سیاست‘ تاریخ اور اس طرح کے دیگر علوم کو تقابلی انداز میں دیکھنے سے سب کے جوہر‘ خرابیاں‘ شخصیات‘ کردار‘ اصلی اور نقلی صورتیں ابھر کر سامنے آ جاتی ہیں۔ دنیا کے تمام سیاستدانوں‘ ان کے عروج وزوال‘ نظریاتی جھکائو‘ اندازِ سیاست اور کارناموں کا جائزہ لیتے ہوئے ہر دور کے اہلِ سیاست اور طالب علم اس سے کچھ سیکھتے اور سبق لیتے رہتے ہیں۔ ہمارے اپنوں کی داستانیں شاید ہم سے پوشیدہ رکھنے کی کوششیں ہوتی رہتی ہیں لیکن سرحدوں سے پار‘ دور کے ممالک میں کئی ذرائع سے جلد یا بدیر اُن تک رسائی ہو جاتی ہے۔ اکثر اس وقت جب مرکزی کردار رزقِ خاک ہو چکے ہوتے ہیں۔ آج کے دور میں کمزور معاشروں میں سیاست کے میدان میں اہلِ اقتدار نے بہت کاروبار چمکائے ہیں۔ اپنے ملکوں سے کہیں زیادہ دوسرے ممالک میں۔ کمزور معاشرہ اُسے کہتے ہیں جہاں لوگ آواز بلند نہ کر سکیں۔ اگر بدعنوانیوں اور کرپشن کے بارے میں شہادتوں کے انبار بھی لگا دیں تو کچھ نہیں ہوتا۔ جہاں طاقت کی بنیاد آوازِ خلق کے بجائے کچھ اور ذرائع ہوتے ہیں۔ خیر یہ بھی سیاست ہی سمجھیں کہ اس کا تعلق حصولِ اقتدار‘ اُسے قائم رکھنے اور اُسے فلاح عامہ کے بجائے فلاحِ ذات کے لیے استعمال کرنے ہی سے ہے۔ رکاوٹ معاشرے‘ قانون‘ عدالتوں اور سب سے زیادہ اقدار سے ہوتی ہے۔ اگر یہ سب کمزور پڑ جائیں تو اقتدار جن لوگوں کے ہاتھ آ جاتا ہے وہ اسے مزید کمزور کر کے اپنا دھندہ جاری رکھتے ہیں۔ اقدار جیسے انسانیت‘ ہمدردی‘ رزقِ حلال‘ ایثار‘ خدمت‘ رواداری‘ انصاف اور اپنی ذمہ داریوں کو تندہی سے نبھانا صحتمند معاشرے کی علامت ہے۔ ایسے ہی معاشروں میں زیادہ تر بڑے اہلِ علم‘ مفکر‘ مدبر‘ عبقری سیاستدان اور دیگر شعبوں کے رہنما پیدا ہوتے ہیں۔
بات دراصل اقدار کی ہے کہ ذاتی حیثیت میں ہر انسان کو کہاں سے کہاں لے جاتی ہیں‘ اور قوموں کی تو بات الگ ہے۔ جدید دور کی سیاسی تاریخ میں ایک شخص کی داستانِ حیات نے دنیا بھر کو مسحور کر رکھا ہے۔ بہت سوں کا خیال ہے کہ جہاں یہ ایک فرد کی اہلیت‘ ناقابلِ شکست خود یقینی اور جہدِ مسلسل ہے‘ وہاں اس کا کریڈٹ معاشرے کو بھی جاتا ہے کہ اس نے نئی تاریخ رقم کر دی۔ جب ہم کالجوں میں تھے تو اس وقت سیاہ فام لوگوں کو امریکی جمہوریت میں برابر کے سیاسی حقوق ملنا دور کا خواب دکھائی دیتا تھا۔ سول رائٹس تحر یک کا ایک طویل تاریخی پس منظر ہے‘ جس کا یہاں احاطہ کرنا ناممکن ہے۔ آخری مرحلہ اور اُس کی کامیابی کا سہرا مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے حصے میں آیا۔ یہ تحریک ہرگز کامیاب نہیں ہو سکتی تھی‘ اگر اس کی بنیاد عدم تشدد کے فلسفے پر نہ ہوتی اور اگر سفید فام لوگوں کی اکثریت اس کی تائید نہ کرتی۔ مساوات کی اقدار فکری صورت میں تو موجود تھیں مگر نسلی تضادات اور غلامی کی تاریخ کا اثر اتنا زیادہ تھا کہ وہ اکثریت کے سر سے یکلخت اترنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ یہ بھی تو اقدار کی بات ہے کہ صدر ابراہم لنکن اور سفید فام اکثریت نے غلامی کو ختم کرنے کے لیے تاریخ کی سب سے خوفناک جنگ لڑی‘ جس میں تقریباً ساڑھے سات لاکھ امریکی جاں بحق اور چار لاکھ 76 ہزار زخمی ہوئے۔ یہاں دو اصولوں کی بات کرتا ہوں۔ ایک یہ ہے کہ ان کا انتخابی منشور تھا کہ وہ منتخب ہو کر غلامی کو ختم کریں گے۔ دوسرا‘ اگر آپ کی ریاست یا صوبہ قومی ریاست کا جزو ہے تو آپ علیحدہ نہیں ہو سکتے۔ آج صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ عالمی تاریخ جس محبت اور عقیدت سے ابراہم لنکن کا نام لیتی ہے‘ وہ جدید تاریخ میں کم اہلِ اقتدار کو نصیب ہوا ہے۔ وہ اپنا نشانِ زندگی ریاست کو متحد رکھنے اورغلامی کو ختم کرنے کی صورت میں چھوڑ گئے۔وہ ایک قاتل کی گولی کا نشانہ بنے‘ اس طرح مارٹن لوتھر کنگ جونیئر بھی اپنے عروج کے دنوں میں خون میں نہا کر آسودۂ خاک ہوئے۔
انہی نشاناتِ زندگی کی ایک کڑی براک اوباما نظر آتے ہیں۔ گزشتہ صدی کے آخر‘ بلکہ 2008ء میں بھی ایک سیاہ فام کا ڈیمو کریٹک پارٹی کی نامزدگی جیتنا‘ جو تقریباً پورے سال کی سیاسی مشقت کا نتیجہ ہوتا ہے‘ کسی انقلاب سے کم نہ تھا۔ اور پھر اُسی سال نومبر میں وہ خواب جو نسلوں سے یہ لوگ دیکھتے چلے آئے تھے‘ واقعی ایک حقیقت کا روپ دھار گیا۔ براک اوباما کی زندگی اور دو بار امریکی صدارت‘ یہ غیر معمولی واقعات ہیں۔ اوباما کی خود نوشتDreams from My Father اگر آپ نے نہیں پڑھی اور سیاست اور تاریخ سے کچھ شغف ہے تو اس سے اپنے آپ کو محروم نہ رکھیں۔ کہاں ایک ایسا بچہ جس کا باپ اُسے اوائلِ زندگی میں چھوٹی موٹی نوکریاں کرکے پیٹ پالنے والی ماں کے حوالے کر کے کینیا چلا گیا اور کہاں اس کا امریکی صدارت کا عہدہ۔ یہ ناقابلِ یقین کہانی ہے جسے بار بار پڑھنے کے بعد بھی حیاتِ زندگی کے کرشمات کا طلسم نہیں ٹوٹتا۔ اُن تما م تعلیمی اداروں سے جہاں براک اوباما نے تعلیم حاصل کی‘ ہزاروں نکلے ہیں اور وہ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئے‘ مگر تقریر‘ تحریر‘ فصاحت وبلاغت‘ زبان کی سادگی اور کلام کی صداقت کا جو اثر میں نے اوباما میں دیکھا ہے‘ تاریخ میں ایسے کم ہی مدبر ہوں گے۔ ہاں‘ جدید تاریخ میں ونسٹن چرچل اور جان ایف کینیڈی کا اپنا درجہ ہے‘ ہم عصرِحاضر کی بات کر رہے ہیں۔ ہم جیسے معاشروں میں کہیں کوئی اہلِ سیاست یا اہلِ اقتدار نظر آئے تو قوم کو ضرور آگاہ کریں۔ براک اوباما ہوں یا دیگر‘ ایسی سیاسی اقدار کے حامل اکابرین پُراثر اور دیرپا تحریروں‘ تاریخ نویسی اور ادارہ سازی کی صورت اپنا نشانِ زندگی اگلی نسلوں کے لیے چھوڑ جاتے ہیں۔
ابھی صدر اوباما وائٹ ہائوس میں تھے تو انہوں نے شکاگو میں‘ وہ شہر جہاں سے انہوں نے سیاسی سفر کا آغاز کیا تھا‘ ایک کثیر المقاصد سنٹر بنانے کی منصوبہ بندی کی ۔ مقصد یہ تھا کہ ایک ایسا ورثہ چھوڑ جائیں جس سے ہمیشہ کے لیے امریکہ‘ شکاگو اور دیگر ملکوں کے لوگ فیضاب ہوتے رہیں۔ آخرکار سات سال کی تعمیر کے بعد گزشتہ ہفتے اوباما کا یہ خواب پورا ہوا۔ اپنے نام پر صدر اوباما کی ایک فائونڈیشن ہے جو دنیا بھر‘ خاص طور پر افریقی ممالک میں فلاحی کام کرتی ہے۔ اس فائونڈیشن نے اوباما سنٹر پر 850 ملین ڈالر خرچ کیے ہیں۔ اسے پاکستانی روپوں میں آپ خود تبدیل کرکے دیکھ لیں۔ سترہ ایکڑ پر یہ سنٹر قائم ہے۔ سامنے وہ مشہور جھیل ہے جو شکاگو کی پہچان ہے اور ساتھ شہر کا بہت بڑا پارک‘ عجائب گھر‘ کتب خانہ‘ کمیونٹی سنٹر‘ پھلوں اور سبزیوں کا باغ‘ کھیل کے میدان‘ خصوصاً باسکٹ بال اور ٹینس کے کورٹس اور پرفارمنگ آرٹس کے لیے سہولتیں۔ افتتاح میں چار امریکی صدور‘ جرمنی کے سابق چانسلر‘ کچھ دیگر ممالک کے سابق سربراہان اور سیاست‘ فن اور علم وادب کی نامور امریکی شخصیات کو مدعو کیا گیا تھا۔کامیابیوں اور کارناموں کا جشن ہو تو ایسا۔ اور جو تقاریر ہوئیں ‘ اوباما نے بس یوں سمجھیں کہ کمال ہی کر دیا۔ سُن کر خیال آ رہا تھا کہ ہمارے وہ جو نصف صدی سے آسمانِ سیاست پر مصنوعی سیاروں کی طرح گردش کر رہے ہیں‘ ان کی یہ اُڑان بھی کسی طاقتور راکٹ کی مرہونِ منت ہے۔ بات میں سچائی‘ صداقت اور خلوص ہو تو الفاظ اپنی اہمیت خود بنا لیتے ہیں۔ بات تو انہی اقدار کی ہے کہ کوئی ایسا کام زندگی میں کر جائیں جو نشانِ زندگی ہو‘ اس کی توانائی‘ حرکت اور صداقت کا مظہر ہو۔ وہ جو تاریخ میں یا اپنی زندگیوں میں ہی نشانِ عبرت بنے ہوئے ہیں‘ ان کی طرف اشارہ ہی کافی ہے۔