"RBC" (space) message & send to 7575

چھتر پارک اور جامعات کا مستقبل

چند دن ہوئے اخبار میں حکومتِ پنجاب کا ایک فیصلہ نظر سے گزرا‘ اور ایسا لگا کہ کوئی آگ کا گولا دل اور جگر کو چیرتا ہوا جسم سے دوسری طرف نکل گیا ہو۔ سرکاری زمینوں اور اثاثوں کی بندربانٹ مقصود ہو تو نت نیا طریقہ ایجاد کرنا ہمارے حکمرانوں کے بائیں ہاتھ کا کھیل رہا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ نجانے کب سے ایسا ہوتا چلا آ رہا ہے۔ کئی مثالیں ذہن میں ہیں۔ جب سرکاری املاک کو کئی دہائیوں کیلئے نجی شعبے کے من پسند لوگوں کو شراکت داری کی بنیاد پر دے دیا گیا۔ پارک‘ کھیل کے میدان‘ یہاں تک کہ کمپنی باغ جو تقریباً پنجاب کے ہر ضلع میں موجود تھے‘ آج وہاں جا کر دیکھیں بازار بن چکے ہیں تو کہیں مختلف سرکاری محکموں کی عمارات کھڑی کر دی گئی ہیں۔ اگر آپ آج سے 40سال پہلے پرانی مری روڈ پر سفر کرتے رہے ہیں تو آپ کو چھتر پارک یاد ہو گا۔ گورنگ نالے پر اسے بسایا گیا تھا۔ ایک چھوٹی سی عمارت تھی جہاں ریستوران تھا اور ساتھ ہی پانی اور اس کا چٹانوں اور پتھروں سے ٹکرانا اور شور۔ ہر طرف ہریالی تھی اور سرسبز لان تھا۔ کئی مرتبہ صرف چائے یا کافی پینے اور کچھ وقت ٹھہرنے کیلئے ہم اُدھر نکل جاتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پنجاب میں نواز شریف صاحب نے پہلی حکومت بنائی تھی۔ چند ماہ بعد وہاں جانا ہوا تو نقشہ بدل رہا تھا۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ بدل گیا۔ سنا ہے کہ فیصل آباد کے کسی صاحب کو وہ پارک ٹھیکے پر دے دیا گیا۔ ایک دو بار وہاں سے گزرا۔ دیکھا تو حیرانی ہوئی کہ وہاں تو ایک بہت بڑا بازار سجا ہوا ہے۔ دکانیں‘ گھوڑے اور ان کی سیر اور نالے پر کھیل کود کے بندوبست کے ساتھ وہ تمام چیزیں جو آپ عوامی میلوں میں دیکھتے ہیں۔ پارک اب ایک بازار کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ شکر پڑیاں کی پہاڑی ہم نے 1973ء کے آخر میں دیکھی تھی۔ کیا خوبصورت جگہ تھی! ارد گرد گھنا قدرتی جنگل‘ خوبصورت لان اور ہر طرف پھول دار جھاڑیاں اور چلنے کیلئے پختہ راستے۔ آج جا کر دیکھیں تو ہرطرف ریستوران اور ہر طرح کی خرید و فروخت کی دکانیں ہیں۔ ایک دفعہ کوئی بربادی کر جائے تو ہمارے ملک میں کوئی دوبارہ اسے اصل حالت میں نہیں لا سکتا‘ اور نہ کسی میں قانونی لڑائیاں لڑنے کی سکت رہتی ہے۔
