"RBC" (space) message & send to 7575

وہ چڑیاں کہاں گئیں!

اب نہ وہ گھر رہے اور نہ مکین‘ صر ف خوشبودار یادیں بچی ہیں جن کے سہارے ہم زندہ ہیں۔ آج کل کے زمانے میں چھوٹے قصبوں سے لے کر بڑے شہروں تک جہاں ہم نے اپنی زندگیاں کھپا دی ہیں‘ وہ فطری ماحول دکھائی نہیں دیتا جہاں ہم نے بچپن اور جوانی کا ایک حصہ گزارا تھا۔ آج صبح کی سیر کے ایک دوست‘ جن سے روزانہ ملاقات ہوتی ہے‘ نے شکایت کی کہ چڑیاں نجانے کہاں غائب ہو گئی ہیں‘ اب کہیں نظر نہیں آتیں۔ نجانے انہیں طلوعِ آفتاب کے وقت چڑیوں کی یاد کیوں آ گئی؟ لیکن مجھے اندازہ ہے کہ ہماری عمر کے لوگوں میں لاشعوری طور پر اُس زمانے کی یادیں عود آتی ہیں جب ہر گھر میں چڑیوں نے گھونسلے بنائے ہوتے تھے۔ ہمارے گھروں کی چھتیں اور اندرونی دیواریں پکی نہیں ہوتی تھیں۔ گھروں کے اندر‘ برآمدوں اور درختوں میں صبح شام اور پورا دن چڑیوں کی چہچہاہٹ سنائی دیتی تھی۔ ہماری بڑی امیاں ان کی لڑائیوں سے اکثر تنگ آ جاتیں تو ڈنڈا اٹھا کر ان کے پیچھے پڑ جاتیں۔ کچھ دیر خاموشی ہو جاتی‘ مگر دس پندرہ منٹ بعد پھر ان کا شور و غل‘ جس سے ہم مانوس تھے‘ ماحول میں پھیل جاتا۔ دوست کو مشورہ دیا کہ چڑیوں کو واپس لانا اب کوئی مشکل کام نہیں۔ اپنے فلیٹ کی بالکونی میں ایک برتن میں باجرہ اور دوسرے میں پانی رکھو‘ چند دنوں میں چڑیاں‘ فاختائیں اور بلبلیں آپ کو میزبانی کا شرف بخشیں گی۔ آپ اکیلے رہتے ہیں‘ یہ پرندے نہ صرف آپ کے گھر کی رونق دوبالا کریں گے بلکہ ایک طرح کی رفا قت کا سامان بھی کر دیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پرندوں‘ تتلیوں‘ شہد کی مکھیوں اور دیگر جنہیں ہم بھڑیں کہتے ہیں‘ سے بہتر کوئی دوست نہیں۔ چند دن پہلے ایک درخت کی رکھوالی کرتے وقت میرے ہاتھ پر ایسا ڈنک لگا کہ ابھی تک سوجن نہیں گئی۔ خیر محبت میں بہت کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ میرے دوست کا جواب وہی تھا جو آج کل آپ ہر گھر میں سنتے ہیں۔ بالکل نہیں! پرندے اتنا گند ڈالیں گے کہ صفائی مشکل ہو جائے گی۔ لاکھ سمجھایا کہ یہ سب بالکونی میں ہو گا‘ اور ہر ہفتے جھاڑو لگا دینا۔ ہمارا یہ قیمتی مشورہ انہوں نے دیگر ایسے مشوروں کی طرح ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا۔
سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ صاحب سے پرانی یاد اللہ ہے۔ ایک ہی جامعہ میں پڑھایا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے دفتر کی کھڑکی کے باہر مٹی کی دو پلیٹیں رکھی ہوتی تھیں‘ ایک میں دانہ‘ دوسرے میں پانی۔ روزانہ وہ پرندوں کا دانہ پانی تبدیل کرتے۔ میں تو وہاں یہ نہ کر سکا مگر بات دل کو لگی کہ کبھی میں خود بھی پرندوں کیلئے ایسا انتظام کروں گا۔ اپنے جنگل میں پرندوں کیلئے سب کچھ ہے۔ کئی دہائیو ں سے جہاں ان کی نسلیں پلی ہیں اور ان سے ہماری دور دور کی دوستی آج تک قائم ہے۔ دور کہیں ہلکی پھلکی کرسی ڈال کر بیٹھ جاتے ہیں اور ہر نوع کا پرندہ کبھی اڑ کر ایک درخت سے دوسرے پر‘ کبھی لان میں تو کبھی آواز کا جادو جگا کر ہماری درویشانہ محفل میں حاضری کا اعلان کرتا ہے۔ مجھے خود اپنی حاضری کو غیرمحسوس رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی بھی جنگل ہو اور جہاں بھی ہو‘ اصل اور حقیقی ملکیت پرندوں کی ہوتی ہے۔ وہ ہماری موجودگی کو ہرگز پسند نہیں کرتے۔ ان سے جتنے ہم دور رہیں اور ان کی روز مرہ کی زندگی اور فطری ماحول میں مداخلت نہ کریں تو وہ اتنے ہی خوش رہتے ہیں۔ اپنے اسلام آباد والے گھر میں بھی ہم نے چڑیوں کیلئے لکڑی کا تختہ کاٹ کر چھوٹا سا گھونسلا اپنے بیڈروم کی کھڑکی کے ساتھ فکس کر دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے چڑیوں نے وہاں ٹھکانہ بنا لیا اور سالہا سال بچے دیے۔ بچوں کی چوں چوں ہمیں مسحور کرتی‘ اور پھر مامتا کی پھرتیاں‘ انہیں کچھ کھلا کر خاموش رکھنے کی جستجو میں ہمارے لیے زندگی کا سبق چھوڑ جاتیں۔ پھر ایک دور آیا کہ وہ سب غائب ہوگئیں اور ہم دو دہائیوں کیلئے لاہور کے تواتر سے مسافر ہوئے‘ اور پھر وہیں کے ہو لیے۔
ایک دن اچانک سامنے کے گھروں میں سے ایک کی دیوار پر چڑیوں کے جھنڈ لہراتے‘ چہچہاتے دیکھے۔ ذرا غور کیا تو وہا ں پر ساتھ پہرہ دیتے چوکیدار نے ان کے دانہ پانی کا انتظام کیا ہوا تھا۔ ایک دوسرے گھر کے سامنے بھی کسی نے ایسا ہی بندوبست کر رکھا تھا۔ یقین جانیں میں اس چوکیدار کی پرندہ نوازی سے اتنا متاثر ہوا کہ اب روزانہ سویرے سیر پر نکلنے سے پہلے دیوار پر رکھی پلیٹ میں باجرہ ڈالتا ہوں۔ سارا دن شام تک ہر نوع کے پرندے آ کر اپنا حصہ وصول کرتے رہتے ہیں۔ ہمارا پرانا کٹا ہوا رشتہ‘ خصوصاً چڑیوں اور بلبلوں سے بحال ہو چکا ہے۔ اب ہمیں دوسرے انسانی رشتوں سے کہیں زیادہ فطرت کے رشتوں میں سکون اور فرحت محسوس ہوتی ہے۔ وہ اس لیے کہ انسانی رشتوں میں فطری عنصر معدوم اور بناوٹ اور ریاکاری کہیں زیادہ شامل ہو چکی ہے۔ جہاں وہ فطری رویے اور محبتیں اب بھی باقی ہیں‘ ہمارے دل میں ان کی بہت قدر ہے۔ وہ ایسا سرمایہ ہے کہ جس پر جتنا بھی فخر کیا جائے کم ہے۔
ہمارے دیہات اور شہروں کا اب فطری ماحول وہ نہیں رہا کہ جہاں انسان اور پرندے ہم آہنگی کے ساتھ رہ سکیں۔ ہم نے گھر ہی ایسے بنا لیے ہیں جہاں پرندوں کیلئے ہمسائیگی میں رہنا ممکن نہ ہو۔ پکی‘ پتھریلی دیواروں اور ہماری کھڑکیوں کے بڑے بڑے شیشوں کے ساتھ وہ اپنا سر پھوڑتے رہتے ہیں۔ ایسے تجربات کے بعد وہ ہمارے گھروں کا رخ کیوں کریں گے۔ ماحول اب بھی پیدا کیا جا سکتا ہے۔ ہر گھر میں‘ چھوٹا ہو یا بڑا‘ درخت لگائے جا سکتے ہیں۔ کچھ اور نہیں تو دیواروں پر بوگن ویلیا کی بیلیں چڑھا دیں‘ وہ بھی پرندوں کیلئے کیڑے مکوڑے کھانے کا بندوبست کر دیں گی۔ اصل بات تو ویسے کچھ اور ہے۔ نہ صرف ہماری زندگیوں کا رخ آسائش اور مادیت پرستی کی طرف ہو چکا ہے بلکہ خواہ مخواہ کی مصروفیت میں اپنی ذات کے ساتھ بھی کسی غیر محسوس مکالمے کی گنجائش نہیں رہی۔ آج کے انسان کو خصوصاً اپنے آج کے معاشرے میں خود کی تلاش مجھے نظر نہیں آتی۔ وہ تو حرص و ہوس‘ لذت پرستی اور بناوٹی پھولوں کی نمائش میں کھویا ہوا ہے۔ اسے اپنے آباؤ اجداد کے زمانوں کے عام پھلدار درختوں‘ پرندوں اور سادہ فطری ماحول کا کیونکر خیال آئے گا۔
ہم مادہ پرستی کا طعنہ مغربی معاشروں کو دیتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اپنی آسودگی کیلئے بہت محنت کرتے ہیں مگر ایک توازن بھی ہے۔ ان کے دیہات‘ قصبے اور یہاں تک کے بڑے شہر تک باغات معلوم ہوتے ہیں۔ ہر گھر ایک باغ یا پارک کا حصہ ہے۔ بڑی عمارتوں کی اونچی منزلوں سے نیچے اتریں تو ساتھ ہی کہیں گھنے جنگل میں گھرا کوئی پارک ہو گا۔ لاہور‘ پشاور اور کسی زمانے کا اسلام آباد بھی باغوں کے شہر تھے۔ ملتان جو کبھی آموں کے باغات کا شہر تھا‘ اب اس کی کیا بات کریں‘ اور کئی دیگر شہروں کی بھی۔ کوئی زیادہ بات کرنے کو جی نہیں چاہتا کہ مارگلہ کے بارے میں ایک عدالتی فیصلے کے بعد دل بہت بوجھل ہے۔ ہم کب تک چھوٹے چھوٹے ذاتی جنگل آباد کرکے فطری ماحول بحال کریں گے۔ فقط کچھ نہ ہونے سے کچھ خود کرنا بہتر ہے۔ ہماری شہریت اور اس کا شعورِ فطرت شناسی اتنا کمزور ہے کہ اجتماعی ایکشن مشکل نظر آتا ہے۔ چلو کچھ اپنے حصے کا کام ہی کر جائیں ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...