بھوٹان کے بادشاہ کا تصور ہے: آمدنی کی اصل صورت تو خوشی ہے‘ اگر یہ نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ ہمارے جیسے باغوں کے کاشتکار اب اس نفسیاتی اطمینان‘ سفرِشوق کی مستی‘ فطرت پسندی اور پرانی روایت کو نبھانے ہی کو سب سے بڑی آمدنی خیال کرتے ہیں۔ ہم بھی پُرامید ہیں مگر ہماری اس آمدنی کو آپ اپنے سرمایہ داری نظام کے پیمانوں سے ہرگز نہیں ناپ سکتے۔ آم اور دیگر پھلوں اور اجناس کے بارے میں میری گزارش ہے کہ ایک ایک دانہ اگانے میں ہمارا خون پسینہ‘ دستیاب سرمایہ اور پورے سال کی نگرانی شامل ہوتی ہے۔ ہمارے لوگوں کو ان نعمتوں کی قدر نہیں۔ جب لوگوں کو روٹیاں چیرتے پھاڑتے‘ ٹکڑے ادھر اُدھر پھینکتے اور خصوصاً آموں کو وحشی انداز میں کھاتے دیکھتا ہوں تو ماؤزے تنگ کے آموں والا قصہ یاد آ جاتا ہے۔ کبھی ایک تفصیلی مضمون آپ کی نذر کیا تھا۔ پاکستان کی طرف سے تحفے میں دیے گئے یہ آم ماؤزے تنگ نے قربانی کے جذبے کے تحت پاسدارانِ انقلاب کے حوالے کیے۔ انہوں نے مختلف شہروں اور دیہات میں ٹوکریوں میں نمونے کے آم رکھ کر جلوس نکالے۔ ان کے ساتھ ان کے حصے میں جو ایک ایک آم آیا ہوتا‘ اسے پانی میں ڈال کر محلول تیار کرتے جسے ثواب کے طور پر تقسیم کرتے۔ جب ایک میڈیکل ڈاکٹر نے پھبتی کسی تو وہیں پر عدالت لگی اور اسے پھانسی کی سزا سنا دی گئی۔ ہم تو عدالتوں سے ویسے ہی دور رہتے ہیں۔ آموں کی بے حرمتی کرنے والوں کا کیا بگاڑ سکتے ہیں!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...