"RBC" (space) message & send to 7575

صوبدار معینوی

یہ ایک غریب خاندان کے سیاسی کارکن کی کہانی ہے جو اپنی صلاحیتوں اور زندگی کو کچھ خوابوں‘ کچھ سیاسی گھرانوں کی نذر کر بیٹھے۔ ساجد منصور قیصرانی کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ اسلام آباد اور ڈیرہ غازی خان کے پرانے وقتوں کے ادبی اور سیاسی حلقوں میں بہت مقبول شخصیت ہیں۔ ہمارے کالج کے زمانے کے دوست چلے آتے ہیں۔ آج ہی ان کی طرف سے صوبدار معینوی کے بارے میں دوستوں سے معلومات اکٹھی کرنے کا حکم نامہ جاری ہوا تو ان کی فیس بک وال پر کچھ لکھ ڈالا۔ یہ ایک ہم جیسے دیہاتی کی لمبی کہانی ہے جو تحصیل تونسہ کے گاؤں‘ یا اب ایک چھوٹے سے قصبے منگروٹھہ سے اٹھا اور ڈیرہ غازی خان کالج میں داخلہ لیا۔ ضلع ڈیرہ غازی خان کے تمام علاقوں کی نسبت تونسہ‘ جو ہمارے بچپن کے زمانے کی جغرافیہ کی کتاب میں تحصیل سانگھڑ تھا‘ سے آئے ہوئے طلبہ زیادہ قابل‘ محنتی اور جفاکش تھے۔ تعلیم کا معیار وہاں کے سکولوں میں سب سے بڑھ کر تھا۔ کالج میں ہم نے 1966ء میں داخلہ لیا تو وہ چند سال قبل وہاں سے جا چکے تھے۔ وہ سیاسی شعور‘ نظریاتی آگاہی اور کشمکش کا دور تھا۔ ہم شروع ہی سے طلبہ سیاست میں دلچسپی رکھتے تھے۔ اسی حوالے سے ہم نے صوبدار معینوی کا نام ایک روشن خیال‘ ترقی پسند اور متحرک سیاسی کارکن کے طور پر سنا۔ ان کی سب سے بڑی شہرت یہ تھی کہ ان کا تعلق ایک غریب خاندان سے تھا‘ مگر انہوں نے لاہور سے ایم اے انگلش کیا‘ اور نیشنل عوامی پارٹی کے کارکن کے طور پر کہیں کام کرتے تھے۔ ڈیرہ غازی خان کالج میں چار برسوں کے دوران ہم نے صوبدار معینوی کو کہیں نہ دیکھا۔ شاید میرے ہم جماعتوں میں یا معاصر سیاسی کارکنوں میں سے کوئی انہیں ڈیرہ میں ملا ہو مگر ہمارے دل میں حسرت رہی کہ صوبدار معینوی سے ملیں۔ اس درویش کے دل میں اپنی محنت اور لگن سے اپنا راستہ بنانے اور آگے نکلنے کی منزلیں طے کرنے والوں کی بہت قدر ہے۔ اس لیے دل میں صوبدار معینوی سے ملنے کی تمنا تھی۔
وقت گزرتا گیا اور ہم جامعہ پنجاب میں پہنچے اور وہاں کی تعلیمی سرگرمیوں کیساتھ نیشنلسٹ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کیساتھ وابستہ ہو گئے۔ یہ مارکسزم اور اشتراکیت کا پرچار کرنے والی ایک نظریاتی تنظیم تھی‘ اور ہم بھی تب سرخ انقلاب کا خواب دیکھا کر تے تھے۔ ہم نے عملی تعلق ہر قسم کی سیاست سے اُس دن چھوڑ دیا جب جامعہ پنجاب کی کلاس میں بطور استاد قدم رکھا۔ اس سے دو سال قبل جب 15 فروری 1973ء کو ذوالفقار علی بھٹو نے نیشنل عوامی پارٹی کی بلوچستان حکومت کو چلتا کیا توصوبدار معینوی کا نام اور شہرت ہمارے ڈیرہ غازی خان کے سیاسی اور علمی دائروں میں آسمان کو چھونے لگی۔ بھٹو صاحب نے نواب اکبر خان بگٹی کو گورنر لگایا اور گورنر راج نافذ کر دیا۔ نواب صاحب نے صوبدار معینوی کو اپنا سیاسی مشیر مقرر کیا تو ہمارا کالج کے اوائل کے زمانے کا تجسس اور انکے بارے میں جستجو کی تڑپ مزید بڑھ گئی۔ کچھ دوستوں کے مطابق وہ ایک امام مسجد کے بیٹے تھے جو انتہائی کسمپرسی کی زندگی بسر کرتے تھے۔ اب ان کا بیٹا ایک صوبائی وزیر کے درجے پر پہنچا تو ہمارے وسیب میں ہر طرف داد و تحسین برسنے لگی کہ نچلی سطح سے اٹھ کر کوئی وزارت کے درجے پر پہنچا ہے۔ بدقسمتی سے ان کی وزارت صرف گیارہ ماہ چلی جو اکبر بگٹی کے بطور گورنر استعفے کے ساتھ ہی ختم ہو گئی۔
1975ء کے شروع میں میری جامعہ پنجاب میں بطور لیکچرر تعیناتی تو ہو چکی تھی مگر پڑھانا ستمبر میں شروع کیا۔ ہم سب نوجوان لیکچرار ''کنوارے‘‘ اساتذہ کے ہاسٹل میں رہتے تھے جو صرف اس مقصد کیلئے بنایا گیا تھا اور اس کا نمبر بھی دس تھا۔ ایک دن وہاں صوبدار معینوی سے ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ یہیں ایک کمرے میں رہتے ہیں۔ صوبدار معینوی سے اپنے کالج‘ زبان‘ ثقافت اور نظریاتی ہم آہنگی کئی حوالوں سے تھی جو دیکھتے ہی دیکھتے ایک طرح کی دوستی میں تبدیل ہو گئی۔آخری دوپہر کی ڈھلتی شام ہم سیر کیلئے کیمپس کے اندر سڑکوں پر نکل جاتے۔ ہمارے تجسس اور استفسار کے باوجود وہ اپنے ماضی کے بارے میں زیادہ بات نہیں کرتے تھے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ کوئی چیز چھپا رہے ہیں۔ کریدتا تو انہیں ضرور تھا مگر دبی ہنسی کے ساتھ خاموش ہو جاتے۔ ذاتی نوعیت کے سوال ان سے کرتا کہ صوبدار صاحب! آپ نے ابھی تک شادی کیوں نہیں کی۔ وہ ایک دو عشق کے حقیقی یا فرضی قصے‘ کچھ حالیہ ملاقاتوں کا تذکرہ بھی کرتے۔ ایسا محسوس ہوتا کہ انہیں ہماری طرح دنیا جہاں کی فکر لاحق نہیں۔ کسی کام‘ نوکری یا بات کی جلدی نہ تھی۔ ان کی طبیعت میں انتہائی اطمینان اور سکون دیکھا۔ اکثر بلوچستان اور ملکی سیاست پر بات ہوتی رہتی تھی۔ ہمارا مؤقف ملتا جلتا تھا۔ ایک بار تو ان سے پوچھ لیا کہ آپ نواب اکبر بگٹی کے مشیر کیوں بنے‘ جب آپ کی دیرینہ جماعت کی جمہوری حکومت کا انہوں نے تختہ الٹنے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ وہ کہتے کہ نواب سے بہت پرانا اور ذاتی رشتہ ہے۔ دوستوں کے دوست ہیں۔ انہوں نے حکم دیا تو انکار کرنا ممکن نہ تھا اور میں تو اب بھی ان کے ساتھ ہوں۔ نواب صاحب اُن دنوں اکثر لاہور کی کچھ مخصوص محفلوں میں دیکھے جا سکتے تھے۔ وہ مال روڈ پر پنج ستارہ ہوٹل میں رہائش رکھتے اور صوبدار صاحب ہر وقت ایک مصاحب‘ دوست اور مشیر کے طور پر ان کے ساتھ ہوتے۔ ایک دفعہ وہ مجھے بھی نواب صاحب سے ملوانے اپنے ساتھ لے گئے۔ انہوں نے میرا تعارف مزاری قبائل کے راجن پور کے علاقے سے کرایا جو بگٹی قبائل کے قریب ہے۔ پوچھا کہ میں بلوچ ہوں؟ عرض کی کہ ہم جاٹ ہیں۔ وہ سوال مجھے ان سے نہیں کرنا چاہیے تھا جو اپنی جوانی کی بے باکی میں کر بیٹھا: نواب صاحب! یہ جو بھٹو صاحب نے جمہوری حکومت کا خاتمہ کیا تو وہ آپ کے نزدیک آئینی عمل تھا؟ ان کا جواب تھا کہ میں نے آج تک پاکستان کا کوئی آئین خود پڑھا نہیں‘ کوئی پڑھتا ہے تو سن لیتا ہوں۔ اس سوال کا جواب میرے سیاسی مشیر صوبدار دیں گے۔ کچھ دنوں بعد صوبدار صاحب وہاں سے غائب ہوئے اور پھر ان سے کبھی ملنا نصیب نہ ہو سکا۔
ان ملاقاتوں کے دو تین سال بعد میں تعلیم کیلئے امریکہ چلا گیا۔ وہ ضیاء الحق کے دور کا دوسرا سال تھا۔ ان دنوںصوبدار معینوی جیسے پرانے کارکن اپنی زندگی اور آزادی بچانے کیلئے یا تو ملک چھوڑ چکے تھے یا کہیں روپوش تھے۔ چند سال بعد واپس آیا تو صوبدار معینوی کے بارے میں پرانے نظریاتی دوستوں سے معلوم کرنے کی کوشش کی۔ ایک محفل میں ایک ایسے شخص سے ملاقات ہوئی جو کئی سال جیل کاٹ کر رہا ہوا تھا اور اس نے اطلاع دی کہ صوبدار کہیں قید میں ہیں اور کچھ باتیں ان سے منسوب کیں جو عقل ماننے کیلئے تیار نہ تھی۔ ان کے بارے میں شروع میں تو تجسس تھا جو آج بھی قائم ہے۔ ان کی شخصیت اور سیاسی زندگی کی کئی الجھی گتھیاں ہیں جنھیں سلجھانے کیلئے میری تگ و دو جاری رہے گی۔ سنا ہے وہ کسمپرسی کے عالم میں اپنے ہی علاقے میں پڑے پڑے کہیں دم توڑ گئے اور لاوارث قرار دے کر کہیں دفن کر دیا گیا۔ اس بارے میں تحقیق جاری ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ ہم جیسے دیہاتیوں‘ غریب خاندانوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکنوں کا بے حد استحصال ہوتا رہا ہے۔ وزارت سے بھی انہیں کچھ نہ ملا۔ بڑے لوگوں سے تعلقات اور شناسائی ضرور تھی اور کچھ نام بھی مگر وہ کس کام کے جب اپنے وسائل زندگی گزارنے کیلئے نہ ہوں۔ وہ زمانہ خوابوں کا تھا‘ انقلابوں کے خوابوں کا۔ ہم تو اس دیوانگی سے بہت جلد نکل آئے مگر معینوی کی طرح جو کسی وجہ سے نہ نکل پائے‘ وہ اپنی زندگی سیاسی گھرانوں کی نذرکر بیٹھے۔ ان کی کہانی کے آخری برسوں کے بارے میں جانکاری جاری رہے گی۔ وہ ہماری زندگی میں کامیابی‘ روشن خیالی اور شہرت کا استعارہ تھے مگر کیا پتا تھا کہ برے وقت میں کوئی بھی ساتھ نہ ہوگا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...