"RBC" (space) message & send to 7575

یہ ہو گا کیسے؟

جنرل پرویز مشرف نے پاکستان پیپلز پارٹی سے خفیہ معاہدہ کیا تو ایک شرط تمام پرانے مقدمات ختم کرنے کی تھی۔ اس کے لیے ضروری سمجھا گیا کہ آئین میں کچھ ترامیم کی جائیں اور ساتھ ہی عدلیہ کے پَر کاٹنا بھی لازمی تھا۔ ایمرجنسی کا نفاذ ہوا اور ایک دن عدالتِ عالیہ کے جج صاحبان کو گھروں میں بند کر دیا گیا۔ سب تفصیلات آپ کو معلوم ہیں اور اب تاریخ کا حصہ ہیں۔ عدلیہ کو بحال اور حاکمینِ وقت سے آزاد کرانے کی تحریک چلی تو ملک کی کوئی ایسی جمہوریت پسند تنظیم نہ تھی جس نے اس میں حصہ نہ ڈالا ہو۔ میڈیا نے تو بڑھ چڑھ کر حصہ لیا‘ کالے کوٹ والے تب بپھرے ہوئے تھے اور کچھ جامعات کے طلبہ اور اساتذہ بھی آگے آگے تھے۔ زمین پر تو عوام و خواص بہت کچھ کر رہے تھے مگر بڑے حاکم کچھ کرنے کیلئے تیار نہ تھے۔ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد سیاسی حالات نے اچانک رخ بدلا اور آصف علی زرداری نہ صرف صدر بلکہ سیاسی میدان کے بڑے شہسوار کے طور پر ابھر کر آ چکے تھے۔ انہوں نے وزیراعظم کا عہدہ موجودہ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کے سپرد کر کے سکھ اور چین کی بانسری بجانا شروع کر دی۔ جمہوریت کی بحالی کے بعد بھی عدلیہ بحال نہیں ہو پائی تھی۔ تحریک اُسی طرح چل رہی تھی۔ تقریباً ایک سال ہونے کو تھا۔
یہ درویش شروع دن سے عدلیہ کی بحالی کے حق میں تھا اور ایمرجنسی کے نفاذ کے اگلے دن اپنی جامعہ میں بلاخوف وخطر طلبہ اور اساتذہ کا ایک جلوس بھی منظم کیا۔ اس کے بعد اساتذہ روز شام کے وقت آئین‘ جمہوریت اور عدلیہ کی بحالی کیلئے ایک مختصر جلسہ کرتے۔ سینکڑوں طلبہ اس میں شرکت کرتے۔ ہم سب لوگ غیر سیاسی تھے‘ کسی تنظیم یا جماعت سے کوئی تعلق نہ تھا۔اصل سوال لیکن یہ تھا کہ عدلیہ کے تمام ججز جنہیں نوکری سے نکال دیا گیا تھا‘ کو بحال کیسے کیا جائے گا۔ زرداری صاحب اور یوسف رضا گیلانی ایسا کرنے کیلئے تیار نہ تھے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ ‘ جنہوں نے اکتوبر 1999ء میں مشرف حکومت کی طرف سے جاری عبوری حکم کے تحت دوبارہ حلف اٹھانے سے انکار کیا تھا‘ وہ بھی ہمارے ساتھ اسی جامعہ میں پڑھا رہے تھے۔ ان سے تقریباً روزانہ ملاقات ہوتی۔ کافی کا پہلا گھونٹ حلق میں انڈیلنے سے پہلے میرا سوال ہوتا ''خواجہ صاحب! اب ایک سال ہو چلا ہے‘ عدلیہ بحال کیسے ہو گی؟‘‘ ہر دفعہ وہ ایک ہی جواب دیتے: ''یہ تو مجھے پتا نہیں کہ کیسے ہو گی مگر ہو گی ضرور‘‘۔ موسمِ بہار کے پہلے مہینوں کے وہ دو چار دن اچھی طرح یاد ہیں جب پنجاب میں گیلانی؍ زرداری حکومت نے گورنر راج لگایا ہوا تھا اور نواز شریف صاحب ماڈل ٹائون لاہور سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کیلئے نکلے۔ مال روڈ پر اس صبح جو واقعات پیش آئے ان کے عکس آج بھی ذہن میں محفوظ ہیں۔ کبھی پولیس کا غلبہ تو کبھی لیگیوں کی یلغار۔ شام کے بعد خبریں آنے لگیں کہ میاں صاحب نے راوی کا پُل پارکر لیا ہے اور اب گوجرانوالہ کی طرف رواں دواں ہیں۔ رات کو وہاں شاید قیام کیا اور ہم بھی اگلی صبح کے انتظار میں چادر تان کر سو رہے تھے۔ اب معلوم نہیں کس نے جگا کر کہا کہ عدلیہ کی بحالی کا حکم جاری ہو گیا ہے۔ ہم اسی وقت گھر سے نکل کر ججز کالونی کی طرف تماشا دیکھنے کیلئے روانہ ہو گئے۔ ہزاروں لوگوں کا مجمع تھا۔ کیسے ہوا‘ کس نے کروایا‘ مگر عدلیہ بحال ہو گئی۔ اور جو بعد میں ہوا‘ اور ہوتا رہا‘ اور اب ہو رہا ہے‘ اس سے ہمارا کوئی سروکار نہیں۔ اس بارے میں اب تو بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور تاریخ کا حصہ ہے۔ اس تاریخی واقعے کی دھندلی سی تصویر آپ کو اس لیے دکھائی ہے کہ آج کل ایک انتہائی اہم بلکہ اگر نظام کی تبدیلی کی بات کہیں تو بہترہو گا‘ کی باتیں ہو رہی ہیں۔ بلکہ بات بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ یہ کہا جارہا ہے کہ نظام ملک کی آزادی سے لے کر آج تک ٹھیک نہیں چل رہا‘ اس کو ٹھیک کرنا ملکی بقا اور خوشحالی کا تقاضا ہے۔ ایک عرصہ سے نظام کی ناکامی کی باتیں ہو رہی ہیں‘ اکثر بند دروازوں میں۔ اب تو بلی تھیلے سے باہر نکل کر میائوں میائوں کر رہی ہے۔ بات مگر وہی کہ نئے صوبے یا صوبوں کے اندر صوبوں کی طرح کی انتظامی اکائیاں بنیں گی کیسے؟
ملک فکری اور سیاسی انتشار کا شکار تو طویل عرصے سے ہے۔ ہم نے اپنے اصلی آبائی علاقے کے ادب‘ فلسفوں اور تاریخ کو دریافت کر کے کچھ اور شناخت پیدا کرنے کی کاوشیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ اب ایک عجیب مخمصہ ہماری بحثوں کا حصہ بن چکا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر آپ آئین کے مطابق صوبے بناتے ہیں تو اُسی صورت بن سکتے ہیں جب آپ ہر صوبے اور مرکز میں دو تہائی اکثریت والی پارٹی اقتدار میں لے آئیں۔ پہلے تو صوبے کی اسمبلی دو تہائی اکثریت سے وہ کرے اور پھر قومی اسمبلی اور سینیٹ دو تہائی اکثریت سے آئین میں تبدیلی کر کے ریاستی تنظیمِ نو کریں۔ اب آپ بات سمجھ جائیں کہ جب سندھ اور پنجاب کے حکمران گھرانے کہتے ہیں کہ صوبے بنانے کا طریقہ تو آئین میں موجود ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ سامنے ٹرک جا رہا ہے اور اس کی بتی کے پیچھے دوڑتے رہیں۔ نہ ٹرک کی کوئی منزل اور نہ دوڑنے والوں کی۔ عام فہم معنوں میں اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نہیں کرتے۔ (ن) لیگ والوں کے بڑوں نے بلکہ بڑے میاں صاحب نے ابھی تک خاموشی اختیار کی ہوئی ہے مگر انکار مہنگا پڑنے کے خوف سے ہمیشہ کی طرح قومی مفاد کے تقاضے سامنے رکھ کر کوئی مثبت فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اصل مسئلہ پیپلز پارٹی کا ہے۔ صوبہ سندھ پر اس نے ایک عرصہ سے اقتدار کے جو پنجے گاڑے ہوئے ہیں‘ اسے نہ تو ڈھیلا کرنے کے لیے تیار ہے نہ اوپر والوں کی سرپرستی کے بغیر یہ ممکن ہے‘ اور نہ ہی سندھ کے اندر صوبے اور انتظامی اکائیاں بنوا کر وہ صوبے کے اقتدار پر قابض رہ سکتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری صاحب لندن میں صلاح مشورے کر رہے ہیں‘ طویل نشستیں ہو رہی ہیں۔ دوسری طرف سے پیغام پہنچائے جا رہے ہیں کہ ہمیں جلدی ہے۔ ان کے سیاسی کارندوں کے سخت بیانات کا اشارہ ہے کہ وہ تصادم کیلئے تیار ہیں۔ اس بارے میں آخری فیصلہ زرداری صاحب ہی کریں گے۔
اوپر والوں کی بھی کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔ ایک دو آدمی جو اس کام پر لگائے ہوئے ہیں‘ وہ کہتے ہیں کہ اتنی گہری تبدیلی کیلئے قومی اتفاقِ رائے ہونا ضروری ہے۔ اگلی سانس میں ہی فرماتے ہیں کہ عوام کی رائے کو اس بارے میں رد نہیں کیا جا سکتا۔ پھر نظام کی خرابیوں اور ناکامیوں کا ڈھنڈورا پیٹتے پیٹتے اعلان کرتے ہیں کہ جلد ہی سب کو مل کر بیٹھنا اور اس مسئلے کا حل نکالنا ہوگا۔ قومی اتفاق کی تاریخ کو دیکھنا ہو تو کالاباغ ڈیم کی تاریخ کو دیکھ لیں۔ نہ نصف صدی میں اتفاق ہوا اور نہ اگلی نصف صدی میں ہوتا نظر آتا ہے۔ نئے صوبوں اور اکائیوں کے بارے میں بھی میرا تو خیال یہی ہے کہ جو لوگ اس وقت اسمبلیوں میں اکثریتی جماعتیں ہیں‘ وہ اٹھارہویں ترمیم کی برکات سمیٹنے کے بعد‘ صوبوں کے اندرتقسیم کوکیسے تسلیم کریں گے؟ وہ تو پھوٹی کوڑی بھی اضلاع اور دیہی کونسلوں کو دینے کیلئے تیار نہ ہوں گے۔ ایک رائے تو یہ ہے کہ جس طرح گزشتہ چار سالوں میں دو سیاسی گھرانے اور ان کے گماشتے اپنے مفاد میں آئین و قانون میں تبدیلیاں کرتے آئے ہیں‘ اب بھی ملک کے مفاد میں بڑی تبدیلی کرنے کیلئے تیار ہو جائیں۔ میرا خیال اس کے برعکس ہے۔ عین ممکن ہے کہ اپنی سیاست اور اقتدار کو بچانے کیلئے ایک بار پھر وہ اکٹھے ہو جائیں اور کھل کر نئے صوبوں کی مخالفت کریں۔ ایسی صورت میں اوپر والے پھر کیا کریں گے؟ قومی اتفاقِ رائے کا‘ کالا باغ ڈیم کی طرح انتظار کریں گے یا عدلیہ بحالی کی تحریک کی طرح کوئی دوسرا راستہ اختیار کریں گے؟ ہم کتنی خوش قسمت قوم ہیں کہ زمینی مخلوق بیشک بھوک سے مر رہی ہو‘ سیاسی کھیل تماشے جاری رہتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...