"RBC" (space) message & send to 7575

بے یقینی کی رات

خبریں تو آپ سنتے اور دیکھتے ہی ہیں‘ اور اگر گھر پر اخبار خرید کر پڑھنے کا شوق ہے تو پڑھ بھی رہے ہوں گے۔ اگر آپ فکرمند ہیں تو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں کہ ہمارے سیاسی موسم کا حال تقریباً موسمِ برسات کی رنگ ڈھنگ بدلتی گھٹائوں سے ملتا جلتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے بادل چھا جاتے ہیں‘ ماحول تاریک سا ہو جاتا ہے اور پھر بارش۔ اگر موسم کا دل نہ کرے تو بادلوں کی کچھ ہلچل دکھاکر کے سورج کی حدت کو پوری آب وتاب کے ساتھ کھول دیتا ہے۔ ہمارا گمان تو یہی رہا ہے‘ اور اب بھی ہے کہ جاتی برسات کے رنگ تو جلد رخصت ہوں گے اور ہم‘ زندگی باقی رہی تو نئے موسم کا نظارہ بھی کریں گے۔ لیکن سیاسی موسم کے بدلنے کے فی الحال امکانات نظر نہیں آتے۔ اس کی بہار‘ جو تقریباً چار سال سے قائم ہے‘ اس سے قربت رکھنے والے کسی اور موسم کے بارے میں سوچ ہی نہیں سکتے۔
سیاسی بہار کا موسم ہو تو سب حکمران طبقات خوش رہتے ہیں‘ بلکہ نہال ہوتے ہیں۔ اس خوشی میں تو ایک نہال کو سندھ کا گورنر بنا دیا ہے تاکہ خوشیاں دور دور تک بانٹی جائیں‘ لیکن اس احتیاط کے ساتھ کہ دائرے سے باہر نہ نکلنے پائیں۔ صرف اپنے گمان کی بات کی ہے کہ ہم اور آپ سیاسی بہار کے علاوہ کسی اور موسم کی تمنا چھوڑ دیں۔ مگر ان کا کیا کریں جو خواب دیکھتے رہتے ہیں؟ وہ تو اپنے خوابوں کے پیچھے بھاگ دوڑ کرتے رہیں گے۔ خوابوں کی دنیا تو دلوں‘ خیالوں اور آنکھوں میں بستی ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں طاقت کا گزر نہیں ہوتا۔ وہ شام‘ جس کا ذکر کیا ہے‘ اس دن کچھ لوگوں نے ایک بار پھر خوابوں کے سمندر میں ڈبکیاں لگانا شروع کر دی تھیں۔ آٹھ بجے کے سیاسی پروگراموں میں تبصرے پہ تبصرے ہو رہے تھے کہ عدالتِ عظمیٰ نے بانی پی ٹی آئی کو 48 گھنٹوں کے اندر ایک نجی ہسپتال میں داخل کرانے‘ ان کے خصوصی معالجوں کو ساتھ رہنے اور خاندان کے افراد سے ملاقات کے علاوہ برطانیہ میں مقیم بچوں سے ہفتے میں دو بار بات کرانے کا حکم دے کر سیاسی فضا میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی راہ کھول دی ہے۔ اس شام کچھ اینکروں کا جذبہ قابلِ دید وشنید تھا کہ وہ اپنے پروگراموں میں تسلسل سے اس بات پر زور دیتے آئے تھے کہ جس طرح کے داخلی اور خارجی حالات کا ہمیں سامنا ہے اس کے پیشِ نظر ضروری ہے کہ سب سیاسی طاقتوں کو اکٹھا کیا جائے۔ اس پس منظر میں یہ بات ہوتی رہی کہ جب تنظیمِ نو کا فیصلہ کر لیا ہے تو اسے قومی اتفاقِ رائے سے کیا جانا ضروری ہے۔ اس بات پر بھی زور رہا کہ ایسا کرنے کے لیے ملک کی سب سے بڑی پارٹی کو قومی دھارے میں لائے بغیر بات ادھوری رہے گی۔ کچھ وفاقی وزرا کے مثبت بیانات بھی آئے کہ اچھا فیصلہ ہے‘ علاج بانی کی مرضی کے مطابق کرایا جائے گا اور حکومت عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کی پابند ہے۔ ابھی تحریری فیصلے کی سیاہی خشک بھی نہیں ہوئی تھی‘ پروگرام بھی جاری تھے کہ تازہ خبریں چلنا شروع ہو گئیں کہ حکومت ہدایت کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرے گی کہ اس نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔ آپس کی بات ہے کہ عدالتوں کے بارے میں وزرا کی طرف سے صرف ہمارے ملک میں ہی یہ بات کی جا سکتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے اینکر اس تازہ خبر کے برعکس دوسری تازہ خبر پر زیادہ توجہ دے رہے تھے اور اسے باوثوق ذرائع سے جوڑا جا رہا تھا۔ خبر یہ تھی کہ اسلام آباد انتظامیہ کے اعلیٰ ترین کارندے متعلقہ ہسپتال میں پہنچ چکے ہیں‘ سکیورٹی کے تمام انتظامات مکمل ہیں اور رات 12 بجے تک قیدی کو وہاں منتقل کر دیا جائے گا۔ہمارا تعلق ابھی تک اُس قبیلے سے ہے جن کی روشنی رات نو بجے کے قریب مدہم ہونا شروع ہو جاتی ہے‘ اس وقت ہم کسی اور دنیا میں کھو جاتے ہیں۔ صبح جلی سرخیاں لگیں‘ خبر یہ تھی کہ اُسی نجی ہسپتال میں رات میں قیدی کو داخل کرا دیا گیا تھا۔ گزشتہ شام تک عام تاثر یہ تھا کہ بانی کے معاملات طے ہو چکے ہیں‘ اس لیے تو یہ ریلیف ملا ہے۔ کچھ تو دور کی کوڑی لانے میں عجلت سے کام لے رہے تھے کہ چونکہ دو بڑے سیاسی خاندان ریاستی تنظیمِ نو کے لیے مقتدرہ کا ساتھ نہیں دے رہے اس لیے ایک بار پھر تیسری طاقت کی طرف رجوع کیا جا رہا ہے۔ ایک مؤقف یہ بھی تھا کہ یہ ریلیف ان خاندانوں کو دبائو میں لا کر وہ آئینی ترمیم کرانے کا حربہ ہے جس کے بارے میں سب کہہ رہے ہیں کہ اب آئی کہ آئی‘ مگر کسی کو معلوم نہیں وہ کیا ہے‘ کب آئے گی اور کون لائے گا اور یہ کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔
جونہی اسلام آباد میں صبح کی بارش کے بعد مطلع صاف ہونا شروع ہوا‘ خبروں کا رخ بھی تبدیل ہو گیا۔ معلوم ہوا کہ بانی پی ٹی آئی نجی ہسپتال میں تو لائے ہی نہیں گئے۔ سرکاری ہسپتال میں ایک گھنٹہ قیام کے بعد واپس اسی جگہ جہاں وہ تین سال سے بقول کچھ سرکاری خواتین وحضرات کے‘ عیش وآرام کی زندگی گزار رہے ہیں‘ واپس لے جائے گئے۔ ہسپتال منتقلی کا عدالتی فیصلہ اگلے دن عالمی میڈیا پر بڑی خبر بن کر چھایا رہا۔ پھر اس کے بعد اچانک خاموشی تو طاری ہو گئی مگر وہ بھی معنی خیز ہے اور اس پر بھی کہیں نہ کہیں بات ہوتی رہے گی۔
ہمارا قیاس ابھی تک تو یہی ہے کہ سیاسی موسم کے بدلنے کا کوئی امکان نہیں اور نہ ہی کوئی اس بارے میں سوچ رہا ہے۔ عدالت کا متفقہ فیصلہ اس کی آزاد رائے معلوم ہوتی ہے۔ اس کے بعد تو یہی لگ رہا ہے کہ جس طرح ماضی میں عدالتوں کا احترام روا رکھا گیا ہے اسی طرح کا احترام اس فیصلے کے حوالے سے بھی دیکھیں گے۔ معاملات تو سیاسی ہیں اور ہمارے اہلِ سیاست نسل در نسل‘ ان کو بات چیت‘ افہام و تفہیم اور جمہوری روح کے مطابق حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس ناکامی میں سب بڑے بڑے نام شامل ہیں۔ طاقت کے گھمنڈ کے ہم نے کئی ادوار دیکھے ہیں کہ جن کے پاس اقتدار آیا انہوں نے مخالفین کے ساتھ وہ کچھ کیا جس کی کم از کم آئینی‘ قانونی اور جمہوری روایات اجازت نہیں دیتیں۔ اس ایک شب کی کارروائی سے ایک اہم نتیجہ جو یہ درویش نکال سکا وہ یہ ہے کہ مبصرین کی واضح اکثریت ملک میں عدمِ استحکام‘ بے یقینی‘ منافرت اور مخالفت کو ختم کرنے کی حامی ہے۔ اس لیے جب بھی امید کی ایسی کرن کہیں سے نمودار ہوتی ہے اس کی طرف ان کا پورا دھیان گھوم جاتا ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ داخلی حالات کے بارے میں کناروں سے جو خبریں روزانہ آتی ہیں‘ معیشت کی زبوں حالی‘ غربت‘ کرپشن اور گورننس کے معاملات سے لوگ پریشان ہیں۔ تقریریں وعدے اعتماد کھو چکے ہیں۔ ٹیلی ویژن ڈرامے کی شوقین قوم‘ جن کی ذہن سازی ایک اور دور میں ہوئی تھی‘ اب بھی اسی شوق میں مست ہے۔ ہم بھی ایک زمانے میں یہ دیکھا کرتے تھے مگر اب ڈراموں اور ڈرامہ بازیوں سے دل بھر سا گیا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...