بہر طور لوگ اسے نئی بیماری خیال کرتے ہیں‘ نہ روگ اور نہ وبا۔ وہ تو اپنے اپنے فونوں کی سکرینوں پر نظریں گاڑے‘ کبھی سنجیدہ اور خاموش‘ کبھی متفکر اور کبھی مسکراتے اور کبھی زور زور سے ہنستے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ یہ وہ بات ہے جو سکرینوں پر ابھرتے نقش ان کے ذہنوں میں متحرک کرتے ہیں۔ اگر وہ زمانہ ہوتا جب یہ ایجاد بازار میں نمودار نہیں ہوئی تھی اور کوئی خواہ مخواہ اکیلا بیٹھا ہنس رہا ہوتا تو پاس سے گزرنے والا یہی سوچتا کہ یہ پاگل ہے۔ میرے نزدیک تو اب بھی پاگل پن کی بات ہے‘ مگر اب نہ صرف تنہائی میں بلکہ دوستوں اور کسی انتظار گاہ میں بیٹھے بیٹھے بھی لوگ فون پر کچھ دیکھ کر ہنس رہے ہوتے ہیں۔ اگر اعتدال ہو‘ جو ہمارے معاشرے میں اوپر سے لے کر نچلی سطح تک بہت کم دکھائی دیتا ہے‘ تو ہر چیز نعمت ہے۔ اور اگر آدم بیزاری اور فون دوستی کا رشتہ ایسا قائم ہو جائے جو پھر نہ ٹوٹے تو میری رائے میں یہ بیماری ہے۔ آپ اپنی فون دوستی کا رشتہ نبھاتے ہوئے نہ صرف اختلاف کر سکتے ہیں بلکہ برا بھلا بھی کہیں تو میری طرف سے کوئی جواب نہیں آئے گا۔ ویسے بھی سیانوں کی بات مجھے پسند ہے‘ مگر یہ حکمت زندگی کا بہت بڑا حصہ گزارنے کے بعد دل کے نہاں خانے میں رکھ ڈالی کہ کسی کی بدخواہی‘ تضحیک‘ حسد اور تذلیل کا سامنا بھی ہو تو خاموشی اور صبر سے برداشت کریں۔ خیر‘ یہ بات تو ایسے ہی آ گئی۔ ہاں‘ نیند تک کی بات ہو رہی تھی کہ کچھ لوگ فون کو ہاتھ میں لیے یا اپنے ساتھ رکھے استراحت فرماتے‘ سو بھی جاتے ہیں۔ جاگتے ہی اور آنکھیں ملتے ہی ان کی پہلی نظر فون پر پڑتی ہے۔ ہمارے ایک دوست ہیں جو ساری رات جاگتے ہیں اور صبح کو سوتے ہیں‘ اور پھر وہ منظر دوراں پر دوپہر کے وقت ظاہر ہوتے ہیں۔ ان سے پوچھا کہ رات بھر آپ کیا کرتے ہیں؟ کہا: فون۔ آپ کو پتا نہیں دنیا بھر کے بارے میں اور زندگی کے ہر شعبے سے متعلق علم کے خزانے اب آپ کی انگلی کے اشاروں پر ہیں۔ جان کی امان پاتے ہوئے درخواست کی کہ آپ کوئی کتاب کیوں نہیں پڑھتے؟ فرمایا: چھوڑو یہ گھسی پٹی نصیحتیں‘ زمانہ بدل گیا ہے‘ اب فون کا زمانہ ہے‘ کتاب کا نہیں۔
اگر آپ یہ محسوس کر رہے ہیں کہ عام لوگوں اور اپنے کچھ دوستوں کی فون کی علت یا عادت کے بارے میں کوئی فکر مندی ہے یا کوئی اعتراض‘ تو ایسا ہرگز نہیں۔ لوگ اپنے آپ کو جیسے بھی خوش رکھنا چاہتے ہیں یہ ان کا حق ہے۔ ہم کسی کی آزادی‘ آزاد روی اور عادت کے بارے میں سوال اٹھانے کا حق نہیں رکھتے۔ ایک مسئلہ ضرور ہے جسے سماجیات کے میدان کے لوگ خیال کرتے ہیں۔ فون دوستی سے انسان دوستی بے حد متاثر ہو رہی ہے‘ برے طریقے سے۔ لوگ اب دور دراز کے ملکوں میں بیٹھے ہوئے بھی اپنے مخالفوں کی‘ جو سیاسی‘ نظریاتی یا ذاتی ہو سکتے ہیں‘ دل آزاری اور اذیت کیلئے من پسند پیغامات بھیجتے رہتے ہیں۔ دوسرے بھی ایسی محبت کا جواب اس سے بڑھ کر دیتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب لوگوں کو یہ سہولت میسر نہیں تھی تو زبانی لڑائی جھگڑوں کیلئے بہت کم مواقع میسر ہوتے تھے۔ اب تو دل کا غبار نکالنے کیلئے فون اٹھاؤ اور شروع ہو جاؤ۔ کبھی دو لڑتے جھگڑتے افرادکیلئے گھروں کی دیواریں حائل ہوا کرتی تھیں۔ اب سینکڑوں میل دور سے زبانی آتش بازی اور زہریلے لفظوں کے تیر پھینکے جا سکتے ہیں۔ ظاہر ہے سب تو ایسا نہیں کرتے۔ ہمارے کئی دوست ہیں جو ہر صبح دعائیں‘ سلام اور نعمت و نصیحت بھرے پیغامات ارسال کرتے ہیں۔ ان کی بھی کمی نہیں جو کتابوں اور علمی مضامین کی صورت علم کے ذخیرے ہمارے کھاتے میں روزانہ ڈالتے ہیں۔ خدا بھلا کرے ملک محمد اسلم صاحب کا کہ گزشتہ کئی ماہ میں انہوں نے اردو اور انگریزی کا قیمتی ادب پی ڈی ایف کی صورت میں عنایت کیا اور ان کی یہ نوازش روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے۔ ہاں‘ ان میں کچھ کتابیں تو ان سے درخواست کر کے حاصل کیں اور کچھ مشہور انگریزی رسائل کو بھی ہم نے فون کے بجائے آئی پیڈ کے 'بادل‘ میں محفوظ کر لیا۔ ہم بھی اب اس سکرین کے عادی ہو چکے ہیں۔ آسانی یہ ہے کہ کتابوں کے لفظوں کو چھوٹا بڑا کر کے بھی آپ پڑھ سکتے ہیں۔
اب کوئی کہے کہ ساتھ چلتے پھرتے جدید ترین فون کو صندوقچے میں بند کر کے پرانے طرز کی زندگی کی طرف لوٹ جائیں تو اسے سوچ کر بھی لوگوں کو غش پڑنا شروع ہو جائیں گے۔ پہلے ہم بجلی غائب ہو جانے اور دیر تک واپس نہ آنے کی فکر میں مبتلا ہوتے تھے۔ اب وائی فائی اور موبائل سگنل ہماری ضرورت سے کہیں زیادہ کمزور پڑ جائیں یا محل وقوع کے اعتبار سے ناپید ہو جائیں تو ایک بڑی کمی کا احساس ہوتا ہے۔ کچھ دوستوں کو دیکھا ہے کہ ایسے میں ان کے منہ کی رونق‘ زندگی کی چمک دمک اور طبیعت کی روانی گدھے کے سر سے سینگوں کی طرح غائب ہو جاتی ہے۔ اچانک ان پر چڑچڑے پن کا شدید حملہ ہوتا ہے جو ساتھ بیٹھے لوگوں کو بھی پریشانی میں مبتلا کر دیتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک سیل فون‘ جسے عام زبان میں ٹچ فون کہا جاتا ہے‘ عام نہیں تھا تو روایتی لوگوں کو‘ خاص طور پر دیہات میں‘ احساسِ کمتری کا شکار دیکھا جاتا تھا۔ کچھ تو دوسروں سے ٹچ فون اپنے ہاتھ میں لے کر اس کا معائنہ کرتے اور ایک خوابیدہ آہ کے ساتھ اس عزم کا اظہار کرتے کہ پیسے جوڑے جا رہے ہیں‘ پورے ہونے پر پہلا کام ٹچ فون خریدنا ہی ہوگا۔ کبھی لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ آپ دیہات میں ہیں اور ظاہر ہے آپ اَن پڑھ بھی ہیں‘ یہ ٹچ فون آپ کیلئے کیوں ضروری ہے؟ سوال‘ سوال کی صورت میں لوٹاتے ہیں کہ تمہارے پاس کیوں ہے؟ کیا دیکھتے ہیں‘ دیکھنا چاہتے ہیں‘ یہ قابلِ تحقیق بات ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اب مصنوعی ذہانت‘ اور بدلتے ہوئے طرزِ زندگی کے سوال پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور لکھا جا رہا ہے۔ مسئلہ صرف اڈکشن یا نشے کی طرح کی عادت کا ہے۔ اگر آدمی میں شعوری پختگی نہ ہو‘ اخلاقی پہلو کمزور ہوں اور کام میں دلچسپی مفقود ہو تو یہ عادت سرکاری اور نجی اداروں کی استعداد اور پیداواری صلاحیت کو مزید کمزور کرے گی‘ جو پہلے بھی شاید نہ ہونے کے زمرے میں آتی ہے۔ صنعتی ممالک میں تو اس بیماری کا علاج کارکنوں کو فون سے دور رکھ کر کیا جا رہا ہے‘ مگر ہمارے ہاں ظاہر ہے ہم آزاد لوگ ہیں‘ ابھی کوئی ایسی پابندی نہیں لگائی گئی۔ لوگوں کے عام رویے‘ ان کی گہری فون دوستی کی وجہ سے عجیب و غریب معلوم ہوتے ہیں۔ آپ کا کوئی دوست ملنے آئے یا آپ اسے ملنے جائیں‘ اور وہ ابتدائی حال احوال کے بعد نظریں فون پر جما لے تو آپ کو اپنی عزت اور اہمیت کا اندازہ ہو جائے گا۔ سماجی اخلاقیات اگر کہیں رہ گئی ہے اور اس کی پائیداری اب بھی ہے تو اس کا تقاضا ہے کہ فون کو خاموشی کے ساتھ ایک طرف رکھ کر اس سے وقتی علیحدگی کا اعلان کر دیا جائے۔ ہمارے بگڑے ہوئے فونی کلچر نے شخصی گرم جوشی‘ مہمان نوازی اور ہیلو‘ انٹریکشن کو گہری ضرب لگائی ہے۔ مجھے تو یہ ہرگز پسند نہیں کہ کسی کے ساتھ بیٹھے ہوں اور آنکھوں میں آنکھیں ملا کر بات کرنے کے بجائے فون پر آنکھیں جمائے رکھو۔ دکھ کی بات ہے کہ لوگوں کی توجہ‘ دھیان اور گیان کہیں مرکوز نہیں رہا۔ اس کا شیرازہ بکھر چکا ہے اور ان کی شخصیت بھی بکھری نظر آتی ہے۔ فون کی دورِ حاضر میں اہمیت اپنی جگہ‘ مگر انسانوں سے محبت اور حقیقی رفاقت کا رشتہ کمزور پڑ جائے تو سمجھیں اس کی بیماری لاحق ہو چکی ہے۔