وہ دل سوز خبر جس کا ذکر شروع میں کیا‘ وہ پنجاب میں سرکاری جامعات کی اراضی کو پبلک پرائیویٹ شراکت داری کی نذر کرنا ہے۔ کسی کو اگر جامعات کی خود مختاری اور بحیثیت قومی اثاثہ اگلی نسلوں تک پہنچانا مقصود ہے تو اس کیلئے یہ ایک انتباہ‘ الرٹ اور انتہائی تشویشناک خبر ہے۔ حکومتِ پنجاب نے اس مقصد کیلئے ایک کمیٹی بنائی ہے جس میں کابینہ کے وزرا‘ چند محکموں کے سیکرٹری اور کچھ اراکینِ اسمبلی شامل ہیں۔ اس خبر کے مطابق یہ کمیٹی جامعات کے اثاثوں کو کمرشلائز کرنے کیلئے تجاویز مرتب کرے گی‘ اور وہ سرکاری محکمہ جو نجی اور سرکاری شراکت داری کا نظام چلاتا ہے‘ اس کے حوالے کرے گی۔ مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ سرکاری جامعات چونکہ مالی مشکلات کا شکار ہیں‘ اس لیے انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ کہنا کہ جامعات کے اندر اُن کی زمینوں پر کون سی معاشی سرگرمی کوئی سرمایہ دار کرے گا اور اس کا ایک مخصوص حصہ کما کر جامعات کے حوالے کرے گا‘ کے بارے میں ابھی صرف قیاس آرائی ہو سکتی ہے۔ بلکہ قیاس آرائی کیوں کریں‘ ماضی میں کچھ وائس چانسلرز اور ان کے سیاسی سرپرستوں نے معاشی بدحالی کا رونا رو کر کھیل کے میدانوں کے ایک حصے پر شادی گھر بنائے تھے۔ پنجاب یونیورسٹی کے بڑے میدان میں ہم یہ سب کئی برسوں تک دیکھتے اور دیکھ کر کڑھتے رہے۔ وہاں اس کے سامنے کی زمین پر پھول‘ پتیاں بیچنے کا بازار بھی بنایا گیا تھا۔ پتا نہیں ایسا وژن اور ذہنی رجحان رکھنے والے خواتین و حضرات کیسے اعلیٰ تعلیمی میدان کے اہم منصبوں پر فائز ہو جاتے ہیں۔ ان کی ہنرمندی کا کمال ہی سمجھیں یا قوم اپنی قسمت کا رونا روئے کہ ایسوں کو ایک بار نہیں‘ کئی بار فیضیاب کیا جاتا ہے۔ شادی ہال تو اب نظر نہیں آ رہے مگر پھول پتیوں کا بازار ابھی تک قائم ہے۔ یہ تو انتظامیہ ہی بتا سکتی ہے کہ آخر اس بازار سے یونیورسٹی کی مالی استعداد میں کس قدر اضافہ ہوا ہے۔
ہماری سرکاری جامعات میں سے کچھ کو ہزاروں ایکڑ زمین الاٹ کرنے کا مقصد یہ تھا اور نہ ہو سکتا تھا کہ اسے بازار‘ تجارت کے مراکز‘ ڈاکٹروں اور دیگر شعبوں سے متعلق لوگوں کے دفاتر‘ شادی ہال اور اس نوع کی سرگرمیوں کیلئے استعمال کیا جائے۔ ہمیں معلوم ہے کہ سرکاری جامعات مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ ایک نہیں سب! سوچنے کی بات ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ کبھی کسی حکومت نے معاشی اور انتظامی ماہرین کا کوئی کمیشن بلا کر گہرا مطالعہ نہیں کرایا کہ جامعات کی مالی حالت بتدریج خراب کیوں ہوتی جا رہی ہے؟ ہم تو نصف صدی تک ان کا حصہ رہے ہیں‘ اور سب تماشا اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتے آئے ہیں۔ ان کے معاشی بحران پیدا کرنے میں بااثر حکمران طبقات اور ان کے نمائندہ وائس چانسلروں کا ہاتھ رہا ہے۔ ہر سرکاری جامعہ میں ان حکمرانوں نے انتظامی عہدوں سے لے کر نچلے درجے تک مبینہ بھرتیاں کرا رکھی ہیں۔ کچھ جامعات ایسی بھی دیکھی ہیں جہاں مالی زیادہ اور درخت کم ہیں۔ اس طرح ہر شعبے میں کم از کم پانچ سات بیکار کلرک آپ کو ہر وقت موبائل سکرینوں پر نظر جمائے دکھائی دیں گے۔ ایک زمانہ تھا جب ہر سرکاری جامعہ میں صرف دو ڈین ہوا کرتے تھے۔ ایک سائنسز کا اور دوسرا عمرانی علوم کا۔ آج کل کئی شعبوں کو فیکلٹی کا درجہ دے کر کئی ڈین تعینات کر دیے گئے ہیں‘ اور ساتھ ایسی مراعات جن کا کسی زمانے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
سرکاری جامعات کی انتظامیہ اور ہماری صوبائی حکومتوں نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔ اس کے ساتھ وہ جو جامعات کے اثاثوں پر اپنا ہاتھ صاف کرنا چاہتے تھے‘ انہیں خوب موقع ملا کہ جو دھندے وہ شروع کر رہے ہیں‘ ان کا جواز مالی استعداد بڑھانے سے کیا۔ ایک سرکاری جامعہ کے وائس چانسلر نے تو حد ہی کر دی کہ اپنی یونیورسٹی کی فرنچائز کئی شہروں میں کمرشل ذہنیت والوں کے سپرد کر دیں۔ چند کمروں میں بنی ان جامعات میں ڈگریاں بٹنے لگیں اور کروڑوں روپے بنائے جانے لگے۔ جب کارروائی ہوئی تو کئی خاندان لٹ چکے تھے۔ اب تو جیسے پورے صوبے کو ان لوگوں کے حوالے کیا جا رہا۔ خدشہ ہے کہ تعلیمی تاجروں کے ساتھ بااثر سیاسی لوگ‘ شادی ہالوں کے مالک‘ پٹرول پمپوں والے تک پر تول رہے ہیں کہ موقع ملے اور شہروں کے وسط میں جامعات کی اراضی پر ان کے قدم جم جائیں۔ ایک دفعہ وہ اس پبلک پرائیویٹ شراکت داری کے نام پر بیٹھ گئے تو جامعات کا مستقبل چھتر پارک سے کوئی مختلف نہ ہو گا۔ کاش کہیں پر کوئی عقل مندی ہوتی تو جامعات کی سرکاری فنڈنگ میں معقول اضافہ کیا جاتا۔ ان میں عام‘ زیریں متوسط اور غریب طبقات کے بچے بچیاں پڑھتی ہیں۔ اس لیے یہ حکومتوں کی اولین ترجیح نہیں۔ صرف ایک طبقے کے کیلئے اٹھارہ ارب روپے اور پھر اس سے کئی گنا زیادہ مفت کے راشن پر اور نوکر شاہی کو خوش رکھنے کیلئے خرچ کر رہی ہے‘ اس سے جامعات کیلئے مالی گنجائش نہیں نکلتی۔ ترجیح اعلیٰ تعلیم نہیں۔ کبھی کسی سرکاری جامعہ کے وائس چانسلر کو یہ خیال نہیں آیا کہ اپنے سابق طلبہ کو متحرک کرکے مخیر حضرات سے درخواست کرکے وقف فنڈ قائم کرے‘ بھرتیاں ختم ہوں‘ وسائل کا ضیاع نہ ہو اور خراجات کو کم کیا جائے۔ اس وقت بھی اگر جامعات کے اساتذہ نے آواز بلند نہ کی اور رکاوٹ نہ بنے تو مادیت پرست اور مخصوص طبقے کی نمائندہ انتظامیہ گٹھ جوڑ کرکے جامعات کے قیمتی اثاثوں کو کوڑیوں کے بھاؤ نجی شعبے کے حوالے کر دیں گے۔ پھر جامعات کا مستقبل چھتر پارک سے کچھ مختلف نہیں ہو گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں