"RBC" (space) message & send to 7575

لاہور کا تازہ واقعہ

اخبارات میں دو غیر ملکی خواتین کے ساتھ زیادتی‘ جنسی ہراسگی‘ اغوا اور حراست میں رکھنے کی کہانی ہر صفحے پر پھیلی ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا پر طوفان مچاہوا ہے ‘ اور ظاہر ہے کہ باہر کے ملکوں میں اس بارے جو کہا اور لکھا جائے گا اس سے ہماری اجتماعی تضحیک اور بدنامی کے داغ شاید بہت دیر تک مٹ نہ سکیں۔ عجیب بات ہے کہ ان خواتین کے نام اور اُن کی شہریت تک تو اب سب کو معلوم ہے مگر ان درندہ صفت ملزمان کا نام نہیں لیا جا رہا جن کا تعلق ایک ممتاز اور طاقتور سیاسی گھرانے سے بتایا جاتا ہے۔ ویسے تو کوئی دن نہیں گزرتا جب مزدور اور غریب طبقات کی نوجوان بچیوں کے اغوا ‘ دیگر صوبوں میں فروخت اور زیادتیوں کے علاوہ ان کے قتل کی خبریں گردش نہ کرتی ہوں۔ جنسی جرائم کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جتنی کہ رپورٹ ہوتی ہے۔ بہت سے بیچارے خاندان بدنامی کے ڈر سے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ حالیہ سالوں میں ایسے گھنائونے جرائم میں ملوث کئی مجرم ''اپنے ساتھیوں کی گولیوں سے‘‘ کیفر کردار تک بھی پہنچے ہیں۔ ایسے ''فوری اور فیصلہ کن‘‘ اقدامات ابھی تک صرف پنجاب میں ہو رہے ہیں۔ قانون اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی اہمیت اور ضرورت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے مگر عوامی سطح پر جو اس وقت عدم اعتماد کی فضا ہے وہ فوری اور فیصلہ کن پالیسی کے حق میں ہے۔ دکھ کی بات تو یہ ہے کہ ''فوری انصاف‘‘ کے باوجود جنسی زیادتی کے واقعات پیش آ رہے ہیں‘ اور شاید ان کا یکسر خاتمہ اس وقت کے ہمارے جیسے معاشرے کی فضا میں ناممکن ہے۔ ویسے تو مغربی ممالک میں بھی‘ جہاں قانون اور انصاف کا مؤثر نظام موجود ہے‘ خواتین کے خلاف جرائم ہوتے ہیں مگر فرق یہ ہے کہ وہاں مجرم سزا سے نہیں بچ سکتے۔ اپنے معاشرے میں جنسی حیوانیت کے سماجی اور معاشی پہلوؤں کے ساتھ بگڑی ہوئی سماجی نفسیات کا جب تک ہمارے اہلِ اقتدار جائزہ نہیں لیں گے اس وقت تک کوئی بھی مؤثر حل سامنے نہیں آئے گا۔ اور اگر ملزموں کا تعلق ہی حکمران طبقے سے ہو تو پھر قانون اور پولیس اس طرح حرکت میں نہیں آتی جس طرح ہم عام لوگوں کے واقعات میں دیکھتے ہیں۔
لاہور کے تازہ واقعہ میں ابھی تک پولیس کا کردار ٹھیک ہے۔ ٹریفک کے اس سپاہی کو داد ملنی چاہیے جس نے فوری طور پر ون فائیو پر کال کرکے پولیس کی مدد طلب کی اور پولیس وہاں پہنچی۔ جو خبروں میں ہے ‘ اس کے مطابق ان خواتین کو ایک مکان سے دوسری جگہ منتقل کیا جا رہا تھاکہ راستے میں انہوں نے شور مچایا اور بوکھلاہٹ میں شاید گاڑی ٹکراتے ٹکراتے بچی مگر جب رفتارآہستہ ہوئی تو وہ دروازہ کھول کر بھاگ نکلیں۔ وہ اتنی خوفزدہ تھیں کہ پولیس پر بھی اعتماد کرنے کے لیے تیار نہ تھیں مگر اعلیٰ افسران اور خواتین پولیس آفیسرز کے وہاں پہنچنے پر انہیں اطمینان ہوا۔ ابھی تو مقدمہ درج ہوا ہے‘ بیانات قلمبند ہوئے ہیں‘ آگے دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ معاملے کو اب نہ تو دبایا جا سکتا ہے‘ نہ ہی مٹی پاؤ اور آگے نکل جاؤ کا حربہ کام آئے گا۔ پتا نہیں‘ کم از کم آج کے دن میرے دل میں کچھ اعتماد کی لہر کیوں اُٹھ رہی ہے۔ کئی دفعہ ہمیں اپنی خوش فہمیوں پر بعد میں افسوس بھی ہوا ہے۔ نظام تو وہی پرانا ہے‘ ادھر اُدھر درستی کی نعرے بازی سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ اس لیے یہ سوال اپنی جگہ پر موجود ہے کہ ان ملزمان کو قرار واقعی سزاملے گی یا چور دروازوں سے صلح صفائی ہو جائے گی۔ وزیراعلیٰ صاحبہ کی ایسے واقعات کے خلاف مؤثر کارروائی کے حوالے سے شہرت ہے۔ اسے برقرار رکھنے کے لیے تازہ واقعہ ایک ٹیسٹ کیس ہو گا۔ لوگ دیکھنا چاہیں گے کہ طاقتور اور بااثر خاندانوں کے لوگ پتلی گلی سے نکل جاتے ہیں یا قانون کا شکنجہ انہیں بھی عام لوگوں کی طرح کس کر کیفر کردار تک پہنچاتا ہے۔
اس سے پہلے کہ سماجی نفسیات کی بابت کچھ کہوں‘ دو مشہور واقعات ذہن میں آتے ہیں۔ ایک ہمارے وقت کی مشہور ہیروئن شبنم کا کیس اور دوسرا ریمنڈ ڈیوس کی ڈرامائی رہائی کا ہے۔ اس لیے حیرانی نہیں ہو گی کہ کل ہم اخباروں میں پڑھیں کہ راضی نامہ ہو گیا ہے اور خواتین کے دل میں اب کوئی رنجش نہیں ہے۔ یہاں سماجی نقصانات کے حوالے سے دو ضروری باتیں لاہور کے تازہ واقعے کو سمجھنے کے لیے عرض کر دیتا ہوں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمارے ہر سطح اور طبقے کے لوگوں کا جس میں کسی پیشے اور سماجی پس منظر کی تخصیص نہیں‘ خواتین کے بارے میں انتہائی منافقانہ رویہ ہے۔ اپنی خواتین کی عزت کے لیے تو جان دینے کے لیے بھی تیار ہو جاتے ہیں مگر جب دوسروں کی بات آتی ہے تو سب کچھ جائز سمجھتے ہیں‘ بلکہ اپنی محفلوں میں فخر سے برملا اپنی ایسی کارروائیوں اور کمزوروں کے استحصال کا ذکر کرتے ہیں۔ گزشتہ مضمون میں فون کی عادت کے حوالے سے ایک سوال چھوڑا تھا کہ آخر گھنٹوں آنکھیں ٹکائے ان پڑھوں سے لے کر تعلیم یافتہ افراد تک کیا دیکھتے رہتے ہیں؟ خرافات کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے؟ اور اب تک سٹائل اور طرزِ زندگی کے نام پر اشتہار بازی کے ذریعے سب کچھ بکتا ہے۔ سائبر کی دنیا خیالی دنیا ہے مگر اس میں انسانی صورتوں کا رنگ بھرنے سے حقیقت کا گماں پیدا کیا جا سکتا ہے۔ جہاں شعور سطحی اور ناپختہ ہو وہاں نتائج بے راہ روی کے سوا اور کیا ہو سکتے ہیں؟
مغربی معاشروں کے بارے میں اور وہاں کی خواتین کے متعلق ہمارے ملک میں گمراہ کن نوعیت کے خیالات پیدا کیے گئے ہیں۔ اپنی معاشرتی پاکیزگی کے تو ترانے گائے جاتے ہیں‘ جن کا جنازہ ہر آئے دن لاہور کے تازہ واقعات جیسی خبروں کے ذریعے نکلتا رہتا ہے۔ مغربی دنیا کی خواتین کا ہمارے عام لوگوں‘ جن میں وہ بھی شامل ہیں جو اکثر وہاں کے دورے کرتے رہتے ہیں‘ کے ذہنوں میں جو تصور بنتا ہے وہ یہ ہے کہ بس قدم بڑھانے کی ضرورت ہے‘ وہ تو ہوتی ہی فلرٹ ہیں۔ حماقت‘ توہینِ ذات اور شخصی گراوٹ دیکھنی مقصود ہو تو آپ کو معاشرے کے مردوں کی اکثریت کی سماجی نفسیات میں جھانک کر اس کا نظارہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں وعظ ونصیحت‘ بزرگوں کے قصے اور پرانی تاریخ کے واقعات تو تواتر سے سنائے جاتے ہیں مگر ضبطِ نفس‘ زندگی میں توازن اور نظم کی روایات جڑ نہیں پکڑ سکیں۔ اس درویش کی یہ رائے رہی ہے کہ جدید معاشرو ں میں انسانوں کو ضبط میں رکھنے کے لیے قانون‘ انصاف‘ عدالتیں اور جدید ریاست کی عملداری بنیادی عوامل ہیں۔ اس کے ساتھ مؤثر اخلاقی تعلیم‘ خاندانی ماحول اور بامقصد زندگی گزارنے کی حکمت انتہائی ضروری ہے۔ معاشرے کے اخلاق اوپر والوں کی طاقت‘ رویوں اور طرزِ حکمرانی سے بے حد متاثر ہوتے ہیں۔ وہ جنہیں ہم ہیرو اور رول ماڈل اور معتبر شخص کے طور پر زندگی کے مختلف شعبوں میں دیکھتے ہیں‘ ان کا طرزِ عمل جوان نسل کو متاثر کرتا ہے۔ اب کیا کہیں‘ کس کا رونا روئیں کہ سب کے قصے کہانیاں‘ دراصل حقیقی واقعات دنیا میں کتابوں‘ رسالوں اور اخباروں کے صفحوں میں محفوظ ہو چکے ہیں۔ حکمرانوں کی ماضی کی بداعمالیوں خصوصاً کرپشن نے جو ملک کی بدنامی کی ہے‘ اس کے ساتھ دہشت گردی اور خواتین کے خلاف جرائم نے ہماری قومی شناخت اور وقار کو اور بھی نقصا ن پہنچایا ہے۔ لاہور کا تازہ واقعہ‘ اگر ملزم سزا سے بچ نکلے تو شاید قومی تشخص کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے کا باعث بنے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں