"RBC" (space) message & send to 7575

یہ بھی انسان ہیں

دھتکارے ہوئے لوگوں کو کئی رنگوں میں اور کئی جگہوں پر دیکھتا ہوں تو دل کڑھتا ہے اور ساتھ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ آپ بھی انہیں ادھر اُدھر گھومتے‘ قبرستانوں میں پڑے‘ چوراہوں اور بازاروں میں مانگتے اور خصوصاً پارکوں میں پڑے دیکھتے ہوں گے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے ایک قریبی پارک میں صبح سویرے سیر کے لیے جانا روز کا معمول ہے۔ کئی سالوں سے دیکھ رہا ہوں کہ نشے کے عادی افراد‘ جن میں مرد اور عورتیں دونوں شامل ہیں‘ کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ کوڑے کرکٹ کا انبار لگائے‘ کچھ تو بنچوں پر گھوڑے بیچ کر سو رہے ہوتے ہیں‘ لیکن زیادہ تر چار پانچ کی ٹولیوں میں جھاڑیوں میں چوکڑی مارے یا راستوں کے قریب درختوں کے ساتھ‘ سورج نکلنے سے بھی پہلے‘ آگ جلائے‘ سگریٹوں میں سفید رنگ کا سفوف بھر کر کش لگا رہے ہوتے ہیں۔ بعض اوقات کوئی اکیلا شخص اس معمول کی کارروائی میں مصروف نظر آتا ہے۔ اکثریت ان میں نوجوانوں کی ہے‘ کچھ پکی عمر کے بھی ہیں۔ ان کے بدن اور کپڑوں کی بدبو وہاں چلنے پھرنے والے دور تک محسوس کر سکتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مہینوں تک نہ وہ کپڑے دھو تے ہیں اور نہ نہانے کی زحمت گوارا کرتے ہیں۔ پارکوں کے کونوں میں جو غلاظت‘ گندگی اور تعفن ہے‘ اس کا ذکر نہ ہی کریں تو بہتر ہے۔ یہ اسلام آباد کی بات کر رہا ہوں جسے اہلِ اقتدار خوبصورت کہہ کر کالونیوں پر کالونیاں پھیلائے جا رہے ہیں۔ صبح ہوتے ہی چند ایک کہیں سے وارد ہوتے جاتے ہیں۔ اُن کے ساتھ چھوٹے بچے بھی ہوتے ہیں۔ تقریباً یہ سب لوگ بے گھر ہیں۔ جہاں جگہ ملے سو جاتے ہیں۔ دن بھر بھیک مانگتے رہتے ہیں تاکہ نشے کے لوازمات خرید کیے جائیں۔
ہمارا تھوڑا مشاہدہ ہے مگر زیادہ تر دیہات میں لوگوں سے بات کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نشے کی عادت دور دراز کے علاقوں تک پھیل چکی ہے۔ شاید ہی کوئی چھوٹا قصبہ یا گائوں رہ گیا ہو جہاں تک منشیات فروشوں کی رسائی نہ ہو۔ عجیب بات ہے کہ دیہات میں عام آدمی کو بھی پتا ہے کہ اس دھندے میں کون ملوث ہے اور ان کا کون سرپرست ہے مگر پولیس کو کچھ معلوم نہیں ہوتا۔ یا دوسرے معنوں میں‘ اس بے خبری کے کچھ فوائد ہو سکتے ہیں۔ شہروں میں تو پنکی‘ پنکو‘ رنگو‘ ڈھگو کام کرتے ہیں اور ان کے ہاتھ لمبے اور جیبیں گہری ہوتی ہیں۔ حکومتیں بدلیں‘ وزرائے اعظم آئیں جائیں‘ جمہوریت ہو یا کوئی اور نظام‘ اور بازاروں میں کاروبار ماند پڑے یا چمکے‘ منشیات فروشی کا دھندا دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے۔ اس وقت تقریباً 70 سے 80 لاکھ کے قریب منشیات کے عادی لوگوں کی تعداد کا تخمینہ ہے‘ جس میں ہر سال 40 ہزار کا اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ تعداد کُل آبادی کا کوئی چھ فیصد ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ خیبر پختونخوا میں ہے جہاں 11 فیصد کے قریب نشے کے عادی ہیں۔ جو آنکھوں دیکھا حال دہائیوں پہلے کوئٹہ کے وسط میں بہتے حبیب نالے کے اندر جا کر دیکھا‘ اسے کوئی جہنم کہے تو بے جا نہ ہو گا۔ اس کا احوال کسی اگلے مضمون میں لکھوں گا۔ شہادت کے طور پر تصویریں اب بھی میرے پاس موجود ہیں۔ شاید اب حالات مختلف ہوں‘ مگر لوگوں سے پوچھتا رہتا ہوں تو یہی کہتے ہیں کہ اب حالات زیادہ خراب ہیں۔ انسانوں کو نشے کی عادت ڈال کر ان کی زندگیوں اور خاندانوں کو تباہ کرنے سے بڑا کوئی اور جرم معاشرے کے خلاف ہو نہیں سکتا۔ دنیا کے سب ممالک منشیات فروشی کو انسانیت‘ ریاست اور معاشرے کے خلاف ایک بھیانک جرم خیال کرتے ہیں اور ایسے مجرموں کو بلا تامل پھانسیوں پر لٹکاتے ہیں۔
اس کی بنیادی وجہ لکھنے اور اس کو کھول کر بیان کرنے سے دل گھبراتا ہے۔ ہمارے پڑوس میں افغانستان ہے‘ جسے پوری دنیا نارکو سٹیٹ کہتی ہے‘ جس کا مطلب ہے نشہ باز ریاست۔ سنا ہے طالبان کی حکومت نے اس پر کچھ کنٹرول قائم کیا ہے۔ عالمی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کمی واقع ہوئی ہے۔ مسئلہ اب صرف افیون اور ہیروئن کا نہیں بلکہ کیمیائی طریقے سے تیار کی جانے والی منشیات کا ہے‘ جو ہمارے ملک میں پھیلتی جا رہی ہیں۔ یہاں اس کاروبار کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اس کا حجم دو ارب ڈالر کے قریب بتایا جاتا ہے۔ ہر سال اتنا بڑا کاروبار ہوتا ہے تو یہ خون پسینے کی کمائی کچھ اہم لوگوں کی جیبوں‘ کھاتوں‘ کاروباروں اور جائیدادوں میں جاتی ہو گی۔ ہوا میں تو یہ رقم تحلیل ہونے سے رہی۔ اس بارے میں جو چند کتابیں‘ تحقیقی مضامین ‘ اخباروں اور رسائل میں مضامین پڑھے ہیں‘ ان سے بہت کچھ معلوم ہوا ہے۔ ہر صوبے میں‘ خصوصاً بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سردار‘ ملک اور دیگر شرفا‘ جنہوں نے سیاسی لبادے بھی اوڑھ رکھے ہیں اور ان کا نام لینا خطرے سے خالی نہیں‘ وہ اس میں ملوث ہیں۔ آپ کو اس بارے میں کوئی شوقِ جستجو ہے تو خود پورا کر لیں۔ اس درویش کا اپنی جان خطرے میں ڈالنے کا کوئی ارادہ نہیں۔
جتنا منظم‘ مرتب اور مؤثر منشیات فروشی کا کاروبار ہے‘ شاید ہی کوئی اور بڑی سے بڑی کارپوریشن ان جیسا نظام بنا اور چلا سکے۔ میں نے تو نشئیوں کو نچلی سطح پر خریدنے‘ آپس میں بیچنے کی صورت میں ایک پارک کے اندر کئی سالوں سے دیکھا ہے۔ کبھی کبھار ایک دو مسٹنڈے‘ جو اپنے اپنے علاقوں میں اجارہ داری پر پہرہ دیتے ہیں‘ ہاتھ میں پکڑے فون سے کھیلتے ادھر آ نکلتے ہیں۔ نشئیوں میں اپنے پرچون فروشوں کو اکٹھا کرتے ہیں‘ ان کے مسائل اس طرح سن رہے ہوتے ہیں جیسے کوئی وضع دار سیاستدان اپنے ڈیرے پر سائلین کا حساب کتاب کر کے رخصت ہوتا ہے۔کچھ عورتیں اور بزرگ قسم کے ایجنٹ ان کے لیے زیادہ کارآمد ہیں۔ لوگوں کو ان پر شک نہیں گزرتا۔ چونکہ میں اپنی واک کے چکر مکمل کرتے وقت آنکھ چرا کر ہلکی پھلکی جاسوسی کرتا رہتا ہوں‘ اس لیے آپ مجھے چشم دید گواہ سمجھ سکتے ہیں۔ ذاتی طور پر نشئیوں کے ساتھ میرے تعلقات اس طرح کے ہیں جن کی آپ اچھے ہمسایوں سے توقع کر سکتے ہیں۔ میرا تھوڑا سا گلہ یہ ہے کہ پارک کی تقریباً 40 فیصد لوہے کی باڑ آہستہ آہستہ اکھاڑ کر بیچ چکے ہیں۔ کسی سرکاری آدمی تک فریاد بذریعہ فون پہنچائی تو اس نے کہا: ''بابا! کس چکر میں پڑے ہو، ملک میں بہت بے روزگاری ہے‘‘۔ ایک دفعہ ایک جدید اور جدت پسند نوجوان نے میرے ان ہمسایوں کو نشہ کرتے دیکھ کر پولیس کو بلا لیا۔ زیادہ تر تو بھاگ گئے‘ مگر ایک لڑکا اور ایک بابا مع مالِ ممنوعہ ہاتھ آ گئے۔ پولیس اپنی وین میں بٹھا کر لے گئی مگر آدھے گھنٹے بعد ہی وہ واپس آ گئے۔ پولیس والے بھی تنگ ہیں۔ کہتے ہیں‘ انہیں تھانے میں رکھیں تو دیواروں پر سر مارتے ہیں اور ہم انکوائریاں بھگتنے کے لیے تیار نہیں۔ میں نے ایک دیہاتی طریقہ سوچ رکھا ہے۔ بابوں کا ایک گروپ صبح کے وقت پارک میں آتا ہے۔ اگر وہ نشہ کرتے نظر آ جائیں تو بابوں کو اکساتا ہوں۔ صرف اتنا کہتا ہوں: ''دیکھو‘ ہمارے وطن عزیز اور پارک میں کیا ہو رہا ہے‘‘۔ بابے باجماعت جو ہاتھ میں آ جائے‘ لے کر ان کے پیچھے ایسے پڑتے ہیں کہ یہ دیکھ کر مجھے اپنے زمانے کا پولیس کا لاٹھی چارج یاد آ جاتا ہے۔ کیا بات ہے اقتدار کے نشے کی کہ اہلِ اقتدار اس کاروبار سے آنکھیں چرانا ہی بہتر سمجھتے ہیں‘ مبادا کچھ کرنا پڑ جائے اور خواہ مخواہ کی بدمزگی ہو۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...